ہم رمضان کیسے گزاریں؟ (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مُچ تقویٰ کی راہوں پرقدم مارو گے۔ سواپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خداتعالیٰ کو دیکھتے ہو اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو خود تقویٰ سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔‘‘
(کشتی نوح،روحانی خزائن جلد 19 صفحہ15)

مزید پڑھیں

ہم یوم مصلح موعودکیوں مناتے ہیں؟ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’یہ ایک عظیم پیشگوئی ہےجو کسی شخص کی ذات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی اسلام کی نشأۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس پیشگوئی کی اصل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍فروری 2011ء)

مزید پڑھیں

ایمان اور اُس کی حفاظت ؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات حب دنیا کا غلبہ بھی سلب ایمان کا باعث ہوجایا کرتا ہے لہٰذا دنیوی امور میں بہت انہماک اوردنیوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا کہ گویا دین ایمان اورآخرت کی پروا ہی نہ رہے یہ بھی خطرناک زہریلا مرض ہے۔یہ تووہ زمانہ ہے جس کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ،درختوں کے تنوں سے لگ جاؤ اور جس طرح سے بن پڑے زمانہ کے فتن سے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش کرو۔‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 526،ایڈیشن1988ء)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”دُعا کی مثال ایک چشمۂ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے۔ وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کرسکتا ہے۔ جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دُعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اُسے کسی بدمعاشی میں میسّر آسکتا ہے ، ہیچ ہے ۔ بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الٰہی ہے۔ دُعا کے ذریعہ ہی انسان خداتعالیٰ کے نزدیک ہوجاتا اور اُسے اپنی طرف کھینچتا ہے ۔ جب مومن کی دُعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہوجاتا ہے ۔تو خداتعالیٰ کو بھی اس پر رحم آجاتا ہے اور خداتعالیٰ اس کا متولِّی ہوجاتا ہے ۔ اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الٰہی تولّی کے بغیر انسانی زندگی قطعًا تلخ ہوجاتی ہے۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 59)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں پھر کہتا ہوں کہ مسلمان اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہیے اور دوسرے مذاہب کے آگے تودعا کے لئے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور وہ توجہ نہیں کر سکتے ۔ مَیں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ایک عیسائی جو خونِ مسیح پر ایمان لا کر سارے گناہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے ۔ اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دعا کرتا رہے اور ایک ہندو جو یقین کرتا ہے کہ توبہ قبول ہی نہیں ہوتی اور تناسخ کے چکّر سے رہائی ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا کے واسطے ٹکڑیں مارتا رہے گا وہ تو یقیناً سمجھتا ہے کہ کُتّے، بلّے، بندر ، سؤر بننے سے چارہ ہی نہیں ہے ۔ اس لئے یاد رکھو کہ یہ اسلام کا فخر ہے اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم ہے اس میں کبھی سُستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 267-268 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں پھر جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ تم لوگ ان کی مخالفتوں سے غرض نہ رکھو۔ تقویٰ طہارت میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا اور ان لوگوں سے وہ خود سمجھ لیوے گا وہ فرماتا ہے۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ (النحل: 129) اور خوب یاد رکھو کہ اگر تقویٰ اختیار نہ کرو گے اور اس نیکی سے جسے خدا چاہتا ہے کثیر حصّہ نہ لو گے تو اللہ تعالیٰ سب سے اوّل تم ہی کو ہلاک کرے گا کیونکہ تم نے ایک سچائی کو مانا ہے اور پھر عملی طور سے اس کے منکر ہوتے ہو۔ اس بات پر ہرگز بھروسہ نہ کرو اور مغرور مت ہو کہ بیعت کر لی ہے۔ جب تک پوری تقویٰ اختیار نہ کرو گے۔ ہرگز نہ بچو گے ۔ خداتعالیٰ کا کسی سے رشتہ نہیں نہ اس کو کسی کی رعایت منظور ہے ۔ جو ہمارے مخالف ہیں وہ بھی اسی کی پیدائش ہیں اور تم بھی اسی کی مخلوق ہو۔ صرف اعتقادی بات ہرگز کام نہ آوے گی جب تک تمہارا قول اور فعل ایک نہ ہو۔“
(ملفوظات جلد 7صفحہ 144-145 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو کہ سارے فضل ایمان کے ساتھ ہیں ۔ایمان کو مضبوط کرو۔ قطع حقوق، معصیت ہے اور انسان کی زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے ۔ایسا پرہیز اور بُعد جو ظاہر ہوا ہے وہ عقل اور انصاف کی رُو سے صحیح نہیں ہے۔ ایسے امور سے اپنے آپ کو بچاؤ جو تجربہ میں مضرّ ثابت ہوئے ہیں۔
یہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نمونہ بنانا چاہتا ہے اگر اس کا بھی یہی حال ہوا کہ ان میں اخوّت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہوگی ۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 353)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اب بڑی تبدیلی کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ سے سچی صلح کے دن ہیں۔ بعض لوگ اپنی غلط فہمی اور شرارت سے اس سلسلہ کو بدنام کرنے کے لئے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض آدمی طاعون سے ہلاک ہوئے ہیں۔ مَیں نے بارہا اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ یہ سلسلہ منہاج نبوت پر واقع ہوا ہے۔ آنحضرت صلی.اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کفار پر جو عذاب آیا تھا وہ تلوار کا عذاب تھا۔ حالانکہ وہ اُن کے لئے مخصوص تھا۔ لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ صحابہؓ میں سے بعض شہید نہیں ہو گئے ؟ اسی طرح پر یہ سچ ہے کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض لوگ طاعون سے شہید ہوئے ہیں مگر یہ بھی تو دیکھو کہ طاعون کے ذریعہ سے ہمارا نقصان ہوا ہے یا دوسروں کا ؟ ہماری جماعت کی تو ترقی ہوتی گئی ہے اور ہو رہی ہے اور مَیں پھر کہتا ہوں کہ جو لوگ نافع الناس ہیں اور ایمان ، صدق و وفا میں کامل ہیں وہ یقیناً بچا لئے جائیں گے۔ پس تم اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کرو۔ اپنے رشتہ داروں اور بیوی بچوں کو بھی سمجھاؤ اور یہی تلقین کرو اور دوستوں کے ساتھ یہی شرط دوستی رکھو کہ وہ بدی سےبچیں۔
پھر مَیں یہ بھی کہتا ہوں کہ سختی نہ کرو اور نرمی سے پیش آؤ۔ جنگ کرنا اس سلسلہ کے خلاف ہے۔ نرمی سے کام لو اور اس سلسلہ کی سچائی کو اپنی پاک باطنی اور نیک چلنی سے ثابت کرو۔ یہ میری نصیحت ہے اس کو یاد رکھو ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔ آمین۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 239- 240)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’نفس اور اخلاق کی پاکیزگی حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ صحبتِ صادقین بھی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ یعنی تم خدا تعالیٰ کے صادق اور راست باز لوگوں کی صحبت اختیار کرو تاکہ ان کے صدق کے انوار سے تم کو بھی حصہ ملے جو مذاہب کے تفرقہ پسند کرتے ہیں اور الگ الگ رہنے کی تعلیم دیتے ہیں وہ یقیناً وحدتِ جمہوری کی برکات سے محروم رہتے ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا کہ ایک نبی ہو جو کہ جماعت بنا دے اور اخلاق کے ذریعے آپس میں تعارف اور وحدت پیدا کرے۔“
(ملفوظات جلد7 صفحہ 130 )

مزید پڑھیں