نظامِ خلافت کی اہمیت، اطاعت و برکات از ارشادات حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اپنے آپ کو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام سے جوڑ کر پھر خلافت سے کامل اطاعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہی چیز ہے جو جماعت میں مضبوطی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنے گی۔ خلافت کی پہچان اور اُس کا صحیح علم اور ادراک اس طرح جماعت میں پیدا ہو جانا چاہئے کہ خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بخوشی قبول کرنے والے ہوں اور کسی قسم کی روک دل میں پیدا نہ ہو۔ کسی بات کو سن کر انقباض نہ ہو۔ خلافت کا صحیح فہم و ادراک پیدا کرنا بھی مربیان کے کاموں میں سے اہم کام ہے اور پھر عہدیدران کا کام ہے کہ وہ بھی اس طرف توجہ دیں۔‘‘
)روزنامہ الفضل 18مارچ 2014ء(

مزید پڑھیں

آیتِ استخلاف میں اطاعت کا سبق

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اعتصام حبل اللہ کے ساتھ ہو…چاہیے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسی میت غسال کے ہاتھ میں ہوتی ہے تمہارےتمام ارادے اور خواہشات مردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔ تیرہ سوسال بعد یہ زمانہ ہمیں ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آسکتا بس اس نعمت کا شکر ادا کرو۔ کیوں کہ شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے۔‘‘
(خطبات نور صفحہ131)

مزید پڑھیں

انصار اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
” چندہ دینے والے یہ سوچیں کہ خداتعالیٰ کا اُن پراحسان ہے کہ اُن کو چندہ دینے کی توفیق دے رہا ہے، نہ کہ یہ احسان کسی شخص کا، اللہ تعالیٰ پر یا اللہ تعالیٰ کی جماعت پر ہے کہ وہ اُسے چندہ دے رہے ہیں۔ پس ہر چندہ دینے والے کو یہ سوچ رکھنی چاہئے کہ وہ چندے دے کر خداتعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے کی کوشش کررہا ہے۔ “
(خطبہ جمعہ 31 مارچ 2006ء)

مزید پڑھیں
brown book on brown wooden table

قرآن راہِ نجات ہے

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
’’ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتا یا ہے۔ اور تمام قویٰ کی تربیت فرمائی ہے۔ اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو‘‘
(ملفوطات جلد5صفحہ102)

مزید پڑھیں

شوّال کے روزے-درس نمبر32

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهٗ سِتًّا مِنْ شَوالَ فَذَاکَ صِیَامُ الدَّهْرِ
( ترمذی کتاب الصوم )
جس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزےرکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمارہوں گے ۔

مزید پڑھیں

(رخصت ہوتے رمضان کا ایک سبق )خلافت سے وابستگی۔اصلاحِ نفس کا ذریعہ ہے-درس نمبر31

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ایک بہت بڑی تعداداللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت سے وفا اور اخلاص کا تعلق رکھتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں یہ ریزولیوشنز، یہ خط، یہ وفاؤں کے دعوے تب سچے سمجھے جائیں گے….جب آپ ان دعووں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں۔ نہ کہ وقتی جوش کے تحت نعرہ لگا لیا اور جب مستقل قربانیوں کا وقت آئے… جب نفس کی قربانی دینی پڑے تو سامنے سو سو مسائل کے پہاڑ کھڑے ہوجائیں۔ پس اگر یہ دعویٰ کیا ہے کہ آپ کوخداتعالیٰ کی خاطر خلافت سے محبت ہے تو پھر نظام جماعت جو نظام خلافت کا حصہ ہے اس کی بھی پوری اطاعت کریں۔ خلیفۂ وقت کی طرف سے تقویٰ پر قائم رہنے کی جو تلقین کی جاتی ہے اور یقینًا یہ خداتعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہی ہے، اس پر عمل کریں…… پھر تمہاری کامیابیاں ہیں۔ ورنہ پھر کھوکھلے دعوے ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے اور ہم وہ کر دیں گے۔ ہم آگے بھی لڑیں گے، ہم پیچھے بھی لڑیں گے۔‘‘
( خطبہ جمعہ یکم جولائی 2005ء )

مزید پڑھیں

عیدالفطر کے مسائل اور اِس کا فلسفہ-درس نمبر30

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”جو کچھ تمہارے پاس ہے اسے بھی غرباء کی فلاح اور بہبود کے لئے خرچ کرو۔ یہ روح جس دن مسلمانوں میں پیدا ہوگی درحقیقت وہی دن ان کے لئے حقیقی عید کا دن ہو گا۔ کیونکہ رمضان نے ہمیں بتایا ہے کہ تمہاری کیفیت یہ ہونی چاہئے کہ تمہارے گھر میں دولت تو ہو مگر اسے اپنے لئے خرچ نہ کرو۔ بلکہ دوسروں کے لئے کرو۔“
(خطبہ عید الفطر 12 مئی 1956ء از خطبات محمود جلد اوّل صفحہ342)

مزید پڑھیں

رمضان اور نظام وصیت میں شمولیت-درس نمبر29

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پرقدم مارو گے۔ سواپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خداتعالیٰ کو دیکھتے ہو۔ اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقینا یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو خود تقویٰ سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔‘‘
(کشتی نوح،روحانی خزائن جلد 19 صفحہ15)

مزید پڑھیں

رمضان اور تحریک جدید،وقف جدید-درس نمبر28

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تمہارے لیے ممکن نہیں ہے کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرےاور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔ پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد3صفحہ497)

مزید پڑھیں

رمضان اور توبہ و استغفار-درس نمبر27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ اٹھو اور توبہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو ۔ تم خدا سے صلح کر لو وہ نہایت درجہ کریم ہے ۔ ایک دم کے گداز کرنے والی توبہ سے ستر برس کے گناہ بخش سکتا ہے۔ ‘‘
(لیکچر لاہور ،روحانی خزائن جلد 20صفحہ 174)

مزید پڑھیں