بنی نوع انسان سے ہمدردی اور خدمت انسانیت (حضرت مسیح موعودؑ کے پاک کلمات اور ارشادات  کے آئینہ میں) ( تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب پیغام صلح میں ہندوستان کی دو بڑی قوموں مسلمانوں اور ہندوؤں کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں :
”ہمارا فرض ہے کہ صفائے سینہ اور نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے کے رفیق بن جائیں اور دین و دنیا کی مشکلات میں ایک دوسرے کی ہمدردی کریں اور ایسی ہمدردی کریں کہ گویا ایک دوسرے کے اعضاء بن جائیں۔اے ہموطنو! وہ دین، دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو اور نہ وہ انسان ،انسان ہے جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ “
( پیغام صلح ، روحانی خزائن جلد 23صفحہ439)

مزید پڑھیں

ہجرت بھی ایک سنّتِ خَیْرُ الانام ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ درحقیقت وہ خدا بڑا زبردست اور قوی ہے جس کی طرف محبت اور وفا کے ساتھ جھکنے والے ہرگز ضائع نہیں کئے جاتے۔ دشمن کہتا ہے کہ مَیں اپنے منصوبوں سے اُن کو ہلاک کر دوں اور بد اندیش ارادہ کرتا ہے کہ مَیں ان کو کچل ڈالوں۔ مگر خدا کہتا ہے کہ اے نادان! کیا تُو میرے ساتھ لڑے گا؟ اور میرے عزیز کو ذلیل کر سکے گا؟ درحقیقت زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا مگر وہی جو آسمان پر پہلے ہو چکا اور کوئی زمین کا ہاتھ اس قدر سے زیادہ لمبا نہیں ہو سکتا جس قدر کہ وہ آسمان پر لمبا کیا گیا ہے۔ پس ظلم کے منصوبے باندھنے والے سخت نادان ہیں جو اپنے مکروہ اور قابل شرم منصوبوں کے وقت اس برترہستی کو یادنہیں رکھتے جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔ لہٰذا وہ اپنے ارادوں میں ہمیشہ ناکام اور شرمندہ رہتے ہیں اور اُن کی بدی سے راستبازوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا بلکہ خدا کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خلق اللہ کی معرفت بڑھتی ہے۔ وہ قوی اور قادر خدا اگرچہ ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا مگر اپنے عجیب نشانوں سے اپنے تئیں ظاہر کر دیتا ہے۔ ‘‘
(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ19-20)

مزید پڑھیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ پس (اے جنّ و اِنس!) تم دونوں اپنے ربّ کی کس کس نعمت کا انکار کروگے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا بِشَیْئٍ مِنْ نِعْمَکَ رَبَّنَا نُکَذَّبُ فَلَکَ الْحَمْد
اے ہمارے ربّ! ہم تیری کسی بھی نعمت کا انکار نہیں کرتے۔ پس سب تعریف تیرے لیے ہے۔

مزید پڑھیں

جماعت احمدیہ کی صحافت اور روایتی صحافت میں فرق

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” اِس زمانہ میں خداتعالیٰ نے چاہا کہ سیف یعنی تلوار کا کام قلم سے لیا جائے اور تحریر سے مقابلہ کر کے مخالفوں کو پست کیاجائے۔ اس وقت جو ضرورت ہے و ہ یقیناً سمجھ لو سیف کی نہیں قلم کی ہے۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ59)

مزید پڑھیں

صحافت اور ذرائع اِبلاغ کی ضرورت اور اہمیت

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’اخبار قوم کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جو قوم زندہ رہنا چاہتی ہے۔ اسے اخبار کو زندہ رکھنا چاہئے اور اپنے اخبار کے مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو ان امور پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔‘‘
(الفضل 31دسمبر 1954ء)

مزید پڑھیں

جدید ایجادات کا درست اور برمحل استعمال

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
”آجکل انٹر نیٹ اور ای میل …کے بارے میں …غور کریں کہ کس طرح استعمال کرنا ہے، کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کے غلط استعمال جو ہورہے ہیں تو اس کا صحیح استعمال کیوں نہ کیا جائے۔“
(خطبہ جمعہ 22؍دسمبر 2006ء)

مزید پڑھیں

قيامِ نماز ۔ حصول الْبِّر کا ذريعہ ( مسیح  موعودؑ)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” پس وہ لوگ جو …اپنی نمازوں کی مُحَافَظَت کرتے ہیں اور گو مال کا نقصان ہو یا عزت کا نقصان ہو یا نماز کی وجہ سے کوئی ناراض ہو جائے نماز کو نہیں چھوڑتے اور اُس کے ضائع ہونے کے اندیشہ میں سخت بے تاب ہوتے اور پیچ و تاب کھاتے گویا مر ہی جاتے ہیں اور نہيں چاہتے کہ ایک دم بھی یادِالٰہی سے الگ ہوں۔ وہ درحقیقت نماز اور یادِالٰہی کو اپنی ضروری غذا سمجھتے ہیں جس پر اُن کی زندگی کا مدار ہے ۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 212-213)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ  کا جادوئی روحانی انقلاب

حضرت مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری صاحب  مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مخاطب کرکے بیعت کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ قرآن کریم کی جو عظمت اب میرے دل میں ہے، خود پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت جو میرے دل میں اب ہے پہلے نہ تھی۔ یہ سب حضرت مرزا صاحب کی بدولت ہے‘‘
(اصحاب احمد جلد 14 صفحہ56)

مزید پڑھیں

بہتان طرازی اور الزام تراشی۔ایک گنا ہِ کبیرہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں اور لغو باتوں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ359)

مزید پڑھیں