صدقہ و خیرات کی حقیقت اور برکات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’دعا، صدقہ اور خیرات سے عذاب کا ٹلنا ایسی ثابت شدہ صداقت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کا اتفاق ہے اور کروڑ ہا صلحاء اور اتقیااور اولیاء اللہ کے ذاتی تجربے اس امر پر گواہ ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد1 صفحہ159-158 ایڈیشن1984ء)

مزید پڑھیں

خلافت خامسہ میں مالی قربانیوں کے چند ایمان افروزواقعات

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
”آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہی ہیں جو دین کی خاطر مالی قربانی کرنے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ یہ شبنم کی طرح تھوڑی تھوڑی رقمیں بھی دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بے انتہا پھل لگاتا ہے…..کبھی یہ بات کسی کمزور احمدی کے دل میں بھی نہیں آنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نیک نیتی سے کی گئی قربانی کو نوازتا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خزانے لامحدود ہیں۔ اس کو ہمارے چند پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ قربانیاں جو اللہ تعالیٰ مانگتا ہے یہ تو وہ ہمیں مزید فضلوں کا وارث بنانے کے لیے موقع میسر فرماتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 5جنوری2024ء )

مزید پڑھیں

صحابہ مسیح موعودؑ کی مالی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے …بہتیرے ان میں سے ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لیے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔‘‘
(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14صفحہ306)

مزید پڑھیں

مالی قر بانی کی اہمیت ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی روشنی میں

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”تم یہ مت سمجھو کہ تمہارے مال ضائع جاتے ہیں ایک ایک پائی جو تم دیتے ہو خدا کے بنک میں جمع ہورہی ہے جو سُود دَرسُود کے ساتھ تمہیں ملے گی۔ پس ڈرو نہیں اور گھبراؤ نہیں وہ دن قریب ہیں بلکہ دروازہ پر ہیں جب مُلک تم کو دیئے جائیں گے اور بادشاہ سلسلہ میں داخل ہوں گے ۔ “
(انوارالعلوم ، جلد 14صفحہ 39)

مزید پڑھیں

مالی قربانی کی اہمیت از ارشادات خلفائے حضرت مسیح موعودؑ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےذریعہ جماعت احمدیہ میں نظام وصیت قائم کیا۔ نظام وصیت ایک عظیم نظام ہے۔ ہر پہلو کے لحاظ سے۔ نظام وصیت کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جو ممبر ہیں یا داخل ہیں سلسلہ عالیہ احمدیہ میں ان میں سے ایک گروہ ایسا ہو جو اسلامی تعلیم کی روح سے ذمہ داریوں کو اس قدر توجہ اور قربانی سے ادا کرنے والا ہو کہ ان میں اور دوسرے گروہ میں ایک مابہ الامتیاز پیدا ہو جائے۔ نظام وصیت صرف 1/10 ما لی قربانی کا نام نہیں ہے۔ یہ نظام ہے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمانی رفعتوں تک پہنچانے کا۔‘‘
(خطبہ جمعہ 30 اپریل 1982ء)

مزید پڑھیں
blue flower in tilt shift lens

انفاق فی سبیل اللہ از روئے قرآن

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں انفاق فی سبیل اللہ کے متعلق فرماتا ہے :
قُلۡ لِّعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَلَا خِلٰلٌ
( ابراہیم:32)
ترجمہ: تو میرے اُن بندوں سے کہہ دے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے مخفی طور پر بھی اور علانیہ طور پر بھی خرچ کریں پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں کوئی خریدوفروخت نہیں ہوگی اور نہ کوئی دوستی (کام آئے گی)۔

مزید پڑھیں

حیوانوں کی دنیا اور ان کے متعلق اسلامی تعلیم( احادیث کی روشنی میں)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ جب تم سبزہ والی زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حصہ دو۔‘‘
(مسلم: باب مراعاۃ مصلحۃ الدروس)

مزید پڑھیں

قرآن میں مذکور جانوروں کے ناموں سے سورتوں میں اسباق

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ایک مومن کے لئے روحانیت اور تقویٰ انتہائی اہم چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مکڑی کے گھر کی مثال دے کر یہ بھی واضح فرما دیا کہ منہ سے مذہب کا اقرار کر لینا کافی نہیں ہے۔ مذہب کا لیبل لگا لینا اور اس کا لبادہ اوڑھ لینا کافی نہیں ہے۔ اس سے انسان اپنی نجات کے سامان نہیں کر لیتا۔ بلکہ نجات اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہے۔ ‘‘
( خطبہ جمعہ 20نومبر2009ء )

مزید پڑھیں

مالی قربانی کی اہمیت(ازارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ)

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”یہ بھی یاد رکھو کہ جو تم خرچ کرتے ہو اور جتنا تم بجٹ لکھواتے ہو اور جتنی تمہاری آمد ہے یہ سب اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ اس لئے اس سے معاملہ ہمیشہ صاف رکھو۔نیکی کا ثواب اللہ تعالیٰ سے حاصل کرنے کے لئے اپنی تشخیص بھی صحیح کرواؤ اور ادائیگیاں بھی صحیح رکھو تاکہ تمہاری روحانی حالت بھی بہتر ہو اور تم نیکیوں میں ترقی.کرسکو۔“
(خطبہ جمعہ 28 مئی 2004ء)

مزید پڑھیں