أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ ( حضرت محمدؐ) مَیں قیامت کے روز اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر کوئی گھمنڈ یا فخر نہیں (تقریر نمبر 14)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ مَیں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر)۔ یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیساحق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی ۔ اِس لئے خدانے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریّتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافرِنعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اِسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔ اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منوّر رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑےہیں۔ ‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118-119)

مزید پڑھیں

جُعِلَتْ صُفُوْفَنَا کَصُفُوْفِ الْمَلَائِکَۃِ (حضرت محمدؐ ) ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی رکھی گئی ہیں (تقریر نمبر 13)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس حدیث کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کےانوار دوسرے میں سرایت کر سکیں۔‘‘
(لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ281-282)

مزید پڑھیں

اَنَا حَبِيْبُ  اللّٰہِ ( حضرت محمدؐ) مَیں اللہ تعالیٰ کا حبیب ہوں (تقریر نمبر 12)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌعَلیٰ رَ بِہٖ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب پر عاشق ہو گیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 524، ایڈیشن1988ء)

مزید پڑھیں