آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اَور تقویٰ کا اعلیٰ مقام

عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک دفعہ سورج گرہن ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ بڑے لمبے رکوع اور سجدے کئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر روتے جاتے تھے کہ ہچکی بندھ گئی اس حال میں رو رو کر یہ دعا کر رہے تھے:
"میرے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ جب تک مَیں ان لوگوں میں ہوں تو انہیں عذاب نہ دے گا۔ کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے تو ان پر عذاب نازل نہ کرے گا ۔ پس ہم استغفار کرتے ہیں۔ (تو ہمیں معاف فرما)۔
(الدر المنثور للسیوطي جز 9 صفحہ 59دار الفکر بیروت)

مزید پڑھیں

اِرْکَبْ مَعَنَا (القرآن)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار ۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ واحمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی ۔‘‘
( سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12صفحہ 82)

مزید پڑھیں

اَنْتَ اَقْوٰی اَمِ اللّٰہ ؟

حضرت مسیح موعود موعود علیہ لسلام ا فرماتے ہیں :
’’دیکھو! ہم بھی رخصتوں پر عمل کرتے ہیں۔ نمازوں کو جمع کرتے ہوئے کوئی دو ماہ سے زیادہ ہوگئے ہیں بسبب بیماری کے اور تفسیر سورۃ فاتحہ کے لکھنے میں بہت مصروفیت کے سبب ایسا ہو رہا ہے اور اِن نمازوں کے جمع کرنے میں تُجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ کی حدیث بھی پوری ہو رہی ہے کہ مسیح موعودؑ کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔ اِس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود نماز کے وقت پیش امام نہ ہو گا بلکہ کوئی اور ہوگا اور وہ پیش امام مسیح کی خاطر نمازیں جمع کرائے گا۔ سو اب ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس دن ہم بیماری کی وجہ سے بالکل نہیں آ سکتے اُس دن نمازیں جمع نہیں ہوتیں اور اس حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار کے طریق سے یہ فرمایا ہے کہ اُس کی خاطر ایسا ہوگا… خداتعالیٰ نے ایسے ہی اسباب پیدا کر دیئے کہ اتنے عرصہ سے نمازیں جمع ہو رہی ہیں، ورنہ ایک دو دن کے لیے یہ بات ہوتی تو کوئی نشان نہ ہوتا۔ ہم حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ لفظ اور حرف حرف کی تعظیم کرتے ہیں ‘‘۔
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 446 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

قرآنِ  کریم ، آنحضورؐ کی  زندگی کا مکمل ضابطہ حیات ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خاص فضل سے روحانی کمالات، انعامات وبرکات، اسرار ومعارف اور محسن.باری.تعالیٰ کے خزائن عطا فرمائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن جیسی رحمت شفاء، نور، امام کتاب لے کر آئے اور قرآن کا نزول رحمانی صفت ہی کا اقتضاء تھا جیسے فرمایا اَلرَّحۡمٰنُ۔ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ قرآن کا نزول چونکہ اس صفت کے نیچے تھا ۔ آپؐ جب معلّمِ القرآن ہوئے تو اسی صفت کے مظہر بن کر باوجود اس کے کہ اُن سے دکھ اٹھائے مگر دُعا ، توجہ ، عقدِ ہمت اور تدبیر کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ آخر آپؐ کامیاب ہوگئے۔ پھر جن لوگوں نے آپؐ کی سچی اور کامل اتباع کی ان کو اعلیٰ درجہ کی جزا ملی اور ان کی تعریف ہوئی ۔ اس پہلو سے آپؐ کا نام احمدؐ ٹھہرا کیونکہ دوسرے کی تعریف جب کرتا ہے جب فائدہ دیتا ہے۔ چونکہ آپؐ نے عظیم الشان فائدہ دنیا کو پہنچایا ،اس لیے آپؐ کی اسی قدر تعریف بھی ہوئی۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 112)

مزید پڑھیں

وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کے ہاتھوں قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے اور قرآن شریف کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی ہے کہ وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اور پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخر الزمان کسی کے ہاتھوں قتل نہیں ہوگا۔ “
(ملفوظات جلد 8صفحہ 11)

مزید پڑھیں

ہجرت بھی ایک سنّتِ خَیْرُ الانام ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ درحقیقت وہ خدا بڑا زبردست اور قوی ہے جس کی طرف محبت اور وفا کے ساتھ جھکنے والے ہرگز ضائع نہیں کئے جاتے۔ دشمن کہتا ہے کہ مَیں اپنے منصوبوں سے اُن کو ہلاک کر دوں اور بد اندیش ارادہ کرتا ہے کہ مَیں ان کو کچل ڈالوں۔ مگر خدا کہتا ہے کہ اے نادان! کیا تُو میرے ساتھ لڑے گا؟ اور میرے عزیز کو ذلیل کر سکے گا؟ درحقیقت زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا مگر وہی جو آسمان پر پہلے ہو چکا اور کوئی زمین کا ہاتھ اس قدر سے زیادہ لمبا نہیں ہو سکتا جس قدر کہ وہ آسمان پر لمبا کیا گیا ہے۔ پس ظلم کے منصوبے باندھنے والے سخت نادان ہیں جو اپنے مکروہ اور قابل شرم منصوبوں کے وقت اس برترہستی کو یادنہیں رکھتے جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔ لہٰذا وہ اپنے ارادوں میں ہمیشہ ناکام اور شرمندہ رہتے ہیں اور اُن کی بدی سے راستبازوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا بلکہ خدا کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خلق اللہ کی معرفت بڑھتی ہے۔ وہ قوی اور قادر خدا اگرچہ ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا مگر اپنے عجیب نشانوں سے اپنے تئیں ظاہر کر دیتا ہے۔ ‘‘
(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ19-20)

مزید پڑھیں

آنحضورؐ کی چند مزید فضیلتیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسانِ کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالَم کا عالَم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔ وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء،ختم المرسلین ، فخر النبیین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتدائے دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔ اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملاکی اور یحيٰ اور زکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگرچہ سب مقرّب اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اسی نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔“
(اتمام الحجۃ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308 )

مزید پڑھیں

لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلاکْ اگر تم نہ ہوتے تو مَیں کائنات کی کوئی بھی چیز پیدا نہ کرتا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’انسان کامل جن کا نام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ہے جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ! مَیں نے زمین و آسمان کو بھی تیری وجہ سے پیدا کیا ہے۔ اپنے نور ہونے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں۔ایک روایت مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الایمان میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی وہ میرا نور ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الایمان بالقدر) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس انسان کامل کو دیا جانے والا نور وہ نور ہے جو نہ پہلوں میں کبھی کسی کو دیا گیا اور نہ بعد میں آنے والوں کو دیا جائے گا۔ وہ صرف اور صرف انسان کامل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہو گا۔‘‘
( خطبہ جمعہ 22جنوری2010ء)

مزید پڑھیں

اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ (حضرت محمدؐ ) مجھے اخلاقِ حسنہ کی تکمیل  کے لئے مبعوث کی گیا ہے (ارشادات حضرت مسیح موعودؑ کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ کے بارے میں فرماتے ہیں :
”تُو اے نبی! ایک خُلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنی اپنی ذات میں تمام مکارمِ اخلاق کا ایسا متمَّم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصوّر نہیں کیونکہ لفظ عَظِیْم محاورۂ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو……بعضوں نے کہا ہے کہ عَظِیْم وہ چیز ہےجس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطۂ.ادراک سےباہرہو۔ “
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 194 بقیہ حاشیہ نمبر 11)

مزید پڑھیں

اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ (حضرت محمدؐ ) مجھے اخلاقِ حسنہ کی تکمیل  کے لئے مبعوث کی گیا ہے (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے ،اپنے اعمال سے اوراپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُرزوردریاسے کمال تام کا نمونہ علماًو عملاً و صدقاً وثباتاً دکھلایا اورا نسانِ کامل کہلایا…وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اورحشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہوگیا۔ وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر النبیین جناب محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا! اِس پیارے نبی پروہ رحمت اوردرود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پرنہ بھیجا ہو۔‘‘
(اتمام الحجہ، روحانی خزائن جلد8صفحہ308)

مزید پڑھیں