ہستئ باری تعالیٰ ، کتبِ مقدّسہ کی روشنی میں
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” خدا آسمان و زمین کا نور ہے۔ یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے خواہ وہ ارواح میں ہے خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ ذہنی ہے خواہ خارجی اسی کے فیض کا عطیہ ہے ۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہو رہا ہے اور کوئی اس کے فیصلے خالی نہیں۔ وہی تمام فیوض کا مبدءہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے۔ اسی کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیوم اور تمام زیر و زبر کی پناہ ہے۔ وہی ہے جس نے ہر یک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا اور خلت وجود بخشا۔ بجز اس کے کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو۔ یا اس سے مستفیض نہ ہوں بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور روح اور جسم سب اُسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔“
( براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد1 صفحہ1 19 حاشیہ نمبر 11 (
