ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل  (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’بات وہی ہے کہ اصل بنیاد تقویٰ پرہے، حکم بجا لاناہے، حکم یہ ہے کہ تم مریض ہو یا سفر میں ہو، قطع نظر اس کے کہ سفر کتناہے، جو سفر تم سفر کی نیت سے کررہے ہو وہ سفر ہے اور اس میں روزہ نہیں رکھناچاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاہے کہ دو تین کوس کا سفر بھی سفر ہے اگر سفر کی نیت سے ہے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد2 صفحہ742 )

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’پس استغفار اور نیک اعمال جب ہمیں رمضان کے آخری عشرے میں داخل کریں گے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے مطابق آگ سے آزاد کرانے کا عشرہ ہو گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ 19؍ ستمبر 2008ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’یہ رمضان ہمیں ایک دفعہ پھر موقع دے رہا ہے کہ ہم خدا کے آگے جھکیں جس طرح جھکنے کا حق ہے۔ اُس کی عبادت کریں، جس طرح عبادت کرنے کا حق ہے تو اللہ.تعالیٰ ہماری دُعاؤں کا یقیناً جواب دے گا اور یہ عہد کریں کہ آئندہ ہم اِن عبادتوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ اگر یہ ہو جائے تو اِس سے ہم اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالیٰ جماعت کی سالوں میں ہونے والی ترقیات کو دِنوں میں واقع ہوتے دیکھیں گے۔ اِس لئے مَیں پھر یہی کہوں گا کہ اپنی عبادتوں کو زندہ کریں۔ دوسروں کے پاس دُعائیں کروانے کی بجائے خود اللہ تعالیٰ کی ذات کی قدرتوں کا تجربہ حاصل کریں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 22؍اکتوبر2004ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ لیلۃ القدر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتےہیں:
’’ لیلۃ القدر زیادہ تر رمضان سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ رمضان کے آخری دنوں میں عبادت کی تلقین کرنے کے لئے کوئی ایک دن مقرر نہیں فرمایا بلکہ ہر طاق رات جو آخری عشرے میں آتی ہے اس میں کوشش کرو تو لیلۃ القدر مل سکتی ہے۔ خاص وہ عبادت کے دن ہوتے ہیں لوگ خاص زور ماررہے ہوتے ہیں لیکن بعض لوگوں کو جو توبہ کا دن نصیب ہو جائے چاہے کسی وقت ہو کسی بھی عمر میں ہو سچی توبہ کا دن نصیب ہو جائے تو اس کی لیلۃ القدر اسی وقت آگئی ہے۔ یہ فرمایا ہے کہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں یہ بھی حکمت ہے کہ اوسط عمر زیادہ سے زیادہ جو صحت مند ممالک میں ان کی بھی اسّی سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی اس سال کچھ مہینے تو ساری عمر اگر آدمی اس ایک رات کو نہ پائے تو وہ اس کی ساری عمربے کارہو جائے گی اور اگر وہ پالے تو جب بھی پالے تو اس کی وہ ایک رات جو ہے خدا نے اس کے گناہ معاف کردیئے صاف کردیئے تو اس کی ساری زندگی سے بہترہے۔‘‘
(جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل 10؍جون 2002ء صفحہ4)

مزید پڑھیں

(تقریر نمبر 1)ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں:
’’رمضان کے روزوں کے سلسلے میں… بچوں کو سحری کے وقت اٹھا کر کھانے سے پہلے کچھ نوافل پڑھنے کی عادت ڈالی جائے۔ قادیان میں یہی دستور تھا جو بہت ہی ضروری اور مفید تھا جسے اب بہت سے گھروں میں ترک کر دیا گیا ہے۔‘‘
(الفضل 3؍اپریل 1991ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں:
’’پس اس فتنے کی فکر کرو جو تمہارے گھروں میں ہورہا ہے تمہارے بچوں کی صورت میں رونما ہورہا ہے۔ تمہارے احوال کی صورت میں رونما ہورہا ہے اور اس کو دور کرنے کے لئے الصلوۃ والصوم دو ہی چیزیں ہیں۔ نمازوں سے گھر کو بھر دو اور جب رمضان کے مہینے آیا کریں اور ویسے بھی اپنے گھروں کو روزوں سے بھر دیا کرو۔ ہر قسم کے فتنے سے نجات پاؤ گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ؍دسمبر1997ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں:
’’روزہ بمقابل نماز نہیں ہے بلکہ روزہ کا مقصد نماز ہے اور نمازوں کی حالت کو درست کرنا ہے۔ پس اگر روزہ میں نمازیں نہ سنوریں تو روزہ بے کار ہے۔ اگر روزہ میں نمازیں سنور جائیں تو روزہ نماز کا معراج اور نماز میں روزے کا معراج بن جاتی ہیں۔ پس اس میں تفریق نہ کریں ورنہ مضمون بالکل بگڑ جائے گا۔ حقیقت میں روزہ کے دوران جتنی نمازیں سنوریں گی اتنا ہی روزہ کا آپ پھل پائیں گے اور اس حد تک سنور جانی چاہئیں کہ گویا آپ کو خدا نظر آ گیا اور گویا اللہ آپ کو دیکھنے لگا ۔‘‘
(خطبہ جمعہ 16؍ جنوری 1998ء )

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں:
’’ کبھی کسی اور مہینے میں اس کثرت کے ساتھ خدا کی رحمت کے ایسے چھینٹے نہیں پھینکے جاتے جو دنیا کے ہر کونے میں ہر ملک میں برس رہے ہوں اور جس کسی پر بھی پڑیں اُسے خوش نصیب بنا دیں ۔ اس لیے رمضان کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ ‘‘
( خطبات طاہر جلد 7صفحہ258)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل  (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ  کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو وہ کسی اور وقت رمضان کے روزوں کی گنتی کو پورا کرے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرا ارادہ ہے کہ اس طرح مَیں اپنے بندوں کے لئے سہولت کے سامان پیدا کروں۔ مومن وہی ہوتا ہے جو اپنے ارادہ اور خواہش کو چھوڑ دیتا ہے اور خدا کے ارادہ کو قبول کرتا ہے۔ پس مومن کی علامت ہے کہ وہ سفر میں اور بیماری میں اپنی شدید خواہش کے باوجود اپنی اس تڑپ کے باوجود کہ کاش میں بیمار نہ ہوتا یا سفر میں نہ ہوتا روزہ نہیں رکھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نیکی اس بات میں نہیں کہ میں بھوکا رہوں بلکہ نیکی یہ ہے کہ میں اپنے ارادہ کو خداتعالیٰ کے ارادہ کے لئے چھوڑ دوں ۔‘‘
( خطبہ جمعہ 24؍نومبر1967ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 4)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’آخری دنوں کے متعلق بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ اس عشرہ میں مسلمان کو اس رات کی تلاش کرنی چاہیےتقدیر کی جس رات میں دعائیں قبول ہوں اور اسلام کے حق میں دنیا کی تقدیریں بدل دی جائے۔“
(خطبات ناصر جلد اول صفحہ 1006)

مزید پڑھیں