وَالۡعِجۡزُ فَخۡرِیۡ (حضرت محمدؐ) عاجزی میرا فخر ہے (تقریر نمبر 11)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰہَ اَوْحٰى اِلَيَّ اَنْ تَوَاضَعُوا حَتّٰى لَا يَفْخَرَ اَحَدٌ عَلَى اَحَدٍ
یعنی اللہ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم لوگ تواضُع (عاجزی)اختیار کرو یہاں تک کہ کوئی بھی دوسرے پر فَخْر نہ کرے۔
(مسلم حدیث 7210 )

مزید پڑھیں

اَلرَّضَاءُ غَنِیۡمَتِیۡ (حضرت محمدؐ) رضا میری غنیمت ہے (تقریر نمبر 10)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
رسول اللہ یا جب کوئی اچھی چیز (یا اچھی صورت حال ) دیکھتے تو فرماتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کے فضل و انعام سے نیک کام (اور مقاصد ) پورے ہوتے ہیں۔ اور جب کوئی ناپسندیدہ چیز (یا بری صورتِ حال) سامنے آتی تو فرماتےاَلْحَمدُ اللّٰهِ عَلٰى كُلِّ حَالٍہر حال میں اللہ کی تعریف اور اس کا شکر ہے۔
(سنن ابن ماجه، الأدب، حدیث: 3803)

مزید پڑھیں

اَلصَّبۡرُ رِدَائِیۡ (حضرت محمدؐ) صبر میری چادر ہے (تقریر نمبر 9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’ تیرہ برس کا زمانہ کم نہیں ہوتا اس عرصہ میں آپؐ نےجس قدر دکھ اٹھائے ان کا بیان بھی آسان نہیں ہے۔ قوم کی طرف سے تکالیف اور ایذا رسانی میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی جاتی تھی اور ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر و استقلال کی ہدایت ہوتی اور بار بار حکم ہوتا تھاکہ جس طرح پہلے نبیوں نے صبر کیا ہے توبھی صبر کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کمال صبر کے ساتھ ان تکالیف کو برداشت کرتے تھے اور تبلیغ میں سست نہ ہوتے تھے۔ بلکہ قدم آگے ہی پڑتا تھا اور اصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر پہلے نبیوں جیسا نہ تھا کیونکہ وہ تو ایک محدود قوم کے لئے مبعوث ہو کر آئے تھے اس لئے ان کی تکالیف اور ایذا رسانیاں بھی اسی حد تک محدود ہوتی تھیں لیکن اس کے مقابلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر بہت ہی بڑا تھا کیونکہ سب سے اول تو اپنی ہی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالف ہو گئی اور ایذا رسانی کے در پہ ہوئی اور عیسائی بھی دشمن ہو گئے۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ53 )

مزید پڑھیں

اَلۡعِلۡمُ سَلَاحِیۡ (حضرت محمدؐ) علم میرا ہتھیار ہے (تقریر نمبر 8)

ایک دفعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں صحابہ کو دو حلقوں میں بیٹھے دیکھا۔ ایک قرآن پڑھ رہے تھے اور دعاؤں میں مصروف تھے جبکہ دوسرے حلقہ کے صحابہ علم حاصل کررہے تھے اور علم سکھا رہے تھے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ کر کہ مَیں معلّم بنا کر بھیجا گیا ہوں یوں آپؐ دوسرے گروہ یعنی علم والوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 140)

مزید پڑھیں

اَلۡحُزۡنُ رَفِیۡقِیۡ وَغَمِّیۡ لِاَجَلِ اُمَّتِیۡ  (حضرت محمدؐ) غم میرا رفیق ہے اور میرا غم میری  امت کے لئے ہے (تقریر نمبر 7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم خُلق کو یوں بیان فرماتے ہیں:
’’تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیارہ لڑکےپیداہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہوگئے تھے اور آپ نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اورخدا کی طرف جاؤں گا۔ ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جو لخت جگر ہوتے ہیں یہی منہ سے نکلتا تھا کہ اے خدا ہر ایک چیز پر میں تجھے مقدّم رکھتا ہوں مجھے اس اولاد سے کچھ تعلق نہیں. کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بالکل دُنیا کی خواہشوں اور شہوات سے بے تعلق تھے اور خدا کی راہ میں ہر ایک وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے تھے۔‘‘
(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد23 صفحہ299)

مزید پڑھیں

اَلثِّقَۃُ کَنْزِیْ (حضرت محمدؐ) وثوق میرا خزانہ ہے ( تقریر نمبر 6)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم الانبیاء ہیں، ان میں تو یہ وصف تمام انسانوں سے بلکہ تمام نبیوں سے بھی بڑھ کر تھا۔ جس کی مثالیں نہ اُس زمانے میں ملتی تھیں، نہ آئندہ زمانوں میں مل سکتی ہیں۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر موقع پر جرأت کا مظاہرہ کیا ہے تاریخ میں کسی لیڈر کی ایسی مثال نظر نہیں آتی بلکہ سوواں، ہزارواں حصہ بھی نظر نہیں آتی۔ انتہائی مشکل حالات میں بھی قوم کا حوصلہ بلند رکھنے کے لئے، اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بلند رکھنے کے لئے، ان کو صبر اور استقامت اور جرأت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کی تلقین نہ کی ہو اور خود آپؐ کا عمل یہ تھا کہ اگر تنہا بھی رہ گئے اور دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں تب بھی کبھی کسی قسم کے خوف کا اظہار نہیں کیا۔‘‘
( خطبہ جمعہ 22اپریل2005ء )

مزید پڑھیں

ذِکرُاللّٰہِ اَنِیسِیْ وَثَمۡرَۃُ فُؤَادِیۡ فِیۡ ذِکۡرِہٖ (حضرت محمدؐ) ذکر الٰہی میرا مونس اور میرے دل کا پھل ہے (تقریر نمبر 5)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے:
اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ
(ابو داؤد کتاب الوتر)
کہ اے اللہ! مجھے اپنا ذکر، اپنے شکر اور خوبصورت پیاری مقبول نماز کی توفیق دے ۔

مزید پڑھیں

اَلشَّوْقُ مَرْکَبِیْ وَشَوۡقِیۡ اِلیٰ رَبِّیۡ عَزَّ وَجَلَّ (حضرت محمدؐ) شوق میری سواری ہے اور  میرا شوق اپنے رب عزّوجلّ کی  طرف ہے (تقریر نمبر 4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اورپھروہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب پر عاشق ہو گیا ۔ ‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 524)

مزید پڑھیں

اَلْحُبُّ اَسَاسِیْ (حضرت محمدؐ) محبت میری اساس ہے (تقریر نمبر 3)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ دعا بکثرت پڑھا کرتےتھے ۔
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، اَللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي، وَمِنَ المَاءِ البَارِدِ
(ترمذی کتاب الدعوات)
کہ اے اللہ! مَیں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اُس کی محبت بھی جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔ مَیں تجھ سے ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے اللہ! اپنی اتنی محبت میرے دل میں ڈال دے جو میری اپنی ذات، میرے مال، میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔

مزید پڑھیں

اَلۡعَقۡلُ اَصۡلُ دِیۡنِیۡ  (حضرت محمدؐ) عقل میرے دین و ایمان کی جزو ہے (تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اولوالالباب فرمایا ہے۔ پھر اس کے آگے فرماتا ہے اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قَعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِم … اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو بیان کیا ہے کہ اولوالالباب اور عقل سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جلشانہ‘ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں۔ سچی فراست اور سچی دانش اللہ.تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو ۔ کیونکہ وہ الٰہی نور سے دیکھتا ہے صحیح فراست اور حقیقی دانش کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو۔ اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو۔ فکر کرو، سوچو۔ تدبر اور فکر کے لئے قرآن کریم میں بار بار تاکیدیں موجود ہیں۔ کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پار ساطبع ہو جاؤ۔ جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم ماروگے پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہوجائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تمہارے دل سے نکلے گاجب انسان ان باتوں کو سمجھتا ہے تب اللہ تعالیٰ جو صانع حقیقی ہے۔ جو ہر چیز کوپیدا کرنے والا ہے اس کاثبوت سامنے آ جائے گا۔اس وقت سمجھ میں آ جائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تاکہ طرح طرح کے علوم و فنون جو دین کو مدد دیتے ہیں ظاہر ہوں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 41۔ 42 جدید ایڈیشن)

مزید پڑھیں