صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 2)

جلسہ کے تیسرے روز اختتامی خطاب کے بعد نظمیں پڑھنے کی روایت ہے۔ جس میں اسٹیج کے قریب والے حاضرین کھڑے ہو کر حضور انور کا قریب سے دیدار کرتے ہیں۔ جلسہ سالانہ برطانیہ 2021ء چونکہ Covid 19 کے تمام تر SOPs کے ساتھ منعقد ہو رہا تھا۔ جس میں حاضرین کا ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنا ضروری تھا۔حاضرین نظموں کے دوران حسب سابق اسٹیج کے ارد گرد اکٹھےہو کر کھڑے ہوگئے تو حضور انور نے کرونا کے خطرے کو بھانپتے ہوئے فرمایا:
’’اپنی کرسیاں چھوڑ کر کیوں آگے آئے ہیں اپنی اپنی کرسیوں پر واپس جائیں‘‘
تو یہ خلافت کے متوالے اور جماعت کے فدائی اپنی کرسیوں پر واپس اِس طرح لپکے ہیں جس طرح عقاب اپنے شکار پر لپکتا ہے اور دوستوں کو جہاں جہاں جگہ ملی وہاں بیٹھ گئے۔ ایم ٹی اے کے توسط سے یہ تاریخی نظارہ ساری دنیا نے بالعموم اور احمدیوں نے بالخصوص دیکھا۔

مزید پڑھیں

صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحبؓ کے محاسن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اُن کے مال سے جس قدرمجھے مدد پہنچی ہے مَیں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اُس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم از روحانی خزائن جلد3صفحہ520)

مزید پڑھیں

بزہد و ورع کوش و صدق و صفا         و لیکن میفزائے بر مصطفٰی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو! ہماری جماعت اس بات کے لئے نہیں ہے جیسے عام دنیا دار زندگی بسر کرتے ہیں۔ نِرا زبان سے کہہ دینا کہ ہم اس سلسلہ میں داخل ہیں اور عمل کی ضرورت نہ سمجھی جیسے بد قسمتی سے مسلمانوں کا حال ہے کہ پوچھو تم مسلمان ہو؟ تو کہتے ہیں شکر الحمدللہ! مگر نماز نہیں پڑھتے اور شعائرُ اللہ کی حرمت نہیں کرتے۔ پس مَیں تم سے یہ نہیں چاہتا کہ صرف زبان سے ہی اقرار کرو اور عمل سے کچھ نہ دکھاؤ یہ نکمّی حالت ہے۔ خدا تعالیٰ اِس کو پسند نہیں کرتا اور دنیا کی اس حالت نے ہی تقاضا کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اصلاح کے لئے کھڑا کیا ہے۔ پس اب اگر کوئی میرے ساتھ تعلق رکھ کر بھی اپنی حالت کی اصلاح نہیں کرتا اور عملی قوتوں کو ترقی نہیں دیتا۔ بلکہ زبانی اقرار ہی کو کافی سمجھتا ہے۔ وہ گویا اپنے عمل سے میری عدمِ ضرورت پر زور دیتا ہے۔ پھر تم اگر اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہو کہ میرا آنا بے سود ہے، تو پھر میرے ساتھ تعلق کرنے کے کیا معنے ہیں؟ میرے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہو تو میری اغراض و مقاصد کو پورا کرو اور وہ یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنا اخلاص اور وفا داری دکھاؤ اور قرآن.شریف کی تعلیم پر اُسی طرح عمل کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا اور صحابہ نے کیا۔ قرآن شریف کے صحیح منشا کو معلوم کرو اور اس پر عمل کرو۔خدا تعالیٰ کے حضور اتنی ہی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ زبان سے اقرار کر لیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سرگرمی نہ پائی جاوے۔ یاد رکھو کہ وہ جماعت جو خد اتعالیٰ قائم کرنی چاہتا ہے وہ عمل کے بدوں زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہ وہ عظیم الشّان جماعت ہے جس کی تیاری حضرت آدم کے وقت سے شروع ہوئی۔ کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے اس دعوت کی خبر نہ دی ہو۔ پس اِس کی قدر کرو اور اِس کی قدر یہی ہے کہ اپنے عمل سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ اہلِ حق کا گروہ تم ہی ہو۔‘‘
(ملفوظات جلد3 صفحہ370-371 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

مسلمانوں پہ تب اِدبار آیا  کہ جب تعلیمِقرآں کو بُھلایا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔ صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔ دیکھو! انہوں نے جب پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کئے تھے،پورے ہو گئے۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ409 )

مزید پڑھیں

صحابیاتِ رسولؐ کی قربانیاں

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” صحابیات نے جو قربانیاں کیں آج تک دنیا کے پردے پر اُس کی مثال نہیں ملتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جنگ کے لئے جانے لگے تو ایک صحابیہ بھی لشکر میں آشامل ہوئی، جب صحابہؓ نے اُس کو منع کیا تو اُس عورت نے کہا کیوں! ہم کیوں نہ جائیں۔ کیا ہم پر اسلام کی خدمت فرض نہیں؟ اس کا یہ جواب سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایااسے بھی ساتھ لے چلو اور زخمیوں کو پانی پلانے اور اُن کی مرہم پٹی کرنے کا کام اُس کے سپرد کر دیا…اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھاکہ جب آپ جنگ کے لئے جاتے تو کچھ عورتوں کو بھی ساتھ لے جاتے جو نرسنگ کا کام کرتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں۔ اکثر دفعہ آپؐ کی بیویاں بھی جنگ میں شامل ہوتیں اور نرسنگ کا کام کرتیں۔ جنگِ اُحد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہؓ بھی شامل تھیں۔ کوئی جنگ ایسی نہیں جس میں صحابیات پیچھے رہی ہوں۔“
(فریضۂ تبلیغ، انوارالعلوم جلد18صفحہ 400-403)

مزید پڑھیں

”میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں“ (مسیحِ موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ آخر خدا ہمارا ہی حامی ہو گا اور یہ عاجز اگرچہ ایسے دوستوں کے وجود سے خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہے لیکن باوجود اِس کے یہ بھی ایمان ہے کہ اگرچہ ایک فرد بھی ساتھ نہ رہے اور سب چھوڑ چھاڑ کر اپنا اپنا راہ لیں تب بھی مجھے کچھ خوف نہیں ۔ مَیں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے ۔ اگر مَیں پیسا جاؤں اور کُچلا جاؤں اور ایک ذرّے سے بھی حقیرتر ہو جاؤں اور ہر ایک طرف سے ایذا اور گالی اور لعنت دیکھوں تب بھی مَیں آخر فتح یاب ہوں گا ۔ مجھ کو کوئی نہیں جانتا مگر وہ جو میرے ساتھ ہے مَیں ہرگز ضائع نہیں ہو سکتا ۔ دشمنوں کی کوششیں عبث ہیں اور حاسدوں کے منصوبے لاحاصل ہیں۔ اے نادانو اور اندھو! مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو مَیں ضائع ہو جاؤں گا۔ کس سچے وفادار کو خدا نے ذلّت کے ساتھ ہلاک کر دیا جو مجھے ہلاک کرے گا ۔ یقیناً یاد رکھو اور کان کھول کر سُنوکہ میری رُوح ہلاک ہونے والی نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔ مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ ہیچ ہیں“
(انوارُالاسلام ، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 23)

مزید پڑھیں

ایمان بالغیب کیوں ضروری ہے؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ایمان بالغیب کے یہ معنے ہیں کہ وہ خدا سے اَڑ نہیں باندھتے ۔ بلکہ جو بات پردۂ غیب میں ہو ۔ اس کو قرائنِ مرجّحہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہیں اور دیکھ لیتے ہیں کہ صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں ۔ یہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے کہ آفتاب کی طرح ہر ایک امر اُس پر منکشف ہوجاوے ۔ اگر ایسا ہو تو پھر بتلاؤ کہ اس کے ثواب حاصل کرنے کا کونسا موقعہ ملا ؟ کیا اگر آفتاب کو دیکھ کر کہیں کہ ہم اُس پر ایمان لائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس میں غیب کا پہلو کوئی بھی نہیں ۔ لیکن جب ملائکہ ، خدا اور قیامت وغیرہ پر ایمان لاتے ہیں ثواب ملتا ہے ۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ ان ایمان لانے میں ایک پہلو غیب کا پڑا ہوا ہے۔ ایمان لانے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ اخفاء بھی ہو اور طالبِ حق چند قرائنِ صدق کے لحاظ سے اِن باتوں کو مان لے ۔ “
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 218-219)

مزید پڑھیں

حضرت سیّدہ سعیدۃُ النساء صاحبہؓ اور حضرت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحبؓ

حضرت سیدہ سعیدۃ النساء صاحبہ کے کہنے پر کہ حضور علیہ السلام کی تقاریر اور درس مرد حضرات تو سنتے ہیں مگر خواتین ان سے محروم رہتی ہیں اس لیے عورتوں کی طرف بھی انتظام ہونا چاہیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواتین کو بھی درس دینا شروع کیا تھا اور بعد میں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل مولوی نور الدین صاحبؓ اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحبؓ نے بھی خواتین کو درس دینا شروع کیا تھا بلکہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ابتداء میں درس دیتے ہوئے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب شاہ صاحب کی صالحہ بیوی ایسی آئی ہیں جس نے اس کارِ خیر کی طرف حضور کو توجہ دلائی اور تقریر کرنے پر آمادہ کیا ۔ تمہیں ان کا نمونہ اختیار کرنا چاہیے ۔

مزید پڑھیں

حضرت ڈاکٹر سیّد عبدالستار شاہ صاحبؓ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے اور آپ کے خاندان کے بارے میں فرمایا تھا کہ
’’ہم کو بھی ان پر رشک آتا ہے ، یہ بہشتی کنبہ ہے ۔‘‘

مزید پڑھیں