ہم یومِ مسیح موعودؑ کیوں مناتے ہیں؟
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مسلمانوں کو چاہئے کہ جو انوار و برکات اس وقت آسمان سے اُتر رہے ہیں وہ ان کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ وقت پر ان کی دستگیری ہوئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اس مصیبت کے وقت ان کی نصرت فرمائی۔ لیکن اگر وہ خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر نہ کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کی کچھ پروا نہ کرے گا۔ وہ اپنا کام کرکے رہے گا مگر ان پر افسوس ہوگا۔
مَیں بڑے زور سے اور پورے یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دوسرے مذاہب کو مٹا دے اور اسلام کو غلبہ اور قوت دے۔ اب کوئی ہاتھ اور طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کا مقابلہ کرے۔ وہ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (البروج: 17) ہے ۔ مسلمانو! یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہیں یہ خبر (دے) دی ہے اور مَیں نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہے۔ اب اس کو سننا نہ سننا تمہارے اختیار میں ہے۔ یہ سچی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور مَیں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو موعود آنے والا تھا وہ مَیں ہی ہوں اور یہ بھی پکّی بات ہے کہ اسلام کی زندگی عیسیٰ کے مرنے میں ہے۔‘‘
(لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ290)
