چھ ارکانِ ایمان

”حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جس کے کپڑے بہت سفید تھے اور بالوں کا رنگ بہت سیاہ تھا اس پر سفر کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اُسے پہچانتا تھا ۔ وہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کے ساتھ اپنا گھٹنا ملا کر (مؤدب) بیٹھ گیا اور عرض کیا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایمان کسے کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ، یوم آخرت کو مانے اور خیر اور شر کی تقدیر اور اس کے صحیح صحیح اندازے پر یقین رکھے۔ “
( حدیقۃُ الصالحین حدیث نمبر166)

مزید پڑھیں

”زمین کے حقیقی وارث“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”زمین کی وراثت کا راز تقویٰ میں ہے۔ زمین کے حقیقی وارث وہ نہیں ہیں جن کے پاس مادی دولت یا طاقت ہے بلکہ وہ ہیں جن کے پاس ایمان اور تقویٰ کی دولت ہے۔“
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 69)

مزید پڑھیں

وجودِ باری تعالیٰ پر دس دلائل (از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ) (قسط نمبر 2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”سلطنتوں میں ہزاروں مدبّر ان کی درستی کے لئے رات دن لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی دیکھتے ہیں کہ ان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہو تی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بالکل تباہ ہوجاتی ہیں لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں لیکن یہ اتفاق تو غلطی نہیں کرتا۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو بڑے وسیع عالم کا مالک اور عزیز ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو یہ انتظام نظر نہ آتا۔ اب جس طرف نظر دوڑا کر دیکھو۔ تمہاری نظر قرآن شریف کے ارشاد کے مطابق خائب و خاسر واپس آئے گی اور ہر ایک چیز میں ایک انتظام معلوم ہوگا۔ نیک جزاء اور بدکار سزا پا رہے ہیں۔ ہر ایک چیز اپنا مفوّضہ کام کررہی ہے اور ایک دم کے لئے سُست نہیں ہوئی۔ “

مزید پڑھیں

وجودِ باری تعالیٰ پر دس دلائل (از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ) (قسط نمبر 1)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ہزاروں راستبازوں کی شہادت جو اپنے عینی مشاہدہ پر خدا تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کسی صورت میں بھی ردّ کے قابل نہیں ہو سکتی۔ تعجب ہے کہ جو اس کوچہ میں پڑے ہیں وہ تو سب باتفاق کہہ رہے ہیں کہ خدا ہے لیکن جو روحانیت کے کوچہ سے بالکل بے بہرہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ان کی بات نہ مانوکہ خدا ہے حالانکہ اصول شہادت کے لحاظ سے اگر دوبرابر کے راستباز آدمی بھی ایک معاملہ کے متعلق گواہی دیں تو جو کہتا ہے کہ مَیں نے فلاں چیز کود یکھا اس کی گواہی کو اس گواہی پرجو کہتا ہے مَیں نے اس چیز کونہیں دیکھا ترجیح دی جائے گی کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کی نظر اس چیز پر نہ پڑی ہو لیکن یہ ناممکن ہے کہ ایک نے نہ دیکھا ہو اور سمجھ لے کہ میں نے دیکھا ہے۔ پس خدا کے دیکھنے والوں کی گواہی اس کے منکروں پر بہرحال حجت ہوگی۔“

مزید پڑھیں

”خداتعالیٰ کہنے میں بڑی برکات ہیں“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا کے تمام کامل نام اِسی سے مخصوص ہیں اور اِن میں شرکت غیر کی جائز نہیں سو خدا کو انہیں ناموں سے پکارو جو بلاشرکت غیرے یعنی نہ مخلوقاتِ ارضی و سماوی کے نام خدا کے لئے وضع کرو اور نہ خدا کے نام مخلوق چیزوں پر اطلاق کرو اور ان لوگوں سے جدا رہو جو کہ خدا کے ناموں میں شرکتِ غیر جائز رکھتے ہیں۔ عنقریب وہ اپنے کاموں کا بدلہ پائیں گے ۔“
( براہینِ احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 522۔ حاشیہ درحاشیہ نمبر3)

مزید پڑھیں

ہُن مَیں چھ مہینے لئی تیرا ربّ نہیں رہیا؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 273 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

اطاعت کے ذریعہ پراگندہ موتیوں کا اجتماع

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”اطاعت کا مادہ نظام کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ پس جب بھی خلافت ہو گی اطاعتِ رسول بھی ہو گی کیونکہ اطاعتِ رسول یہ نہیں کہ نماز پڑھو یا روزے رکھو یا حج کرو۔ یہ تو خدا کے احکام کی اطاعت ہے۔ اطاعتِ رسول یہ ہے کہ جب وہ کہےکہ اب نمازوں پر زور دینے کا وقت ہے تو سب نمازوں پر زور دینا شروع کر دیں ۔“
(تفسیر کبیر سورۃنور صفحہ 369)

مزید پڑھیں

ہمسایوں سے حسن سلوک

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ مَیں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھا ئیوں کے لئے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔ اگر ایک بھا ئی بھوکا مر تا ہو تو دوسرا تو جہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیری کے لئےتیار نہیں ہوتا۔ یا اگر وہ کسی اورقسم کی مشکلات میں ہے تو اتنانہیں کرتے کہ اس کے لئے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔ حدیث شریف میں ہمسا یہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہاں تک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکا ؤ تو شوربہ زیادہ کرلو تا کہ اُسے بھی دے سکو۔ اب کیا ہوتا ہے، اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں لیکن اس کی کچھ پر واہ نہیں۔ یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا ہی مطلب ہے جو گھرکے پاس رہتا ہو۔ بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔‘‘
(ملفو ظات جلد 4صفحہ 215)

مزید پڑھیں

ہمیشہ مسکراتے رہو

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
” ہر ایک سے مسکراتے ہوئے ملیں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو۔ بعض عہدیدار مَیں نے دیکھا ہے بڑی سخت شکل بنا کر دفتر میں بیٹھے ہوتے ہیں یا ملتے ہیں۔ اِن کو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس اسوہ پر عمل کرنا چاہئے جس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے کہ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے مَیں نے اسلام قبول کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاقات سے منع نہیں فرمایا اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے تھے۔ (بخاری کتاب الأدب باب التبسم والضحک)۔ تو کوئی پابندی نہیں تھی جب بھی ملتے مسکرا کر ملتے۔“
(خطبہ جمعہ 31 دسمبر2004ء)

مزید پڑھیں

اسپورٹس مَین سَپِرٹ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”احمدیوں کو چاہئے کہ جب بھی وہ کوئی کھیل کھیلیں تو حقیقی اسپورٹس مَین سپرٹ کا مظاہرہ کریں۔ اعلیٰ اخلاق، برداشت اور دوسروں کے احترام کا ایسا معیار قائم ہوناچاہئے جو احمدی نوجوانوں کو دوسروں سے ممتاز کرے ۔ اگر ہم بلند اخلاقی معیار نہ دکھا سکیں تو احمدی ہونے کا کیا فائدہ؟ اِسی لئے مَیں پھر کہتا ہوں کہ ہمارے کھیلوں کےپروگرام اِس مقصد کے لئے ہوتے ہیں کہ خدام اور اطفال کی ذہنی نشوو نما ہو تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق، انسانیت کے حقوق اور جماعت کی خدمت بہترین انداز میں.کرسکیں“

مزید پڑھیں