خلافت کے ذریعہ وحدت ِقومی
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد اپنے دور خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر مورخہ 26دسمبر1908ء کو جو پُر معارف خطاب فرمایا تھا، اس میں حضورفرماتے ہیں:
’’حقیقی بات یہی ہے کہ ضرورت ہے اجتماع کی اور شیراہ اجتماع قائم رہ سکتا ہے ایک امام کے ذریعے اور پھر یہ اجتماع کسی ایک خاص وقت میں کافی نہیں۔ مثلاً صبح کو امام کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اب ظہر کو کیا ضرورت ہے، عصر کو کیا، پھر شام کو کیا، پھر عشاء کو کیا۔ پھر ہر جمعہ کو اکٹھے ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر عید کے دن کیا ضرورت ہے، پھر حج کیا ضرورت ہے؟ اسی طرح ایک وقت کی روٹی کھالی تو پھر دوپہر کے وقت کیا ضرورت ہے۔ جب ان باتوں میں تکرار کی ضرورت ہے تو اس اجتماع میں بھی یہی تکرار ضروری ہے۔ یہ میں اس لیے بیان کرتا ہوں تا تم سمجھو کہ ہمارے امام چلے گئے تو پھر بھی ہم میں اسی وحدت، اتفاق، اجتماع اور پر جوش روح کی ضرورت ہے“
(بدر، 7جنوری 1909ء، صفحہ4۔ 5)
