کشتی نوح میں درج  نصائح کو روزانہ ایک بار پڑھ لیا کرو ( تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں نے بارہا اپنی جماعت کو کہا ہے کہ تم نِرے اس بیعت پر ہی بھروسہ نہ کرنا۔اس کی حقیقت تک جب تک نہ پہنچو گے تب تک نجات نہیں۔ قشر پر صبر کرنے والا مغز سے محروم ہوتا ہے اگر مرید خود عامل نہیں تو پیر کی بزرگی اُسے کچھ فائدہ نہیں دیتی۔ جب کوئی طبیب کسی کو نسخہ دیوے اور وہ نسخہ لے کر طاق میں رکھ دیوے تو اُسے ہرگز فائدہ نہ ہوگا کیونکہ فائدہ تو اس پر لکھے ہوئے عمل کا نتیجہ تھا۔ جس سے وہ خود محروم ہے کشتی نوح کو بار بار مطالعہ کرو اور اس کے مطابق اپنے آپ کوبناؤ۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ404)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  تربیتِ اولاد والدین کے تقویٰ کے اولاد پراثرات

حضرت مسیح موعود علیہ السلا م فرماتے ہیں۔
” صالح آدمی کا اثر اس کی ذریت پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اِس سے فائدہ اٹھاتی ہے… حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا ہے کہ مَیں بچہ تھا بوڑھا ہوامَیں نے کسی خدا پرست کو ذلیل حالت میں نہیں دیکھا اور نہ اُس کے لڑکوں کو دیکھا کہ وہ ٹکڑے مانگتے ہوں۔گویا متقی کی اولاد کا بھی خدا تعالیٰ ذمہ دار ہوتا ہے، لیکن حدیث میں آیا ہے ظالم اپنے اہل و عیال پر بھی ظلم کرتا ہے کیونکہ ان پراس کا بد اثر پڑتا ہے۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 117۔ 118 )

مزید پڑھیں

درس نمبر30 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور اَلۡاَعۡمَالُ بِالۡخَوَاتِیۡمِ

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ
”بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنم میں سے ہوتا ہے۔ ایک دوسرا بندہ لوگوں کی نظر میں اہلِ جہنم کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور فرمایا اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِخَوَاتِیْمِہَا کہ اعمال کا اعتبار اُن کے خاتمہ پر موقوف ہے۔“
(بخاری حدیث نمبر6607)

مزید پڑھیں

شہید کی جو موت ہے،  قوم کی حیات ہے

ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شہید کے سوا کوئی بھی ایسا نہیں جو جنت میں داخل ہوجائے اور پھر دنیا میں واپس آنا پسند کرے گو اُسے جو کچھ بھی زمین میں ہے مل جائے۔ شہید آرزو کرتا ہے کہ وہ دنیا میں دس بار لوٹے اور مارا جائے اس لئے کہ وہ عزت دیکھ لیتا ہے (جو شہید کو ملتی ہے)۔
(صحیح بخاری ، کتاب الجہاد والسیر)

مزید پڑھیں

درس نمبر 29بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان کے  سبق کو سارا سال جاری رکھیں

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ عمل وہ اچھالگتا تھا جس پر کوئی مستقل مزاجی سے مسلسل قائم رہے۔
) صحیح بخاری کتاب الرقاق، باب القصد والمداومة(

مزید پڑھیں

تقریر بابت  اخلاقیات برداشت اور صبر و حوصلہ کی اقسام

ہمارے پیارےامام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جماعت کو صبروبرداشت کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’ایک نیکی صبر و تحمّل ہے صبر کے نتیجہ میں بہت سی بُرائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ صبر کی کمی کے باعث غلط فہمیاں اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہراحمدی کو صبراختیار کرناچاہئے۔دل خراش باتوں کو برداشت کریں۔ اس پالیسی کے نتیجہ میں بہت سے جھگڑوں کا حل ہو سکتا ہے۔ فیملی تنازعات ، خواہ وہ خاوند و بیوی کے درمیان ہوں یا بھائیوں کے درمیان ہوں۔ یہ سب بچگانہ تنازعات ہوتے ہیں…دنیا بھر میں ایک طوفان بےتمیزی ہے۔ قتلِ عام ہو رہا ہے اور قومیں دوسری قوموں پر حملہ آور ہورہی ہیں۔ یہ سب بے صبری کا ہی نتیجہ ہے۔ دنیا تباہی کے دہانے پر ہے۔ احمدیوں کو دنیا کو بچانا ہوگا۔ اس لحاظ سے صبر و برداشت کی عادت کو اس انداز میں اختیار کرنا ہو گا کہ احمدی ہر میدان میں صبر و برداشت کا نمونہ بن جائیں‘‘
(افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ غانا 17؍اپریل 2008ء،مشعل راہ جلد 5 صفحہ140)

مزید پڑھیں

درس نمبر28 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور مجالس کے آداب

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اُسے سلام کرنا چاہئے، وہاں بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے اور جب جانے کے لئے کھڑا ہو تو تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ افضل نہیں ہے۔
(سنن الترمذی، کتاب الاستئذان والآداب عن رسول اللّٰہ)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  اخلاقیات اعتدال پسندی

اللہ تعالیٰ ابنائے آدم کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے۔
وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ۔)اعراف(32:
کہ کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔

مزید پڑھیں

درس نمبر27 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور مساجد کے آداب

آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اِنَّ ھٰذِہ المَسَاجِدَ لا تصلح لِشَئِی مِن ھَذَاالبَوْلِ وَلَاالقَذرِ اِنَّما ھِیَ لِذِکْرِا للّٰہِ تَعَالَی وَقِرائَۃِالقُرآن۔
(مسلم کتاب الطھارۃباب وجوب الغسل البول)
یعنی یقیناً مسجدیں اس لیے نہیں کہ اُن میں پیشاب کیا جائے، تھوکا جائے یا کوئی گندگی وغیرہ پھینکی جائے یعنی مسجدوں کو ہرقسم کی گندگی سے پاک و صاف رکھنا چاہئے۔

مزید پڑھیں