50تقاریر بابت سیرت و شمائل حضرت محمد ﷺ (حصہ سوم)

اعلانات آنحضرت نبی اکرم ﷺ آنحضور نبی اکرم ﷺ تعارف کتب تقاریر

صدر دروازہ

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی حیات پر یقین رکھنا اورآپؐ کو زندہ نبی کہنا اور اُنہیں زندہ نبی  ثابت کرنا ہرمسلمان بالخصوص ہر احمدی مسلمان کا فرض ہے۔ اس کے لئے جہادباللسّان،  جہاد بالقلم ، جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :

”مَیں تو اُس شخص سے بہت خوش ہوں کہ جس نے کتاب ” حیاۃ النبی“ لکھی ہے اور اِس میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو شخص سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اور پیغمبر کو زندہ کہے وہ کافر ہے کیونکہ آخر  محبت کی کچھ بھی تو علامت چاہئے… اب عیسائیت کااثر غالب آگیا ہے اور جو محبت مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چاہیے تھی وہ نہیں رہی ۔ ہزاروں رسالے اور اخبار نکالتے ہیں لیکن کسی نے آج تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کا رسالہ نہ نکالا۔ پس اب خداتعالیٰ چاہتا ہے کہ آپؐ کی عزت کو دنیا میں قائم کرے۔ کئی کروڑ کتب اسلام کے ردّ میں لکھی گئیں کیا اب بھی خدا کو لازم نہ تھا کہ کوئی ذریعہ قائم کر کے آپؐ کی عزّت کو ظاہر   کرے ۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نبی مانتے ہیں اور سب سے اشرف جانتے ہیں اور ہرگز گوارا نہیں کرتے کہ کوئی عمدہ بات کسی اَور کی طرف منسوب کی جاوے۔“

(ملفوظات جلد 7 صفحہ146)

پھر آپؑ ایک اور جگہ زندہ نبی کے تحت فرماتے ہیں :

”مَیں اس کو عزیز رکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کو جو شخص بیان نہیں کرتا وہ میرے نزدیک کافر ہے۔“

(ملفوظات جلد 5 صفحہ 29)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اِن دونوں ارشادات کو ملا کر پڑھیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس روحانی فرزند علیہ السلام نے اپنی تمام زندگی حیاۃ النبیؐ اور اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ نبی منوانے میں گزار دی ۔ اِس سلسلہ میں آپؐ نے جلسوں اور محافل کا سہارا لیا اور اس عنوان پر سینکڑوں تقاریر کیں۔ آپؑ نے اس اہم کام کی تشہیر کے لئے قلم کا سہارا لیا اور بیسیوں کتب، پمفلٹس اور کتابچے اِس عنوان سے متعلقہ تحریر کرکے تاقیامت ایک قیمتی علمی و روحانی ورثہ آئندہ نسلوں کے لئے چھوڑا ہے۔ زندہ نبی ثابت کرنے لئے مباحثے، مناظرے وغیرہ اِن کے علاوہ ہیں ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد خلفائے کرام اِس اہم کام کی اشاعت کا بیڑہ اُٹھائے ہوئے نظر آئے اور کمال حکمت اور سعئ بلیغ سے دنیا بھر میں زندہ نبی کا عَلَم بلند رکھا اور اب خلافتِ خامسہ کے مبارک پلیٹ فارم سے یہ مقدس کام نہایت خوش اسلوبی سے جاری و ساری ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ اور  خلفائے عظام کی اقتداء میں یہ جہاد ہمارے جیّد علماء ، مقررین اور محرّرین نے جاری  رکھا ہوا ہے اور ہزاروں کتب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپؐ کو زندہ نبی ثابت کرنے کے لئے لکھ کر منصّۂ شہود پہ آچکی ہیں۔ الحمد للّٰہ علی ذالک

اِن میں سے ایک حقیر کوشش ادارہ ”مشاہدات“ کی بھی ہے ۔ جس کے تحت گزشتہ اڑہائی سال میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و روحانی حیات اور زندہ نبی کے مختلف عناوین پر 139 تقاریر منظرِ عام پر آچکی ہیں جن کو تین کتابی صورتوں میں ترتیب دیا جاچکا ہے۔ راقم الحروف کی  یہ تحریر بعنوان ”صدردروازہ“سیرت رسولؐ پر ادارہ ”مشاہدات“کی تیسری کاوش پر لکھی جارہی ہے۔ جس میں 50 تقاریر ہیں۔ اِس جلد میں کوشش کی گئی ہے کہ زندہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے جو خصائل، اوصاف اور خوبیاں مختلف مقامات پر بیان فرمائی ہیں۔ اُس حوالہ سے آپؐ کی سیرت کو اکھٹا کردیا گیا ہے ۔ امید ہے یہ مواد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور زندہ نبی ثابت کرنے میں مفید ثابت ہوگا اور مندرجہ بالا ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق حضورعلیہ السلام  کی خوشنودی کا باعث بنے گا۔ کیونکہ ہر تحریروتقریر کے آخر پر اُس مضمون کی مناسبت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور وقت کی آواز حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات  درج ہیں جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ نبی ثابت کے میں ممِدّ  ہوں گے۔ اِن شاء اللّٰہ

عرصہ اڑہائی سال میں ”مشاہدات“کے تحت جو 900سے زائد تقاریر کی آن لائن اشاعت ہوئی ہیں۔ اس میں بھی قریباً ہر تقریر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا کوئی نہ کوئی پہلو زیر بحث آیا ہے۔ لہذا یہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ادارہ ”مشاہدات“ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی حیات اور زندہ نبی کے ثبوت کے لئے کام کررہا ہے ۔ الحمدللّٰہ علی ذالک

خاکسار کا یہ بھی طریق رہا ہے کہ  ”مشاہدات“ کے تحت  آن لائن کتب  کے لئے جو ابتدائیہ یا پیش لفظ لکھتا ہوں اُن میں تقاریر کے گُر اگر کسی جگہ ملیں تو وہ ضرور شامل کئے جاتے ہیں ۔ اِس دفعہ مکرم محمد طاہر ندیم صاحب مربی سلسلہ عربک ڈیسک یوکے کی ایک تحریر میں مکرم سید میر محمود احمد ناصر صاحب سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ ربوہ کی فنِّ تقریرکے حوالہ سے ایک گُر یا طریق ملا ہے۔ استاذی المحترم میر صاحب بیان کرتے ہیں کہ :

” تقریر کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ نے کوئی درخت کاٹ کر گرانا ہو۔ اگر آپ درخت کو پکڑ کر کھینچنے اور جھٹکے دے دے کر گرانے کی کوشش کریں گے تو وہ نہیں گرے گا۔ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے اِس کو ارد گرد سے کلہاڑے کے ساتھ کَٹ لگائیں ۔ جب سب طرف سے اچھے خاصے کٹ لگ جائیں اور آپ کو یقین ہو جائے کہ اب درخت بہت کمزور ہوگیا ہے تو پھر ایک ہی بار زور سے جھٹکا دینے سے درخت زمین پر گر جائے گا۔ یہی حال تقریر کا ہے۔ پہلے دلائل کے کلہاڑے سے چاروں طرف سے کَٹ لگائیں اور جب آپ کو یقین ہو جائے کہ مضمون کا احاطہ کر لیا گیا ہے تو پھر آخر پر پُر جوش لہجہ اور مؤثر کلمات سے زور کا جھٹکا لگائیں تو کامیاب تقریر کا مرحلہ سر ہو جائے گا۔“

(الفضل انٹرنیشنل 16 جون 2025ء)

مَیں اس تحریر میں اپنے اُن بہن بھائیوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جو میرے ساتھ معاون و مددگار بنے رہے۔ بالخصوص 50 تقاریر بابت سیرت رسولؐ حصہ سوم کے لئے سب سے پہلے عزیزم برادرم منہاس محمود صاحب آف جرمنی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری ہر تحریر کو آنًا فاناً کمپوز کیا۔ نہ صبح دیکھی نہ شام اور رہنمائی بھی کرتے رہے۔ دوسرے نمبر پر مسز عائشہ چوہدری آف جرمنی کا نام درج کرنا چاہوں گا۔ جنہوں نے بہت محنت اور عرق ریزی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائےکرام کے ارشادات، موضوعات کے مطابق تلاش کرکے اِن سے تقاریر کو مزیّن کیا۔  تیسرے نمبر پر عزیزم برادرم زاہد محمود صاحب کا نمبرآتا ہے۔ جو حسب سابق تمام تقاریر کو آخری شکل دینے، اُن کی Pdf بنانے اور کتابی صورت دینے میں مددگار رہتے ہیں۔ یہاں اپنی دو اور بہنوں مسز عطیۃُ العلیم ۔ ہالینڈ اور مسزفائقہ بشرٰی کے لئے جزاہما اللّٰہ تعالیٰ کی دعا کے الفاظ استعمال کروں گا جو گاہے بگاہے بڑی مستعدی کے ساتھ کمپوزنگ کرتی ہیں ۔ کتابی شکل دینے میں ایک مرحلہ ٹائیٹل کی تیاری کا آتا ہے۔ اس کے لئے عزیزم برادرم فضل عمر شاہد آف لٹویا کی خدمات مہیا رہتی ہیں ۔

ادارہ ”مشاہدات“کے تحت صرف تقاریر تیار ہی نہیں ہوتیں  بلکہ انہیں  ادارہ کی ویب سائٹ  www.mushahedat.com پر تقریر کی صورت میں اور کتابی شکل میں اپلوڈ کرنا بھی ایک اہم اور مشکل امر ہے۔ تقاریر کو اپلوڈ کرنے میں عزیزی سعید الدین احمد آف برطانیہ اور کتابی صورت میں اپلوڈ کرنے میں عزیزم عامر محمود ملک آف شیفیلڈ برطانیہ جزاہم اللّٰہ تعالیٰ کے مستحق ہیں ۔اللہ تعالیٰ اِن تمام تعاون کرنے والوں کو جزائے خیر عطا کرے۔ اِن کے نفوس و اموال میں برکت دے ۔ اتنا بڑا کام اور اہم ذمہ داری کی ادائیگی میرے اکیلے کےبس کی بات نہیں اگر اللہ کا فضل نہ ہو اور اِن معاونین کی مدد ونصرت نہ ہو۔ فجزا ہم اللّٰہ  تعالیٰ احسن الجزاء ۔

آخیر پر”مشاہدات“ سے فائدہ اٹھانے والوں اور اپنی علمی و روحانی جھولیاں بھرنے والوں اور آگے ان کی اشاعت کرنے والوں کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں  ۔ اللہ تعالیٰ آپ  تمام کے ساتھ ہو۔ آمین

”مشاہدات“ کی 25 ویں کاوش  آپ کی  خدمت میں پیش ہے۔ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ

۔۔۔۔خاکسار

۔۔۔ابوسعیدحنیف احمد محمود

۔۔۔۔مربّی سلسلہ حال برطانیہ

۔۔۔۔۔ ( شاہد۔ عربی فاضل)

(سابق ایڈیٹر روز نامہ الفضل  ربوہ و الفضل آن لائن لندن و نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ)

14؍اگست 2025ء

ویب سائیٹ:             www.mushahedat.com

فون نمبر:                  +44 73 7615 9966

ای میل:                    hanifahmadmahmood@hotmail.com


ادارہ الفضل آن لائن لندن

انڈیکس

نمبر شمارمشاہداتعنوانصفحہ
1  858اَلۡمَعۡرِفَۃُ رَاسُ مَالِیۡ (حضرت محمدؐ) معرفت میرا سرمایہ  ہے(تقریر نمبر 1)1
2  859اَلۡعَقۡلُ اَصۡلُ دِیۡنِیۡ  (حضرت محمدؐ) عقل میرے دین و ایمان کی جزو ہے (تقریر نمبر 2)11
3  860اَلْحُبُّ اَسَاسِیْ (حضرت محمدؐ) محبت میری اساس ہے(تقریر نمبر 3)18
4  861اَلشَّوْقُ مَرْکَبِیْ وَشَوۡقِیۡ اِلیٰ رَبِّیۡ عَزَّ وَجَلَّ (حضرت محمدؐ)  شوق میری سواری ہے اور  میرا شوق اپنے رب عزّوجلّ کی  طرف ہے (تقریر نمبر 4)26
5  862ذِکرُاللّٰہِ اَنِیسِیْ وَثَمۡرَۃُ فُؤَادِیۡ فِیۡ ذِکۡرِہٖ (حضرت محمدؐ)  ذکر الہی میرا مونس اور میرے دل کا پھل ہے(تقریر نمبر 5)34
6  863اَلثِّقَۃُ کَنْزِیْ (حضرت محمدؐ) وثوق میرا خزانہ ہے( تقریر نمبر 6)41
7  864اَلۡحُزۡنُ رَفِیۡقِیۡ وَغَمِّیۡ لِاَجَلِ اُمَّتِیۡ  (حضرت محمدؐ) غم میرا رفیق ہے اور میرا غم میری  امت کے لئے ہے (تقریر نمبر 7)49
8  865اَلۡعِلۡمُ سَلَاحِیۡ (حضرت محمدؐ) علم میرا ہتھیار ہے (تقریر نمبر 8)58
9  866اَلصَّبۡرُ رِدَائِیۡ (حضرت محمدؐ) صبر میری چادر ہے (تقریر نمبر 9)66
10  867اَلرَّضَاءُ غَنِیۡمَتِیۡ (حضرت محمدؐ) رضا میری غنیمت ہے(تقریر نمبر 10)75
11  868وَالۡعِجۡزُ فَخۡرِیۡ (حضرت محمدؐ) عاجزی میرا فخر ہے (تقریر نمبر 11)85
12  869اَلذُّہۡدُ حِرۡفَتِیۡ(حضرت محمدؐ) زُہد میرا پیشہ  ہے(تقریر نمبر 12)97
13  870اَلیَّقِیْنُ قُوَّتِیْ ( حضرت محمدؐ) یقین میری قوّت ہے(تقریر نمبر 13)106
14  871اَلصِّدۡقُ شَفِیۡعَتِیۡ (حضرت محمدؐ) صدق میرا شفیع ہے (تقریر نمبر 14)117
15872اَلطَّاعَۃُ حَسَبِیۡ (حضرت محمدؐ) اطاعتِ الٰہی میرا حسَب ہے (تقریر نمبر 15)126
16873اَلۡجِہَادُ خُلُقِیۡ  (حضرت محمدؐ) جہاد میرا خُلق ہے (تقریر نمبر 16)135
17874قُرَّۃُ عَیۡنِیۡ فِی الصَّلٰوۃِ ( حضرت محمدؐ ) نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے(تقریر نمبر 17)142
18876نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَةَ شَھْرٍ (حضرت محمدؐ)  مجھے ایک مہینے کی مسافت کے برابر رُعب سے نوازا ہے(تقریر نمبر 1)153
19877جُعِلَتۡ لِیَ الۡاَرۡضُ مَسۡجِدًا وَّ طَہُوۡرًا  (حضرت محمدؐ) ساری زمین میرے لئے مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنا دی گئی ہے(تقریر نمبر 2)166
20878اُعۡطِیۡتُ الشَّفَاعَۃَ وَلَمۡ یُعۡطَ نَبِیٌّ قَبۡلِیۡ   (حضرت محمدؐ) مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں ہوئی (تقریر نمبر 3)176
21879بُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ کَافَّۃً (حضرت محمدؐ) مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیاہے(تقریر نمبر 4)188
22880اُعۡطِیۡتُ جَوَامِعَ الۡکَلِمِ ( حضرت محمدؐ ) مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں( تقریر نمبر 5)  196
23881اُحِلَّتۡ لِیَ الۡغَنَائِمُ  (حضرت محمدؐ) غنیمتیں میرے لئے جائز کی گئی ہیں(تقریر نمبر 6)210
24882خُتِ٘مَ بِیَ النَّبِیُّوۡنَ    (حضرت محمدؐ) میرے ذریعہ نبیوں پر مہر لگائی گئی ہے (تقریر نمبر 7)221
25883اُتِیْتُ بِمَفَاتِیْحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ( حضرت محمدؐ ) مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں232
26884جُعِلَ التَّرَابُ لِیْ طَہُوْرًا ( حضرت محمدؐ ) مٹی کو میرے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا گیا241
27885جُعِلَتْ اُمَّتِیْ خَيْرَ الْأُمَمِ (حضرت محمدؐ ) میری امت کو بہترین امت بنایا گیاہے247
28886سُمِّيْتُ أَحْمَدَ ) حضرت محمدؐ) میرا نام احمد رکھا گیا255
29887اَنَا حَبِيْبُ  اللّٰہِ ( حضرت محمدؐ) مَیں اللہ تعالیٰ کا حبیب ہوں262
30888جُعِلَتْ صُفُوْفَنَا کَصُفُوْفِ الْمَلَائِکَۃِ (حضرت محمدؐ ) ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی رکھی گئی ہیں269
31889أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ ( حضرت محمدؐ)  مَیں قیامت کے روز اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر کوئی گھمنڈ یا فخرنہیں277
32890اَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (حضرت محمدؐ ) میں قیامت کے روز حمد کا جھنڈا اُٹھائے ہوئے ہوں گا283
33892إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ (حضرت محمدؐ ) مَیں یقیناً تمہارا پیش رَو ہوں اور تم پر گواہ ہوں  292
34893وَاصۡطَفَانِیۡ مِنۡ بَنِیۡ ھَاشَمٍ (حضرت محمدؐ ) اللہ تعالیٰ نے مجھے بنو ہاشم میں سے منتخب فرمایا298
35894عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا  قریب ہے کہ تیرا ربّ تجھے مقامِ محمود  پر فائز کردے308
36895اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ (حضرت مسیح موعودؑ  کے ارشادات کی روشنی میں )(تقریر نمبر 1)316
37896اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ (حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی تفسیر کے آئینہ میں)(تقریر نمبر 2)323
38897الکوثر، خیر کثیر کے معانی (حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)330
39898اَلْکَوْثَرْ۔ خَیْرِ کثیر اَیْ اَلْقُرْآن (اَلْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ) (تقریر نمبر 4)339
40899اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَر۔ اَلۡکَوثَرۡ ۔ خَیرِ کثیر بذریعہ حضرت مسیح موعودؑ (تقریر نمبر 5)351
41900مجھ پر سورۃ الکوثر نازل ہوئی  (حضرت محمدؐ ) (تقریر نمبر 6)362
42901لَوْ کَانَ مُوْسیٰ وَ عِیْسیٰ حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اِتَّبَاعِیْ ( حضرت محمدؐ )       اگر حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ زندہ ہوتے تو اُنہیں میری پیروی کے بغیرچارہ نہ ہوتا370
43902اَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّنَ (حضرت محمدؐ )  مَیں وہ اینٹ ہوں اور مَیں خَاتَمُ النبین ہوں377
44903آنحضرتؐ کی سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی تک رسائی اور جنت کا دیکھنا    (معراج مصطفیؐ کا شُہرہِ آفاق سفر)  384
45904فَأَمَمْتُهُمْ ( حضرت محمدؐ )              مَیں نے ان سب انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت کرائی     (واقعہ اسراء)395
46905اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ (حضرت محمدؐ ) مجھے اخلاقِ حسنہ کی تکمیل  کے لئے مبعوث کی گیا ہے(تقریر نمبر 1)403
47906اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ (حضرت محمدؐ ) مجھے اخلاقِ حسنہ کی تکمیل  کے لئے مبعوث کی گیا ہے (ارشادات حضرت مسیح موعودؑ کی روشنی میں)(تقریر نمبر 2)416
48857میری آل (حضرت محمدؐ)429
49907لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلاکْ                  اگر تم نہ ہوتے تو مَیں کائنات کی کوئی بھی چیز پیدا نہ کرتا438
50908آنحضورؐ کی چند مزید فضیلتیں450

کتاب کا لنک:

https://mushahedat.com/wp-content/uploads/2025/08/‎⁨50تقاریر-بابت-سیرت-و-شمائل-حضرت-محمد-ﷺ-حصہ-سوم⁩.pdf

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے