ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 1)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حافظ نور محمد صاحب ظ نور محمد صاحب فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ
” ایک دفعہ ماہ رمضان میں سحری کے وقت کسی شخص نے اصل وقت سے پہلے اذان دے دی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ میں نے دودھ کا گلاس منہ کے قریب کیا ہی تھا کہ اذان کی آواز آئی ۔ اس لئے وہ گلاس میں نے وہیں رکھ دیا ۔ کسی شخص نے عرض کی ۔ کہ حضور ا بھی تو کھانے پینے کا وقت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہمارا دل نہیں چاہتا کہ بعد اذان کچھ کھایا جائے ۔“
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت اگر درست ہے تو حضور نے اس وقت اپنی ذات کے لئے یہ احتیاط برتی ہوگی ۔ ورنہ حضور کا طریق یہی تھا کہ وقت کا شمار اذان سے نہیں بلکہ سحری کے نمودار ہونے سے فرماتے تھے ۔ اور اُس میں بھی اِس پہلو کو غلبہ دیتے تھے کہ فجر واضح طور پر ظاہر ہو جاوے۔ جیسا کہ قرآنی آیت کا منشاء ہے مگر بزرگوں کا قول ہے کہ فتویٰ اور ہے اور تقوی اور ۔
(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 520)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت مسیح موعودعلیہ السلام  کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اوراس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتاہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتاہے اورکشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 102 ایڈیشن2003ء)

مزید پڑھیں

ہم رمضان کیسے گزاریں؟ (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہمارے دوستوں کو کس نے بتایا ہے کہ زندگی بڑی لمبی ہے۔ موت کا کوئی وقت نہیں کہ کب سر پر ٹوٹ پڑے۔ اِس لئے مناسب ہے کہ جو وقت ملے اُسے غنیمت.سمجھو۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 302)

مزید پڑھیں

ہم رمضان کیسے گزاریں؟ (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مُچ تقویٰ کی راہوں پرقدم مارو گے۔ سواپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خداتعالیٰ کو دیکھتے ہو اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو خود تقویٰ سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔‘‘
(کشتی نوح،روحانی خزائن جلد 19 صفحہ15)

مزید پڑھیں

ہم یوم مصلح موعودکیوں مناتے ہیں؟ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’یہ ایک عظیم پیشگوئی ہےجو کسی شخص کی ذات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی اسلام کی نشأۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس پیشگوئی کی اصل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍فروری 2011ء)

مزید پڑھیں

ایمان اور اُس کی حفاظت ؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات حب دنیا کا غلبہ بھی سلب ایمان کا باعث ہوجایا کرتا ہے لہٰذا دنیوی امور میں بہت انہماک اوردنیوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا کہ گویا دین ایمان اورآخرت کی پروا ہی نہ رہے یہ بھی خطرناک زہریلا مرض ہے۔یہ تووہ زمانہ ہے جس کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ،درختوں کے تنوں سے لگ جاؤ اور جس طرح سے بن پڑے زمانہ کے فتن سے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش کرو۔‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 526،ایڈیشن1988ء)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”دُعا کی مثال ایک چشمۂ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے۔ وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کرسکتا ہے۔ جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دُعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اُسے کسی بدمعاشی میں میسّر آسکتا ہے ، ہیچ ہے ۔ بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الٰہی ہے۔ دُعا کے ذریعہ ہی انسان خداتعالیٰ کے نزدیک ہوجاتا اور اُسے اپنی طرف کھینچتا ہے ۔ جب مومن کی دُعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہوجاتا ہے ۔تو خداتعالیٰ کو بھی اس پر رحم آجاتا ہے اور خداتعالیٰ اس کا متولِّی ہوجاتا ہے ۔ اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الٰہی تولّی کے بغیر انسانی زندگی قطعًا تلخ ہوجاتی ہے۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 59)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں پھر کہتا ہوں کہ مسلمان اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہیے اور دوسرے مذاہب کے آگے تودعا کے لئے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور وہ توجہ نہیں کر سکتے ۔ مَیں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ایک عیسائی جو خونِ مسیح پر ایمان لا کر سارے گناہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے ۔ اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دعا کرتا رہے اور ایک ہندو جو یقین کرتا ہے کہ توبہ قبول ہی نہیں ہوتی اور تناسخ کے چکّر سے رہائی ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا کے واسطے ٹکڑیں مارتا رہے گا وہ تو یقیناً سمجھتا ہے کہ کُتّے، بلّے، بندر ، سؤر بننے سے چارہ ہی نہیں ہے ۔ اس لئے یاد رکھو کہ یہ اسلام کا فخر ہے اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم ہے اس میں کبھی سُستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 267-268 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں پھر جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ تم لوگ ان کی مخالفتوں سے غرض نہ رکھو۔ تقویٰ طہارت میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا اور ان لوگوں سے وہ خود سمجھ لیوے گا وہ فرماتا ہے۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ (النحل: 129) اور خوب یاد رکھو کہ اگر تقویٰ اختیار نہ کرو گے اور اس نیکی سے جسے خدا چاہتا ہے کثیر حصّہ نہ لو گے تو اللہ تعالیٰ سب سے اوّل تم ہی کو ہلاک کرے گا کیونکہ تم نے ایک سچائی کو مانا ہے اور پھر عملی طور سے اس کے منکر ہوتے ہو۔ اس بات پر ہرگز بھروسہ نہ کرو اور مغرور مت ہو کہ بیعت کر لی ہے۔ جب تک پوری تقویٰ اختیار نہ کرو گے۔ ہرگز نہ بچو گے ۔ خداتعالیٰ کا کسی سے رشتہ نہیں نہ اس کو کسی کی رعایت منظور ہے ۔ جو ہمارے مخالف ہیں وہ بھی اسی کی پیدائش ہیں اور تم بھی اسی کی مخلوق ہو۔ صرف اعتقادی بات ہرگز کام نہ آوے گی جب تک تمہارا قول اور فعل ایک نہ ہو۔“
(ملفوظات جلد 7صفحہ 144-145 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو کہ سارے فضل ایمان کے ساتھ ہیں ۔ایمان کو مضبوط کرو۔ قطع حقوق، معصیت ہے اور انسان کی زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے ۔ایسا پرہیز اور بُعد جو ظاہر ہوا ہے وہ عقل اور انصاف کی رُو سے صحیح نہیں ہے۔ ایسے امور سے اپنے آپ کو بچاؤ جو تجربہ میں مضرّ ثابت ہوئے ہیں۔
یہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نمونہ بنانا چاہتا ہے اگر اس کا بھی یہی حال ہوا کہ ان میں اخوّت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہوگی ۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 353)

مزید پڑھیں