معاشرتی اور اخلاقی زوال کے اسباب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
’’آج کل دنیا میں یہی حالات ہیں۔ کاروباروں میں بدعہدی ہے۔ روزمرہ کے معاملات میں بدعہدی ہے۔ قومی سطح پر اتنی بدعہدی ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک تجارت کا معاہدہ کرتے ہیں اور اس میں اتنی خیانت اور بدعہدی ہے کہ تصور سے باہر ہے۔ کسی نے مجھے بتایا بلکہ ایک کاروبار کرنے والے نے ہی بتایا کہ پاکستان سے ہم جواچھا باسمتی چاول دنیا کو بھیجتے ہیں اُس کے درمیان میں ہم نے ایک ایسا طریقہ رکھا ہوا ہے جس میں اِری جو باسمتی چاول نہیں ہوتا، موٹے چاول کی ایک قسم ہے لیکن اتنا موٹا بھی نہیں ہوتا‘ وہ اس طریقے سے ڈالتے ہیں کہ کسی کو پتہ بھی نہ چلے اور یہ کوئی پرواہ نہیں کہ اگر پتہ لگ جاتا ہے تو اس سے ان کی تجارت پر بھی اثر پڑے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کی بدنامی ہو گی۔ پھر اسی طرح اور بہت سے کام ہیں جو کئے جاتے ہیں۔ یعنی یہ صرف بدعہدی نہیں ہے بلکہ خیانت بھی ہے، جھوٹ بھی ہے۔ صرف چار پیسے کمانے کے لئے یہ بد عہدی کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 4 فروری 2011ء)

مزید پڑھیں

اسلامی تہوار اور تقریبات

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’یہ گوشت اور خون جو تم نے جانور کو ذبح کر کے حاصل کیا ہے اور بہایا ہے اگر یہ تقویٰ سے خالی ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے مقصد سے خالی ہے تو اللہ تعالیٰ کو اِن مادی چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو یہ ظاہری قربانی کی روح تم میں پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ جب تم جانوروں کو ذبح کرو تو تمہیں یہ احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک حکم پورا کروانے کے لیے اس جانور کو میرے قبضہ میں کیا ہے اور مَیں نے اس کی گردن پر چُھری پھیری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت ابراہیم ؑ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دی ہے ۔ اللہ تعالٰی نے مجھے توفیق دی ہے کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کی ……تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب اس نیت سے قربانی کر رہے ہو تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے قربانی کرو گے تو یہ قربانی مجھ تک پہنچے گی تو جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ روح ہے جس کے ساتھ اللہ کے حضور قربانیاں پیش ہونی چاہئیں ۔ ‘‘
( خطبہ عید الاضحہ 21جنوری 2005ء)

مزید پڑھیں

اولاد دین کی پہلوان ہو (سیرت حضرت مسیح موعودؑ کے تناظر میں )

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں:
مَیں بچپن میں اکثر دیکھتا کہ حضورؑ تہجد میں لمبی لمبی دعائیں کرتے اور اپنے بچوں کے لیے بھی بہت دعا کیا کرتے۔ کئی دفعہ مَیں نے سنا کہ حضور دعا میں روتے ہوئے یہ الفاظ دہرا رہے ہیں کہ
”اے اللہ! میری اولاد کو اپنا صالح بندہ بنا دے۔“

مزید پڑھیں

قرآنِ  کریم ، آنحضورؐ کی  زندگی کا مکمل ضابطہ حیات ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خاص فضل سے روحانی کمالات، انعامات وبرکات، اسرار ومعارف اور محسن.باری.تعالیٰ کے خزائن عطا فرمائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن جیسی رحمت شفاء، نور، امام کتاب لے کر آئے اور قرآن کا نزول رحمانی صفت ہی کا اقتضاء تھا جیسے فرمایا اَلرَّحۡمٰنُ۔ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ قرآن کا نزول چونکہ اس صفت کے نیچے تھا ۔ آپؐ جب معلّمِ القرآن ہوئے تو اسی صفت کے مظہر بن کر باوجود اس کے کہ اُن سے دکھ اٹھائے مگر دُعا ، توجہ ، عقدِ ہمت اور تدبیر کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ آخر آپؐ کامیاب ہوگئے۔ پھر جن لوگوں نے آپؐ کی سچی اور کامل اتباع کی ان کو اعلیٰ درجہ کی جزا ملی اور ان کی تعریف ہوئی ۔ اس پہلو سے آپؐ کا نام احمدؐ ٹھہرا کیونکہ دوسرے کی تعریف جب کرتا ہے جب فائدہ دیتا ہے۔ چونکہ آپؐ نے عظیم الشان فائدہ دنیا کو پہنچایا ،اس لیے آپؐ کی اسی قدر تعریف بھی ہوئی۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 112)

مزید پڑھیں

وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کے ہاتھوں قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے اور قرآن شریف کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی ہے کہ وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اور پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخر الزمان کسی کے ہاتھوں قتل نہیں ہوگا۔ “
(ملفوظات جلد 8صفحہ 11)

مزید پڑھیں

قیامِ امن کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کی عالمگیر مساعی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
” اسلام ہر معاملہ میں کامل عدل اور مساوات کا درس دیتا ہے،چنانچہ سورۃ مائدہ آیت نمبر 3 میں ہمیں ایک بہت ہی اہم اور رہنما اصول ملتا ہے کہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان لوگوں سے بھی عدل و انصاف کا سلوک کیا جائے جو اپنی دشمنی اور نفرت میں تمام حدود پار کر چکے ہیں۔
ایک سوال طبعاً پیدا ہوتا ہے کہ اسلام جس عدل کا تقاضا کرتا ہے اس کا معیار کیا ہے اس بارے سورت نساء آیت نمبر 136 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خواہ تمہیں اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا اپنے والدین یا اپنے عزیز ترین رشتہ دار کے خلاف گواہی دینی پڑے تب بھی تمہیں انصاف اور سچائی کو قائم رکھنے کے لیے ایسا کرنا چاہیے۔“
(خطاب حضور انور بعنوان ”عالمی بحران اور امن کی راہ“)

مزید پڑھیں

اِسۡتِیۡنَاس کیا ہے اور اس کے آداب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :
” دوسرے گھروں میں وحشیوں کی طرح خود بخود بے اجازت نہ چلے جاؤ۔ اجازت لینا شرط ہے اور جب تم دوسروں کے گھروں میں جاؤ تو داخل ہوتے ہی السلام علیکم کہو اور اگر ان گھروں میں کوئی نہ ہو تو جب تک کوئی مالک خانہ تمہیں اجازت نہ دے اُن گھروں میں مت جاؤ اور اگر مالک خانہ یہ کہے کہ واپس چلے جاؤ توتم واپس چلےجاؤ۔“
( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 336)

مزید پڑھیں

آج کا نوجوان  بطور ایک اُمید  کے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالی کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں، نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتبِ تربیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔ میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔ بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بُری عادتیں سکھا دیتے ہیں ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں۔ تو ان کو تنبیہہ نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دِ ن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔“
(ملفو ظات جلد اوّل صفحہ 562 )

مزید پڑھیں

بنی نوع انسان سے ہمدردی اور خدمت انسانیت (حضرت مسیح موعودؑ کے پاک کلمات اور ارشادات  کے آئینہ میں) ( تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس بات کو بھی خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے دو حکم ہیں اول یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نہ اُس کی ذات میں نہ صفات میں نہ عبادات میں اور دوسرے نوع.انسان سے ہمدردی کرو اور احسان سے یہ مراد نہیں کہ اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں ہی سے کرو بلکہ کوئی ہو۔ آدم زاد ہو اور خدا تعالیٰ کی مخلوق میں کوئی بھی ہو۔ مت خیال کرو کہ وہ ہندو ہے یا عیسائی۔ مَیں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا انصاف اپنے ہاتھ میں لیا ہے، وہ نہیں چاہتا کہ تم خود کرو۔ جس قدر نرمی تم اختیار کرو گے اور جس قدر فروتنی اور تواضع کرو گے ۔ اللہ تعالیٰ اُسی قدر تم سے خوش ہوگا۔ اپنے دشمنوں کو تم خدا تعالیٰ کے حوالے کرو۔ قیامت نزدیک ہے تمہیں ان تکلیفوں سے جو دشمن تمہیں دیتے ہیں گھبرانا نہیں چاہئے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ابھی تم کو ان سے بہت دکھ اٹھانا پڑے گا کیونکہ جو لوگ دائرہ تہذیب سے باہر ہو جاتے ہیں ان کی زبان ایسی چلتی ہے جیسے کوئی پل ٹوٹ جاوے تو ایک سیلاب پھوٹ نکلتا ہے۔ پس دیندار کو چاہئے کہ اپنی زبان کو سنبھال کر رکھے۔‘‘
(ملفوظات جلد5 صفحہ130)

مزید پڑھیں

بنی نوع انسان سے ہمدردی اور خدمت انسانیت (حضرت مسیح موعودؑ کے پاک کلمات اور ارشادات  کے آئینہ میں) ( تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہوسکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہرا وے ۔ اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور مَیں باوجود اپنی صحت اور تندرستی کے چارپائی پر قبضہ کرتا ہوں تاوہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر مَیں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چارپائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر مَیں اس کے مقابل پر امن سے سو رہوں اور اس کے لئے جہاں تک میرے بس میں ہے آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں… کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو…خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جھک کر بات کرنا مقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔ “
( شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395)

مزید پڑھیں