
چراغِ شب
چراغ، دیا یا شمع کا لفظ ذہن میں آتے ہی پروانہ اور پتنگا کا لفظ بھی دماغ کے کونے کھدرے سے ظاہر ہوتا ہے۔ گویا یہ دونوں الفاظ لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں چراغ جلے گا وہاں پروانہ نہ صرف پہنچ ہی جائے گا بلکہ اپنی ننّھی سی جان بھی اُس چراغ پر قربان کردے گا۔ اِسی لئے لغات میں اِس تعلق کو مجازاً عشق سے تعبیر کیا گیا ہے اور شعراء اپنے منظوم کلام میں اور نثر نگار و ادیب حضرات اپنے نثری تحریرات میں جب کسی پر فریفتہ ہونے کا ذکر کرنا چاہیں تو پروانہ اور چراغ کی مثال دیتے ہیں۔ جیسے
پروانے کیوں نہ خاک ہوں جل کر چراغ میں
جلوہ اسی کے نور کا ہے ہر چراغ میں
لالے میں تم ہو گل میں ہو تم مہر و مہ میں تم
جلوہ تمہارے چہرے کا ہے ہر چراغ میں
پروانے ایسے نشۂ الفت سے ہیں جو مست
کیا مَے بھری ہے صورت ساغر چراغ میں
دل عاشقوں کے کیوں نہ ہو قربان روئے یار
پروانے جل رہے ہیں برابر چراغ میں
(امیر مینائی)
پروانے اور چراغ کی تمثیل کو بطور مثال کے پیش کرنا ہو تو آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے آپس کے تعلقات کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم چراغ تھے، شمس تھے اور صحابہ پروانوں کی طرح آپؐ پر قربان اور فریفتہ تھے۔
اِن صحابہؓ نے صرف دعویٰ ہی نہیں کیا بلکہ عمل بھی کرکے دکھایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بھی لڑے اور بائیں بھی لڑے، وہ آگے بھی لڑے اور پیچھے بھی لڑے، انہوں نے ہاتھ پر تیر بھی کھائے اور اُف نہ کہی، وہ سولی بھی چڑھے اور فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَہ کے نعرے بھی لگائے، انہوں نے گردنیں بھی پیش کیں اور خواہش کی کہ آپؐ کو کانٹا بھی نہ چبھے، محبت میں دانت بھی توڑ لئے کہ ناجانے محبوب کا کون سا دانت ٹوٹا ہوگا، انہوں نے وضو کا پانی بھی لپک کرلیا اور جنگ سے پہلے بدلے کے نام پر جسم سے بھی مَس کیا کہ ناجانے پھر ملاقات ہوگی یا شہادت،قبر میں انگوٹھی بھی گرائی کہ اس سبب دنیا میں سب سے آخر میں اپنے محبوب آقا سے جدا ہونے والے ٹھہریں اور یہ بھی کہا کہ
كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ
مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ
حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازوں کے علاوہ بالخصوص رات کے وقت اللہ تعالیٰ کی گہری محبت سے سرشار ہوکر بہت لمبی اورخوبصورت نماز پڑھا کرتے تھے اور پھر ایک مومن کو اپنی راتوں کو بیدار کرنے کا حکم ہے۔ جب راتیں بیدار ہوں گی تو دعاؤں کے چراغ جلیں گے۔ مومن پروانوں کی طرح اس چراغ کے اردگرد جمع ہوں گے۔ اِس چراغ کو مزید روشن ہونے کے لئے دعاؤں اور آنسوؤں کا تیل ملے گا اور یوں اللہ تعالیٰ کے لئے فنا اختیار کرکے یہ پروانے روحانی زندگی پارہے ہوں گے اور اس آیت کا مصداق بھی بن رہے ہوں گے کہ
تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا (السجدۃ:17)
کہ اُن کے پہلو بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں (جبکہ) وہ اپنے ربّ کو خوف اور طمع کی حالت میں پکار رہے ہوتے ہیں۔
2025ء کے رمضان کی آمد آمد ہے۔ اِس مبارک مہینہ کی بابرکت راتوں میں مؤمن چراغِ شب روشن کریں گے۔
جاگ اے شرمسار! آدھی رات
اپنی بگڑی سنوار آدھی رات
یہ گھڑی پھر نہ ہاتھ آئے گی
باخبر ہوشیار! آدھی رات
وہ جو بستا ہے ذرّے ذرّے میں
کبھی اُس کو پکار آدھی رات
اُس کے دربار عام میں جا بیٹھ
سب لبادے اُتار آدھی رات
(چوہدری محمد علی مضطر)
نماز اور دعا کا رمضان المبارک کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ اس دفعہ رمضان ایسے وقت میں آرہا ہے جب امت مسلمہ شدید اختلافات کا شکار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ باقی اسلامی ممالک بھی کوئی محفوظ نہیں ہیں۔ اِن حالات میں ہمیں اِس رمضان میں بہت دعائیں کرنی ہوں گی۔اِسے دعاؤں کا رمضان بنانا ہوگا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ان دنوں جن دعاؤں کی طرف بلارہے ہیں انہیں حرزِ جان بناکر نمازوں کو بروقت ادا کرنا ہے اور ان نمازوں کو دعاؤں والی نمازیں بنا دینا ہے۔
جوانی میں عدم کے واسطے سامان کر غافل
مسافر شب کو اٹھتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے
( ارشد شہزاد )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مبارک تم جب کہ دعا کرنے میں کبھی ماندہ نہیں ہوتے اور تمہاری روح دعا کے لئے پگھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینہ میں ایک آگ پیدا کردیتی ہے اور تمہیں تنہائی کا ذوق اُٹھانے کے لئے اندھیری کوٹھڑیوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنادیتی ہے۔ کیونکہ آخرتم پر فضل کیا جاوے گا۔ وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم و رحیم، حیاوالا، صادق، وفادار، عاجزوں پر رحم کرنے والا ہے۔ پس تم بھی وفادار بن جاؤ اور پورے صدق اور وفا سے دعا کرو کہ وہ تم پر رحم فرمائے گا۔“
(لیکچر سیالکوٹ ،روحانی خزائن جلد20صفحہ222۔ 223)
فرمایا :
”اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ خیریت سے رہو اور تمہارے گھروں میں امن رہے تو مناسب ہے کہ دعائیں بہت کرو اور اپنے گھروں کو دعاؤں سے پُرکرو۔ جس گھر میں ہمیشہ دعا ہوتی ہے خداتعالیٰ اُسے برباد نہیں کیاکرتا۔“ ۔(ملفوظات جلد3صفحہ232)
دعا کو اُمّ یعنی ماں کا درجہ دیتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں۔
” مَیں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ کے جو انعامات ہیں ان کی اُمّ(یعنی اصل یا جڑ) کیا ہے؟۔ خداتعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ ان کی اُمّ، اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (المومن:61) ہے۔کوئی انسان بدی سے بچ نہیں سکتا جب تک خداتعالیٰ کا فضل نہ ہو۔“
(ملفوظات جلد3صفحہ333)
غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے
اے میرے فلسفیو! زورِ دعا دیکھو تو
پھر دعا کو اسمِ اعظم قرار دیتے ہوئے فرمایا۔
”نشان کی جڑ دعا ہی ہے۔ یہ اسمِ اعظم ہے اور دنیا کا تختہ پلٹ سکتی ہے۔ دعا مومن کا ہتھیار ہے اور ضرور ہے کہ پہلے ابتہال اور اضطراب کی حالت پیدا ہو۔“
(ملفوظات جلد3صفحہ202)
تیری رضا کا ہوں مَیں طلب گار ہر گھڑی
گر یہ ملے تو جانوں کہ سب کچھ ملا مجھے
ہاں ہاں نگاہِ رحم ذرا اس طرف بھی ہو
بحر گنہ میں ڈوب رہا ہوں بچا مجھے
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
” ہمیں یہ خوشخبری دی کہ میرے بندوں کو بتا دے کہ اے نبیؐ! مَیں ان کے قریب ہوں۔ دعاؤں کو سنتا ہوں۔ قبول کرتا ہوں اور رمضان کے مہینے میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نچلے آسمان پر آ جاتا ہےیعنی اپنے بندوں کی دعاؤں کو بہت زیادہ سنتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہاری دعائیں سنوں تو پھر تمہیں بھی میری باتوں کو ماننا ہو گا۔ مَیں نے جو احکامات دیے ہیں ان پر عمل کرنا ہو گا۔ صرف رمضان کے مہینے میں نہیں بلکہ ان نیکیوں کو مستقل زندگیوں کا حصہ بنانا ہو گا اوراپنے ایمانوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ پس قبولیت دعا کے لیے بھی بعض شرائط ہیں۔ پس ہم جب ان شرائط.کےمطابق اپنی دعاؤں میں حسن پیدا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کو بھی اپنے قریب اور دعاؤں کو سننے والا پائیں گے۔“
(الفضل انٹرنیشنل7مئی 2021ء)
اللہ تعالیٰ اس رمضان میں وصل یار کے جام بھر بھر پینے سب کو نصیب کرے۔ آمین
اس کتاب کا خوبصورت اور دیدہ زیب ٹائٹل مکرم فضل عمر شاہد صاحب آف لٹویا نے تیار کیا ہے۔ اس.کتاب اور اِس کے مَافِیْہِ کو ویب سائیٹ کی وساطت سے آپ تک پہنچانے میں مکرم سعیدالدین احمدصاحب اور مکرم عامر محمود صاحب ( شیفیلڈ ۔ برطانیہ) کی محنت اور کاوش شامل ہے۔ اس کے علاوہ عزیزم زاہد محمود، مکرمہ عائشہ منصور چوہدری صاحبہ آف جرمنی، مکرمہ عطیۃ العلیم صاحبہ آف ہالینڈ اور مکرم منہاس محمود صاحب آف قادیان کا تعاون حاصل رہا نیز جن احباب و خواتین کے مضامین سےتقاریر کی تیاری میں مدد لی گئی ہے وہ بھی شکریہ کے خاص مستحق ہیں۔ فجزاہم اللّٰہ تعالیٰ خیراً و کان اللّٰہ معہم
یہ ”مشاہدات“ کے سلسلہ کی 18ویں کتابی کاوش ہے۔ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ
۔۔۔۔خاکسار
۔۔۔ابوسعیدحنیف احمد محمود۔ برطانیہ
۔۔۔۔ ( شاہد۔ عربی فاضل)
۔۔۔ مربّی سلسلہ
(سابق ایڈیٹر روز نامہ الفضل ربوہ و الفضل آن لائن لندن و نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ)
8؍فروری 2025ء
ویب سائیٹ: www.mushahedat.com
فون نمبر: +44 73 7615 9966
انڈیکس |
نمبر شمار | مشاہدات | عنوان | صفحہ |
1 | 113 | اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ | 1 |
2 | 596 | دُعاکی حقیقت،اہمیت اور برکات (از روئے تحریرات حضرت مسیح موعودؑ ) | 11 |
3 | 597 | آدابِ دعا (بزبانِ مبارک حضرت مسیح موعودؑ ) | 18 |
4 | 190 | جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ مَیں ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے | 25 |
5 | 04 | دعا کے لیے اگر جلدی جواب مل جائے تو عموماً اچھا نہیں ہوتا (حضرت مسیح موعودؑ) | 34 |
6 | 701 | نماز دعا ہی کا نام ہے | 41 |
7 | 593 | آنحضرتؐ کی مقبول دعاؤں کے کرشمے( تقریر نمبر 1) | 49 |
8 | 594 | آنحضرتؐ کی مقبول دعاؤں کے کرشمے( تقریر نمبر 2) | 59 |
9 | 598 | دعاؤں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کانمونہ | 68 |
10 | 599 | حضرت مسیح موعودؑ کے قبولیت دعا کے ایمان افروز واقعات | 73 |
11 | 351 | حضرت مسیح موعودؑ کی قبولیتِ دعا کے عظیم الشان نشان | 81 |
12 | 611 | حضرت مسیح موعودؑ کی چند الہامی دعائیں | 92 |
13 | 612 | حضرت مسیح موعودؑ کی چند مقبول دعائیں( تقریر نمبر1) | 105 |
14 | 613 | حضرت مسیح موعودؑ کی چند مقبول دعائیں( تقریر نمبر2) | 112 |
15 | 614 | حضرت مسیح موعودؑ کی بعض احباب کو خصوصی دعاؤں کی ترغیب | 119 |
16 | 615 | حضرت مسیح موعودؑ کی بعض اہم مواقع کی دعائیں | 124 |
17 | 348 | رمضان اور دُعا | 130 |
18 | 716 | رمضان ، دعاؤں کا مہینہ | 136 |
19 | 619 | ہے کوئی مانگنے والا؟ | 143 |
20 | 201 | دُعَاءُ الْوَالِدِ لِوَلَدِ ہٖ کَدُعَاءِ النَّبِیِّ لِاُ مَّتِہ | 152 |