حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو کہ بیعت کے بعد تبدیلی کرنی ضروری ہوتی ہے۔ اگر بیعت کے بعد اپنی حالت میں تبدیلی نہ کی جاوے۔ تو پھر یہ استخفاف ہے۔ بیعت بازیچہ اطفال نہیں ہے۔ درحقیقت وہی بیعت کرتا ہے جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر ایک امر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ پہلے تعلقات معدوم ہو کر نئے تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔ “
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 339)

مزید پڑھیں

احمدیہ اسٹیج کا تقدّس

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’انسان کو چاہئے شوخ نہ ہو۔ بے حیائی نہ کرے۔ مخلوق سے بد سلوکی نہ کرے۔ محبت اور نیکی سے پیش آوے۔ اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھے۔ سختی اور نرمی مناسب موقع اور مناسب حال کرے۔‘‘ ْ
(ملفوظات جلد5 صفحہ609 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

’’کہنا ‘‘ ۔ اور ۔ ’’کرنا ‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ67 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

ہم نئے سال کا آغاز کیسے کریں  (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتےہیں:
”مَیں یہ بھی کہوں گا کہ ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا فائدہ ہمیں تبھی ہوگا جب ہم اپنے جائزے لیں کہ گزشتہ سال میں ہم نے اپنے احمدی ہونے کے حق کو کس حد تک ادا کیا ہے اور آئندہ کے لئے ہم اس حق کو ادا کرنے کے لئے کتنی کوشش کریں گے۔پس ہمیں اس جمعہ سے آئندہ کے لئے ایسے ارادے قائم کرنے چاہئیں جو نئے سال میں ہمارے لئے اس حق کی ادائیگی کے لئے چستی اور محنت کا سامان پیدا کرتے رہیں۔“
(خطبہ جمعہ 2 ؍جنوری 2015ء )

مزید پڑھیں

ہم نئے سال کا آغاز کیسے کریں (ازحضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتےہیں:
’’ہم ہر سال کی مبارک باد ایک دوسرے کو دیتے ہیں لیکن ایک مومن کے لئے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہو ں، اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے کہ اصل عید اور خوشی کا دن اور مبارک دن وہ ہوتا ہے جو انسان کی توبہ کا دن ہوتا ہے۔ اس کی مغفرت اور بخشش کا دن ہوتا ہے۔ جو انسان کی روحانی منازل کی طرف نشان دہی کروانے کا دن ہوتا ہے۔ جو دن ایک انسان کو روحانی ترقی کے راستوں کی طرف رہنمائی کرنے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو بروئے کار لانے کی طرف توجہ دلانے والادن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کا قرب پانےکے لیے عملی کوششوں کا دن ہوتا ہے۔ پس ہمارے سال اور دن اُس صورت میں ہمارے لیے مبارک بنیں گے جب ان مقاصد کے حصول کے لیے ہم خالص ہو کر، اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے، اس کے آگے جھکیں گے۔ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ یکم جنوری 2010ء)

مزید پڑھیں

یومِ اُمَّہات(Mother’s day)

ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ! لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپؐ نے فرمایا تیری والدہ ! پھر اُس شخص نے اپنے سوال کو دہرایا ۔ آپؐ نے پھر یہی جواب دیا کہ تمہاری والدہ ! اُس کے تیسری مرتبہ دریافت کرنے پر بھی والدہ کا ہی نام حضورؐ نے فرمایا۔ پھر اُس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا ماں کے بعد تیرا باپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار۔

مزید پڑھیں

یوم والدین

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کوزیادہ پسند ہے؟
فرمایا کہ نماز اپنے وقت پر پڑھنا۔ پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور فرمایا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
(بخاری رقم: 504)

مزید پڑھیں

فادرز ڈے(Father’s day)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا
’’ ہم اپنے باپ سے کس انداز ولہجے میں بات کریں ؟‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ایک غلام، جس کا آقا بہت سخت اور ظالم ہو ، غلام سے کوئی بڑی خطا سرزد ہو جائے اور وہ آقا کو اس کی اطلاع دینا چاہے، تو کیسا انداز اور لب و لہجہ اختیار کرے گا ؟ پس اسی طرح اپنے باپ کو مخاطب کیا کرو۔‘‘

مزید پڑھیں

”اک دن تمہارا لوگ جنازہ اُٹھائیں گے “

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ ‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ18)

مزید پڑھیں

اَحْسِنْ کَمَا اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ( القصص: 78) جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان کیا ہے تُو بھی لوگوں پر احسان کر

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ نہ صرف اپنے بھائیوں ،عزیزوں ، رشتہ داروں ،اپنے جاننے والوں، ہمسایوں سے حسن سلوک کرو،ان سے ہمدردی کرو اور اگر ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے تو اُن کی مدد کرو، ان کو جس حد تک فائدہ پہنچا سکتے ہو فائدہ پہنچاؤ بلکہ ایسے لوگ، ایسے ہمسائے جن کو تم نہیں بھی جانتے، تمہاری ان سے کوئی رشتہ داری یا تعلق داری بھی نہیں ہے جن کو تم عارضی طورپر ملے ہو ان کو بھی اگر تمہاری ہمدردی اور تمہاری مدد کی ضرورت ہے، اگر ان کو تمہارے سے کچھ فائدہ پہنچ سکتاہے تو ان کو ضرور فائدہ پہنچاؤ۔اس سے اسلام کا ایک حسین معاشرہ قائم ہوگا۔ ہمدردیٔ خلق اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا وصف اور خوبی اپنے اندر پیدا کرلوگے اور اس خیال سے کرلوگے کہ یہ نیکی سے بڑھ کر احسان کے زمرے میں آتی ہے اوراحسان تو اس نیت سے نہیں کیا جاتا کہ مجھے اس کا کوئی بدلہ ملے گا۔احسان تو انسان خالصتاً اللہ.تعالیٰ کی خاطر کرتاہے۔تو پھر ایسا حسین معاشرہ قائم ہو جائے گاجس میں نہ خاوند بیوی کا جھگڑا ہوگا، نہ ساس بہو کا جھگڑا ہوگا، نہ بھائی بھائی کا جھگڑا ہوگا، نہ ہمسائے کا ہمسائے سے کوئی جھگڑا ہوگا، ہر فریق دوسر ے فریق کے ساتھ احسان کا سلوک کر رہا ہوگا اور اس کے حقوق اسی جذبہ سے ادا کرنے کی کوشش کررہا ہوگا۔ اور خالصتاً اللہ.تعالیٰ کی محبت،اس کا پیار حاصل کرنے کے لئے،اس پر عمل کر رہاہوگا۔“
(خطبہ جمعہ فرمودہ 12؍ستمبر 2003ء)

مزید پڑھیں