یومِ اُمَّہات(Mother’s day)

ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ! لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپؐ نے فرمایا تیری والدہ ! پھر اُس شخص نے اپنے سوال کو دہرایا ۔ آپؐ نے پھر یہی جواب دیا کہ تمہاری والدہ ! اُس کے تیسری مرتبہ دریافت کرنے پر بھی والدہ کا ہی نام حضورؐ نے فرمایا۔ پھر اُس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا ماں کے بعد تیرا باپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار۔

مزید پڑھیں

یوم والدین

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کوزیادہ پسند ہے؟
فرمایا کہ نماز اپنے وقت پر پڑھنا۔ پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور فرمایا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
(بخاری رقم: 504)

مزید پڑھیں

فادرز ڈے(Father’s day)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا
’’ ہم اپنے باپ سے کس انداز ولہجے میں بات کریں ؟‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ایک غلام، جس کا آقا بہت سخت اور ظالم ہو ، غلام سے کوئی بڑی خطا سرزد ہو جائے اور وہ آقا کو اس کی اطلاع دینا چاہے، تو کیسا انداز اور لب و لہجہ اختیار کرے گا ؟ پس اسی طرح اپنے باپ کو مخاطب کیا کرو۔‘‘

مزید پڑھیں

اولاد دین کی پہلوان ہو (سیرت حضرت مسیح موعودؑ کے تناظر میں )

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں:
مَیں بچپن میں اکثر دیکھتا کہ حضورؑ تہجد میں لمبی لمبی دعائیں کرتے اور اپنے بچوں کے لیے بھی بہت دعا کیا کرتے۔ کئی دفعہ مَیں نے سنا کہ حضور دعا میں روتے ہوئے یہ الفاظ دہرا رہے ہیں کہ
”اے اللہ! میری اولاد کو اپنا صالح بندہ بنا دے۔“

مزید پڑھیں

تقریر بابت  تربیتِ اولاد والدین کے تقویٰ کے اولاد پراثرات

حضرت مسیح موعود علیہ السلا م فرماتے ہیں۔
” صالح آدمی کا اثر اس کی ذریت پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اِس سے فائدہ اٹھاتی ہے… حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا ہے کہ مَیں بچہ تھا بوڑھا ہوامَیں نے کسی خدا پرست کو ذلیل حالت میں نہیں دیکھا اور نہ اُس کے لڑکوں کو دیکھا کہ وہ ٹکڑے مانگتے ہوں۔گویا متقی کی اولاد کا بھی خدا تعالیٰ ذمہ دار ہوتا ہے، لیکن حدیث میں آیا ہے ظالم اپنے اہل و عیال پر بھی ظلم کرتا ہے کیونکہ ان پراس کا بد اثر پڑتا ہے۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 117۔ 118 )

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور خدمت و اطاعت والدین

حضرت خلیفۃُ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”خدا نے فرمایا ہے ،تم پر ماں باپ نے رحم کیا تھا ، تم پر احسان کیا تھا۔تم بھی اس رحم کے مقابل پر احسان کا سلوک کرو۔عدل کا نہیں فرمایا …مطلب یہ ہے کہ تم نے جب ماں باپ کے معاملے میں کوئی زیادتی دیکھنی ہے تو عدل کے جھگڑے میں نہ پڑ جانا۔یہ سوچنا کہ اللہ نے تمہیں احسان کی تعلیم دی ہے…احسان کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے اگر کوئی زیادتی بھی کر دی ہے تو تم وسیع حوصلگی دکھاؤ ،اس سے چشم پوشی کرو۔“
(خطباتِ طاہر جلد 14 صفحہ 733)

مزید پڑھیں

حضرت چراغ بی بی صاحبہ والدہ ماجدہ حضرت مسیح موعودؑ

حضرت چراغ بی بی صاحبہ ایک دور اندیش اور معاملہ فہم خاتون تھیں ۔ اپنے خاوند حضرت مرزا غلام مرتضٰی صاحب کے لیے ایک بہترین مشیراور آپ کی غمگسار تھیں ۔ حضرت غلام مرتضٰی صاحب آپ کی باتوں کی بہت احساس کیا کرتے تھے اور ان کی مرضی کے خلاف گھر کے معاملات میں دخل نہیں کرتے تھے ۔

مزید پڑھیں

حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب والدِ ماجد حضرت مسیح موعودؑ

حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب ایک عالم بھی تھے اور علم دوست بھی ، کتب خانہ کا خاص طور پر شوق تھا اور بہت سی کتابیں آپ کے کتب خانہ میں موجود تھیں۔آپ کی ایک بہت بڑی لائبریری تھی۔ اپنی اولادکو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ وپیراستہ کرنے کا ازحدخیال تھا۔

مزید پڑھیں

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا نام آمنہ بنت وہب تھا ۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو زہرہ سے تھا جو قریش ہی کا ایک ذیلی قبیلہ تھا۔ آپ کے والد کا نام وہب بن عبدمناف تھا۔ آپ کے والد اپنے قبیلے کے معزز سردار تھے اور بنو زہرہ قبیلے میں ایک مثالی حیثیت کے مالک تھے ۔

مزید پڑھیں

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کےوالد ماجد حضرت عبد اللہ ابن عبدالمطلب

عبد اللہ ابن عبد المطلب تمام بیٹوں میں سب سے زیادہ باپ کے لاڈلے اور پیارے تھے۔ آپ حسن و خوبی کے پیکر اور جمالِ صورت و کمال سیرت کے آئینہ دار اور عفت و پارسائی میں یکتائے روزگار تھے ۔

مزید پڑھیں