ہم نئے سال کا آغاز کیسے کریں  (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتےہیں:
”مَیں یہ بھی کہوں گا کہ ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا فائدہ ہمیں تبھی ہوگا جب ہم اپنے جائزے لیں کہ گزشتہ سال میں ہم نے اپنے احمدی ہونے کے حق کو کس حد تک ادا کیا ہے اور آئندہ کے لئے ہم اس حق کو ادا کرنے کے لئے کتنی کوشش کریں گے۔پس ہمیں اس جمعہ سے آئندہ کے لئے ایسے ارادے قائم کرنے چاہئیں جو نئے سال میں ہمارے لئے اس حق کی ادائیگی کے لئے چستی اور محنت کا سامان پیدا کرتے رہیں۔“
(خطبہ جمعہ 2 ؍جنوری 2015ء )

مزید پڑھیں

ہم نئے سال کا آغاز کیسے کریں (ازحضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتےہیں:
’’ہم ہر سال کی مبارک باد ایک دوسرے کو دیتے ہیں لیکن ایک مومن کے لئے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہو ں، اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے کہ اصل عید اور خوشی کا دن اور مبارک دن وہ ہوتا ہے جو انسان کی توبہ کا دن ہوتا ہے۔ اس کی مغفرت اور بخشش کا دن ہوتا ہے۔ جو انسان کی روحانی منازل کی طرف نشان دہی کروانے کا دن ہوتا ہے۔ جو دن ایک انسان کو روحانی ترقی کے راستوں کی طرف رہنمائی کرنے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو بروئے کار لانے کی طرف توجہ دلانے والادن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کا قرب پانےکے لیے عملی کوششوں کا دن ہوتا ہے۔ پس ہمارے سال اور دن اُس صورت میں ہمارے لیے مبارک بنیں گے جب ان مقاصد کے حصول کے لیے ہم خالص ہو کر، اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے، اس کے آگے جھکیں گے۔ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ یکم جنوری 2010ء)

مزید پڑھیں

’’ میرے نور الدین کو ‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”مَیں نے کسی روایت کے ذریعہ سنا تھا کہ جب بیت اللہ نظرآئے تواس وقت کوئی ایک دعامانگ لو وہ ضرورہی قبول ہوجاتی ہے۔ مَیں علوم کا اس وقت ماہرتوتھاہی نہیں جوضعیف و قوی روایتوں میں امتیاز کرتا ۔ مَیں نے یہ دعامانگی۔”الٰہی! مَیں تو ہر وقت محتاج ہوں اب مَیں کون سی دعامانگوں ۔ پس مَیں یہی دعامانگتاہوں کہ مَیں جب ضرورت کے وقت تجھ سے دعامانگوں تواس کو قبول کرلیاکر“۔ روایت کا حال تومحدثین نے کچھ ایسا ویسا ہی لکھاہے مگر میراتجربہ ہے کہ میری تویہ دعاقبول ہی ہوگئی۔ بڑے بڑے نیچریوں ، فلاسفروں ، دہریوں سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور ہمیشہ دعاکے ذریعہ مجھ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ایمان میں بڑی ترقی ہوتی گئی۔‘‘
(مرقاۃ الیقین )

مزید پڑھیں

قُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْداً (خلاصہ خطبہ جمعہ حضورِ انورایدہ اللہ فرمودہ 21؍ جون 2013ء ) ( تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’انسان کو دقائق تقویٰ کی رعایت رکھنی چاہئے۔ سلامتی اسی میں ہے کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا نہ کرے تو پھر ایک دن وہی چھوٹی چھوٹی باتیں کبائر کا مرتکب بنادیں.گی اور طبیعت میں کسل اور لاپروائی پیدا ہوکرہلاک ہو جائے گا ۔ تم اپنے زیرِ نظر تقویٰ کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کرنا رکھو اور اس کے لئے دقائقِ تقویٰ کی رعایت ضروری ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 442 ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

قیامِ امن کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کی عالمگیر مساعی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
” اسلام ہر معاملہ میں کامل عدل اور مساوات کا درس دیتا ہے،چنانچہ سورۃ مائدہ آیت نمبر 3 میں ہمیں ایک بہت ہی اہم اور رہنما اصول ملتا ہے کہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان لوگوں سے بھی عدل و انصاف کا سلوک کیا جائے جو اپنی دشمنی اور نفرت میں تمام حدود پار کر چکے ہیں۔
ایک سوال طبعاً پیدا ہوتا ہے کہ اسلام جس عدل کا تقاضا کرتا ہے اس کا معیار کیا ہے اس بارے سورت نساء آیت نمبر 136 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خواہ تمہیں اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا اپنے والدین یا اپنے عزیز ترین رشتہ دار کے خلاف گواہی دینی پڑے تب بھی تمہیں انصاف اور سچائی کو قائم رکھنے کے لیے ایسا کرنا چاہیے۔“
(خطاب حضور انور بعنوان ”عالمی بحران اور امن کی راہ“)

مزید پڑھیں

امن و سلامتی کے سفیر ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ

حضور انور ایدہ اللہ نےایک خط میں مورخہ 28 مارچ 2012ء کو امریکہ کے صدر باراک اوباما کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرمایا :
” دنیا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مَیں نے یہ ضروری محسوس کیا کہ آپ کی طرف یہ خط روانہ کروں کیونکہ آپ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کے منصب پر فائز ہیں اور یہ ایسا ملک ہے جو سُپر پاور ہے… میری آپ سے بلکہ تمام عالمی لیڈروں سے یہ درخواست ہے کہ دنیا میں امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کریں …اللہ تعالیٰ آپ کو اور تمام عالمی لیڈروں کو یہ پیغام سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔“
(ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل لندن 8 جون 2012ء صفحہ11-12)

مزید پڑھیں

تفسیر کبیر اور اِس کے محاسن و خصوصیات

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ انبیاء کی قرآنی ترتیب میں حکمت کے حوالہ سے فرماتے ہیں:
”انبیاء کی ترتیب کے بارے میں یہ وہ علم ہے جو خداتعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے چنانچہ تیرہ سو سال میں جس قدر تفاسیر لکھی گئی ہیں ان میں سے کسی تفسیر میں بھی یہ مضمون بیان نہیں کیا گیا اور کوئی نہیں بتاتا کہ نبیوں کا ذکر کرتے وقت یہ عجیب ترتیب کیوں اختیار کی گئی صرف مجھ پر خداتعالیٰ نے اس نکتہ کو کھولا جس سے اس ترتیب کی حکمت اور اہمیت بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ “
( تفسیر جلد پنجم صفحہ264 )

مزید پڑھیں

خلفاء کرام کی خدام الاحمدیہ سے توقعات

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
’’ میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی نئی نسلیں جب تک اس دین اور ان اصول کی حامل نہ ہو ں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے نبی اور ماموردنیا میں قائم کرتے ہیں اس وقت تک اس سلسلہ کی ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اٹھ سکتا ۔‘‘
)الفضل 10؍اپریل 1938ء(

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

تلاوت قرآن کریم کی اہمیت و برکات(ارشادات خلفائے احمدیت کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”قرآن کریم پڑھنے کے بعد سوچنے کی عادت ڈالو اور سوچنے کے بعد اس پر عمل کرو۔اگر تم ایسا کروگے تو ایک زندہ فعال قوم نظر آنے لگ جاؤ گے۔ “
(تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 640 )

مزید پڑھیں

مالی قر بانی کی اہمیت ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی روشنی میں

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”تم یہ مت سمجھو کہ تمہارے مال ضائع جاتے ہیں ایک ایک پائی جو تم دیتے ہو خدا کے بنک میں جمع ہورہی ہے جو سُود دَرسُود کے ساتھ تمہیں ملے گی۔ پس ڈرو نہیں اور گھبراؤ نہیں وہ دن قریب ہیں بلکہ دروازہ پر ہیں جب مُلک تم کو دیئے جائیں گے اور بادشاہ سلسلہ میں داخل ہوں گے ۔ “
(انوارالعلوم ، جلد 14صفحہ 39)

مزید پڑھیں