تفسیرِ کبیر کے بارے اپنوں اور غیروں کی آراء
علامہ نیاز فتح پوری نے تفسیرِ کبیر پڑھ کر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے نام اپنے خط میں لکھا :
”تفسیرِ کبیر جلد سوم آج کل میرے سامنے ہے اور مَیں اسے بڑی نگاہِ غائر سے دیکھ رہا ہوں اس میں شک نہیں کہ مطالعۂ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔ آپ کے تبحرِ علمی ، آپ کی وسعتِ نظر ، آپ کی غیر معمولی فکر و فراست ، آپ کا حسنِ استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے۔ “
(الفضل 17 نومبر 1963ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ158)