”بڑے شہروں میں غفلت کے سامان بہت مہیا ہوجاتے ہیں“ (حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّلؓ)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے دو امان نازل ہوئے تھے ایک تو ان میں سے اٹھ گیا یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود مگر دوسری امان قیامت تک باقی ہے اور وہ استغفار ہے۔ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ(سورۃ الانفال :34)۔ پس استغفار کرتے رہا کرو کہ پچھلی بُرائیوں کے بدنتائج سے بچے رہو اور آئندہ بدیوں کے ارتکاب سے۔“
(ارشادات نور جلد اوّل صفحہ 69)

مزید پڑھیں

عید اور عید سے متعلق فقہی مسائل

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’عید کا دن صرف اچھے کپڑے پہن کر اچھے کھانے کھا کر گزارنے کا نام نہیں ہے بلکہ عید کے لیے عید گاہ میں آتے جاتے اور سارا دن بھی ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں صرف کرنا چاہیے۔ نمازوں کا بھی باقاعدہ خیال رکھنا چاہیے۔ نمازوں کی حاضری کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔‘‘
(خطبہ عید الفطر فرمودہ14نومبر2004ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل  (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’معتکف کے لیے بڑی تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے کہ وہ اپنی عبادت میں مصروف ہوتا ہے پردہ کے لیے ایک چادر ہی ٹانگی ہوتی ہے نا۔ پردہ کے پیچھے سے ایک ہاتھ اندر داخل ہوتا ہے جس میں مٹھائی اور ساتھ پرچی ہوتی ہے کہ میرے لیے دعا کرو یا نمازی سجدے میں پڑا ہوا ہے اوپر سے پردہ خالی ہوتا ہے تو اوپر سے کاغذ آکر اس کے اوپر گر جاتا ہے (ساتھ نام ہوتا ہے)کہ میرے لیے دعا کرو۔ یا ایک پُراسرار آواز پردے کے پیچھے سے آتی ہے آہستہ سے کہ مَیں فلاں ہوں میرے لیے دعا کرو۔ یہ سب غلط طریقے ہیں۔‘‘
(خطبات مسرور جلد2 صفحہ 781۔ 782)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل  (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’بات وہی ہے کہ اصل بنیاد تقویٰ پرہے، حکم بجا لاناہے، حکم یہ ہے کہ تم مریض ہو یا سفر میں ہو، قطع نظر اس کے کہ سفر کتناہے، جو سفر تم سفر کی نیت سے کررہے ہو وہ سفر ہے اور اس میں روزہ نہیں رکھناچاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاہے کہ دو تین کوس کا سفر بھی سفر ہے اگر سفر کی نیت سے ہے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد2 صفحہ742 )

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’پس استغفار اور نیک اعمال جب ہمیں رمضان کے آخری عشرے میں داخل کریں گے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے مطابق آگ سے آزاد کرانے کا عشرہ ہو گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ 19؍ ستمبر 2008ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’یہ رمضان ہمیں ایک دفعہ پھر موقع دے رہا ہے کہ ہم خدا کے آگے جھکیں جس طرح جھکنے کا حق ہے۔ اُس کی عبادت کریں، جس طرح عبادت کرنے کا حق ہے تو اللہ.تعالیٰ ہماری دُعاؤں کا یقیناً جواب دے گا اور یہ عہد کریں کہ آئندہ ہم اِن عبادتوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ اگر یہ ہو جائے تو اِس سے ہم اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالیٰ جماعت کی سالوں میں ہونے والی ترقیات کو دِنوں میں واقع ہوتے دیکھیں گے۔ اِس لئے مَیں پھر یہی کہوں گا کہ اپنی عبادتوں کو زندہ کریں۔ دوسروں کے پاس دُعائیں کروانے کی بجائے خود اللہ تعالیٰ کی ذات کی قدرتوں کا تجربہ حاصل کریں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 22؍اکتوبر2004ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ لیلۃ القدر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتےہیں:
’’ لیلۃ القدر زیادہ تر رمضان سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ رمضان کے آخری دنوں میں عبادت کی تلقین کرنے کے لئے کوئی ایک دن مقرر نہیں فرمایا بلکہ ہر طاق رات جو آخری عشرے میں آتی ہے اس میں کوشش کرو تو لیلۃ القدر مل سکتی ہے۔ خاص وہ عبادت کے دن ہوتے ہیں لوگ خاص زور ماررہے ہوتے ہیں لیکن بعض لوگوں کو جو توبہ کا دن نصیب ہو جائے چاہے کسی وقت ہو کسی بھی عمر میں ہو سچی توبہ کا دن نصیب ہو جائے تو اس کی لیلۃ القدر اسی وقت آگئی ہے۔ یہ فرمایا ہے کہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں یہ بھی حکمت ہے کہ اوسط عمر زیادہ سے زیادہ جو صحت مند ممالک میں ان کی بھی اسّی سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی اس سال کچھ مہینے تو ساری عمر اگر آدمی اس ایک رات کو نہ پائے تو وہ اس کی ساری عمربے کارہو جائے گی اور اگر وہ پالے تو جب بھی پالے تو اس کی وہ ایک رات جو ہے خدا نے اس کے گناہ معاف کردیئے صاف کردیئے تو اس کی ساری زندگی سے بہترہے۔‘‘
(جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل 10؍جون 2002ء صفحہ4)

مزید پڑھیں

(تقریر نمبر 1)ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں:
’’رمضان کے روزوں کے سلسلے میں… بچوں کو سحری کے وقت اٹھا کر کھانے سے پہلے کچھ نوافل پڑھنے کی عادت ڈالی جائے۔ قادیان میں یہی دستور تھا جو بہت ہی ضروری اور مفید تھا جسے اب بہت سے گھروں میں ترک کر دیا گیا ہے۔‘‘
(الفضل 3؍اپریل 1991ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں:
’’پس اس فتنے کی فکر کرو جو تمہارے گھروں میں ہورہا ہے تمہارے بچوں کی صورت میں رونما ہورہا ہے۔ تمہارے احوال کی صورت میں رونما ہورہا ہے اور اس کو دور کرنے کے لئے الصلوۃ والصوم دو ہی چیزیں ہیں۔ نمازوں سے گھر کو بھر دو اور جب رمضان کے مہینے آیا کریں اور ویسے بھی اپنے گھروں کو روزوں سے بھر دیا کرو۔ ہر قسم کے فتنے سے نجات پاؤ گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ؍دسمبر1997ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں:
’’روزہ بمقابل نماز نہیں ہے بلکہ روزہ کا مقصد نماز ہے اور نمازوں کی حالت کو درست کرنا ہے۔ پس اگر روزہ میں نمازیں نہ سنوریں تو روزہ بے کار ہے۔ اگر روزہ میں نمازیں سنور جائیں تو روزہ نماز کا معراج اور نماز میں روزے کا معراج بن جاتی ہیں۔ پس اس میں تفریق نہ کریں ورنہ مضمون بالکل بگڑ جائے گا۔ حقیقت میں روزہ کے دوران جتنی نمازیں سنوریں گی اتنا ہی روزہ کا آپ پھل پائیں گے اور اس حد تک سنور جانی چاہئیں کہ گویا آپ کو خدا نظر آ گیا اور گویا اللہ آپ کو دیکھنے لگا ۔‘‘
(خطبہ جمعہ 16؍ جنوری 1998ء )

مزید پڑھیں