اَلذُّہۡدُ حِرۡفَتِیۡ(حضرت محمدؐ) زُہد میرا پیشہ  ہے (تقریر نمبر 12)

ایک دفعہ حضرت سہیل بن مسعودؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا عمل کرنے کا پوچھاکہ جس سے اللہ اور لوگ مجھ سے محبت کرنے لگیں تو آپؐ نے فرمایا
اِزۡھَدۡ فِی الدُّنۡیَا یُحبُّکَ اللّٰہُ وَاَزۡھَدۡ فِیۡمَا فِیۡ اَیۡدِیۡ النَّاسِ یُحِبُّکَ النَّاسُ
کہ دنیا سے بے رغبت ہو جا اللہ تم سے محبت کرے گااور اُس سے جولوگوں کے ہاتھوں میں ہے بے رغبت ہو جا لوگ تجھ سے محبت کریں گے۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 803)

مزید پڑھیں

وَالۡعِجۡزُ فَخۡرِیۡ (حضرت محمدؐ) عاجزی میرا فخر ہے (تقریر نمبر 11)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰہَ اَوْحٰى اِلَيَّ اَنْ تَوَاضَعُوا حَتّٰى لَا يَفْخَرَ اَحَدٌ عَلَى اَحَدٍ
یعنی اللہ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم لوگ تواضُع (عاجزی)اختیار کرو یہاں تک کہ کوئی بھی دوسرے پر فَخْر نہ کرے۔
(مسلم حدیث 7210 )

مزید پڑھیں

اَلصَّبۡرُ رِدَائِیۡ (حضرت محمدؐ) صبر میری چادر ہے (تقریر نمبر 9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’ تیرہ برس کا زمانہ کم نہیں ہوتا اس عرصہ میں آپؐ نےجس قدر دکھ اٹھائے ان کا بیان بھی آسان نہیں ہے۔ قوم کی طرف سے تکالیف اور ایذا رسانی میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی جاتی تھی اور ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر و استقلال کی ہدایت ہوتی اور بار بار حکم ہوتا تھاکہ جس طرح پہلے نبیوں نے صبر کیا ہے توبھی صبر کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کمال صبر کے ساتھ ان تکالیف کو برداشت کرتے تھے اور تبلیغ میں سست نہ ہوتے تھے۔ بلکہ قدم آگے ہی پڑتا تھا اور اصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر پہلے نبیوں جیسا نہ تھا کیونکہ وہ تو ایک محدود قوم کے لئے مبعوث ہو کر آئے تھے اس لئے ان کی تکالیف اور ایذا رسانیاں بھی اسی حد تک محدود ہوتی تھیں لیکن اس کے مقابلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر بہت ہی بڑا تھا کیونکہ سب سے اول تو اپنی ہی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالف ہو گئی اور ایذا رسانی کے در پہ ہوئی اور عیسائی بھی دشمن ہو گئے۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ53 )

مزید پڑھیں

ارشادات حضرت مسیح موعودؑ کی رُو سے اخلاقی بُرائیوں سے بچنے کی نصائح

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہو گا کہ ان تمام وصیتوں کے کار بند ہوں اور چاہیے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو اور یاد رکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں ہے اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور درگزر کی عادت ڈالو،صبر اور حلم سے کام لو اور کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرواور جذبات نفس کو دبائے رکھواور اگر کوئی بحث کرو یا کوئی مذہبی گفتگو ہو تو نرم الفاظ میں اور مہذبانہ طریق سے کرو اور اگر کوئی جہالت سے پیش آوے ۔ سلام کہہ کر ایسی مجلس سے جلد اٹھ جاؤ۔اگر تم ستائے جاؤاور گالیاں دیے جاؤ اور تمہارے حق میں بُرے بُرے لفظ کہیں جائیں تو ہوشیار رہو کہ سفاحت کا سفاحت کے ساتھ تمہارا مقابلہ نہ ہو ورنہ تم بھی ویسے ہی ٹھہرو گے جیساکہ وہ ہیں۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بنا دے کہ تم تمام دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہرو۔ سو اپنے درمیان سے ایسے شخص کو جلدی نکالوجو بدی اور شرارت اور فتنہ انگیزی اور بد نفسی کا نمونہ ہے۔ جو شخص ہماری جماعت میں غربت اور نیکی اور پرہیزگاری اور حلم اور نرم زبانی اور نیک مزاجی اور نیک چلنی کے ساتھ نہیں رہ سکتا وہ جلد ہم سے جدا ہو جائے۔کیونکہ ہمارا خدا نہیں چاہتا کہ ایسا شخص ہم میں رہے اور یقیناًوہ بدبختی میں مرے گا کیونکہ اس نے نیک راہ کو اختیار نہ کیا۔سو تم ہوشیار ہو جاؤاور واقعی نیک دل اور غریب مزاج اور راست باز بن جاؤ۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 47۔ 48)

مزید پڑھیں

کشتی نوح میں درج  نصائح کو روزانہ ایک بار پڑھ لیا کرو ( تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’کشتی نوح میں مَیں نے اپنی تعلیم لکھ دی ہے اور اس سے ہر ایک شخص کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ203)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  اخلاقیات برداشت اور صبر و حوصلہ کی اقسام

ہمارے پیارےامام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جماعت کو صبروبرداشت کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’ایک نیکی صبر و تحمّل ہے صبر کے نتیجہ میں بہت سی بُرائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ صبر کی کمی کے باعث غلط فہمیاں اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہراحمدی کو صبراختیار کرناچاہئے۔دل خراش باتوں کو برداشت کریں۔ اس پالیسی کے نتیجہ میں بہت سے جھگڑوں کا حل ہو سکتا ہے۔ فیملی تنازعات ، خواہ وہ خاوند و بیوی کے درمیان ہوں یا بھائیوں کے درمیان ہوں۔ یہ سب بچگانہ تنازعات ہوتے ہیں…دنیا بھر میں ایک طوفان بےتمیزی ہے۔ قتلِ عام ہو رہا ہے اور قومیں دوسری قوموں پر حملہ آور ہورہی ہیں۔ یہ سب بے صبری کا ہی نتیجہ ہے۔ دنیا تباہی کے دہانے پر ہے۔ احمدیوں کو دنیا کو بچانا ہوگا۔ اس لحاظ سے صبر و برداشت کی عادت کو اس انداز میں اختیار کرنا ہو گا کہ احمدی ہر میدان میں صبر و برداشت کا نمونہ بن جائیں‘‘
(افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ غانا 17؍اپریل 2008ء،مشعل راہ جلد 5 صفحہ140)

مزید پڑھیں

درس نمبر28 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور مجالس کے آداب

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اُسے سلام کرنا چاہئے، وہاں بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے اور جب جانے کے لئے کھڑا ہو تو تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ افضل نہیں ہے۔
(سنن الترمذی، کتاب الاستئذان والآداب عن رسول اللّٰہ)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  اخلاقیات اعتدال پسندی

اللہ تعالیٰ ابنائے آدم کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے۔
وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ۔)اعراف(32:
کہ کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔

مزید پڑھیں

درس نمبر27 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور مساجد کے آداب

آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اِنَّ ھٰذِہ المَسَاجِدَ لا تصلح لِشَئِی مِن ھَذَاالبَوْلِ وَلَاالقَذرِ اِنَّما ھِیَ لِذِکْرِا للّٰہِ تَعَالَی وَقِرائَۃِالقُرآن۔
(مسلم کتاب الطھارۃباب وجوب الغسل البول)
یعنی یقیناً مسجدیں اس لیے نہیں کہ اُن میں پیشاب کیا جائے، تھوکا جائے یا کوئی گندگی وغیرہ پھینکی جائے یعنی مسجدوں کو ہرقسم کی گندگی سے پاک و صاف رکھنا چاہئے۔

مزید پڑھیں

درس نمبر26 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور حسنِ معاشرت

عَنۡ عَبۡدِ اللّٰہِ بۡنِ عَمۡرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ اِنَّمَا الدُّنۡیَا مَتَاعٌ، وَلَیۡسَ مِنۡ مَتَاعِ الدُّنۡیَا شَیٔ ءٌ أَفۡضَلَ مِنَ الۡمَرۡ أَۃِ الصَّالِحَۃِ
(ابن ماجہ کتاب النکاح باب افضل النساء1855)
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا تو صرف ایک عارضی فائدہ کی چیز ہے اور اس دنیا کے عارضی فائدے میں صالحہ عورت سے بڑھ کر افضل کوئی چیز نہیں ۔

مزید پڑھیں