خلافتِ  احمدیہ کے دوران جماعتی ترقیات

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خد تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو چھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لیے تم میری اس بات سے جو مَیں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا… مَیں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور مَیں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہو گے…اور چاہیے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں“
(الوصیت، ر وحانی خزائن جلد 20 صفحہ 300)

مزید پڑھیں

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر 4 بابت خلافتِ خامسہ)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں اور کوئی ایسا لیڈر نہیں جو ایک دوسرے کے لیے اتنے بے قرار ہوں۔جماعتِ احمدیہ کے افراد ہی وہ خوش قسمت ہیں جن کی فکر خلیفۂ وقت کو رہتی ہے … کوئی مسئلہ بھی دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کا چاہے وہ ذاتی ہو یا جماعتی، ایسا نہیں جس پر خلیفۂ وقت کی نظر نہ ہو اور اُس کے حل کے لئے وہ عملی کوشش کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا نہ ہو۔ اُس سے دعائیں نہ مانگتا ہو… دنیا میں کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشمِ تصور میں مَیں نہ پہنچتا ہوں اور اُن کے لیے سوتے وقت بھی اور جاگتےوقت بھی دعا نہ کرتاہوں۔
(الفضل یکم اگست2014ء)

مزید پڑھیں

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر3  بابت خلافتِ ثالثہ و رابعہ)

1974ء کے حالات میں احمدی لٹے پٹے ربوہ میں آتے تھے۔ طبعی طور پر افسردہ اور بےچین چہروں کے ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے ملتے تھے اور ہنستے مسکراتے چہروں کے ساتھ باہر آتے تھے۔ وہ کیا چیز تھی جو ان کے چہروں کی زردی کو سرخی میں بدل دیتی تھی۔ وہ ایک روحانی باپ کی محبت تھی۔ ایک ٹھنڈا سایہ تھا،وہ پیار کا چشمہ تھا جس میں سارے غم دھل جاتے تھے۔

مزید پڑھیں

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر 2 بابت خلافتِ ثانیہ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مَیں دیانت داری سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کے لیے جو اخلاص اور محبت میرے دل میں میرے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے ہے جس پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اور جو ہمدردی اور رحم میں اپنے دل میں پاتا ہوں وہ نہ باپ کو بیٹے سے ہے اور نہ بیٹے کو باپ سے ہو سکتا ہے۔
(الفضل14؍اپریل1924ء)

مزید پڑھیں

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر 1 بابت خلافتِ اُولیٰ )

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ 1910ء میں گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے تو جماعت کے لیے قیامت کا لمحہ تھا۔ گھر کےباہر مردوں اور عورتوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا ۔ فرمایا:
اِن سب سے کہہ دو کہ مَیں گھبراتا نہیں سب اپنے نام لکھوادیں اور گھروں کو چلے جائیں۔ مَیں ان کے لیے دعا کرتا رہوں گا۔
(حیات نور صفحہ472 )

مزید پڑھیں

امامِ وقت سے اِک رشتۂِ صدق و وفا رکھنا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’درحقیقت جو شخص کسی سے کامل محبت کرتا ہے تو گویا اُسے پی لیتا ہے…اور اس کے اخلاق اور اس کے چال چلن کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے… یہاں تک کہ اسی کا رُوپ ہوجاتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ یہی بھید ہے کہ جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے وہ ظلّی طور پر بقدر اپنی استعداد کے اُس نور کو حاصل کر لیتا ہےجو خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے اور شیطان سے محبت کرنے والے وہ تاریکی حاصل کر لیتے ہیں جو شیطان میں ہے‘‘
(نورالقرآن نمبر2، روحانی خزائن جلد 9صفحہ 430

مزید پڑھیں

تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”اگر نظامِ خلافت سے فیض پانا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اِحکم کی تعمیل کرو کہ یَعبُدُونَنِی یعنی میری عبادت کرو اِس پر عمل کرنا ہو گا … دنیا کی ہر جماعت میں جہاں جہاں بھی احمدی آباد ہیں۔ نمازوں کے قیام کی خاص طور پر کوشش کریں۔ “
(الفضل 29؍مئی 2007ء)

مزید پڑھیں

تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ تمام دنیا کے احمدیوں کو مَیں اس اعلان کے ذریعہ متنبِّہ کرتا ہوں کہ اگر وہ پہلے مبلغ نہیں تھے تو آج کے بعد ان کو لازماً بننا پڑے گا ۔ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے لیے بہت وسیع تقاضے ہیں اور یہ بہت بڑا بوجھ ہے جو جماعت احمدیہ کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے …..اس کی زندگی کے ہر لمحہ کا جواز اس بات میں مضمر ہوگا کہ وہ خدا کی خاطر جیتا ہے اور خدا کی طرف بلانے کے لیے جیتا ہے۔ اِس عہد کے ساتھ جب وہ کام شروع کرے گا تو آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دنیا میں کس کثرت کے ساتھ اور کس تیزی کے ساتھ وہ انقلاب پیدا ہونا شروع ہو جائے گا جس کی ہم تمنا لیے بیٹھے ہیں ۔ ‘‘
( خطبات طاہر جلد 2 صفحہ62-57)

مزید پڑھیں

تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ میرے دل میں یہ خواہش شدّت سے پیدا کی گئی ہے کہ قرآنِ کریم کی سورۃ بقرہ کی ابتدائی 17 آیتیں جن کی مَیں نے ابھی تلاوت کی ہے ہر احمدی کو یاد ہونی چاہئیں اور ان کے معنی بھی آنے چاہئیں اور جس حد تک ممکن ہو ان کی تفسیر بھی آنی چاہیے اور پھر ہمیشہ دماغ میں وہ مستحضر بھی رہنی چاہیے ۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ستَّر اسِّی صفحات کا ایک رسالہ جو حضرت مسیح موعودؑاور حضرت خلیفہ اوّلؓ اور حضرت مصلح موعودؓ کی تفاسیر کے متعلقہ اقتباسات پر مشتمل ہو گا ، شائع بھی کر دیں گے ۔ مجھے آپ کی سعادت مندی اور جذبہ اخلاص اور اس رحمت کو دیکھ کر جو ہر آن اللہ تعالیٰ آپ پر نازل کر رہا ہے امید ہے کہ آپ میری روح کی گہرائی سے پیدا ہونے والے اس مطالبہ پر لبیک کہتے ہوئے ان آیات کو زبانی یاد کرنے کا اہتمام کریں گے ۔ مرد بھی یاد کریں گے، عورتیں بھی یاد کریں گی ، چھوٹے بڑے سب ان سترہ آیات کو از بر کر لیں گے ۔ پھر تین مہینے کے ایک وسیع منصوبہ پر عمل در آمد کرتے ہوئے ہم ہر ایک کے سامنے ان آیات کی تفسیر بھی لے آئیں گے ۔ ‘‘
( خطبات ناصر جلد2 صفحہ851)

مزید پڑھیں

تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ ہمارے دوست اپنی زندگیاں وقف کریں اور مختلف پیشے سیکھیں۔ پھر ان کو جہاں جانے کے لیے حکم دیا جائے وہاں چلے جائیں اور وہ کام کریں جو انہوں نے سیکھا ہے۔ کچھ وقت اس کام میں لگے رہیں تاکہ اُن کے کھانے پینے کا انتظام ہوسکے اور باقی وقت دین کی خدمت میں صرف کریں۔ مثلاً کچھ لوگ ڈاکٹری سیکھیں کہ یہ بہت مفید علم ہے۔ بعض طب سیکھیں۔ اگرچہ طب جہاں ڈاکٹری پہنچ گئی ہے کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ مگر ابھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں طب کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ اِسی طرح اور کئی کام ہیں۔ ان تمام کاموں کو سیکھنے سے ان کی غرض یہ ہو کہ جہاں وہ بھیجے جائیں وہاں خواہ ان کاکام چلے یا نہ چلے۔ لیکن کوئی خیال ان کو روک نہ سکے …میرے دل میں مدت سے یہ تحریک تھی لیکن اب تین چار دوستوں نے باہر سے بھی تحریک کی ہے کہ اِسی رنگ میں دین کی خدمت کی جائے پس مَیں اس خطبہ کے ذریعہ یہاں کے دوستوں اور باہر کے دوستوں کومتوجہ کرتا ہوں کہ دین کے لیے جوش رکھنے والے بڑھیں اور اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ جو ابھی تعلیم میں ہیں اور زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مجھ سے مشورہ کریں کہ کس ہنر کوپسند کرتے ہیں۔ تا ان کے لیے اس کام میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔ لیکن جو فارغ التحصیل تو نہیں لیکن تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔ وہ بھی مشورہ کرسکتے ہیں‘‘
( خطبات محمود جلد5صفحہ611-610)

مزید پڑھیں