آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اَور تقویٰ کا اعلیٰ مقام

عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک دفعہ سورج گرہن ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ بڑے لمبے رکوع اور سجدے کئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر روتے جاتے تھے کہ ہچکی بندھ گئی اس حال میں رو رو کر یہ دعا کر رہے تھے:
"میرے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ جب تک مَیں ان لوگوں میں ہوں تو انہیں عذاب نہ دے گا۔ کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے تو ان پر عذاب نازل نہ کرے گا ۔ پس ہم استغفار کرتے ہیں۔ (تو ہمیں معاف فرما)۔
(الدر المنثور للسیوطي جز 9 صفحہ 59دار الفکر بیروت)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”نئے سرے سے قرآن شریف کو پڑھو اور اس کے معانی پر خوب غور کرو۔ نماز کو دل لگا کر پڑھو اور احکامِ شریعت پر عمل کرو۔ انسان کا کام یہی ہے۔ آگے پھر خدا کے کام شروع ہو جاتے ہیں۔ جو شخص عاجزی سے خدا تعالیٰ کی رضا کو طلب کرتا ہے خدا تعالیٰ اس پر راضی ہوتا ہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 323)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اُس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں ۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔‘‘
( ملفوظات جلد9صفحہ360)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”یہ بھی یاد رکھو کہ معصیت اور فسق کو نہ واعظ دُور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی اَور حیلہ ۔اس کے لیے ایک ہی راہ ہے اور وہ دعا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہی ہمیں فرمایا ہے اس زمانہ میں نیکی کی طرف خیال آنا اور بدی کو چھوڑنا چھوٹی سی بات نہیں ہے یہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ انقلاب خدا تعالی کے ہاتھ میں ہے اور یہ دعاؤں سے ہوگا۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں اس کا وعدہ ہے۔ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ( المومن: 61) ۔ عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دعا ہے وہ دنیا کے کیڑے ہیں اس لیے اس سے پَرے نہیں جا سکتے۔ اصل دعا دین ہی کی دعا ہے لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گنہگار ہیں یہ دعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی یہ غلطی ہے۔ بعض اوقات انسانی خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آ سکتا ہے اس لیے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے ۔ دیکھو! پانی کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہرحال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لیے کہ فطرتاً برودت اس میں ہے۔ ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔ وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی ۔ اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالی دُور کر دے گا ۔“
(ملفوظات جلد9 صفحہ 167۔168 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالی کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔ اس کی غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق سے اپنے مطلب کو پہنچ جاتاہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ رحیم کریم ہے۔ اُس پر بدظنی نہیں کرنی چاہیے۔ جو اُس کی سنت کو نگاہ میں رکھے گا اور اُس کے لئے دُکھ اور تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجاوے گا وہ ضرور کامیاب ہو گا۔ اگر اُس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہیں چلے گا اور بخل سے کام لے گا تو رہ جاوے گا۔ دیکھو! فوجوں میں جو لوگ بھرتی ہوتے ہیں اور دنیا کی خاطر لڑنے مرنے اور جان دینے کے لئے نوکر ہوتے ہیں، وہ کوئی ہزاروں روپیہ تو تنخواہ نہیں پاتے۔ یہی دس بارہ روپیہ کی خاطر جان دینا قبول کر لیتے ہیں مگر کتنے افسوس کی بات ہےکہ خدا تعالے کی خاطر اور اُس دائمی بہشت اور دائمی خوشنودی کے لئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔‘‘
( ملفوظات جلد 9صفحہ447)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
” ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ نرمی اور رفق سے معاملہ کرو۔ اپنی ساری مصیبتیں اور بلائیں خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ یقیناً سمجھو اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ ہر شخص کی شرارت پر صبر کرتا ہے اورخدا پر اُسے چھوڑتا ہے تو خدا اُسے ضائع نہیں کرے گا۔ اگرچہ دنیا میں ایسے آدمی موجود ہیں جو ہنسی کریں گے اور ان باتوں کو سن کر ٹھٹھا کریں گے مگر تم اس کی پروا نہ کرو۔ خدا تعالیٰ خود اس کے لیے موجود ہے۔ وہ خدا پُرانا نہیں ہو گیا جیسے انسان بُڈھا ہو کر پیرِ فرتوت ہو جاتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام کے وقت تھا اور وہی خدا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا۔ اس کی وہی طاقتیں اب بھی ہیں جو پہلے تھیں ۔ لیکن جو کچھ مَیں کہتا ہوں تم اس پر عمل نہ کرو تو میری جماعت میں نہ رہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 165۔166 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”ہم نے تو اپنی اولاد وغیرہ کا پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ یہ سب خدا تعالیٰ کا مال ہے اور ہمارا اس میں کچھ تعلق نہیں اور ہم بھی خدا تعالیٰ کا مال ہیں جنہوں نے پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوتا ہے ان کو غم نہیں ہوا کرتا۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 409)

مزید پڑھیں

خدمتِ دین، انسانی صحت کے لیے  انشورنس کا کام کرتی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
” دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کا یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور بار برداری اور سچی غم خواری میں اپنی زندگی وقف کر دی جائے۔ دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دُکھ اُٹھاویں اور دوسروں کو راحت کے لیے اپنے پر رنج گوارا کر لیں“
(آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 60)

مزید پڑھیں

قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں تقویٰ کی حقیقی روح

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
” قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیزگاری کے لیے بڑی تاکید ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لیے قوّت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لیے حرکت دیتی ہے۔‘‘
(ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14صفحہ342)

مزید پڑھیں