”اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”نماز ایسی شئ ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جُھک پڑتا ہے۔ نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ مَیں مرگیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گِر پڑی ہے ۔ اگر طبعیت میں قبض اور بدمزگی ہو تو اس کے لئے بھی دعا ہی کرنی چاہئے کہ الٰہی! تُو ہی اُسے دُور کر اور لذّت اور نور نازل فرما۔ جس گھر میں اِس قسم کی نماز ہوگی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہوگا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔“
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 421-422)

مزید پڑھیں

خدا کی ہستی اور انبیاء کی غیبی تائیدات

کس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے آپؐ کے استیصال کے لئے منصوبے بنائے ۔ مکہ میں تیرہ برس تک وہ دکھ دیے جو ایک معمولی انسان کے تباہ کرنے کے لئے بہت کافی تھے۔ آخر کار مکہ سے آپؐ کو نکلنے پر مجبور کیا اور اپنے وطن سے بہت دور ایک بیگانہ سر زمین میں آپؐ پناہ گزیں ہوئے۔ عرب کی متفقہ قوموں نے اس نبی کے استیصال کے لئے بہت کوششیں کیں مگر وہ کامیاب ہوا اور ایسا کامیاب ہوا کہ اس کی کامیابی کی کوئی نظیردنیا میں نہیں ۔

مزید پڑھیں

50 تقاریر  بابت سیرت و شمائل حضرت محمد ﷺ (حصہ دوم)

اور اب تک کی 550 تقاریر میں 89 تقاریرآنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کےمختلف پہلوؤں پر ہیں۔ جن میں سے 39 تقاریر کو گزشتہ سال ربیع الاول 1445ھ کے موقع پر سیرت وشمائل محمدﷺ کے نام سے کتابی شکل دی گئی ۔ اب اِس سال مزید 50 تقاریرسیرت و شمائل محمد ﷺکے نام سے حصہ دوم کی صورت میں ہدیہ قارئین کی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں