
جھروکا
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے:
” یہ بات ہر ایک جانتا ہے کہ تالیفات کی نسبت یہ عام محاورہ ہے کہ ان کو نتائجِ طبع کہتے ہیں یعنی طبع.زادبچے“
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ350-351)
لغات میں لکھا ہے کہ نتائجِ طبع سے مراد طبیعت کا بچہ یا طبیعت کی اولاد کے ہیں اور طبع زاد بچے سے مراد اپنی ایجاد اور تخلیق کے ہیں گویا تصنیفات اور تالیفات انسان کے بچے کی طرح ہیں۔
لکھا ہے کہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے ایک رئیسہ شہزادی سے شادی کر لی جس نے بھوپال کے خزانے اور اپنے تمام تر اختیار نواب صاحب کو دے کر خود نواب صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا ۔نواب صاحب نے اپنی خود نوشت میں لکھا کہ
” رئیسہ سے کچھ اولاد نہ ہوئی البتہ اولادِ معنوی یعنی تالیف و اشاعِ کتب، جو کہ سعادت کے اعتبار سے اولاد ذریتِ ظاہری سے بالاتر ہے۔ یہ توفیق حصولِ جاہ و فرصت کے سبب نصیب ہوئی۔ اگر رئیسہ عالیہ سے نکاح نہ ہوتا تو بظاہر علم کتبِ دینی کی اشاعت کی کوئی صورت نہ تھی “
(البقاء المِنن بالقاءِ الْمِحن صفحہ 162-163 از الفضل انٹرنیشنل 28 دسمبر 2024ء صفحہ 3 کالم 4)
ادب اور تحریر سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی تصنیفات کو اپنے بچوں کی طرح پالتے ہیں۔ جنم یعنی اشاعت کے بعد رونمائی کرتے ہیں جو بچے کو گھٹی دینے کے مترادف ہے اور پھر بڑے پیار سے اور بھرپور کوشش سے اس کی اشاعت کرتے ہیں اور بعض تصنیفات میں اضافہ کر کے اس کو نئے رنگ دیتے ہیں۔مصنفین سے رابطہ کر کے اگر پوچھیں تو وہ یہی جواب دیں گے کہ وہ اپنی کتب سے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے ہیں یہی کیفیت اُن لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو گو مصنف تو نہیں ہوتے لیکن کتب بینی کا شوق رکھتے ہیں اور کتابوں سے بچوں کی طرح پیار کرتے ہیں۔
یہ تصنیفات کسی انفرادی بندے کی بھی ہو سکتی ہیں اور کسی ادارے کی بھی جیسے ادارہ” مشاہدات“ کی یہ متذکرہ بالا کتاب 17ویں اولاد ہے جو 40 تقاریر بابت خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلددوم پر مشتمل ہے گو یہ 40 تقاریر ہیں لیکن بعض تقاریر میں بیگمات کو شامل کر کے 48 افراد کی سیرت بیان ہوئی ہے ۔ اس سے قبل اِسی عنوان پر 60 تقاریر پر مشتمل تصنیف 16ویں بچے کے طور پر منصّہ شہود پر آئی تھی جو67 افراد کی سیرت پر مشتمل ہے اور یوں دونوں کتب میں 115 افراد کی سیرت کو جمع کر دیا گیا ہے ۔ جس طرح بچے اپنی بعض خوبیوں کی وجہ سے دنیا میں شہرت پا جاتے ہیں اِسی طرح ”مشاہدات“ کے تمام بچوں نے دنیا میں شہرت پائی۔ یہ سلسلہ ”آن لائن“ کتب کا ہے جو دنیا بھر میں لارج سکیل پر شیئر ہوئیں۔ لوگوں نے اپنےGadgets میں انہیں save کیا۔جماعتی اور ذیلی تنظیموں کے اجلاسات و اجتماعات پر بطور تقریر پڑھا اور سنا گیا اور ہزاروں لوگوں کے علم وعر فان میں اضافے کا مُوجب ہوئیں۔
مَیں ادارہ ”مشاہدات“ کے ان 17 ہونہار بچوں کے نام بغرض تعارف یہاں دینا چاہوں گا۔ اللہ تعالیٰ اِن کی اشاعت کو درازی عمر عطا کرے۔ آمین
1۔ جماعت احمدیہ و ذیلی تنظیموں کے عہد اور ہماری ذمہ داریاں
2۔ تقاریر سیرت و شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم جلد اوّل
3۔ 100 تقاریر برائے ممبرات لجنہ اماء اللہ برموقع صد سالہ جوبلی
4۔ 52 علامات 52 تقاریر بابت پیشگوئی مصلح موعودؓ
5۔ 50 تقاریر برموقع یوم مسیح موعودؑ
6۔ 30 دروس بابت رمضان المبارک
7۔ 50 تقاریر برموقع یوم خلافت (حصہ اول)
8۔ 25 تقاریر بابت انفاق فی سبیل اللّٰہ
9۔ 65 تقاریر برائے انصاراللّٰہ
10۔ 20 تقاریر بابت محرم الحرام
11۔ 25 تقاریر بابت اہل بیت رسولؐ اور اُن کا مقام و مرتبہ
12۔ 50 تقاریر بابت سیرت و شمائل حضرت محمدؐ (حصہ دوم)
13۔ 70 تقاریربرائے خدام الاحمدیہ
14۔ 50 تقاریر بابت قرآن کریم (حصہ اول)
15۔ 50 تقاریر بابت اخلاقیات (حصہ اول)
16۔ 60 تقاریر بابت افرادِ خاندان حضرت مسیح موعودؑ (حصہ اول)
17۔ 40 تقاریر بابت افرادِ خاندان حضرت مسیح موعودؑ (حصہ دوم)
اس سے قبل خاکسار کو بطور ایڈیٹر ادارہ” الفضل آن لائن لندن“ کے تحت نصف سینکڑے سے زائد 51 تصنیفات آن لائن شائع کرنے کی توفیق ملی۔ الفضل آن لائن لندن کے یہ تمام بچے نیک نامی کا باعث بنے اور انہوں نے خوب شہرت سمیٹی۔الحمدللّٰہ
دونوں اداروں کے ان بچوں کو علمی، روحانی اور اخلاقی طور پر تراشنے میں سینکڑوں مرد و خواتین خدمت بجالائے ان تمام کے نام یہاں دینا مشکل ہے تاہم جس بچے کا تعارف کروانے کے لیے یہ پیش لفظ لکھا جارہاہے اس کے زیب و آرائش کے لیے بالترتیب نام بغرض دعا تحریرہیں۔ فجزاھم اللّٰہ تعالیٰ خیراً و کان اللّٰہ معھم
1۔ مکرمہ عائشہ منصور چوہدری صاحبہ
2۔مکرم زاہد محمود صاحب
3۔مکرم منہاس محمود صاحب
4۔ مکرم فضل عمر شاہد صاحب
5۔ مکرم عامر محمود صاحب
6۔مکرم سعید الدین احمد صاحب
مکرم حافظ سعید الرحمن صاحب یو کے تحریر کرتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ آپ کو ان کاوشوں کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس فیلڈ میں الگ ملکہ عطا فرمایا ہوا ہے اور آپ نے زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارے مضامین اکٹھے کر کے قارئین کی دلچسپی کو برقرار رکھا ۔ اللھم زد فزد“
مکرم مقصود احمد منیب صاحب ہالینڈ سے تحریر فرماتے ہیں:
” بہت ہی مفید یہ چیزیں ہیں جو آپ شیئر کرتے ہیں۔ میں پڑھتا ہوں بہت مزہ آتا ہے۔ بڑا ضخیم اور اہم کام ہورہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے“
مکرم محمد عمر تماپوری انڈیا سے تحریر کرتے ہیں:
”احمدیہ لٹریچر میں آپ کے تبلیغی، تربیتی اور تنظیمی مضامین کا بڑا ضافہ ہوگیا ہے۔ بڑی محنتِ شاقہ سے آپ نے اس کو تیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔“
رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ
خاکسار نے ادارہ ”مشاہدات“ کی 17 ویں کاوش کے پیشِ لفظ کو ”جھروکا“کا عنوان دیا ہے ۔ جس کے معانی فیروز اللغات میں یہ لکھے ہیں کہ”ایسی کِھڑکی جو پُر منظر اطراف میں سیر یا نظارے کی غرض سے رکھی گئی ہو“ سو امید ہے کہ سیدنا حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام اور آپؑ کی اولاد کی سیرت کے مختلفُ النوع پہلوؤں کے نظاروں کو دیکھ اور پڑھ کر خوب محظوظ ہوں گے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ اِس اہم عنوان پر دونوں کتابوں کو اکھٹا کر کے مطالعہ کریں۔ جزاكم اللّٰہ خیرا و کان اللّٰہ معکم
۔۔۔۔خاکسار
۔۔۔ابوسعیدحنیف احمد محمود۔ برطانیہ
۔۔۔ ۔ ( شاہد۔ عربی فاضل)
۔۔۔۔ مربّی سلسلہ
(سابق ایڈیٹر روز نامہ الفضل ربوہ و الفضل آن لائن لندن و نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ)
یکم؍فروری 2025ء
ویب سائیٹ: www.mushahedat.com
فون نمبر: +44 73 7615 9966
انڈیکس
نمبر شمار | مشاہدات | عنوان | صفحہ |
1 | 691 | محترم صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب اورزوجہ محترمہ طاہرہ صدیقہ بیگم صاحبہ | 1 |
2 | 675 | محترم بریگیڈئیر ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب ا ور زوجہ محترمہ صاحبزادی آصفہ مسعودہ بیگم صاحبہ | 5 |
3 | 647 | محترم مرزا مجید احمد صاحب | 9 |
4 | 648 | محترمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ زوجہ محترم مرزا مجید احمد صاحب | 14 |
5 | 671 | محترمہ صاحبزادی امۃ الودود بیگم صاحبہ بنت حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ | 20 |
6 | 694 | محترم صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب اور زوجہ محترمہ صاحبزادی سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ | 25 |
7 | 690 | محترم صاحبزادہ کرنل مرزا داؤد احمد صاحب اورزوجہ محترمہ صاحبزادی ذکیہ بیگم صاحبہ | 31 |
8 | 696 | محترمہ صاحبزادی امۃ الباری صاحبہ اورمحترم نواب عباس احمدخان صاحب | 37 |
9 | 695 | محترم نواب مصطفیٰ احمد خان صاحب اور زوجہ محترمہ صاحبزادی امۃ المجیب صاحبہ | 45 |
10 | 692 | محترم صاحبزادہ مرزا ادریس احمد صاحب | 50 |
11 | 771 | محترم سید مولود احمد صاحب | 53 |
12 | 773 | محترمہ صاحبزادی امۃ النور صاحبہ | 58 |
13 | 678 | محترمہ صاحبزادی امۃ الحئی درثمین صاحبہ | 63 |
14 | 772 | محترم ڈاکٹر سیّد تاثیر مُجتبیٰ صاحب | 70 |
15 | 628 | محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب شہید | 77 |
16 | 629 | محترم سیّد طالع احمد صاحب شہید | 88 |
17 | 672 | محترم نواب مودود احمد خان صاحب | 98 |
18 | 766 | حضرت حرمت بی بی صاحبہ المعروف تائی صاحبہ | 104 |
19 | 494 | حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب | 109 |
20 | 604 | حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحبؓ | 118 |
21 | 669 | محترمہ سیّدہ نصیرہ بیگم صاحبہ زوجہ حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحبؓ | 125 |
22 | 767 | محترم مرزا سعید احمد صاحب | 130 |
23 | 607 | محترم صاحبزادہ الحاج مرزا خورشید احمد صاحب | 136 |
24 | 667 | محترمہ صاحبزادی امۃ الوحید بیگم صاحبہ زوجہ محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب | 145 |
25 | 608 | محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب | 152 |
26 | 670 | محترم صاحبزادہ مرزا رشید احمد صاحب | 161 |
27 | 581 | حضرت صاحبزادی امۃالسلام صاحبہؓ | 164 |
28 | 595 | حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ | 169 |
29 | 623 | حضرت سیَّد بیگم نانی جان | 177 |
30 | 591 | حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ | 183 |
31 | 624 | محترمہ سیّدہ شوکت سلطانہ صاحبہ حرم اوّل حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ | 193 |
32 | 625 | محترمہ سیّدہ امۃ اللطیف صاحبہ حرمِ ثانی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ | 198 |
33 | 768 | محترمہ سیّدہ امۃ اللہ بیگم صاحبہ اور محترم پیر صلاح الدین صاحب | 201 |
34 | 769 | محترم سیّد محمد احمد صاحب | 207 |
35 | 770 | محترمہ سیّدہ امۃ الہادی صاحبہ اور محترم کرنل پیر ضیاء الدین صاحب | 215 |
36 | 679 | محترمہ سیّدہ امۃ الرفیق پاشا صاحبہ اور محترم سیّد حضرت اللہ پاشا صاحب | 220 |
37 | 577 | حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب | 229 |
38 | 609 | حضرت سیّدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ | 238 |
39 | 630 | محترمہ سیّدہ بشریٰ بیگم صاحبہ بنت حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ | 245 |
40 | 627 | محترم سیّد میر مسعود احمد صاحب | 253 |