
بنیادی وصف ۔سچائی
”مشاہدات“ کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے احباب جماعت کی تعلیم و تربیت اور اصلاحِ احوال کے لیے تقاریر کی صورت میں خدمت کرنے کی توفیق مل رہی ہے بالخصوص امیرالمومنین حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات، پیغامات اور ہدایات کو اوّلین فرصت میں احبابِ جماعت تک پہنچانے کو اپنا فریضہ جانتے ہوئے خدمات میں مصروف ہے۔ ہمارے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ نے ابھی ماہ ستمبر 2025ء میں برطانیہ کی تمام ذیلی تنظیموں کے سالانہ اجتماعات میں بنفسِ نفیس شرکت فرما کر بصیرت افروز اور پُرمعارف تین خطابات سے نوازا ہے ۔ان تینوں خطابات میں بعض ہدایات مشترک تھیں۔ اُن میں ایک نصیحت جھوٹ تر ک کر کے سچ کو اپنانا تھی بالخصوص لجنہ اماء اللہ کے اجتماع پر خطاب میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے لجنہ اماء اللہ کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ
” لجنہ اماء اللہ کو اجتماعی طور پر معاشرے میں سچائی قائم کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ “
”مشاہدات“ کو فوری طور پر جھوٹ سے بچنے اور سچائی اختیار کرنے کے حوالے سے 30 تربیتی، اصلاحی اورعلمی تقاریر کو یکجائی طور پر کتابی شکل میں احبابِ جماعت کے سامنے پیش کرنے کی سعادت مل رہی ہے۔ ان تینوں خطابات کے جو خلاصے روزنامہ الفضل انٹرنیشنل لندن نے تیار کر کے شائع کیے اُن میں سے جھوٹ اور سچائی کے حصے کو الگ کر کے اس پیش لفظ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ مؤرخہ 21 ستمبر 2025ء کو مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس اطفال الاحمدیہ برطانیہ کے اجتماعات پر مشترکہ اختتامی خطاب میں حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے سچائی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
”قرآنِ کریم ہمیں ایک اور بنیادی وصف سچائی کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر صورتِ حال میں سچائی پر قائم رہنا چاہئے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ ہر احمدی،چاہے نوجوان ہو یا بوڑھا، کاروبار، مالی معاملات اور دیگر امور میں اعلیٰ ترین معیار کی سچائی اور ایمانداری قائم رکھے ۔ مکمل دیانتداری ہر احمدی کی پہچان ہونی چاہئے تاکہ ہماری جماعت دنیا کو منوّر کر سکے اور اُنہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے اور اِس کی عبادت کی طرف رہنمائی کر سکے“
( الفضل انٹرنیشنل 27 ستمبر 2025ء)
مؤرخہ 27 ستمبر کو لجنہ ممبرات اور ناصرات سے خطاب میں جھوٹ کے خلاف منصوبہ بندی کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے آپ ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
” ایک مؤمنہ عورت کی صفَت سچائی پر قائم رہنا ہے۔ جب ایک احمدی سچائی پر قائم رہتی ہے اور جھوٹ سے بچتی ہے تو وہ ایک روحانی جہاد پر روانہ ہوتی ہے۔ یہ جہاد اُسے نہ صرف ہر قسم کے شرک سے بچاتی ہے بلکہ اُس کی اولاد اور دیگر معاشرے کے لئے بھی ایک نمونہ قائم کرتی ہے جو اُنہیں جھوٹ سے پرہیز کرنے اور شرک کو مٹانے کا سبق دیتا ہے۔ جو شخص سچائی کو قائم کرتا ہے اور دوسروں میں بھی یہ وصف پیدا کرتا ہے وہ یقیناً معاشرے کو خوبصورت بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔ جھوٹ ، فساد اور گھروں اور معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کُنجی ہے۔ چونکہ احمدیت کی اگلی نسل آپ کی گود میں پروان چڑھ رہی ہے اِس لئے ضروری ہے کہ آپ ہمیشہ سچائی پر قائم رہیں۔
مجھ سے جب بھی مائیں اِس غیر اسلامی ماحول میں بچوں کی اچھی تربیت کے لئے رہنمائی لیتی ہیں تو میرا یہی جواب ہوتا ہے کہ اپنا عملی نمونہ اسلامی تعلیمات کے مطابق بنائیں کیونکہ بچہ چھوٹی عمر سے ہی ماں کے پاس زیادہ ہوتا ہے اور اِسے دیکھ کر اِس کی نقل کرتا ہے۔ اِس لئے احمدی ماؤں کی بڑی ذمہ داری ہےکہ وہ معاشرے سے شرک کو مٹائیں اور سچائی کو قائم کریں۔ اِسی طرح لجنہ اماء اللہ کو اجتماعی طور پر معاشرے میں سچائی قائم کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔اللہ نے جھوٹ کو شرک کے برابر گردانا ہے اور ایک احمدی کے لئے یہ بات کافی ہونی چاہئے کہ وہ اِس سے بچ کر رہے۔ اگر مائیں بچوں کو جھوٹ سے بچالیں تو وہ ایک ایسی نسل کو پروان چڑھائیں گی جو کہ بہادر اور حق کی بات کرنے والی ہو گی اور پھر اِسی جرات کے نتیجہ میں دنیا کو خدا کے دین کی طرف بلانے والی ہو گی۔ “
(الفضل انٹرنیشنل مؤرخہ 4 ؍اکتوبر 2025ء)
اِسی طرح حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مؤرخہ 28؍ستمبر 2025ء کو مجلس انصار اللہ یو کے، کے سالانہ اجتماع پر انصار سے مخاطب ہو کر جھوٹ سے بچے رہنے کی یوں تاکید فرمائی۔
” آپؑ نے بیعت کرنے والوں کو یہ بھی فرمایا کہ جھوٹ سے بچنا ہے۔ جھوٹ ایک بہت بڑی بُرائی ہے۔ اللہ.تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ (الحج:31) یعنی بتوں کی پلیدی سے احتراز کرو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں، وہ خالص منافق ہے اور اگر اِس میں نِفاق کی ایک خصلت بھی پائی جائے ، یہاں تک کہ وہ اُسے چھوڑ دےتو پھر ہی وہ نِفاق سے پاک ہو گا اور وہ چار باتیں یہ ہیں کہ جب وہ گفتگو کرتا ہے تو کِذب بیانی سے کام لیتا ہے یعنی اپنی باتوں میں جھوٹ ملا رہا ہوتا ہے۔ جب معاہدہ کرتا ہے تو غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ بہت سارے لوگ خود جائزہ لیں کہ ہم کتنے معاہدے کرتے ہیں اور پھا اِن پر عمل نہیں کر رہے ہوتے، مقدمے چل رہے ہوتے ہیں۔ تیسری بات یہ کہ جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ یہ بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے… جب جھگڑتا ہے تو گالی گلوچ سے کام لیتا ہے۔ اِن ساری باتوں کا تعلق جھوٹ سے ہے۔ جھوٹا انسان ہی ہے جو اِس قسم کی حرکتیں کر رہا ہوتا ہے۔ پس ہمیں باریک سے باریک باتوں میں سچائی کی تلاش کرنی چاہئے۔ باریک سےباریک رنگ میں سچائی کی تلاش کرنی چاہئے۔ پس ایک احمدی کو، ایک مؤمن کو، جس نے حضرت مسیح.موعودؑ کی بیعت کی ہے، اِس کو اِس طرف خاص توجہ دینی چاہئے کہ ہمیں کس قدر جھوٹ سے نفرت کرنی چاہئے کیونکہ یہ ہمیں شرک کے قریب لے جا رہا ہے۔“
( الفضل انٹرنیشنل 4 اکتوبر 2025ء)
اللہ تعالیٰ ”مشاہدات“ کی اِس حقیر کوشش کو قبول فرمائے اور تمام احباب و خواتین اور نَونِہالانِ جماعت کو اپنے پیارے امام کی خواہش اور تمنا کے مطابق سچائی کو اپنانے والا بنائے اور جہاں یہ 30 تقاریر اس حوالے سے مفید ثابت ہوں وہاں سچائی کے راستے متعین کرنے میں معین و مددگار بھی ہوں۔
ان تقاریر کی تیاری اور کمپوزنگ اور دیگر مراحل میں بہت سے دوست وخواتین نے حصہ ڈالا ہے۔ ان کے اسماء بغرض حصولِ دعا درج ہیں۔ قارئین جب ان تقاریر کو پڑھیں تو ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
1۔ عزیزم منہاس محمود ۔ جرمنی
2۔ عزیزم زاہد محمود
3۔ مسز عائشہ چوہدری ۔ جرمنی
4۔ مسز عطیۃُ العلیم ۔ ہالینڈ
5۔ عزیزم عامر محمود ملک ۔ برطانیہ
6۔ عزیزم سعید الدین احمد ۔برطانیہ
7۔ عزیزم فضل عمر شاہد ۔ لٹویا
8۔ مکرم عمیر احمد باجوہ صاحب
9۔ مسز زکیہ فردوس کومل۔برطانیہ
10۔ مسز بقعۃُ النور عمران۔جرمنی
11۔ خاکسار ابوسعید حنیف احمد محمود۔ برطانیہ
”مشاہدات“ کی 26 ویں کاوش آپ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ
۔خاکسار
۔۔۔ابوسعیدحنیف احمد محمود
۔۔۔۔مربّی سلسلہ حال برطانیہ
۔۔۔۔۔ ( شاہد۔ عربی فاضل)
(سابق ایڈیٹر روز نامہ الفضل ربوہ و الفضل آن لائن لندن و نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ)
15؍اکتوبر 2025ء
ویب سائیٹ: www.mushahedat.com
فون نمبر: +44 73 7615 9966
ای میل: hanifahmadmahmood@hotmail.com
انڈیکس
| نمبر شمار | مشاہدات | عنوان | صفحہ |
| 1 | 155 | آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلقِ عظیم”صدق وسچائی“ (از خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ) | 1 |
| 2 | 137 | آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت شعاری | 12 |
| 3 | 871 | اَلصِّدۡقُ شَفِیۡعَتِیۡ (حضرت محمدؐ)صدق میرا شفیع ہے (تقریر نمبر 14) | 20 |
| 4 | 616 | اسلام کی اخلاقی تعلیمات | 29 |
| 5 | 315 | حضرت مسیح موعودؑ کی دعویٰ سے پہلے کی پاکیزہ اور مطہّر زندگی | 35 |
| 6 | 947 | قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا | 46 |
| 7 | 948 | قُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْداً (خلاصہ خطبہ جمعہ حضورِ انورایدہ اللہ فرمودہ 21؍ جون 2013ء ) ( تقریر نمبر2) | 53 |
| 8 | 98 | راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے بھلا | 65 |
| 9 | 958 | اسلام کا ایک بنیادی وصف ۔ سچائی | 72 |
| 10 | 973 | وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ | 76 |
| 11 | 952 | نازک ترین معاملہ زبان سے ہے(مسیح موعودؑ) | 90 |
| 12 | 100 | جھوٹ سے اجتناب | 94 |
| 13 | 74 | پانچ بنیادی اخلاق | 103 |
| 14 | 459 | ایک احمدی خادم کے اوصاف ۔ پانچ بنیادی اخلاق | 114 |
| 15 | 340 | رمضان اور جھوٹ سے اجتناب | 131 |
| 16 | 157 | افواہ سازی ایک بڑی خیانت ہے | 137 |
| 17 | 938 | معاشرتی اور اخلاقی زوال کے اسباب | 148 |
| 18 | 119 | آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایفائے وعدہ | 160 |
| 19 | 972 | عہد شکنی نہ کرو | 167 |
| 20 | 96 | اطفال کا وعدہ اور بچوں کی ذمہ داریاں | 172 |
| 21 | 92 | خدام الاحمدیہ کا عہد اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں | 180 |
| 22 | 44 | عہد انصار اللہ اور ہماری ذمہ داریاں | 190 |
| 23 | 29 | عہد لجنہ اماء اللہ اور ہماری ذمہ داریاں | 195 |
| 24 | 30 | میں اپنا ناصرات کا عہد کیسے پورا کر سکتی ہوں؟ | 203 |
| 25 | 102 | عہد بیعت اور ہماری ذمہ داری | 208 |
| 26 | 103 | تجدید عہد وفائے خلافت اور ہماری ذمہ داریاں | 217 |
| 27 | 976 | سچّے احمدی کی ماں ۔ زندہ باد | 226 |
| 28 | 975 | میڈیا کے ذریعہ جھوٹ، لغویات کی تشہیر | 235 |
| 29 | 23 | سوشل میڈیا کا استعمال اور لجنہ کی ذمہ داریاں | 247 |
| 30 | 974 | گھریلوجھگڑوں و عائلی تنازعات کی وجہ ۔ جھوٹ اور قولِ زور | 256 |
