’’کہنا ‘‘ ۔ اور ۔ ’’کرنا ‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ67 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

ہم نئے سال کا آغاز کیسے کریں  (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتےہیں:
”مَیں یہ بھی کہوں گا کہ ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا فائدہ ہمیں تبھی ہوگا جب ہم اپنے جائزے لیں کہ گزشتہ سال میں ہم نے اپنے احمدی ہونے کے حق کو کس حد تک ادا کیا ہے اور آئندہ کے لئے ہم اس حق کو ادا کرنے کے لئے کتنی کوشش کریں گے۔پس ہمیں اس جمعہ سے آئندہ کے لئے ایسے ارادے قائم کرنے چاہئیں جو نئے سال میں ہمارے لئے اس حق کی ادائیگی کے لئے چستی اور محنت کا سامان پیدا کرتے رہیں۔“
(خطبہ جمعہ 2 ؍جنوری 2015ء )

مزید پڑھیں

ہم نئے سال کا آغاز کیسے کریں (ازحضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتےہیں:
’’ہم ہر سال کی مبارک باد ایک دوسرے کو دیتے ہیں لیکن ایک مومن کے لئے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہو ں، اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے کہ اصل عید اور خوشی کا دن اور مبارک دن وہ ہوتا ہے جو انسان کی توبہ کا دن ہوتا ہے۔ اس کی مغفرت اور بخشش کا دن ہوتا ہے۔ جو انسان کی روحانی منازل کی طرف نشان دہی کروانے کا دن ہوتا ہے۔ جو دن ایک انسان کو روحانی ترقی کے راستوں کی طرف رہنمائی کرنے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو بروئے کار لانے کی طرف توجہ دلانے والادن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کا قرب پانےکے لیے عملی کوششوں کا دن ہوتا ہے۔ پس ہمارے سال اور دن اُس صورت میں ہمارے لیے مبارک بنیں گے جب ان مقاصد کے حصول کے لیے ہم خالص ہو کر، اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے، اس کے آگے جھکیں گے۔ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ یکم جنوری 2010ء)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”انسان کوسچائی تک پہنچنے کے واسطے دو باتوں کی ضرورت ہے۔ اوّل خداداد عقل اور فہم ہو۔ دوم خداداد سمجھ اور سعادت ہو۔ جن لوگوں کو مناسبت نہیں ہوتی ۔ ان کے دلوں میں کراہت اور اعتراض ہی پیدا ہوتے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ لوگوں میں سے اکثرلوگوں نے راستبازوں کا انکارکیا۔
آپ دُور دراز سے آئے ہیں اورآپ کو آتے ہی ایک روک بھی پیدا ہوگی اور ہم نے تو ایک ہی روک کا ذکر سُنا ہے۔ مخالفانہ گفتگو کے بُجز احقاق حق نہیں ہوتا۔ بہت لوگ منافقانہ طور پر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ۔ پس ایسے لوگ کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ تم خوب جی کھول کر اعتراض کرو۔ ہم پورے طور پر جواب دینے کو تیار ہیں۔“
(ملفوظات جلد 3صفحہ 425)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہماری جماعت کو یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ وہ اس امر کو مد نظر رکھیں جو مَیں بیان کرتا ہوں۔ مجھے ہمیشہ اگر کوئی خیال آتا ہے تو یہی آتا ہے کہ دنیا میں تو رشتےناطے ہوتے ہیں ۔ بعض ان میں سے خوبصورتی کے لحاظ سے ہوتے ہیں بعض خاندان یا دولت کے لحاظ سے اور بعض طاقت کے لحاظ سے لیکن جنابِ الٰہی کو اِن امور کی پرواہ نہیں۔ اُس نے تو صاف طور پر فرما دیا کہ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزّز و مکرّم ہے جو متقی ہے ۔اب جو جماعت اتقیاء ہے خدا اس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہوسکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور ناپاک بھی وہیں ۔ ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہواور خبیث ہلاک کیاجاوے اور چونکہ اس کا عِلم خدا کو ہے کہ کون اُس کے نزدیک متقی ہے ۔ پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے ۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے اور بدبخت ہے جو لعنت کے نیچے آیا ہے۔“
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 238)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’استغفار کرتے رہو اور موت کو یاد رکھو۔ موت سے بڑھ کر اور کوئی بیدار کرنے والی چیز نہیں ہے جب انسان سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ247)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ مختلف مذہب کے لوگ یک جا جمع نہیں ہو سکتے ۔ سُنّۃُ اللّٰہ کا نہ سمجھنا بھی ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ بعض وقت بَلا کو ہم ٹلا دیتے ہیں۔ تو انسان بے باک ہو کر کہتا ہے کہ بَلا ٹل گئی اور پھر شوخیاں کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ پکڑتا ہے اور ہلاک کر دیتا ہے۔ پس اگر طاعون کم ہو جاوے تو اس سے دلیر نہیں ہونا چاہیے۔ خدا تعالیٰ کی مہلت سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔“
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 384-385)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”بَیعت کے معنے ہیں اپنے تئیں بیچ دینا اور یہ ایک کیفیت ہے جس کو قلب محسوس کرتا ہے جبکہ انسان اپنے صِدق اوراخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہوجائے تو وہ بَیعت کے لئے خود بخود مجبور ہوجاتا ہے اورجب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جائے تو انسان سمجھ لے کہ ابھی اس کے صِدق اور اخلاص میں کمی ہے۔“
(ملفوظات جلد 2۔صفحہ 294)

مزید پڑھیں