تقوٰی تمام دینی علوم کی کُنجی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقوٰی سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقوٰی ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔“
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19صفحہ15)

مزید پڑھیں
blue and gold hardbound book

سچی تہذیب وہ ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’آسمانی تہذیب تو اور ہے جس میں ایمان، تقویٰ، دیانت، صلاحیت اور نیک کرداری شامل ہے۔ مگر اُن کے نزدیک دنیا کے جوڑ توڑ، ہر قسم کے مکروفریب کا نام تہذیب ہے۔ یہ تہذیب اُن کے ہی نصیب رہے ہم اس کو لینا نہیں چاہتے چند بے ہودہ رسوم و عادات کا نام جو اخلاق سے گری ہوئی ہیں تہذیب نام رکھتے ہیں اور خدائی رسُوم و آداب کی توہین اور استخفاف کرتے ہیں حالانکہ ان رسوم و عادات کے نتائج اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں جن سے سوسائٹی میں امن، اخلاق اور نیک اعمالی پیدا ہوتی ہے۔ اپنی رسُوم و عادات کو جن کے نتائج بد ہیں، پسندیدہ سمجھتے ہیں۔‘‘
(الحکم جلد9 نمبر 29 صفحہ 3 مؤرخہ 17 اگست 1905ء)

مزید پڑھیں

تاثیراتِ قرآنیہ ۔ قبولِ اسلام کے واقعات

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں۔
’’قرآن کریم میں یہ تاثیر ہے کہ اس کی کوئی سورة بھی آدمی پڑھے۔ اس کے دل میں اعلیٰ سے اعلیٰ روحانی تاثیرات پیدا ہونے لگیں گی‘‘
(تفسیر کبیر جلد3 صفحہ 161)

مزید پڑھیں

دوسری قدرت یعنی خلافت احمدیہ دائمی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اب یاد رہے کہ اگرچہ قرآن کریم میں اس قسم کی بہت سی آیتیں ایسی ہیں کہ جو اس اُمّت میں خلافت دائمی کی بشارت دیتی ہیں اور احادیث بھی اس بارہ میں بہت سی بھری پڑی ہیں لیکن بالفعل اس قدر لکھنا ان لوگوں کے لئے کافی ہے جو حقائق ثابت شدہ کو دولت عظمیٰ سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں اور اسلام کی نسبت اس سے بڑھ کر اور کوئی بداندیشی نہیں کہ اس کو مردہ مذہب خیال کیا جائے اور اس کی برکات کو صرف قرن اوّل تک محدود کیا جاوے ‘‘
(شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6صفحہ354)

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

قرآن روحانی وجسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا موجب

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’یہ کتاب شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ہے جو بیماریاں سینہ و دل سے تعلق رکھتی ہیں اس کتاب میں ان تمام بیماریوں کا علاج پایا جاتا ہے اور جو نسخے یہ کتاب تجویز کرتی ہے ان کے استعمال سے دل اور سینہ کی ہر روحانی بیماری دُور ہوجاتی ہے۔‘‘
۔۔(انوارالقرآن جلد2 صفحہ272)

مزید پڑھیں
blue flower in tilt shift lens

اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ گناہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہوا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہو سکتا ہے ۔ استغفار کیا ہے ؟ یہی کہ جو گناہ صادر ہو چکے ہیں ان کے بد ثمرات سےخدا تعالیٰ محفوظ رکھے اور جو ابھی صادر نہیں ہوئے اور جو بالقوۃ انسان میں موجود ہیں اُن کے صدور کا وقت ہی نہ آوے اور اندر ہی اندر وہ جل بھن کر راکھ ہوجاویں۔یہ وقت بڑے خوف کا ہے ۔ اس لیے توبہ استغفار میں مصروف رہو اور اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد 5صفحہ 299ایڈیشن1984ء )

مزید پڑھیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ الودود کی محیر العقول یادداشت کے چند دلچسپ واقعات

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ خلیفۂ وقت کا تو دنیا میں پھیلے ہوئے ہر قوم اور ہر نسل کے احمدی سے ذاتی تعلق ہے…یہ خلافت ہی ہے جو دنیا میں بسنے والے ہر احمدی کی تکلیف پر توجہ دیتی ہے۔ ان کے لئے خلیفۂ وقت دعا کرتا ہے… دنیا کا کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشم تصور میں مَیں نہ پہنچتا ہوں اور ان کے لئے سوتے وقت بھی اور جاگتے وقت بھی دعا نہ ہو۔‘‘
)خطبہ جمعہ 06؍جون 2014ء (

مزید پڑھیں

خلافت علیٰ منہاج النبوۃ سے کیا مراد ہے؟

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہوسکتا ہے جو ظِلیّ طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ در حقیقت رسول کا ظِلّ ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہٰذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دُنیا کے وجودوں سے اشرف واَولیٰ ہیں ظِلیّ طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت قائم رکھے سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دُنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔‘‘
(شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد6 صفحہ353)

مزید پڑھیں

اطاعتِ خلافت کی اہمیت اور اِس کی برکات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے چونکہ کسی انسان کے لیے دائمی بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اعلیٰ ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے تاقیامت قائم رکھے سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا ہے تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔‘‘
(شہادت القرآن7، روحانی خزائن جلد6 صفحہ353)

مزید پڑھیں