تقریر بابت اخلاقیات برداشت اور صبر و حوصلہ کی اقسام
ہمارے پیارےامام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جماعت کو صبروبرداشت کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’ایک نیکی صبر و تحمّل ہے صبر کے نتیجہ میں بہت سی بُرائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ صبر کی کمی کے باعث غلط فہمیاں اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہراحمدی کو صبراختیار کرناچاہئے۔دل خراش باتوں کو برداشت کریں۔ اس پالیسی کے نتیجہ میں بہت سے جھگڑوں کا حل ہو سکتا ہے۔ فیملی تنازعات ، خواہ وہ خاوند و بیوی کے درمیان ہوں یا بھائیوں کے درمیان ہوں۔ یہ سب بچگانہ تنازعات ہوتے ہیں…دنیا بھر میں ایک طوفان بےتمیزی ہے۔ قتلِ عام ہو رہا ہے اور قومیں دوسری قوموں پر حملہ آور ہورہی ہیں۔ یہ سب بے صبری کا ہی نتیجہ ہے۔ دنیا تباہی کے دہانے پر ہے۔ احمدیوں کو دنیا کو بچانا ہوگا۔ اس لحاظ سے صبر و برداشت کی عادت کو اس انداز میں اختیار کرنا ہو گا کہ احمدی ہر میدان میں صبر و برداشت کا نمونہ بن جائیں‘‘
(افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ غانا 17؍اپریل 2008ء،مشعل راہ جلد 5 صفحہ140)