نظامِ خلافت اور زکٰوۃ

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
’’ دیکھ لو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زکوٰۃ کی وصولی کا باقاعدہ انتظام تھا۔ پھر جب آپؐ کی و فات ہوگئی اور حضرت ابو بکرؓ خلیفہ ہوگئےتو اہلِ عرب کے کثیر حصہ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ حکم صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تھا بعد کے خلفاء کے لئے نہیں مگر حضرت ابو بکرؓ نے ان کے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا بلکہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی رسی بھی زکوٰۃ میں دینے سے انکار کریں گے تو مَیں ان سے جنگ جاری رکھوں گا اور اُس وقت تک بس نہیں کروں گا جب تک اُن سے اُسی رنگ میں زکوٰۃ وصول نہ کرلوں جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ادا کیا کرتے تھے چنانچہ آپ اس مہم میں کامیاب ہوئےاور زکوٰۃ کا نظام پھر جاری ہوگیا۔ جو بعد کے خلفاء کےزمانوں میں بھی جاری رہا۔مگرجب سے خلافت جاتی رہی مسلمانوں میں زکوٰۃ کی وصولی کا بھی کوئی انتظام نہ رہا اور یہی اللہ تعالیٰ اِس آیت (استخلاف)میں فرمایا تھا کہ اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو مسلمان زکوٰۃ کے حکم پر عمل نہیں کر سکتے۔‘‘
(تفسیر کبیر سورۃ نور آیت347-348)

مزید پڑھیں

استحکامِ  خلافت اور ہماری ذمہ داریاں

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” مَیں یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اِعتَصَام حَبلُ اللّٰہ کے ساتھ ہو۔ قرآن تمہارا دستورالعمل ہو۔ باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضانِ الٰہی کو روکتا ہے …… چاہیے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میَّت غسَّال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مُردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسے وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔ استغفار کثرت سے کرواور دعاؤں میں لگے رہو۔ وحدت کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔ تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آ سکتا ،پس اس نعمت کا شکر کرو کیونکہ شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے“
(خطبات نور صفحہ131 )

مزید پڑھیں

خلافت کے فیوض و برکات ( تقریر نمبر 2)

خدا تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود ؓ .کو آپ کے دور خلافت کی ابتدا میں فرمایا:
’’مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت! تم پر خلافت کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ ‘‘
(منصب خلافت صفحہ 27)

مزید پڑھیں

’’وہ( خلافت) دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا‘‘ (دائمی خلافت کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء کے ارشادات)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو چھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا وے ۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لیے تم میری اس بات سے جو مَیں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں۔ لیکن جب مَیں جاؤں گا تو خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لیے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔ مَیں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور مَیں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہو گے… اور چاہیے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں“
(الوصیت، ر وحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305)

مزید پڑھیں

خلافتِ حقَّہ  اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر5 بابت خلا فتِ خامسہ)

(تقریر نمبر5 بابت خلا فتِ خامسہ)
مکرم شیخ عمر احمد منیر صاحب۔ راولپنڈی لکھتے ہیں کہ جنوری 2003ء میں مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں لندن میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے پیچھے نماز جمعہ ادا کررہا ہوں۔ سلام پھیرنے کے بعد جاتے ہوئے حضور کی نظر جب مجھ پر پڑتی ہے تو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کب آئے ہیں ۔ حضور کی قدم بوسی کے لئے آگے بڑھتا ہوں اور حضور سے مصافحہ کرتا ہوں تو حضور فرماتے ہیں ۔ شیخ صاحب! میرے بعد اب آپ نے صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب سے مصافحہ کرنا ہے۔ اتنی دیر میں مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب حضور کے ساتھ آکر کھڑے ہوجاتے ہیں اور مَیں فوراً صاحبزادہ صاحب سے مصافحہ کرلیتا ہوں تو حضور رحمہ اللہ میری کمر پر تھپکی دیتے ہیں اور اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے ۔

مزید پڑھیں

خلافتِ حقَّہ  اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر4 بابت خلا فتِ رابعہ)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت ام طاہررضی اللہ عنہا کو مخاطب ہوکرایک مرتبہ فرمایا:
”مجھے خداتعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ طاہر ایک دن خلیفہ بنے گا۔“
(ایک مرد خداصفحہ208)

مزید پڑھیں

خلافتِ حقَّہ اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر3  بابت خلا فتِ ثالثہ)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”مجھے بھی خداتعالیٰ نے ایسی خبردی ہے کہ مَیں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گاجودین کا ناصر ہوگااور اسلام کی خدمت پر کمربستہ ہوگا۔“
(الفضل8؍اپریل1915ء)

مزید پڑھیں

خلافتِ حقہ اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر2بابت خلا فتِ ثانیہ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اپنے خطبہ جمعہ 25؍جون 1937ء میں فرماتے ہیں:
” مَیں ابھی سترہ سال کا تھا۔ جو کھیلنے کودنے کی عمر ہوتی ہے کہ اس سترہ سال کی عمر میں خداتعالیٰ نے الہاماً میری زبان پر یہ کلمات جاری کئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ہاتھوں سے ایک کاپی پر لکھ لئے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْااِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کہ وہ لوگ جو تیرے متبع ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں قیامت تک اُن لوگوں پرفوقیت اور غلبہ دے گا ۔جو تیرے منکر ہوں گے۔ “
(روزنامہ الفضل قادیان 09؍جولائی 1937ءصفحہ 4)

مزید پڑھیں

خلافتِ حقہ اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر1بابت خلا فتِ اولیٰ)

حضرت سید احمد نور صاحب کابلیؓ بیان کرتے ہیں :
”ایک دفعہ عجب خان تحصیلدار جو ہمارے یہاں آئے ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے گھر جانے کی اجازت لے کر شہید مرحوم(یعنی حضرت شہزادہ عبدالطیف صاحب شہید) کے پاس آئے اور کہا کہ مَیں نے حضرت صاحب سے اجازت لے لی ہے لیکن مولوی نور الدین صاحب سے نہیں لی۔ شہید مرحوم نے فرمایا کہ مولوی صاحب سے جاکر ضرور اجازت لینا کیونکہ مسیح موعودؑ کے بعد یہی اوّل خلیفہ ہوں گے۔ چنانچہ جب شہید مرحوم جانے لگے تو مولوی صاحب سے حدیث بخاری کے دو تین صفحے پڑھے اور ہم سے فرمایا کہ یہ مَیں نے اس لئے پڑھے ہیں کہ تا مَیں ان کی شاگردی میں داخل ہوجاؤں حضرت صاحب کے بعد یہ خلیفہ اوّل ہوں گے۔“
(شہید مرحوم کے چشم دید واقعات از سید احمد نور کابلی صاحب صفحہ9-10)

مزید پڑھیں

خلافت ، روحانی ترقیات و فیضان  کا ذریعہ

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’محض کسی ذات سے تعلق رکھنے والے عموماً ٹھوکر کھایا کرتے ہیں۔ میرے خیال میں تو انبیاء کی صفات بھی ان کے درجہ اور عہدہ کے لحاظ سے ہی ہوتی ہیں نہ کہ ان کی ذات کے لحاظ سے۔ پس تمہیں درجہ (خلافت) کی قدر کرنی چاہیے، کسی کی ذات کو نہ دیکھنا چاہیے“
(درس القرآن صفحہ 73)

مزید پڑھیں