رمضان اور مالی قربانی(فدیہ ،فطرانہ، صدقات و خیرات)-درس نمبر17

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ہر صبح دو فرشتےاُترتے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے۔ اے اللہ ! خرچ کرنے والے سخی کو اَور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اَور پیدا کر۔ ‘‘
(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سفرِ آخرت

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو وصال سے کچھ عرصہ قبل خدا تعالیٰ کی طرف سے واضح طور پر وفات کی خبریں دی گئیں۔ دسمبر 1905ء میں حضور نے ’’رسالہ الوصیت‘‘میں جماعت کو اس عظیم سانحہ کی خبر دیتے ہوئے فرمایا۔
’’خدائے عزّوجل نے متواتر وحی سے مجھے خبر دی ہے کہ میرا زمانہ وفات قریب ہے اور اس بارے میں اُس کی وحی اس قدر تواتر سے ہوئی کہ میری ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا اور اس زندگی کو میرے پر سرد کر دیا۔ الہام ہوا۔ قَرُبَ اَجلُکَ الْمُقَّدَر۔ تیری اجل قریب آ گئی ہے۔ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ اس دن سب پر اُداسی چھا جائے گی۔“

مزید پڑھیں

رمضان اور والدین کی اطاعت کا سبق-درس نمبر16

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ
)ترمذی حدیث 3545)
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ شخص مجھ پر درود نہ بھیجے اور اُس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں ر مضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا ہو اور وہ دونوں اُسے ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنے کی وجہ سے جنت کا مستحق نہ بنا سکے ہوں۔

مزید پڑھیں

اسلام کے فتح نصیب جرنیل اغیار کی نظر میں

سید حبیب ایڈیٹر روزنامہ ’’سیاست‘‘ لاہور نے لکھا:
’’مسلمانوں کے بہکانے کے لئے عیسائیوں نے دین حقہ اسلامیہ اور اس کے بانی صلعم پر بے پناہ حملے شروع کر دئیے جن کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا…. اس وقت کے آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔ اِکے دُکے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہوگئے مگر کوئی کامیاب نہ ہوا۔ اس وقت مرزا غلام احمدصاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ پدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوبی اور خوش اسلوبی سے ادا کیا۔ اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دئیے۔ اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین لاجواب ہیں۔ ‘‘

مزید پڑھیں

مسائل رمضان-درس نمبر15

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ صیام میں روزہ رکھتاہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتاہے۔ خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔ مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔ خدا کے اس حکم پرعمل کرنا چاہئے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کازور دکھاکر کوئی نجات حاصل کر سکتاہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہویا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمباہو۔ بلکہ حکم عام ہے اوراس پرعمل کرنا چاہئے ۔ مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے توان پر حکم عدولی کافتویٰ لازم آئے گا۔ ‘‘
(بدر جلد4نمبر22مورخہ24ستمبر1907ءصفحہ7)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی قبولیتِ دعا کے عظیم الشان نشان

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میں کثرت قبولیت کا نشان دیا گیا ہوں۔کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کرسکے۔ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں 30 ہزار کے قریب قبول ہوچکی ہیں اور ان کا میرے پاس ثبوت ہے۔‘‘
(روحانی خزائن جلد13 صفحہ 497)

مزید پڑھیں

رمضان اور احتساب (محاسبہ نفس)-درس نمبر14

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّاِحْتِسَابًاغُفِرَ لَه مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
( سنن ابو داؤد کتاب الصلوۃ)
کہ جس نے رمضان کے روزےایمان اور اپنا احتساب کرتے ہوئے رکھے۔ اس کے رمضان سے پہلے کئے گئے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کو ماننا کیوں ضروری ہے؟

حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے امام مہدی کی بیعت اور اطاعت کرنے کے متعلق تعلیم دیتے ہوئے فرمایا۔
”جس نے امام مہدی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“
(بحارالانوار جلد 13 صفحہ 17)

مزید پڑھیں

رمضان اور دُعا-درس نمبر13

یَا بَاغِیُ الْخَیْرِ ھَلُمَّ ھَلْ مِنْ دَاعٍ یُسْتَجَابُ لہٗ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ یُسْتَغْفَرُ لَہٗ ھَلْ مِنْ تَائبٍ یُتَابُ عَلَیْہِ ھَلْ مِنْ سَائِلٍ یُعْطَی سُؤْلَہٗ
( کنز العمال)
اے خیر کے طالب! آگے بڑھو۔ کیا کوئی ہے جو دُعا کرے تا کہ اس کی دعا قبول کی جائے۔ کیا کوئی ہے جو استغفار کرے کہ اُسے بخش دیا جائے۔ کیا کوئی ہے جو توبہ کرے تا کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ کیا کوئی ہے جو سوال کرے۔ جس کو پورا کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں

دشمنوں کی ہلاکت اور اُن کی ذلت ورسوائی(حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیوں کی روشنی میں)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو الہاماً فرمایا:
اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ
یعنی جوتجھے ذلیل کرنے کاارادہ کرے گامَیں اس کو ذلیل کروں گا۔
(براہین احمدیہ،روحانی خزائن جلد 1صفحہ601)
پھر فرمایا
وَنُمَزِّقُ الْاَعْدَاءَ کُلَّ مُمَزَّقٍ
یعنی مَیں تیرے دشمن کو ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا
(تذکرہ صفحہ550)
اور پھر ایک موقع پر اللہ تعالیٰ آپؑ کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے۔
یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ الْعِدَا وَیَسْطُوْبِکُلِّ مَنْ سَطَا
یعنی اللہ دشمنوں سے تجھے بچائے گا اورہرایک جوتجھ پر حملہ کرتاہے اُس پر حملہ کرے گا۔
(تذکرہ صفحہ 558)

مزید پڑھیں