کشتی نوح میں درج نصائح کو روزانہ ایک بار پڑھ لیا کرو ( تقریر نمبر 2)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’کشتی نوح میں مَیں نے اپنی تعلیم لکھ دی ہے اور اس سے ہر ایک شخص کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ203)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’کشتی نوح میں مَیں نے اپنی تعلیم لکھ دی ہے اور اس سے ہر ایک شخص کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ203)
ہمارے پیارےامام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جماعت کو صبروبرداشت کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’ایک نیکی صبر و تحمّل ہے صبر کے نتیجہ میں بہت سی بُرائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ صبر کی کمی کے باعث غلط فہمیاں اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہراحمدی کو صبراختیار کرناچاہئے۔دل خراش باتوں کو برداشت کریں۔ اس پالیسی کے نتیجہ میں بہت سے جھگڑوں کا حل ہو سکتا ہے۔ فیملی تنازعات ، خواہ وہ خاوند و بیوی کے درمیان ہوں یا بھائیوں کے درمیان ہوں۔ یہ سب بچگانہ تنازعات ہوتے ہیں…دنیا بھر میں ایک طوفان بےتمیزی ہے۔ قتلِ عام ہو رہا ہے اور قومیں دوسری قوموں پر حملہ آور ہورہی ہیں۔ یہ سب بے صبری کا ہی نتیجہ ہے۔ دنیا تباہی کے دہانے پر ہے۔ احمدیوں کو دنیا کو بچانا ہوگا۔ اس لحاظ سے صبر و برداشت کی عادت کو اس انداز میں اختیار کرنا ہو گا کہ احمدی ہر میدان میں صبر و برداشت کا نمونہ بن جائیں‘‘
(افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ غانا 17؍اپریل 2008ء،مشعل راہ جلد 5 صفحہ140)
ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اُسے سلام کرنا چاہئے، وہاں بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے اور جب جانے کے لئے کھڑا ہو تو تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ افضل نہیں ہے۔
(سنن الترمذی، کتاب الاستئذان والآداب عن رسول اللّٰہ)
اللہ تعالیٰ ابنائے آدم کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے۔
وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ۔)اعراف(32:
کہ کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔
آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اِنَّ ھٰذِہ المَسَاجِدَ لا تصلح لِشَئِی مِن ھَذَاالبَوْلِ وَلَاالقَذرِ اِنَّما ھِیَ لِذِکْرِا للّٰہِ تَعَالَی وَقِرائَۃِالقُرآن۔
(مسلم کتاب الطھارۃباب وجوب الغسل البول)
یعنی یقیناً مسجدیں اس لیے نہیں کہ اُن میں پیشاب کیا جائے، تھوکا جائے یا کوئی گندگی وغیرہ پھینکی جائے یعنی مسجدوں کو ہرقسم کی گندگی سے پاک و صاف رکھنا چاہئے۔
عَنۡ عَبۡدِ اللّٰہِ بۡنِ عَمۡرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ اِنَّمَا الدُّنۡیَا مَتَاعٌ، وَلَیۡسَ مِنۡ مَتَاعِ الدُّنۡیَا شَیٔ ءٌ أَفۡضَلَ مِنَ الۡمَرۡ أَۃِ الصَّالِحَۃِ
(ابن ماجہ کتاب النکاح باب افضل النساء1855)
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا تو صرف ایک عارضی فائدہ کی چیز ہے اور اس دنیا کے عارضی فائدے میں صالحہ عورت سے بڑھ کر افضل کوئی چیز نہیں ۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللّٰهِ وَخَيْرُ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالۃ
(مسلم کتاب الجمع)
کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریق محمدؐ کا طریق ہے۔بدترین فعل دین میں نئی نئی بدعات کو پیدا کرنا ہے۔ہر بدعت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”انسان کے نطفہ میں عادات، اخلاق،کمالات کا اثر ہوتا ہے۔ والدین کے ایک ایک برس کے خیالات کا اثر اُن کی اولاد پر ہوتا ہے۔ جتنی بداخلاقیاں بچوں میں ہوتی ہیں وہ والدین کے اخلاق کا عکس اور اثر ہوتا ہے۔ کبھی ہم نشینوں اور ملنے والوں کے خیالات کا اثر بھی والدین کے واسطے پڑتا ہے۔ پس خود نیک بنو، اخلاق فاضلہ حاصل کرو تا تمہاری اولاد نیک ہو۔ اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِاَبِیْہِ میں یہی تمہید ہے۔ اولاد والدین کے اخلاق ، اعمال، عقائد کا آئینہ ہوتی ہے۔“
(الحکم 17 اکتوبر 1903ء صفحہ 3)
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ (الفاطر:6)
اے لوگو ! اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔ پس تمہیں دنیا کی زندگی ہرگز کسی دھوکہ میں نہ ڈالے اور اللہ کے بارہ میں تمہیں سخت فریبی (یعنی شیطان) ہرگز فریب نہ دےسکے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’جیسے بیت اللہ میں حجرِ اسود پڑا ہوا ہے اسی طرح قلب، سینہ میں پڑا ہوا ہے… قلبِ انسانی بھی حجرِاسود کی طرح ہے اور اس کا سینہ، بیت اللہ سے مشابہت رکھتا ہے۔‘‘
)ملفوظات جلد اول صفحہ172۔173(