چوتھی شرطِ بیعت
’’ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے، نہ کسی اور طرح.سے۔‘‘
مزید پڑھیں’’ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے، نہ کسی اور طرح.سے۔‘‘
مزید پڑھیں’’ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روزاپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اُس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا ۔‘‘
مزید پڑھیں’’جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔‘‘
مزید پڑھیں’’بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اُس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو، شرک سے مجتنب رہے گا۔‘‘
مزید پڑھیںحضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”مَیں نے کسی روایت کے ذریعہ سنا تھا کہ جب بیت اللہ نظرآئے تواس وقت کوئی ایک دعامانگ لو وہ ضرورہی قبول ہوجاتی ہے۔ مَیں علوم کا اس وقت ماہرتوتھاہی نہیں جوضعیف و قوی روایتوں میں امتیاز کرتا ۔ مَیں نے یہ دعامانگی۔”الٰہی! مَیں تو ہر وقت محتاج ہوں اب مَیں کون سی دعامانگوں ۔ پس مَیں یہی دعامانگتاہوں کہ مَیں جب ضرورت کے وقت تجھ سے دعامانگوں تواس کو قبول کرلیاکر“۔ روایت کا حال تومحدثین نے کچھ ایسا ویسا ہی لکھاہے مگر میراتجربہ ہے کہ میری تویہ دعاقبول ہی ہوگئی۔ بڑے بڑے نیچریوں ، فلاسفروں ، دہریوں سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور ہمیشہ دعاکے ذریعہ مجھ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ایمان میں بڑی ترقی ہوتی گئی۔‘‘
(مرقاۃ الیقین )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا ہی ہے جو ہر دم آسمان کا نور اور زمین کا نور ہے۔ اس سے ہر ایک جگہ روشنی پڑتی ہے۔ آفتاب کا وہی آفتاب ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کی وہی جان ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ444)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” اِس زمانہ میں خداتعالیٰ نے چاہا کہ سیف یعنی تلوار کا کام قلم سے لیا جائے اور تحریر سے مقابلہ کر کے مخالفوں کو پست کیاجائے۔ اس وقت جو ضرورت ہے و ہ یقیناً سمجھ لو سیف کی نہیں قلم کی ہے۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ59)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” ہمارا یہ اصول ہے کہ کل بنی نوع کی ہمدردی کرو ۔ اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور یہ نہیں اٹھتا کہ تا آگ بھجانے میں مدد دے تو مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کے چھڑانے کے لئے مدد نہیں کرتا تو مَیں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم میں سے نہیں۔“
( سراج منیر ،روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 28)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا جس میں اصحابِ صُفَّہ کا ذکر ہے کہ
’’اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ وَمَا اَدْرَاکَ مَا اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ تَرٰی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ۔ یُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ۔ رَبَّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ وَ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ وَسِرَاجًا مُنِیْرًا۔ صُفَّہ کے رہنے والے اور تُو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صُفَّہ کے رہنے والے؟ ۔ تُو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔ وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ! ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز سنی ہے جو ایمان کی طرف بلاتا ہے۔‘‘
(حقیقۃالوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 78)
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں :
”مجھے اللہ جلشانہ کی قسم ہے کہ مَیں کافر نہیں لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مَحَمَّدُ رَّسُوۡلُ اللّٰہ میرا عقیدہ ہے اور لٰکِنِ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّنَ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت میرا ایمان ہے۔ مَیں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں جس قدر خداتعالیٰ کے پاک نام ہیں اور جس قدر قرآن کریم کے حرف ہیں اور جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خداتعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں۔ کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف نہیں … مَیں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کرکہتاہوں کہ میرا خدا اور رسول پر وُہ یقین ہے کہ اگر اس زمانہ کے تمام ایمانوں کو ترازو کے ایک پلّہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلّہ میں تو بفضلہٖ تعالیٰ یہی پلّہ بھاری ہوگا۔ “
( کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلد 7صفحہ 67 )