Generated by All in One SEO v4.9.7.2, this is an llms.txt file, used by LLMs to index the site. # مشاہدات علمی و تربیتی مضامین اور تقاریر ## Sitemaps - [XML Sitemap](https://mushahedat.com/sitemap.xml): Contains all public & indexable URLs for this website. ## پوسٹیں - [”متاعِ آسمانی“ (خلافت علیٰ منہاج النبوۃ) (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/متاعِ-آسمانی-خلافت-علیٰ-منہاج-النب/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”خلیفہ کے معنی جانشین کے ہیں جو تجدیدِ دین کرے ۔ نبیوں کے زمانے کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں انہیں خلیفہ کہتے ہیں“ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 384) - [ایک احمدی خادم کے اوصاف ۔ پانچ بنیادی اخلاق](https://mushahedat.com/ایک-احمدی-خادم-کے-اوصاف-۔-پانچ-بنیادی-اخ/) - حضرت مصلح موعود ؓ اخلاقِ حسنہ اپنانے کی اہمیت بیان کرتےہوئے فرماتےہیں : ”پس دلائل مذہبی ، دعائیں اور اخلاق فاضلہ یہی ہماری توپیں اور یہی ہماری تلواریں، انہی توپوں اور انہی تلواروں سے ہم نے دنیا کے تمام ادیان کو فتح کرکے اسلام کا پرچم لہرانا اور ان پر غلبہ و اقتدار حاصل کرنا ہے اور اگر نوجوانوں میں یہ مہم جاری رہی تو ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت جلد ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی مسلح فوج تیار کرلیں گے جس کے مقابلہ میں کوئی دشمن نہیں ٹھہرسکے گا۔ “ ( خطبہ جمعہ 17 مارچ 1939 مطبوعہ الفضل 7 اپریل 1939ء) - [ترجمہ قرآن کریم کی اہمیت](https://mushahedat.com/ترجمہ-قرآن-کریم-کی-اہمیت/) - قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب ہے جو ہمارے لئے ہدایت، علم وعرفان اور زندگی گزارنے کے اصولوں پر مشتمل پیغامات لیے ہوئے ہے۔ لیکن ہمیں کیسے علم ہو کہ قرآنِ کریم ہمیں کیا بتانا اور سکھانا چاہتا ہے؟ یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب قرآنِ کریم کو ترجمہ کے ساتھ پڑھا جائے تاکہ ہم اس کی تعلیمات پر شرح صدر کے ساتھ عمل کر سکیں ۔ - [10تقاریربابت جلسہ سالانہ کی اہمیت و برکات](https://mushahedat.com/10تقاریربابت-جلسہ-سالانہ-کی-اہمیت-و-برکا/) - مالا کا پہلا موتی جلسہ سالانہ، جماعت احمدیہ کی پہچان بن چکا ہے۔ بعض سوسائٹیز، فرقے یا جمعیتیں اپنی اپنی سالانہ تقریبات منعقد کرتی ہیں۔ جن میں اکثریت انہیں سالانہ کانفرنس (Annual conference) کا نام دیتی ہیں۔ مَیں نے مختلف مذاہب، فرقوں اور جمعیتوں کی تاریخ بالخصوص اُن کے سالانہ تہواروں کا مطالعہ کیا ہے۔ - [”10تقاریربابت”متاعِ آسمانی](https://mushahedat.com/10تقاریربابتمتاعِ-آسمانی/) - ”متاعِ آسمانی“ کے اسٹیج پر پہلا قدم اللہ تعالیٰ کے فضل سے” مشاہدات “کے پلیٹ فارم سے مختلف عناوین کے تحت 1200 سے زائد تقاریر تیار ہو کر نہ صرف ویب سائٹ www.mushahedat.com پر اپلوڈ ہوچکی ہیں بلکہ 25 تعلیمی و تربیتی مواضیع پر تقاریر کی 38 کتب بھی منظرِ عام پر آچکی ہیں اور - [ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر9)](https://mushahedat.com/ایمان-کی-ستّر-شاخوں-میں-سے-کچھ-کا-تذکرہ-8/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ’’تم خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور ان سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرے میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دور کے تمام رشتہ دار آگئے) اور پھر فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں، جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسائے ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اور وہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو۔ خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبّر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو، جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا۔ ‘‘ (چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 209-208) - [ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر8)](https://mushahedat.com/ایمان-کی-ستّر-شاخوں-میں-سے-کچھ-کا-تذکرہ-7/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ دیکھو! دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسلام قبول کرکے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ شیطان ان کے سر پر سوار ہوجاتا ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے، صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو لبریز کردے انہوں نے حاصل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔‘‘ (ملفوظات جلد3صفحہ 194-193ایڈیشن 1984ء ) - [ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر7)](https://mushahedat.com/ایمان-کی-ستّر-شاخوں-میں-سے-کچھ-کا-تذکرہ-6/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’صدقہ۔ صِدْق سے لیا گیا ہے۔ جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں صدقہ دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا سے صِدق رکھتا ہے ۔ دعا کے ساتھ قلب پر سوزو گداز اور رقت پیدا ہوتی ہے۔ دعا میں ایک قربانی ہے۔ صدق اور دعااگر یہ دو باتیں میسر آ جائیں تو اکسیر ہے‘‘ (ملفوظات جلد 7صفحہ 87-88 حاشیہ۔ ایڈیشن 1985ء) - [ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/ایمان-کی-ستّر-شاخوں-میں-سے-کچھ-کا-تذکرہ-5/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ قرآن شریف نے تمام عبادات اور اندرونی پاکیزگی کے اغراض اور خشوع اور خضوع کے مقاصد میں جسمانی طہارتوں اور جسمانی آداب اور جسمانی تعدیل کو بہت ملحوظ رکھا ہے اور غور کرنے کے وقت یہی فلاسفی نہایت صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جسمانی اوضاع کا روح پر بہت قوی اثر ہے ۔“ ( روحانی خزائن جلد10صفحہ 319) - [”متاعِ آسمانی“ (تربیتِ اولاد) (تقریر نمبر10)](https://mushahedat.com/متاعِ-آسمانی-تربیتِ-اولاد-تقریر-نم/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’اِس دنیا کی اصلاح کے لیے بکثرت احمدیوں کی ضرورت ہے جو مصلح موعود کی صفات سے آراستہ ہوں جو اُن تمام ہتھیاروں سے لیس ہوں جو مصلح موعود کو عطا کیے گئے تھے پس جب مَیں کہتا ہوں کہ آپ مصلح موعود بنیں اور آپ کے بڑے بھی مصلح موعود بنیں تو ہر گز یہ نہیں کہتا کہ بلند مراتب کی تمنا کریں بلکہ مَیں یہ کہتا ہوں کہ ان صفات کی اپنے ربّ سے بھیک مانگیں جو صفات آج کے زمانہ کے انسان کے احیاء نو کے لیے ضروری ہیں ۔ ‘‘ (خطاب حضور رحمہ اللہ 23 فروری 1986ء بحوالہ ماہنامہ خالد فروری 1991ء) - [”متاعِ آسمانی“ (حرص و شوقِ مالِ فانی) (تقریر نمبر9)](https://mushahedat.com/متاعِ-آسمانی-حرص-و-شوقِ-مالِ-فانی-ت/) - حضر ت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’حسد انسان میں ایک بہت برا خلق ہے جو چاہتاہے کہ ایک شخص سے ایک نعمت زائل ہوکر اسکومل جائے ۔ لیکن اصل کیفیت حسد کی صرف اس قدرہے کہ انسان اپنے کسی کمال کے حصول میں یہ روا نہیں رکھتا کہ اس کمال میں اس کا کوئی شریک بھی ہو ۔ پس درحقیقت یہ صفت خدا تعالیٰ کی ہے جو اپنے تئیں ہمیشہ وحدہ لاشریک دیکھنا چاہتاہے۔ ‘‘ (نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 390) - [”متاعِ آسمانی“ (اطاعت و فرمانبرداری) (تقریر نمبر8)](https://mushahedat.com/متاعِ-آسمانی-اطاعت-و-فرمانبرداری-ت/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اطاعت صرف اپنے ذوق کے مطابق احکام پرعمل کرنے کا نام نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے ہر حکم پر عمل کرنے کا نام ہے خواہ وہ کسی کی عادت یا مزاج کے خلاف ہی کیوں نہ.ہو۔“ (تفسیر کبیر جلد 2صفحہ15) - [”متاعِ آسمانی“ (انعامات الٰہی  و شکر خداوندی) (تقریر نمبر7)](https://mushahedat.com/متاعِ-آسمانی-انعامات-الٰہی-و-شکر-خ/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد صحیحہ کی راہ ہم کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بدوں مشقت اور محنت کے دکھائی ہے۔وہ راہ جو آپ لوگوں کو اس زمانے میں دکھائی گئی ہے بہت سے عالم ابھی تک اس سے محروم ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت کا شکر کرو اور وہ شکر یہی ہے کہ سچے دل سے ان اعمال صالحہ کو بجا لاؤ جو عقائد صحیحہ کے بعد دوسرے حصہ میں آتے ہیں اور اپنی عملی حالت سے مدد لے کر دعا مانگوکہ وہ ان عقائد صحیحہ پر ثابت قدم رکھے اور اعمال صالحہ کی توفیق بخشے‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ95-94) - [ایمان  اور اُس کی ستّر شاخیں (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/ایمان-اور-اُس-کی-ستّر-شاخیں-تقریر-نمبر/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ یقیناً سمجھو کہ ہر ایک پاکبازی اور نیکی کی اصلی جڑ خدا پر ایمان لانا ہے جس قدر انسان کا ایمان باللہ کمزور ہوتا ہے اسی قدر اعمالِ صالحہ میں کمزوری اور سستی پائی جاتی ہے لیکن جب ایمان قوی ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کاملہ کے ساتھ یقین کر لیا جائے اسی قدر عجیب رنگ کی تبدیلی انسان کے اعمال میں پیدا ہو جاتی ہے۔ خدا پر ایمان رکھنے والا گناہ پر قادر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ ایمان اس کی نفسانی قوتوں اور گناہ کے اعضاء کو کاٹ دیتا ہے۔ دیکھو! اگر کسی کی آنکھیں نکال دی جاویں تو وہ آنکھوں سے بد نظری کیونکر کر سکتا ہے اور آنکھوں کا گناہ کیسے کرے گا اور اگر ایسا ہی ہاتھ کاٹ دیئے جاویں یا شہوانی قویٰ کاٹ دیئے جاویں۔ پھر وہ گناہ جو اُن اعضاء سے متعلق ہیں کیسے کر سکتا ہے؟ ٹھیک اسی طرح پرجب ایک انسان نفس مطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے تو نفس مطمئنہ اسے اندھا کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں گناہ کی قوت نہیں رہتی ۔ وہ دیکھتا ہے پھر نہیں دیکھتا۔ کیونکہ آنکھوں کے گناہ کی نظر سلب ہو جاتی ہے۔ وہ کان رکھتا ہے مگر بہرہ ہوتا ہے اور وہ باتیں جو گناہ کی ہیں نہیں سن سکتا۔ اسی طرح پر اس کی تمام نفسانی اور شہوانی قوتیں اور اندرونی اعضاء کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ اس کی ان ساری طاقتوں پر جن سے گناہ صادر ہو سکتا تھا ایک موت واقع ہو جاتی ہے اور وہ بالکل ایک میت کی طرح ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔ وہ اس کے سوا ایک قدم نہیں اُٹھا سکتا۔ یہ وہ حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامل اطمینان اسے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جو انسان کا اصل مقصود ہونا چاہیے اور ہماری جماعت کو اسی کی ضرورت ہے اور اطمینان کامل کے حاصل کرنے کے واسطے ایمانِ کامل کی ضرورت ہے۔ پس ہماری جماعت کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان حاصل کریں ۔‘‘ ( ملفوظات جلد6صفحہ 244-245 ،ایڈیشن1984ء ) - [”متاعِ آسمانی“ (صحابہ رضوان اللہ علیہم) (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/متاعِ-آسمانی-صحابہ-رضوان-اللہ-علیہ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت تیار نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے لئے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔حضرت مسیحؑ کو جو مشکلات اور مصائب اٹھانے پڑے، ان کے عوارض اور اسباب میں سے جماعت کی کمزوری اور بیدلی بھی تھی ……اِس کے برخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے وہ صدق و وفا کا نمونہ دکھایا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ انہوں نے آپؐ کی خاطر ہر قسم کا دکھ اٹھانا سہل سمجھا۔ یہاں تک کہ عزیز وطن چھوڑ دیا۔ اپنے املاک واسباب اور احباب سے الگ ہو گئے اور بالآخر آپ کی خاطر جان تک دینے سے تأمل اور افسوس نہیں کیا۔ یہی صدق اور وفا تھی جس نے ان کو آخر کا ر بامرا د کیا۔ اِسی طرح مَیں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری جماعت کوبھی اس کی قدر اور مرتبے کے موافق ایک جوش بخشا ہے اور وہ وفا داری اور صدق کا نمونہ دکھاتے ہیں۔ ‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر223-224۔ ایڈیشن 2003ء) - [”متاعِ آسمانی“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/متاعِ-آسمانی-حضرت-مسیح-موعود-علیہ-ا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں: ’’ کاش کہ مخالفین آپؑ کی کتب پڑھیں۔ آپؑ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات و نشانات کو دیکھیں جو صفحات پر نہیں جیساکہ میں نے کہا کئی کتابوں پر مشتمل ہیں۔ زمانے کی ضرورت کو بھی دیکھیں بلکہ زمانے کی ضرورت کے مطابق خود یہ اعتراض کرنے والے علماء بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ زمانہ کسی مصلح اور مہدی کو چاہتا ہےلیکن پھر بھی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہے اس کا خود بھی انکار کر رہے ہیں اور عامۃ المسلمین کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔ آسمانی نشانیاں پوری ہوئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں، لیکن پھر بھی یہ اپنی بدقسمتی کو ہی آواز دے رہے ہیں۔ اس طرف نہیں دیکھتے۔ آج مسلمان اگر اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ جو مسیح ومہدی آنے والا تھا وہ آ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی عاشق اور غلامِ صادق بھی یہی ہے اور اس کی بیعت میں آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بموجب ضروری ہے اور کامل وفا کے ساتھ اس کی بیعت میں شامل ہو جائیں تو مسلمان ان کو ماننے کے بعد دنیا میں اپنی برتری منوا سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بن سکتے ہیں ورنہ یہی ان کا حال رہنا ہے جو ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو عقل اور سمجھ دے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 24؍مارچ2023ء ) - [”متاعِ آسمانی“ (قرآنِ کریم) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/متاعِ-آسمانی-قرآنِ-کریم-تقریر-نمبر/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’میرا بڑا حصہ عمر کا مختلف قوموں کی کتابوں کے دیکھنے میں گزرا ہے مگر مَیں سچ مچ کہتا ہوں کہ میں نے کسی دوسرے مذہب کی تعلیم کو خواہ اس کا عقائد کا حصہ اور خواہ اخلاقی حصہ اور خواہ تدبیر منزلی اور سیاست مدنی کا حصہ اور خواہ اعمال صالحہ کی تقسیم کا حصہ ہو۔ قرآن شریف کے بیان کے ہم پہلو نہیں پایا۔‘‘ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد23 صفحہ62 طبع اول) - [”متاعِ آسمانی“ (آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/متاعِ-آسمانی-آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-و/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا تھا۔ یعنی انسان کامل کو ۔ وہ ملائک میں نہیں تھا ۔ نجوم میں نہیں تھا ۔ قمر میں نہیں تھا ۔ آفتاب میں بھی نہیں تھا ۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا ۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا ۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا ۔ صرف انسان میں تھا ۔ یعنی انسان کامل میں ۔ جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد ومولیٰ سید الانبیاء سیّد الاحیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 160) - [”متاعِ آسمانی“ (اللہ تعالیٰ) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/متاعِ-آسمانی-اللہ-تعالیٰ-تقریر-نمب/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اُس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اُس میں پائی ۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑوکہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح اِس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں ۔ کس دَف سے مَیں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔‘‘ (کشتی نوح،روحانی خزائن جلد19 صفحہ 22-21) - [فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ](https://mushahedat.com/فَلَا-تُزَکُّوۡۤا-اَنۡفُسَکُمۡ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’تم اپنے تئیں پاک مت ٹھہراؤ کیونکہ کوئی پاک نہیں جب تک خدا پاک نہ کرے۔‘‘ )ملفوظات جلد دہم صفحہ62 حاشیہ ایڈیشن 1984ء( - [کِرمِ خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار](https://mushahedat.com/کِرمِ-خاکی-ہوں-مرے-پیارے-نہ-آدم-زاد-ہوں/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ ہمارے لئے بھی بہتر ہے کہ جیسے ہم درحقیقت خاکسار ہیں۔ خاک ہی بنے رہیں جبکہ ہمارا مولیٰ ہم سے تکبّر اور نخوت پسند نہیں کرتا تو کیوں کریں۔ ہمارے لئے ایسی عزّت سے بے عزتی اچھی ہے جس سے ہم مورد عتاب ہو جائیں۔ ‘‘ ( مکتوبات ِاحمد جلد 1صفحہ316مکتوب نمبر8) - [بچے، جماعت کا قیمتی اثاثہ ہیں](https://mushahedat.com/بچے،-جماعت-کا-قیمتی-اثاثہ-ہیں/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ ایسے بچے جن کو اس طرح بچپن میں مالی قربانی کی عادت پڑ جائے وہ آئندہ نسلوں کی قربانیوں کی ضمانت بن جایا کرتے ہیں ۔ اللہ کرے کہ یہ روح ہمارے بچوں میں بڑھتی چلی جائے …..بچوں کو اس کی اہمیت کا احساس دلائیں، قربانی کی روح ان میں پیدا کریں۔ جو بچے اس مادی دور میں اس طرح قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں گے، اس طرح قربانی کرتے ہوئے پروان چڑھیں گے، وہ نہ صرف جماعت کا بہترین وجود بنیں گے بلکہ اپنے روشن مستقبل کی بھی ضمانت بن جائیں گے۔ لہو ولعب سے بچتے ہوئے، فضولیات سے بچتے ہوئے لغویات سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں گے۔‘‘ (خطبات مسرور جلد 6صفحہ5) - [ایک مؤمن، نکیل والے اونٹ کی طرح ہے](https://mushahedat.com/ایک-مؤمن،-نکیل-والے-اونٹ-کی-طرح-ہے/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ دیکھو! اونٹ کتنا بڑا حیوان ہے مگر ایک بچہ بھی نکیل ڈال کر کہیں کا کہیں لئے پھرتا ہے مگر گڑھے میں داخل کرنے کے لئے اُسے کھینچیں تو وہ نہیں جاتا۔ صرف اِس لئے اُسے صحیح علم گڑھے کا حاصل ہے وہ یہ کہ اس میں ہلاکت ہے۔‘‘ (حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 448) - [گلشنِ احمد کی ہیں ہم چہچہاتی بُلبلیں](https://mushahedat.com/گلشنِ-احمد-کی-ہیں-ہم-چہچہاتی-بُلبلیں/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں: ’’ناصرات بھی عہد کرتی ہیں۔ ان کو بھی اپنے عہدوں کو نبھانا چاہئے۔ چودہ پندرہ سال کی عمر ہوش کی عمر ہوتی ہے اور اچھا بُرا سمجھنے کی عمر ہوتی ہے اور یہ آخری عمر ہے ناصرات کی اور اس عمر میں ہی بہت ساری خواہشات بھی ہوتی ہیں۔ اگر دنیا کی طرف نظر ہو تو دنیاوی خواہشات دین پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ اس لئے ہر احمدی بچی کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اپنے عہد کو بار بار دہراتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر احمدی بچی بجائے فضول دنیاوی خواہشات کے پیچھے چلنے کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے کوشش کرنے والی ہو اور وہ اعلیٰ مقاصدناصرات کے عہد میں یہ بیان کئے گئے ہیں کہ مذہب، قوم اور وطن کی خدمت کے لئے تیار رہنا، ہمیشہ سچائی پر قائم رہنا، خلافت احمدیہ کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہنا۔ پس اگر ہماری بچیاں اس عہد کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو جہاں اپنی زندگیاں محفوظ کر لیں گی وہاں آئندہ نسلوں کی زندگیوں کو بھی محفوظ کرنے والی ہوں گی اور انہیں خلافت سے جوڑنے والی ہوں گی۔“ (خطبہ جمعہ 30؍ستمبر2016ء) - [ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/ایمان-کی-ستّر-شاخوں-میں-سے-کچھ-کا-تذکرہ-4/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ جو شخص کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اور پھر ہمیشہ کے لئے استغفار اپنی عادت نہیں پکڑتا وہ کیڑا ہے، نہ انسان اور اندھا ہے، نہ سوجاکھا اور ناپاک ہے، نہ طیّب۔‘‘ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ413) - [ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/ایمان-کی-ستّر-شاخوں-میں-سے-کچھ-کا-تذکرہ-3/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں: ’’ پس لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ صرف ایک معبود ہونے کا خیال ہی دل میں پیدا نہیں کرتا بلکہ اس بات کو بھی دل میں راسخ کرتا ہے اور کرنا چاہیے کہ ہمارا خدا وہ واحد خدا ہے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اور ہر مخلوق کا خالق ہے اور اس کے اذن سے ہی یہ تمام نظامِ کائنات چل رہا ہے اور تمام حاجات کے لیے ہم نے اس کے حضور ہی جھکنا ہے۔ پس جب یہ ایمان کی حالت ہو جائے تو وہ کامل ایمان ہوتا ہے جس میں شرک کی ملونی ہو ہی نہیں سکتی اور یہی وہ ایمان ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خالص ہو کرلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ پر ایمان لانے والوں پر جہنم کی آگ حرام ہے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 14؍اپریل2023ء ) - [ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/ایمان-کی-ستّر-شاخوں-میں-سے-کچھ-کا-تذکرہ-2/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں: ’’ جس کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور ذات کا علم ہو جائے وہی عالِم بن جاتا ہے۔ پس ایک حقیقی مسلمان بننے کے لئے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اُس کی صفات کا علم ضروری ہے اور یہ بغیر خشیت کے نہیں ہو سکتا اور اس کے لئے کوئی تخصیص نہیں کہ یہ خاص گروہ حاصل کرے اور باقی نہ کریں۔ اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ہر مؤمن کے لئے اُس کے حصول کی کوشش ضروری ہے، تبھی ایمان میں ترقی ہوتی ہے، تبھی اللہ تعالیٰ کے تعلق میں ترقی ہوتی ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 3اگست2012ء ) - [ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/ایمان-کی-ستّر-شاخوں-میں-سے-کچھ-کا-تذکرہ/) - حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ کہا اور تینتیس دفعہ الحمدللہ کہا اور تینتیس دفعہ اللہ اکبر کہا تو یہ مل کر ننانوے ہوئے۔ سو کا عدد پورا کرنے کے لئے کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحۡدَہُ لَا شَرِیۡکَ لَہُ ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ بادشاہت اُسی کی ہے۔ تمام تعریف اُسی کے لئے ہے اوروہ ہر ایک چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ اس کی تمام خطائیں معاف کردی جائیں گی اگرچہ وہ سمندر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ ( حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر:16) - [مسلمان اور مؤمن (قرآن اور احادیث کے آئینہ میں )](https://mushahedat.com/مسلمان-اور-مؤمن-قرآن-اور-احادیث-کے-آئین/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان کے جان ومال اور عزتیں محفوظ رہیں۔‘‘ (بخاري کتاب الايمان) - [اسلام ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟](https://mushahedat.com/اسلام-ہم-سے-کیا-تقاضا-کرتا-ہے؟/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’نوافل سے مومن میرا مقرّب ہو جاتا ہے ایک فرائض ہوتے ہیں دوسرے نوافل یعنی ایک تو وہ احکام ہیں جو بطور حق واجب کے ہیں اور نوافل وہ ہیں جو زائد از فرائض ہیں اور وہ اس لئے ہیں کہ فرائض میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہونوافل سے پوری ہو جاوے۔ لوگوں نے نوافل صرف نماز ہی کے نوافل سمجھے ہوئے ہیں نہیں یہ بات نہیں۔ ہر فعل کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔ انسان زکوٰۃ دیتا ہے تو کبھی زکوٰۃ کے سوا بھی دے۔ رمضان میں روزے رکھتا ہے کبھی اس کے سوا بھی رکھے قرض لے تو کچھ ساتھ زائد دے کیونکہ اس نے مروّت کی ہے۔ نوافل متمّم فرائض ہوتے ہیں‘‘ (ملفوظات جلد2 صفحہ79-80) - [دل کا زنا](https://mushahedat.com/دل-کا-زنا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے جس میں سے اَور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں جن کو سُواَ کہتے ہیں یا راجباہا کہتے ہیں۔ دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں مثلاً زبان وغیرہ ۔ اگر چھوٹی نہر یعنی سُوئے کا پانی خراب اور گندہ اور مَیلا ہو تو قیاس کیا جاتا ہے کہ بڑی نہر کا پانی خراب ہے۔ پس اگر کسی کو دیکھو کہ اس کی زبان یا دست وپا وغیرہ میں سے کوئی عضو ناپاک ہے تو سمجھو کہ اُس کا دل بھی ایسا ہی ہے۔‘‘ )تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد 2صفحہ 459) - [اٰمَنُوۡا اورعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کا حسین امتزاج](https://mushahedat.com/اٰمَنُوۡا-اورعَمِلُوا-الصّٰلِحٰتِ-ک/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما تے ہیں: ’’ایمان کے ساتھ عمل کی ضرورت ہے ورنہ ایمان بَدُوں عمل مُردہ ہے اور جب تک عمل نہ ہو وہ ثمرات اور نتائج پیدا نہیں ہوتے جو اعمال کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ مگر اعمال کی قوت اور توفیق معرفت اور یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ جس قدر یہ قوت بڑھتی ہے اُسی قدر اعمالِ صالحہ کی توفیق ملتی ہے اوروہ برکات حاصل ہوتی ہیں جن سے انسان آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔‘‘ - [دائیں ہاتھ سے کھانا کھانے اور انگلیاں چاٹنے میں حکمت اور فوائد](https://mushahedat.com/دائیں-ہاتھ-سے-کھانا-کھانے-اور-انگلیاں-چ/) - حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھانا چاہیے اور جب کوئی مشروب نوش کرے تو اسے دائیں ہاتھ سے نوش کرنا چاہیے۔ اس لئے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہی سے پیتا ہے۔ (مسلم بلوغ المرام حدیث: 1250) - [حق مہر کی اہمیت (خلفاء کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/حق-مہر-کی-اہمیت-خلفاء-کے-ارشادات-کی-روش/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ جہاں تک خلع اور طلاق کا تعلق ہے اگر کوئی خاوند صرف مہر کی ادائیگی سے بچنے کے لئے عورت کو تنگ کرتا ہے کہ وہ خلع لے لے اور سمجھتا ہے کہ اِس طرح اُس کو مہر نہیں دینا پڑے گا تو وہ بڑا احمق ہے اسے جماعت چھوڑ دینی چاہیے۔ مَیں تمہیں شریعت اسلامیہ سے استہزاء نہیں کرنے دوں گا جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہیں کرنے دیا تھا ۔‘‘ ( خطبات ناصر جلد 7صفحہ421 ) - [حق مہر اور اُس کی اہمیت )تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/حق-مہر-اور-اُس-کی-اہمیت-تقریر-نمبر-1/) - حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ مَیں نے مہر کی تعیین چھ ماہ سے ایک سال تک کی آمدن کی ہے یعنی مجھ سے کوئی مہر کے متعلق مشورہ کرے تو مَیں یہ مشورہ دیا کرتا ہوں کہ اپنی چھ ماہ کی آمد سے ایک سال تک کی آمد بطور مہر مقرر کر دو اور یہ مشورہ میرا اِس امر پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة و السلام سے الوصیت کے قوانین میں دسویں حصہ کی شرط رکھوائی ہے۔ گویا اسے بڑی قربانی قرار دیا ہے۔ اس بناء پر میرا خیال ہے کہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ باقی اخراجات کو پورا کرتے ہوئے مخصوص کر دینا معمولی قربانی نہیں بلکہ ایسی قربانی ہے کہ جس کے بدلے میں ایسے شخص کو جنت کا وعدہ دیا گیا ہے اس حساب سے ایک سال کی آمد جو گویا متواتر دس سال کی آمد کا دسواں حصہ ہوتا ہے بیوی کے مہر میں مقرر کر دینا مہر کی اغراض کو پورا کرنے کے لئے بہت کافی ہے بلکہ میرے نزدیک انتہائی حدّ ہے ۔ ‘‘ (الفضل12؍دسمبر1940ء) - [کیا نظرِبد حقیقت ہے؟](https://mushahedat.com/کیا-نظرِبد-حقیقت-ہے؟/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” مَیں دیکھتا ہوں کہ اولیاء اللہ میں کسی ایسی بات کا ہونا بھی سنت اللہ میں چلا آتا ہے جیسا کہ خوبصورت بچے کو جب ماں عمدہ لباس پہنا کر باہر نکالتی ہے تو اس کے چہرے پر ایک سیاہی کا داغ بھی لگا دیتی ہے تاکہ وہ نظرِ بد سے بچا رہے۔ ایسا ہی خدا بھی اپنے پاکیزہ بندوں کے ظاہری حالات میں ایک ایسی بات رکھ دیتا ہے جس سے بد لوگ اس سے دور رہیں اور صرف نیک ہی اس کے گرد جمع رہیں۔ سعید آدمی چہرے کی اصلی خوبصورتی کو دیکھتا ہے اور شقی کا دھیان اس داغ کی طرف رہتا ہے۔“ (ملفوظات جلد ہشتم صفحہ 209-210) - [’’اچھے بھلے کو دیکھ کے دیوانہ کر دیا ‘‘](https://mushahedat.com/اچھے-بھلے-کو-دیکھ-کے-دیوانہ-کر-دیا/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کا مزہ پا لیتا ہے۔ اِن میں سے دو باتیں دیوانگی کے متعلق ہیں۔ اوّل اللہ اور اُس کے رسول تمام دوسری چیزوں سے بڑھ کر اُسے پیارے ہوں اور دوم یہ کہ جس انسان سے بھی محبت کرے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے محبت کرے۔ (بخاری کتاب الایمان) - [انسانی قویٰ اور ملائکہ](https://mushahedat.com/انسانی-قویٰ-اور-ملائکہ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللّٰه - اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو جاوے جب تک اِس مرتبہ تک نہ پہنچ جائے نہ تھکے نہ ہارے۔ اِس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الٰہی کی طرف اُسے لئے جاتا ہے اور وہ حالت اُس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کی ہوتی ہے۔‘‘ ( الحکم 24؍ مئی 1901ء صفحہ4) - [ہاتھ اور پاؤں کا زنا](https://mushahedat.com/ہاتھ-اور-پاؤں-کا-زنا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ زنا کی راہ بہت بُری راہ ہے یعنی منزلِ مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کے لیے سخت خطرناک ہے۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ342 ) - [دل کی گلیوں میں اعتکاف](https://mushahedat.com/دل-کی-گلیوں-میں-اعتکاف/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے صرف قرآن کریم میں ہاتھ پیر کے گناہوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ کان اور آنکھ اور دل کے گناہوں کا بھی ذکر کیا ہے جیسا کہ وہ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِکَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا یعنی کان اور آنکھ اور دل جو ہیں ان سب سے باز پرس کی جائے گی ۔ اب دیکھو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کان اور آنکھ کےگناہ کا ذکر کیا ایسا ہی دل کے گناہ کا بھی ذکر کیا مگر دل کا گناہ خطرات اور خیالات نہیں ہیں کیونکہ وہ تو دل کے بس میں نہیں ہیں بلکہ دل کا گناہ پختہ ارادہ کر لینا ہے۔صرف ایسے خیالات جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں گناہ میں داخل نہیں ۔ ہاں اس وقت داخل ہو جائیں گے جب ان پر عزیمت کرے اور ان کے ارتکاب کا ارادہ کرلیوے۔ “ (نور القرآن ، روحانی خزائن جلد 9صفحہ428-427) - [’’انسان کا سینہ بیتُ اللہ اور دل حجرِاسود ہے‘‘ (مسیح موعودؑ)](https://mushahedat.com/انسان-کا-سینہ-بیتُ-اللہ-اور-دل-حجرِا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اس گھر کو بتوں سے صاف کرو۔ فرمایا …… (البقرہ: 126) یعنی میرے گھر کو فرشتوں کے لئے پاک کرو۔انسان کا دل خدا کا گھر ہے یہ خدا کا گھر اس وقت کہلائے گا اور اس وقت فرشتوں کا طواف گاہ بنے گا جب یہ اوہام باطلہ وعقائد فاسدہ سے بالکل پاک وصاف ہو۔ جب تک انسان کا دل صاف نہ ہو اس کی عملی حالت درست نہیں ہو سکتی‘‘ (ملفوظات جلد10 صفحہ74-75 حاشیہ) - [65 تقاریر برائے انصاراللّٰہ](https://mushahedat.com/65-تقاریر-برائے-انصاراللّٰہ/) - مصنف نے کتاب 'مشاہدات' کی نویں جلد پیش کی، جس میں جماعت کے مقاصد کے مطابق مختلف عنوانات پر تقاریر شامل ہیں۔ یہ جلد خاص طور پر مجلس انصاراللہ اور خدام بھائیوں کی تعلیم وتربیت کے لئے تصنیف کی گئی ہے۔ کتاب میں شامل تقاریر کو مختلف عناوین سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ - [زبان کا زنا](https://mushahedat.com/زبان-کا-زنا/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے یوں بیان فرمایا ہے۔ ’’ پہلے زمانے میں تو کہا جاتا تھا کہ عورتیں زیادہ باتیں کرتی ہیں لیکن اب تو مَردوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ غلط قسم کی باتوں کی مجلسوں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ وقت ضائع کرتے ہیں اور لغویات میں مبتلا ہو کر بجائے عورتوں کی اصلاح کرنے کے خود بگڑتے چلے جا رہے ہیں اور پھراس کی وجہ سے بعض دفعہ تو یہ شکایت آتی ہے اور عورتیں شکایت کرتی ہیں کہ مَرد ہمیں کہتے ہیں کہ تم پردے چھوڑ دو۔ فلاں مجالس میں آنا شروع کر دو یا ایسی سوسائٹی میں بیٹھو۔“ (خطاب جلسہ سالانہ لجنہ جرمنی از ایوانِ مسرور 30 اگست 2025ء) - [آنکھ کا زنا](https://mushahedat.com/آنکھ-کا-زنا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ وَیَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ (النور: 31) کہ تُوایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔ یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہو گا ۔ فروج سے مراد صرف شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اور ان میں اس امر کی مخالفت کی گئی ہے کہ غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے۔ پھر یاد رکھو کہ ہزار در ہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے آخر کار انسان کو ان سے رکنا ہی پڑتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 135) - [تصویر اَور فوٹو میں فرق اور اِن کا مشرکانہ استعمال (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/تصویر-اَور-فوٹو-میں-فرق-اور-اِن-کا-مشرکا/) - ایک شخص نے حضرت مصلح موعودؓ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فوٹو کا ذکر کیا اور عرض کیا لوگ کہتے ہیں یہ بُت پرستی ہے؟ اس کے جواب میں آپؓ نے فرمایا کہ ’’کیا بُت پرستی؟ کیا کسی کی شکل دیکھنا بُت پرستی ہے ۔ رہا یہ امر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ایسا نہیں ہوا اس وقت تو کیمرہ ایجاد بھی نہیں ہوا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع کیا ہے وہ فوٹو نہیں بلکہ تصویر ہے۔ مصوّر انسانی جذبات کا اظہار تصویر میں دکھاتا ہے مگر فوٹو گرافر صرف شکل دکھاتا ہے۔ اس میں باطنی جذبات کا اظہار نہیں ہوتا۔ انبیاء کی تصویر اسی لیے ناجائز ہے کہ انبیاء کا کیریکٹر اپنے اندر گوناگوں خصوصیات رکھتا ہے اور ممکن ہی نہیں کوئی مصوّر ان کا نقشہ تصویر میں دکھا سکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر نہیں بلکہ فوٹو ہے اور یہ محض شکل ہے۔ مصوّر کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تصویر کے چہرے پر ایسے اثرات ڈالے جس سے اس انسان کے اخلاق پر روشنی پڑے اور انبیاء کے باطنی کمالات کا اظہار کوئی مصوّر نہیں کر سکتا۔ بالکل ممکن ہے ایک مصوّر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کھینچے مگر آپ کے چہرے پر وحشت کا اثر ڈالے وہ تصویر تو ہو گی مگر لوگوں کے دلوں میں اس سے نفرت پیدا ہوگی۔ حدیث میں جو تصویر کا ذکر آ تا ہے اس سے مصوّر کی بنائی ہوئی تصویر ہی مراد ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو آپ کی صورت کا عکس ہے اورعکس کو تو وہابیوں نے بھی جائز تسلیم کیا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے شیشہ میں انسان اپنی شکل دیکھے اور اگر عکس نا جائز ہے تو پھر شیشہ دیکھنا بھی جائز نہیں ہونا چا ہئے۔ اسی طرح پانی میں بھی عکس آ جا تا ہے مگر اسے کوئی نا جائز نہیں کہتا۔ ان میں اور فوٹو میں فرق صرف یہ ہے کہ فوٹو تو انسان کی شکل محفوظ رکھتا ہے مگر شیشہ یا پانی کا عکس محفوظ نہیں رہتا۔‘‘ (الفضل 14 اپریل 1931 صفحہ6،5 ۔ ماخوذاز فرمودات مصلح موعودؓ دربارہ فقہی مسائل) - [حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پہلا فوٹو اُتروانے کی وجہ (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعود-علیہ-السلام-کا-پہلا-فوٹ/) - حضرت مسیح موعودؑ فوٹو گرافی یعنی عکسی تصویر بنانے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’ہم نے اپنی تصویر محض اِس لئے اتروائی تھی کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویر بھیج دیں کیونکہ اُن لوگوں کاعام مذاق اس قسم کا ہوگیا ہے کہ وہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اُس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مددسے بہت سے صحیح نتائج نکال لیتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد7 صفحہ24-25 ایڈیشن 1984ء) - [مشاہدات کی مالا کے 1200 موتی](https://mushahedat.com/مشاہدات-کی-مالا-کے-1200-موتی/) - اللہ تعالیٰ کے حضور کچھ عجز و نیاز(پیش لفظ)۔مشاہدات کی مالا کے 1200 موتی اللہ تعالیٰ کے حضور کچھ عجز و نیاز(پیش لفظ)۔مشاہدات کی مالا کے 1200 موتیڈاؤن لوڈ - [خلافت ایک خزانہ ہے۔ اِس سے فائدہ اُٹھائیں](https://mushahedat.com/خلافت-ایک-خزانہ-ہے۔-اِس-سے-فائدہ-اُٹھائ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں : ’’ پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہوجائیں۔اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں پنہاں ہے ۔“ (الفضل انٹر نیشنل 23تا 30مئی 2003ءصفحہ اول) - [05تقاریربابت دیکھو! کیا کہتی ہے تصویر تمہاری](https://mushahedat.com/05-تقاریربابت-دیکھو-کیا-کہتی-ہے-تصویر-تم/) - کنجی(پیش لفظ ) ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 10 ؍اپریل 2026 ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شرک سے نفرت اور توحید کے قیام کے لیے آپؑ کی کوششوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ اس ضمن میں حضور علیہ السلام نے - [25تقاریربعنوان اسلامی اصطلاحات کی اہمیت،افادیت اور برکات(حصہ اول)](https://mushahedat.com/25تقاریربعنوان-اسلامی-اصطلاحات-کی-اہمی/) - ٹکٹ گھر (پیش لفظ ) ” مشاہدات “کے پلیٹ فارم نمبر 1 سے 25 ڈبوں پر مشتمل جو گاڑی(ٹرین) اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے کے لیے روانہ ہونے والی ہے ۔ اُس کو ہم نے اسلامی اصطلاحات (Terminologies) کے استعمال کے فوائد اور برکات کا نام دیا ہے اور عرصہ تین سالوں میں یہ - [اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ (اطاعت اُولِی الۡاَمۡرِ)](https://mushahedat.com/اُولِی-الۡاَمۡرِ-مِنۡکُمۡ-اطاعت-اُول/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ اگر حکومت اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے واضح حکم کے خلاف کوئی حکم دے تو پھر بہرحال اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کا حکم مقدّم ہے۔ لیکن اگر مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہیں ہے تو پھر حُکّام، چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم اُن کی اطاعت ضروری ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ بیان فرمودہ5دسمبر2014ء ) - [جسم اور روح کی سِلوٹیں](https://mushahedat.com/جسم-اور-روح-کی-سِلوٹیں/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے گا ،دُعا سے کام نہ لے گا وہ غمرہ جو دل پر پڑتا ہے دور نہیں ہو سکتا ۔ ‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 137 ایڈیشن 1984ء) - [ٹائٹل بمقابلہ رینک (Title v/s Rank)](https://mushahedat.com/ٹائٹل-بمقابلہ-رینک-title-v-s-rank/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ چاہیے کہ اسلام کی ساری تصویر تمہارے وجود میں نمودار ہو اور تمہاری پیشانیوں میں اثر سجود نظر آوے اور خدائے تعالیٰ کی بزرگی تم میں قائم ہو۔ اگر قرآن اور حدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہرگز اس کو قبول نہ کرو اور یقیناً سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔ توحید پر قائم رہو اور نماز کے پابند ہو جاؤ اور اپنے مولیٰ حقیقی کے حکموں کو سب سے مقدم رکھو اور اسلام کے لئے سارے دکھ اٹھاؤ۔ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔‘‘ (روحانی خزائن جلد3ازالہ اوہام صفحہ552) - [کانوں کی افادیت اور اِن کا درست و برمحل استعمال](https://mushahedat.com/کانوں-کی-افادیت-اور-اِن-کا-درست-و-برمحل/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ جب انسان اپنے نفس کو کھو دیتا ہے اور غیر اللہ کی طرف التفات نہیں رہتی اور کسی کو اپنی نظر میں نہیں دیکھتا اور خدا ہی کو دیکھتا اور اس کو ہی سناتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کو سناتا ہے۔ مگر وہ لوگ جن کے باوجودیکہ دوکان ہوتے ہیں مگر وہ حرص، ہوا، غصّہ، کینہ وغیرہ ہر قسم کی طاقتوں کی باتیں سنتے ہیں وہ خدا تعالٰی کی بات کیوں کر سُن سکتے ہیں ہاں ایک قوم ہوتی ہے جو باقی سب کو ذبح کر ڈالتے ہیں اور سب طرف سے کانوں کو بند کر لیتے ہیں نہ کسی کی سنتے ہیں نہ کسی کو سناتے ہیں انہیں ہی خدا بھی اپنی سناتا ہے اور ان کی سنتا ہے اور وہی مبارک ہوتا ہے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 105) - [کان کا زنا](https://mushahedat.com/کان-کا-زنا/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ” حفص بن عاصم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ انسان کے جھوٹے ہونے کے لئے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔ اب دیکھیں یہ عادت عموماً لوگوں میں ہوتی ہے۔ جماعت میں بھی یہ برائی بعض لوگوں میں بہت زیادہ ہے مجھے بھی کوئی لوگ لکھ دیتے ہیں بعض کسی کے بارے میں کہ اس نے یہ کیا اور وہ کیا اور جب تحقیق کرو تو بات غلط نکلتی ہے اور جب لکھنے والے سے پوچھا جائے کہ کس نے کہا تمہیں یہ بات تو غلط ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا اور اس سننے پر ہی وہ دنیا میں شور مچا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو جھوٹا قرار دیا ہے۔“ (خطبہ جمعہ 24 ؍اپریل 2026ء) - [زُبان  کا زنا، بولنا ہے](https://mushahedat.com/زُبان-کا-زنا،-بولنا-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ نازک ترین معاملہ زبان سے ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ280) - [اپنے اندر بیماریوں کو ڈیلیٹ کرنے کا شعار بنائیں](https://mushahedat.com/اپنے-اندر-بیماریوں-کو-ڈیلیٹ-کرنے-کا-شعا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوسری شرطِ بیعت میں فرمایا ہے کہ ’’ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔ ‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ159 اشتہار ’’تکمیل تبلیغ‘‘، اشتہار نمبر51) - [نُون غُنَّہ کے استعمال کو اپنائیں](https://mushahedat.com/نُون-غُنَّہ-کے-استعمال-کو-اپنائیں/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ “ (ابن ماجہ) کہ اپنی اولاد کی عزت کرو اور اُن کی بہترین تربیت کرو۔ - [’’دیکھو! کیا کہتی ہے تصویر تمہاری‘‘ )تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/دیکھو-کیا-کہتی-ہے-تصویر-تمہاری-ت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوٹو گرافی کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ مَیں نے دیکھا ہے کہ آج کل یورپ کے لوگ جس شخص کی تالیف کو دیکھنا چاہیں اوّل خواہشمند ہوتے ہیں جواُس کی تصویر دیکھیں کیونکہ یورپ کے ملک میں فراست کے علم کو بہت ترقی ہے اور اکثر اُن کی محض تصویر کو دیکھ کر شناخت کر سکتے ہیں کہ ایسا مُدعی صادق ہے یا کاذب اور وہ لوگ بباعث ہزارہا کوس کے فاصلہ کے مجھ تک پہنچ نہیں سکتے اور نہ میرا چہرہ دیکھ سکتے ہیں لہٰذا اُس ملک کے اہلِ فراست بذریعہ تصویر میرے اندرونی حالات میں غور کرتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو انہوں نے یورپ یا امریکہ سے میری طرف چٹھیاں لکھی ہیں اور اپنی چٹھیوں میں تحریر کیا ہے کہ ہم نے آپ کی تصویر کو غور سے دیکھا اور علمِ فراست کے ذریعہ سے ہمیں ماننا پڑا کہ جس کی یہ تصویر ہے وہ کاذب نہیں ہے اور ایک امریکہ کی عورت نے میری تصویر کو دیکھ کر کہا کہ یہ یسوع یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21 صفحہ366) - [تصویریں بولتی اور تبلیغ کا کام کرتی ہیں (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/تصویریں-بولتی-اور-تبلیغ-کا-کام-کرتی-ہیں/) - جلسہ سالانہ برطانیہ 2018ء کے موقع پر گوادے لوپ کے ایک نومبائع پیٹرس میاکو (Patrice Mayeko) صاحب کہتے ہیں کہ ’’جلسہ میں منعقد کی جانے والی تمام نمائشیں بہت فائدہ مند تھیں۔ خاص طور پر آرکائیو اور مخزن تصاویر اور ریویو آف ریلیجنز نے مجھے بہت متاثر کیا۔ یہ نمائشیں مجھے بہت پسند آئیں اور انہوں نے میرے احمدیت کی تاریخ کے بارے میں علم میں بہت اضافہ کیا۔‘‘ - [تصویرکھنچوانے کے متعلق ارشادات (حضرت مسیح موعودؑ و خلفائے کرام) (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/تصویرکھنچوانے-کے-متعلق-ارشادات-حضرت-م/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ صوفیاء کا طریقہ تھا کہ دل سے دل کو پڑھاتے تھے وہ تمام سبق اسی طرح پڑھتے تھے۔ وہ بات زبان سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی جو ایک قلب سے دوسرے قلب کو بجلی کی رَو کی طرح حاصل ہوتی ہے۔ الفاظ کا اثر کانوں کے ذریعہ ہوتا ہے مگر الفاظ بعض کیفیات کے متحمّل نہیں ہو سکتے۔ اصل سبق تو وہی تھے جو قلوب کے ذریعہ توجہ سے ہوتے تھے مگر آجکل کے جھوٹے صوفیوں نے جن کا نام توجہ کہا ہے یہ نہیں۔ وہ بھی خواہش اور کامل تزکیہ سے حاصل ہوتی ہے جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظلّ اور بُروز کہا ہے ۔ ایک شخص خواہ کیسا ہی فصیح البیان ہو الفاظ کے ذریعہ ایک تصویر کو نہیں دکھا سکتا، لیکن اگر فوٹو سامنے رکھ دیا جائے تو فوراً تصویر کی تمام چیزیں نظر آجائیں گی۔ یہ سبق نہایت کار آمد اور اہم ہے لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ پس بعض تفصیلات الفاظ کے ذریعہ ادا نہیں ہو سکتیں۔ بلکہ بروز کے طور پر آتی ہیں۔ مثلاً کوئی شخص کہتا چلا جائے کہ ناک ایسی ہے کان ایسے ہیں آنکھ ایسی ہے مگر کوئی چیز ہو بہو سمجھ میں نہیں آسکتی ۔ ہاں فوٹو کے ذریعہ سب کچھ سمجھ میں آجاتا ہے۔ ‘‘ (خطبات محمود جلد6صفحہ 35-34) - [’’ ستائیس کو خوشیاں منائیں گے ‘‘ (الہام حضرت مسیح موعودؑ)](https://mushahedat.com/ستائیس-کو-خوشیاں-منائیں-گے-الہا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں ۔ ‘‘ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد20صفحہ305) - [قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں تقویٰ کی حقیقی روح](https://mushahedat.com/قرآن-کریم-کی-تعلیمات-کی-روشنی-میں-تقوی-2/) - حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے کہ : ”اے اللہ! مَیں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ (ترمذی کتاب الدعوات) - [”ہم ایک بِھیڑ ہیں، جانوروں کا انبوہ ہیں “ ( مخالفینِ احمدیت کا اعتراف)](https://mushahedat.com/ہم-ایک-بِھیڑ-ہیں،-جانوروں-کا-انبوہ-ہی/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دشمنان احمدیت کو صد سالہ خلافت جوبلی کے تاریخی خطاب میں مخاطب ہو کر فرمایا تھا ۔ ” اے دشمنان احمدیت! مَیں تمہیں دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر تم خلافت کے قیام میں نیک نیت ہو تو آؤ! اور مسیح محمدی کی غلامی قبول کرتے ہوئے اس کی خلافت کے جاری و دائمی نظام کا حصہ بن جاؤ ورنہ تم کوششیں کرتے کرتے مرجاؤ گے اور خلافت قائم نہ کرسکو گے ۔ تمہاری نسلیں بھی اگر اسی ڈگر پر چلتی رہیں تو وہ بھی کسی خلافت کو قائم نہیں کرسکیں گی ۔ قیامت تک تمہاری نسل در نسل یہ کوشش جاری رکھے تب تک کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ “ ( خطاب 27 مئی 2008ء) - [ہم یومِ خلافت کیوں مناتے ہیں؟](https://mushahedat.com/ہم-یومِ-خلافت-کیوں-مناتے-ہیں؟/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ یاد رکھو کہ انسان کو چاہئے کہ… اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ:12) پر عمل کرے۔ خداتعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی چاہئے۔اس سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اُس کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔ تحدیث کے یہی معنی نہیں ہیں کہ انسان صرف زبان سے ذکر کرتارہے بلکہ جسم پر بھی اس کا اثر ہونا چاہئے۔ ‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ زیر سورۃ الضحیٰ آیت12 ) - [اسلامی اصطلاح ’’ فِیْٓ اَمَانِ اللّٰہِ‘‘کا استعمال](https://mushahedat.com/اسلامی-اصطلاح-فِیْٓ-اَمَانِ-اللّٰ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’قرآن شریف کی اصطلاح کے روسے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دعا اور تضرّع اور اعمالِ صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییعِ اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔“ (تفسیر سورۃ الفاتحہ از حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ 83 - 85) - [دعائیہ کلمہ ’’مَاشَاءَ اللّٰہ‘‘ کا استعمال باعثِ برکت ہے](https://mushahedat.com/دعائیہ-کلمہ-مَاشَاءَ-اللّٰہ-کا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جس بات کو وہ چاہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جو کچھ وہ دیوے کوئی اس کو ردّ نہیں کر سکتا وہ اپنے دین کا حافظ ہے اور تمام ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کریں ۔‘‘ ( روحانی خزائن جلد8نور الحق الحصۃ الاولیٰ صفحہ 24) - [مقاماتِ حج ،شعائرُاللہ اور اسلامی اصطلاحات میں شامل](https://mushahedat.com/مقاماتِ-حج-،شعائرُاللہ-اور-اسلامی-اصط/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ حج سے صرف اتنا ہی مطلب نہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلے اور سمندر چیر کر چلا جاوے اور رسمی طور پر کچھ لفظ منہ سے بول کر ایک رسم ادا کرکے چلا آوے۔ اصل بات یہ ہے کہ حج ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جو کمال سلوک کا آخری مرحلہ ہے۔ سمجھنا چاہیے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھویا جاوے اور تعشُّق باللہ اور محبتِ الٰہی ایسی پیدا ہوجاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اُسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان ومال کی پرواہ ہو، نہ عزیزواقارب سے جدائی کا فکر ہو، جیسے عاشق اور محبّ اپنے محبوب پر جان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے۔ اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے۔ جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھاہے۔‘‘ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102۔ 103، ایڈیشن 2003ء) - [حج بیتُ اللہ اور عیدُ الاضحیٰ بطور شعائرُاللہ اور اسلامی اصطلاح](https://mushahedat.com/حج-بیتُ-اللہ-اور-عیدُ-الاضحیٰ-بطور-شعائ/) - حضرت ابو ہریرہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حجاج کے حق میں بیان کی: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَآجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهٗ الْحَآجُّ )مستدرک حاکم جلد1صفحہ441( اے اللہ! حاجیوں کو بھی بخش دے اور ان کو بھی جن کے لئے حاجیوں نے بخشش مانگی ہے۔ - [اسلامی اصطلاحات، شعائر اللہ کی تعظیم وتکریم](https://mushahedat.com/اسلامی-اصطلاحات،-شعائر-اللہ-کی-تعظیم-و/) - حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ فرماتے ہیں: ’’ قرآن کریم کی بہت تعظیم ہے کہ یہ شعائر اللہ میں سے اعظم ہے۔‘‘ (حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 148) - [مسجد کا مقام اَور اِس کی تعمیر کا ثواب](https://mushahedat.com/مسجد-کا-مقام-اَور-اِس-کی-تعمیر-کا-ثواب/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باوجود بیماری اور خرابئ صحت مسجد آ کر با جماعتِ ادا کرنے کے حوالے سے اپنی کیفیت یوں بیان فرمائی: ” میرے سر کی حالت آج بھی اچھی نہیں چکر آ رہا ہے جب جماعت کا وقت آتا ہے تو اس وقت خیال گزرتا ہے کہ جب جماعت ہو گی اور مَیں شامل نہ ہوں گا اور افسوس ہوتا ہے اس لئے افتاں وخیزاں چلا آتا ہوں۔“ (ملفوظات جلد 7 صفحہ212) - [صلی اللّٰہ علیہ وسلم پڑھنے کے فوائد اور برکات](https://mushahedat.com/صلی-اللّٰہ-علیہ-وسلم-پڑھنے-کے-فوائد-او/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’درود شریف جو حصولِ استقامت کا ایک زبردست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو مگر نہ رسم اور عادت کے طورپر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور احسان کو مدنظر رکھ کر اور آپؐ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا‘‘۔ ( - [إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کا اسلامی حکم (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/إِنَّا-لِلّٰہِ-وَإِنَّآ-إِلَيْهِ-رَا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ ثمرات میں اولاد بھی داخل ہے اور محنتوں کے بعد آخر کی کامیابیاں بھی مراد ہیں ان کے ضائع ہونے سے بھی سخت صدمہ ہوتا ہے۔ امتحان دینے والے اگر کبھی فیل ہوجاتے ہیں تو بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ خودکشیاں کرلیتے ہیں……غرض اس قسم کے ابتلاء جن پر آئیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو بشارت دیتا ہے وَبَشِّرِ الصّٰبِرِینَ یعنی ایسے موقع پر جہد کے ساتھ برداشت کرنے والوں کو خوشخبری اور بشارت ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ واِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ۔ یاد رکھو کہ خدا کا خاص بندہ اور مقرّب تب ہی ہوتا ہے کہ ہر مصیبت پر خدا ہی کو مقدّم رکھے۔ غرض ایک وہ حصہ ہوتا ہے جس میں خدا اپنی منوانا چاہتا ہے۔ دعا کے معنیٰ تو یہی ہیں کہ انسان خواہش ظاہر کرتا ہے کہ یوں ہو، پس کبھی مولیٰ کریم کی خواہش مقدّم ہونی چاہیے اور کبھی اللہ کریم اپنے بندہ کی خواہش کو پورا کرتا ہے۔‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ273) - [اسلامی اصطلاح۔ جزاک اللّٰہ خیرًا کا استعمال](https://mushahedat.com/اسلامی-اصطلاح۔-جزاک-اللّٰہ-خیرًا-کا-اس/) - حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ”غالباً 1901ء کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ مَیں حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھا کہ حضور علیہ السلام نے توحیدِ باری تعالیٰ پر ایک تقریر فرمائی اور اس میں ارشاد کیا کہ بعض لوگ کسی کے احسان پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے کے بغیر ہی جَزَاکَ اللّٰہُ کہہ دیتے ہیں حالانکہ بہ نظرِ غایت دیکھا جائے تو از روئے معرفت یہ کلمہ بھی اپنے اندر ایک گونہ شرک کا پہلو رکھتا ہے کیونکہ احسان کرنے والے کی ذات اور وہ چیز جس کےذریعے وہ محسن بنا ہے وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ اس لیے ممنونِ.احسان کو چاہیے کہ وہ جَزَاکَ اللّٰہُ کہنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی توصیف وتحمید بیان کرے اور احسان ہونے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے کیونکہ معرفت اور حقیقت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ سب سے اوّل خالقِ اسباب کا شکریہ ادا کیا جائے پھر جَزَاکَ اللّٰہُ اس شخص کا بھی کہہ دے۔“ (حیاتِ قدسی صفحہ 134) - [’’  اِ نۡ شَاءَ اللّٰہُ ‘‘کہنا اور لکھنا ایک مبارک عمل ہے](https://mushahedat.com/اِ-نۡ-شَاءَ-اللّٰہُ-کہنا-اور-لک/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اِنْ شَآءَ اللّٰہُ کہنا نہایت ضروری ہے کیونکہ انسان کے تمام معاملات اس کے اپنے اختیار میں نہیں۔ وہ طرح طرح کے مصائب اور مکارہ و موانع میں گھرا ہواہے۔ممکن.ہے کہ جو کچھ ارادہ اس نے کیا ہے وہ پُورا نہ ہو۔ پس اِنْ شَآءَ اللّٰہُ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے جو تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے مدد طلب کی جاتی ہے۔آجکل کے ناعاقبت اندیش و نادان لوگ اس پر ہنسی اڑاتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد10 صفحہ370 ایڈیشن 1984ء) - [إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کا اسلامی حکم (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/إِنَّا-لِلّٰہِ-وَإِنَّآ-إِلَيْهِ-رَا-2/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ صبر وصلوٰۃ اور شہادت پر تسلیم ورضا کا ردّ عمل دکھانے والوں کی راہ پر ڈال ایسے لوگوں کی راہ پر ڈال جو ابتلاؤں اور نقصانات پر صبر سے کام لیتے ہیں اور تیرے حضور ہر قسم کی قربانیاں دیتے ہوئے یہ عرض کرتے ہیں کہ اِنَّا لِلّٰہِ واِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ کہ سب کچھ گیا لیکن ہم بھی تو خدا ہی کے ہیں۔ ہم بھی چلے جائیں تو کچھ ہاتھ سے دینے والے نہیں ہوں گے۔ اِنَّا لِلّٰہِ ہم خدا کے تھے اور خدا کے ہیں اور ہم نے بھی تو آخر اسی کے پاس جانا ہے جہاں ہمارا سب کچھ جا رہا ہے۔‘‘ (خطبات طاہر جلد10 صفحہ298) - [استغفار، حضرت مسیح موعودؑ اَور خلفاء کی نظر میں (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/استغفار،-حضرت-مسیح-موعودؑ-اَور-خلفاء-ک/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ یہ سچی بات ہے کہ توبہ اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خداتعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ(البقرۃ: 223 ) سچی توبہ کرنے والا معصوم کے رنگ میں ہوتا ہے۔ پچھلے گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں پھر آئندہ کے لیے خدا سے معاملہ صاف کر لے۔ اس طرح پر خدا کے اولیاء میں داخل ہو جائے گا اور پھر اس پر کوئی خوف و حزن نہ ہو گا۔ ‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ595-594، ایڈیشن 1988ء) - [استغفار کی ضرورت اور برکات (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/استغفار-کی-ضرورت-اور-برکات-تقریر-نمبر1/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ توبہ استغفار کرتے رہو کیونکہ یہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ جو استغفار کرتا ہے اسے رزق میں کشائش دیتا ہے۔‘‘ (تفسیرحضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ365) - [اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ  کا استعمال (حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/اَلۡحَمۡدُ-لِلّٰہِ-کا-استعمال-حضرت-م/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ واضح ہو کہ حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی مستحق تعریف کے اچھے فعل پر کی جائے نیز ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام ہے جس نے اپنے ارادہ سے انعام کیا ہو۔ اور اپنی مشیت کے مطابق احسان کیا ہو۔ اور حقیقت محمد کما حقہ صرف اسی ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض وانوار کا مبدء ہو اور علی وجہ البصیرت کسی پر احسان کرے نہ کہ غیر شعوری طور پر یا کسی مجبوری سے۔ اور حمد کے یہ معنی صرف خدائے خبیر وبصیر کی ذات میں ہی پائے جاتے ہیں۔ اور وہی محسن ہے اور اول وآخر میں سب احسان اسی کی طرف سے ہیں۔ اور سب تعریف اسی کے لئے ہے اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی اور ہر حمد جو اس کے غیروں کے متعلق کی جائے اس کا مرجع بھی وہی ہے۔ ‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ، سورۃ الفاتحہ صفحہ82) - [اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ کا بابرکت استعمال (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/اَلۡحَمۡدُ-لِلّٰہِ-کا-بابرکت-استعمال/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”حمد کے معنی تعریف کے ہیں۔ عربی میں تعریف کے لئے کئی الفاظ آتے ہیں ۔ حمد، مدح، شکر، ثنا اللہ تعالیٰ نے حمد کا لفظ چنا ہے جو بلاوجہ نہیں۔ شکر کے معنی احسان کے اقرار اور اس پر قدردانی کے اظہار کے ہوتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ لفظ استعمال ہو تو صرف قدردانی کے معنی ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حمد اس سے زیادہ مکمل لفظ ہے کیونکہ حمد صرف احسان کے اقرار کا نام نہیں ہے بلکہ ہر حسین شے کے حسن کے احساس اور اس پر اظہار پسندیدگی اور قدردانی کا نام بھی ہے۔ پس یہ لفظ زیادہ وسیع ہے۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 18) - [سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھنے کے فوائد اور برکات (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/سُبْحَانَ-اللّٰہِ-پڑھنے-کے-فوائد-اور-ب-2/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ اسی طرح انسان کامل کے نفس کا حال ہے کہ احکام الہی کی تخم ریزی سے عجیب سرسبزی لے کر اس کے اعمال صالحہ کے پودے نکلتے ہیں اور ایسے عمدہ اور غایت درجہ کے لذیذ اس کے پھل ہوتے ہیں کہ ہر یک دیکھنے والے کو خداتعالیٰ کی پاک قدرت یاد آکر سُبْحَانَ اللّٰہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنا پڑتا ہے۔‘‘ (تفسیرحضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد ہشتم صفحہ263) - [سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھنے کے فوائد اور برکات (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/سُبْحَانَ-اللّٰہِ-پڑھنے-کے-فوائد-اور-ب/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کے ذکر میں فرمایا۔ ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ولی اللہ اور صاحب برکات وہی شخص ہے جس کو یہ جوش حاصل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا جلال ظاہر ہو۔ نماز میں جو سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہا جاتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے جلال کے ظاہر ہونے کی تمنّا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی عظمت ہو۔ جس کی نظیر نہ ہو۔ نماز میں تسبیح وتقدیس کرتے ہوئے یہی حالت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ہے کہ طبعاً جوش کے ساتھ اپنے کاموں سے اور اپنی کوششوں سے دکھاوے کہ اس کی عظمت کے برخلاف کوئی شے مجھ پر غالب نہیں آسکتی۔ یہ بڑی عبادت ہے۔ جو لوگ اس کی مرضی کے مطابق جوش رکھتے ہیں۔ وہی مؤیّد کہلاتے ہیں اور وہی بر کتیں پاتے ہیں ۔‘‘ (ملفوظات جلد1صفحہ395 ایڈیشن 1984ء) - [تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ کا استعمال](https://mushahedat.com/تَوَکَّلْتُ-عَلَی-اللّٰہِ-کا-استعمال/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام توکّل علیٰ اللہ کی تعریف میں فرماتے ہیں: ’’ توکّل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کےحاصل کرنے کے واسطے مقرر کئے ہوئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ اے خدا! تو ہی اس کا انجام بخیر کر ۔ صدہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں۔ جو ان اسباب کو بھی برباداور تہ وبالا کر سکتے ہیں، ان کی دست برد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا۔‘‘ (ملفوظات جلد 3صفحہ 146،ایڈیشن1988ء) - [جنت کے خزانہ ’’ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ‘‘ کو پڑھنے کی ہدایت](https://mushahedat.com/جنت-کے-خزانہ-لَا-حَوْلَ-وَلَا-قُوَّ/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّلؓ استغفار اور لَاحَوْل کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’...لاف زنی وغیرہ کی غلطیاں انسان میں جو ہوتی ہیں ان کا علاج اور نیز ہر ایک مرض کا علاج کثرت سے استغفار اور لَاحَوْل پڑھنا ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہئے کہ وہ سابقہ گناہوں کے بد نتائج سے محفوظ رکھے اورآئندہ بدی کے ارتکاب سے حفاظت بخشے۔ استغفار اور لَاحَوْل کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! تیری قوّت کے بغیر میں کوئی بدی نہیں چھوڑ سکتا اور نہ تیری قوت کے بغیر کوئی نیکی کا کام کرسکتا ہوں۔ تب خدا نیکی کی توفیق بخشے گا۔‘‘ ( حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ 36) - [اَللّٰہُ اَکْبَرُ پڑھنے میں برکات ہیں اللہ کا ذکر یقیناً سب (ذکروں) سے بڑا ہے](https://mushahedat.com/اَللّٰہُ-اَکْبَرُ-پڑھنے-میں-برکات-ہیں/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں۔ ”نماز کیا ہے؟ ایک قسم کی دعا ہے جو انسان کو تمام برائیوں اور فواحش سے محفوظ رکھ کر حسنات کا مستحق اور انعام الہیہ کا مورد بنادیتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام صفات کو اس کے تابع رکھا ہے اب ذرا غور کرو نماز کی ابتداء اذاں سے شروع ہوتی ہے اذان اللّٰہ اکبر سے شروع ہوتی ہے یعنی اللہ کے نام سےشروع ہو کر لا اله الا اللّٰہ یعنی اللہ ہی پر ختم ہوتی ہے یہ فخر اسلامی عبادت ہی کو ہے کہ اس میں اول اور آخر میں اللہ تعالیٰ ہی مقصود ہے نہ کچھ اور ۔ میں دعولی سے کہتاہوں کہ اس قسم کی عبادت کسی قوم اور ملت میں نہیں ہے۔ پس نماز نماز : جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔ اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں۔“ (تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 6صفحہ 267) - [بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھنے کی برکات (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/بِسۡمِ-اللّٰہِ-الرَّحۡمٰنِ-الرَّحِی-2/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب تم میں کوئی شخص کھانا کھانے لگے تو پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لے یعنی بِسْمِ اللّٰہِ پڑھے اور اگر شروع میں بھول جائے تو یاد آنے پر بِسْمِ اللّٰہ ِ فِیْٓ اَوَّ لِہٖ وَ اٰخِرِہٖ پڑھے۔ (جامع ترمذی، ابواب الاطعمہ باب ما جاء فی التسمیۃ علی الطعام حدیث نمبر 858) تو بِسْمِ اللّٰہِ کی عادت بھی بچپن ہی سے ڈالی جائے تو پڑتی ہے۔ ورنہ بڑے ہوکر بسا اوقات لوگ بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنا بھول جاتے ہیں اور اگر کھاتے وقت یاد آجائے تو پھر یہ ضرور پڑھنا بِسْمِ اللّٰہ ِفِیْٓ اَوَّلِہٖ وَاٰخِرِہٖ۔ اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ مَیں کھانا کھاتا ہوں۔ اس سے پہلے بھی جب کھانا شروع کیا تھا تیرے ہی نام سے کھانا کھایا تھا اور کھانا ختم ہونے پر بھی تیرا ہی با برکت نام لیتا ہوں۔ صحیح مسلم کتاب الاشربہ میں وَھَب بن کَیْسَان بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن ابو سلمہؓ ..کو یہ کہتے ہوئے سنا ۔ مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھا۔ میرا ہاتھ پلیٹ میں اِدھر اُدھر جاتا تھا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچے اللہ کا نام لو (بِسْمِ اللّٰہِ پڑھو) اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ (ہر طرف ہاتھ نہ دوڑاتے پھرو)۔“ (خطبہ جمعہ 19مئی 2000ء از خطبات طاہر جلد19 صفحہ316) - [بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھنے کی برکات )تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/بِسۡمِ-اللّٰہِ-الرَّحۡمٰنِ-الرَّحِی/) - حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر قابل قدر اور سنجیدہ کام اگر خدا تعالیٰ کی حمد وثنا کے بغیر شروع کیا جائے تووہ بے برکت اور ناقص رہتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ہر قابل قدر گفتگو (اور تقریر وغیرہ) اگر خدا تعالیٰ کی حمد وثنا کے بغیر شروع کی جائے تو وہ برکت سے خالی اور بے اثر ہوتی.ہے۔ (حدیقۃ الصالحین حدیث 20 صفحہ43) - [تَعَوُّذ یعنی اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھنے کا حکم](https://mushahedat.com/تَعَوُّذ-یعنی-اَعُوْذُ-بِاللّٰہِ-مِن/) - ایک بچے نے حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ کوئی نیک کام کرنے سے پہلے جب شیطان ہمیں بہکاتا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ” تَعَوُّذ اور استغفار پڑھیں، ثابت قدم رہیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔“ (الفضل انٹرنیشنل 23 اکتوبر 2020ء) - [اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کو ترویج دینا (ارشادات مسیح موعودؑ اور خلفاء کی روشنی میں) ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/اَلسَّلَامُ-عَلَیْکُمْ-وَرَحْمَۃُ-ا-2/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کو رواج دیں۔ اس کی یہاں تک تاکید ہے کہ اگر خالی مکان میں بھی کبھی جانا ہو تو اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَادِہِ الصَّالِحِیْنَ کہیں۔‘‘ (ارشادات نورجلد دوم صفحہ 491) - [اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کو ترویج دینا ( تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/اَلسَّلَامُ-عَلَیْکُمْ-وَرَحْمَۃُ-ا/) - حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھنے والے کو اور تھوڑے زیادہ آدمیوں کو سلام کریں (یعنی سلام میں پہل کریں۔) (بخاری، کتاب الاستئذان باب سلام الراکب علی الماشی بحوالہ حدیقۃ الصالحین حدیث497 صفحہ484) - [انٹرنس اور ایگزٹ Entrance اَور  Exit](https://mushahedat.com/انٹرنس-اور-ایگزٹ-entrance-اَور-exit/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19صفحہ12) - [فتنوں سے خلاصی کی صورت کتابُ اللہ ہے  (حدیث نبویؐ)](https://mushahedat.com/فتنوں-سے-خلاصی-کی-صورت-کتابُ-اللہ-ہے-ح/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ قرآن شریف پر تدبُّر کرو اس میں سب کچھ ہے۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانے کی خبریں ہیں وغیرہ۔ بخوبی سمجھ لو کہ یہ وہ مذہب پیش کرتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے برکات اور ثمرات تازہ بتازہ ملتے ہیں۔ انجیل میں مذہب کو کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اس کی تعلیم اس زمانے کے حسب حال ہو تو ہو، لیکن وہ ہمیشہ اور ہر حالت کے موافق ہرگز نہیں۔ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتایا ہے اور تمام قویٰ کی تربیت فرمائی ہے اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو۔ ‘‘ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102) - [شرکِ اصغر کیا ہے؟ (ریاء اور دکھاوا)](https://mushahedat.com/شرکِ-اصغر-کیا-ہے؟-ریاء-اور-دکھاوا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ جس کے اعمال میں کچھ بھی ریاکاری ہو۔ خدا اس کے عمل کو واپس الٹا کر اس کے منہ پر مارتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد2 صفحہ301) - [ماں کا نعم البدل کوئی نہیں](https://mushahedat.com/ماں-کا-نعم-البدل-کوئی-نہیں/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ سب سے زیادہ خدمت کی مثال اگر دنیا میں موجود ہے تو وہ ماں کی بچے کے لئے خدمت ہی ہے۔ اب یہاں رہنے والے، مغرب کی سوچ رکھنے والے، بلکہ ہمارے ملکوں میں بھی، برصغیر میں بھی، بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ماں باپ کی خدمت نہیں کرسکتے، ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور یہ لکھتے ہیں کہ جماعت ایسے بوڑھوں کے مراکز کھولے جہاں یہ بوڑھے داخل کروا دئے جائیں کیونکہ ہم تو کام کرتے ہیں، بیوی بھی کام کرتی ہے، بچے اسکول چلے جاتے ہیں اور جب گھر آتے ہیں تو بوڑھے والدین کی وجہ سے ڈسٹرب (Disturb)ہوتے ہیں، اس لئے سنبھالنا مشکل ہے۔ کچھ خوف خدا کرنا چاہئے۔ قرآن توکہتاہے کہ ان کی عزت کرو، ان کا احترام کرو اور اس عمر میں اُن پررحم کے پرجھکا دو۔ جس طرح بچپن میں انہوں نے ہرمصیبت جھیل کر تمہیں اپنے پروں میں لپیٹے رکھا۔ تمہیں اگر کسی نے کوئی تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تو مائیں شیرنی کی طرح جھپٹ پڑتی تھیں۔ اب ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے توکہتے ہو کہ ان کو جماعت سنبھالے۔ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے سنبھالتی ہے لیکن ایسے بوڑھوں کو جن کی اولاد نہ ہویاجن کے کوئی اور عزیز رشتے دار نہ ہوں۔ لیکن جن کے اپنے بچے سنبھالنے والے موجود ہوں تو بچوں کا فرض ہے کہ والدین کو سنبھالیں۔ تو ایسی سوچ رکھنے والوں کو اپنی طبیعتوں کو، اپنی سوچوں کو تبدیل کرنا چاہئے۔‘‘ (خطبہ جمعہ 16؍جنوری2004ء) - [ایک مؤمن کی روحانی سروسز](https://mushahedat.com/ایک-مؤمن-کی-روحانی-سروسز/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ اپنے ایمانوں کو وزن کرو۔ عمل ایمان کا زیور ہے۔ اگر انسان کی عملی حالت درست نہیں ہے تو ایمان بھی نہیں ہے۔ مومن حسین ہوتا ہے۔ جس طرح ایک خوبصورت انسان کو معمولی اور ہلکا سا زیور بھی پہنا دیا جائے تو وہ اُسے زیادہ خوبصورت بنا دیتا ہے ۔ اگر وہ بد عمل ہے تو پھر کچھ بھی نہیں۔ انسان کے اندر جب حقیقی ایمان پیدا ہو جاتا ہے تو اُس کو اعمال میں ایک خاص لذّت آتی ہے اور اُس کی معرفت کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ اس طرح نماز پڑھتا ہے جس طرح نماز پڑھنے کا حق ہوتا ہے۔ گناہوں سے اُسے بیزاری پیدا ہو جاتی ہے۔ ناپاک مجلس سے نفرت کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اور رسول کی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے اپنے دل میں ایک خاص جوش اور تڑپ پاتاہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 249ایڈیشن 1988ء) - [Insect´s House (کیڑے مکوڑوں کی افزائش کی جگہ)](https://mushahedat.com/insects-house-کیڑے-مکوڑوں-کی-افزائش-کی-جگہ/) - حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ (ترمذی: باب کراہیۃ التحریش بین البہائم) - [75تقاریربابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی احبابِ جماعت کو پَندو نصائح](https://mushahedat.com/75تقاریربابت-حضرت-مسیح-موعود-علیہ-السلا/) - روحانی ولاز میں داخلہ Spiritual Villa’s Entry (پیش لفظ)) آج مَیں اپنے پروردگار کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اُس نے مجھ حقیر، ناچیز اَور نابکار کو مامورِ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تقاریر، دروس، مختلف محافل میں اور سیر کے دوران کی گئی مبارک گفتگو جو ملفوظات کے نام - [فہرست مشاہدات-1-1150](https://mushahedat.com/فہرست-مشاہدات-1-1150/) - فہرست مشاہدات-1-1150ڈاؤن لوڈ - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-9/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ” ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ نرمی اور رفق سے معاملہ کرو۔ اپنی ساری مصیبتیں اور بلائیں خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ یقیناً سمجھو اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ ہر شخص کی شرارت پر صبر کرتا ہے اورخدا پر اُسے چھوڑتا ہے تو خدا اُسے ضائع نہیں کرے گا۔ اگرچہ دنیا میں ایسے آدمی موجود ہیں جو ہنسی کریں گے اور ان باتوں کو سن کر ٹھٹھا کریں گے مگر تم اس کی پروا نہ کرو۔ خدا تعالیٰ خود اس کے لیے موجود ہے۔ وہ خدا پُرانا نہیں ہو گیا جیسے انسان بُڈھا ہو کر پیرِ فرتوت ہو جاتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام کے وقت تھا اور وہی خدا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا۔ اس کی وہی طاقتیں اب بھی ہیں جو پہلے تھیں ۔ لیکن جو کچھ مَیں کہتا ہوں تم اس پر عمل نہ کرو تو میری جماعت میں نہ رہے۔“ (ملفوظات جلد 9 صفحہ 165۔166 ) - [تین سلام](https://mushahedat.com/تین-سلام/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’ اپنے گھروں کو اس انعام سے فائدہ اٹھانے والا بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری تربیت کے لئے ہمارے علمی اور روحانی اضافے کے لئے ہمیں دیا ہے تاکہ ہماری نسلیں احمدیت پر قائم رہنے والی ہوں۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے آپ کو ایم ٹی اے سے جوڑیں۔ اب خطبات کے علاوہ اور بھی بہت سے لائیو پروگرام آرہے ہیں جوجہاں دینی اور روحانی ترقی کا باعث ہیں وہاں علمی ترقی کا بھی باعث ہیں۔ جماعت اس پر لاکھوں ڈالر ہر سال خرچ کرتی ہے اس لئے کہ جماعت کے افراد کی تربیت ہو۔ اگر افراد جماعت اس سے بھر پور فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو اپنے آپ کو محروم کریں گے...ایم ٹی اے کی ایک اور برکت بھی ہے کہ یہ جماعت کو خلافت کی برکات سے جوڑنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پس اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔‘‘ (خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 2013 ء) - [مضبوط ہونے کے لیے نرم ہونا ضروری ہے](https://mushahedat.com/مضبوط-ہونے-کے-لیے-نرم-ہونا-ضروری-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’ اپنے تو درکنار، مَیں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوؤں کے ساتھ بھی ایسے اخلاق کا نمونہ دکھاؤ اور ان سے ہمدردی کرو اور لاابالی مزاج ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ پھر ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں سیر کو جارہا تھا تو ایک پٹواری میرے ساتھ تھا وہ ذرا آگے تھا اور مَیں پیچھے۔ راستے میں ایک بُڑھیا 75-70سال کی ملی پہلے ان پٹواری صاحب کو اس نے خط پڑھنے کو کہا مگر اس نے اسے جھڑکیاں دے کر ہٹا دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے دل پر چوٹ سی لگی۔ پھر اس بُڑھیا نے وہ خط مجھے دیا تو فرماتے ہیں کہ مَیں اس کو لے کرٹھہر گیا اور اس کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھا دیا۔ اس پر پٹواری کو بڑی شرمندگی ہوئی کیونکہ ٹھہرنا تو پڑا اور ثواب سے بھی محروم رہا‘‘ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 83-82) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-20/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’دعا کی قبولیت کا بھی یہی راز ہے ۔ انسان جب تک اپنی خواہشات ،ارادوں اور علموں کو ترک کر کے خدا میں فنا نہ ہو جاوے اور خدا کی قدرت کاملہ اور قادر مطلق ہونے اور سننے اور قبول کرنے والا ہونے پر یقینِ کامل اور پورا وثوق نہ رکھتا ہو تب تک دعا بھی ایک بے حقیقت چیز ہے۔ فلسفیوں کو کیوں قبولیتِ دعا پر ایمان نہیں ہوتا ۔ اِس کی یہی وجہ ہے کہ اُن کو خدا کی توسیع قدرت اور باریک در باریک سامانوں کے پیدا کر دینے والا ہونے پر ایمان نہیں ہوتا……اور وہ خدا کی قدرت کو محدود جانتے ہیں اور اپنے تجارب اور علوم پر بھی بھروسہ کر بیٹھتے ہیں۔ اُن کو اپنے تجارب کے مقابلہ میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ خدا بھی ہے اور وہ بھی کچھ کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بعض سخت مہلک امراض میں وہ لوگ یقینی اور قطعی حکم لگا دیتے ہیں کہ یہ شخص بچ نہیں سکتا یا اتنے عرصے میں مرجاوے گا۔ یا اس طرز سے مرے گا۔ مگر بیسیوں مثالیں ایسی خود ہماری چشم دید ہیں اور بعض کو ہم جانتے ہیں جن میں باوجود ان کے یقینی اور قطعی حکم لگا دینے کے خدا تعالیٰ نے اُن بیماروں کے واسطے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ وہ آخرکار بچ گئے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض وہ بیمار جن کے حق میں یہ لوگ موت کا قطعی اور اٹل فتویٰ دے چکے تھے زندہ سلامت ہو گئے اور کسی دوسرے موقعہ پر ان کو مل کر شرمندہ کیا اور ان کے علم و دعویٰ کو بھی شرمندہ کیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے مَا مَنْ دَآءٍ اِلَّا وَلَہٗ دَوَآءٌ ۔ ایک مشہور ڈاکٹر کا ہمیں قول یاد ہے وہ کہتا ہے کہ کوئی مرض بھی نا قابل علاج نہیں ہے بلکہ یہ ہماری سمجھ اور عقل و علم کا نقص ہے کہ ہمارے علم کی رسائی وہاں تک نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرض کے واسطے بعض ایسے ایسے اسباب پیدا کئے ہوں جن سے وہ شخص جس کو ہم ناقابل علاج یقین خیال کرتے ہیں قابل علاج اور صحت یاب ہو کر تندرست ہو جاوے۔ پس قطعی حکم ہر گز نہ لگانا چاہیے بلکہ اگر رائے ظاہر بھی کرنی ہو تو یوں کہہ دو کہ ہمیں ایسا شک پڑتا ہے مگر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسے سامان پیدا کر دے کہ جن سے یہ روک اُٹھ جاوے اور بیماراچھا ہو جاوے ۔ دُعا ایک ایسا ہتھیار خدا تعالیٰ نے بنایا ہے کہ اَنہونے کام بھی جن کو انسان نا ممکن خیال کرتا ہے ہو جاتے ہیں کیونکہ خدا کے لیے کوئی بات بھی اَنہونی نہیں ۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد10صفحہ197-195) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-19/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ”پاکیزگی سے یہ مراد ہے کہ انسان کو جو اُس کے جذباتِ نفسانیہ خدا تعالیٰ سے روح گرداں کر کے اپنی خواہشات میں محو کرنا چاہتے ہیں ان کا مغلوب نہ ہو اور کوشش کرے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق اس کی رفتار ہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی قول فعل خدا تعالیٰ کی رضامندی کے بغیر سرزد ہی نہ ہو۔ خدا تعالیٰ قدوس اور پاک ہے وہ اپنی صفات کے مطابق ہی انسان کو بھی چلانا چاہتا ہے ۔وہ رحیم ہے انسان سے بھی رحم چاہتا ہے ۔ وہ کریم ہے انسان سے بھی کرم جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی صفات خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ظاہر ہیں۔ جسمانی طور سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا مدت ہائے دراز سے چلی آتی ہے۔ ان کو اناج، پانی، لباس، روشنی وغیرہ تمام حوائجِ ضروریہ اور لوازم انسانیہ ہمیشہ سے بہم پہنچاتا چلا آیا ہے اور ہمیشہ ہی اس کے رحم اور کرم کی صفات اور اسمائے حسنہ کے تقاضے ساتھ ساتھ مخلوق کی دستگیری کرتے چلے آئے ہیں۔ پس غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو اپنی صفات کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد10 صفحہ 437۔438 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-18/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ”حدیث ہے طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةً عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمة ۔مَيں پہلے مردوں کا ذکر کرتا ہوں کہ قبل اس کے جو اسلام کی حقیقت معلوم ہو اور اس کی خوبیاں معلوم ہوں پہلے ان علوم کی طرف مشغول ہو جانا سخت خطرناک ہے۔ چھوٹے بچوں کو جب دین سے بالکل آگاہ نہ کیا جائے اور صرف مدرسہ کی تعلیم دی جائے تو وہی باتیں ان کے بدن میں شیرِ مادر کی طرح رَچ جائیں گی۔ پھر سوا اس کے اور کیا ہے کہ وہ اسلام سے پھر جائیں۔ عیسائی تو بہت کم ہوں کیونکہ تثلیث و کفارہ اور ایک انسان کو خدا ماننے کا عقیدہ ہی کچھ ایسا لغو ہے کہ اسے کوئی عقیل و فہیم قبول نہیں کر سکتا ۔ البتہ دہریّہ ہو جانے کا بہت خطرہ ہے۔ پس ضرور ہے کہ پہلے روز ساتھ ساتھ روحانی فلسفہ پڑھایاجاوے۔ جب آجکل کی تعلیم نے مردوں پر مذہب کے لحاظ سے اچھا اثر نہیں کیا تو پھر عورتوں پر کیا توقع ہے؟ ہم تعلیمِ نسواں کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ہم نے تو ایک سکول بھی کھول رکھا ہے ۔ مگر یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ پہلے دین کا قلعہ محفوظ کیا جائے تا بیرونی باطل تاثرات سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سواء السّبیل ، تو بہ، تقویٰ و طہارت کی توفیق دے۔“ ( ملفوظات جلد10 صفحہ 379) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-17/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’ صدق و صفا، تقویٰ طہارت ، یہ اسلام کے برکات تھے جو کہ مسلمانوں میں لازماًپائے جاتے ہیں مگر اب تو ان صفات سے لوگ بھی محروم ہوگئے ہیں۔ نماز بھی پڑھتے ہیں تو بہت ہی کم۔ مسجدیں ویران پڑی ہیں ، نمازی کوئی نظر نہیں آتا۔ ایک وقت تھا کہ نمازیوں کو مسجدیں نہ ملتی تھیں۔ جتنے پڑھتے ہیں اُن میں بھی اکثر دکھلاوے کی نماز پڑھتے ہیں کیونکہ حقیقی نماز کے آثار کے برکات اور ثمرات سے محروم ہیں۔ عیسائی تو حضرت مسیح کو پھانسی دے کر بے فکر ہو بیٹھے تھے اکثر مسلمان حضرت امام حسینؓ کی شہادت میں نجات پاچکے ہیں۔‘‘ ( ملفوظات جلد10صفحہ256) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-16/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’ یاد رکھو کہ بُت پرستی ، انسان پرستی ، مخلوق پرستی کی سزا آخرت میں ہے۔ مگر شریفوں بد معاشوں ، ظلم و تعدّی ، غفلت اور اہلِ حق کو ستانے اور دُکھ دینے کی سزا اِسی دنیامیں دی جاتی ہے۔ نوح کے وقت جو عذاب آیا اگر خدا تعالیٰ کے رسول کو نہ ستاتے تو وہ عذاب نہ آتا۔ یہ شوخی پر اِس لئے عذاب آتا ہے کہ ” ایک چور دوسرا چتر“ دنیا دارُالمکافات نہیں۔ اس میں دست بدست سزا صرف اُسے ملتی ہے جو بد معاشی کرے جو شرافت کے ساتھ گناہ میں گرفتار ہو تو اُس کی سزا آخرت میں ہے اور اب جو دنیا میں عذاب آیا تو اسی لئے کہ دلیری ، شوخی ، شرارت حد سے بڑھ گئی ایسی کہ گویا خدا ہے ہی نہیں۔ طاعون نےاِس قدر سخت بربادی کی مگر ابھی اُن کے دلوں نے کچھ محسوس نہیں کیا۔ پوچھو! تو ہنسی ٹھٹےمیں گزار دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں معمولی بیماری ہے گویا خدا کی قضاء و قدر سے مُنکر ہیں ۔ بیشک یہ بیماری ہے۔ مگر انہی بیماریوں سے عذاب آیا کرتا ہے۔ یہودیوں پر جب یہ وبا پڑی تو خدا تعالیٰ نے اسے عذاب فرمایا۔ یا د رکھو کہ جب خدا چاہتا ہے انہی بیماریوں کو شدت وکثرت میں بڑھا کر ہلاک کر دیتا ہے۔ ان لوگوں کی بے یقینی کی یہ علامت ہے کہ عذاب کوعذاب نہیں سمجھتے۔ خدا تعالیٰ رحیم ہے سزا دینے میں دھیما ہے مگر یہ لوگ یاد رکھیں کہ جب تک وہ وقت نہ آئے گا کہ پکار اٹھیں اب ہم سمجھے یہ عذاب ہٹنے کا نہیں۔ اس کا علاج وُہی ہےجو ہم بارہا دفعہ بتا چکے ہیں یعنی تضرّع و انابت الیٰ الله ۔‘‘ ( ملفوظات جلد10صفحہ123) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-15/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’ تم قال اللہ اور قال الرسول پر عمل کرو اور ایسی باتیں زبان پر نہ لاؤ جن کا تمہیں علم نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ( بنی اسرائیل:37) تم نیکی کی طرف پورے زور سے مشغول ہو جاؤاور اعمالِ صالحہ بجا لاؤ۔ اگر تمہاری حالت اِس لائق ہو گئی اور تم نے پورے طور پر اپنا تزکیہ نفس کر لیا تو پھر خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اکثر لوگ آجکل ہلاک ہو رہے ہیں اُن کی یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی حالت کا مطالعہ نہیں کرتے اور اُس تعلق کو نہیں دیکھتے جو وہ خداتعالیٰ سے رکھتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ کسی زور سے خدا تعالیٰ کی طرف جا رہے ہیں اور کیسے کیسے مصائب آنے پر ثابت قدم نکلے ہیں اور ابتلاؤں میں پُورے اُترےہیں۔‘‘ ( ملفوظات جلد10صفحہ14) - [”بڑے شہروں میں غفلت کے سامان بہت مہیا ہوجاتے ہیں“ (حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّلؓ)](https://mushahedat.com/بڑے-شہروں-میں-غفلت-کے-سامان-بہت-مہیا-ہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے دو امان نازل ہوئے تھے ایک تو ان میں سے اٹھ گیا یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود مگر دوسری امان قیامت تک باقی ہے اور وہ استغفار ہے۔ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ(سورۃ الانفال :34)۔ پس استغفار کرتے رہا کرو کہ پچھلی بُرائیوں کے بدنتائج سے بچے رہو اور آئندہ بدیوں کے ارتکاب سے۔“ (ارشادات نور جلد اوّل صفحہ 69) - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اَور تقویٰ کا اعلیٰ مقام](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-اَور-تقویٰ-کا/) - عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک دفعہ سورج گرہن ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ بڑے لمبے رکوع اور سجدے کئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر روتے جاتے تھے کہ ہچکی بندھ گئی اس حال میں رو رو کر یہ دعا کر رہے تھے: "میرے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ جب تک مَیں ان لوگوں میں ہوں تو انہیں عذاب نہ دے گا۔ کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے تو ان پر عذاب نازل نہ کرے گا ۔ پس ہم استغفار کرتے ہیں۔ (تو ہمیں معاف فرما)۔ (الدر المنثور للسیوطي جز 9 صفحہ 59دار الفکر بیروت) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-14/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ”نئے سرے سے قرآن شریف کو پڑھو اور اس کے معانی پر خوب غور کرو۔ نماز کو دل لگا کر پڑھو اور احکامِ شریعت پر عمل کرو۔ انسان کا کام یہی ہے۔ آگے پھر خدا کے کام شروع ہو جاتے ہیں۔ جو شخص عاجزی سے خدا تعالیٰ کی رضا کو طلب کرتا ہے خدا تعالیٰ اس پر راضی ہوتا ہے۔“ (ملفوظات جلد 9 صفحہ 323) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-13/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’ اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اُس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں ۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔‘‘ ( ملفوظات جلد9صفحہ360) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-12/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ”یہ بھی یاد رکھو کہ معصیت اور فسق کو نہ واعظ دُور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی اَور حیلہ ۔اس کے لیے ایک ہی راہ ہے اور وہ دعا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہی ہمیں فرمایا ہے اس زمانہ میں نیکی کی طرف خیال آنا اور بدی کو چھوڑنا چھوٹی سی بات نہیں ہے یہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ انقلاب خدا تعالی کے ہاتھ میں ہے اور یہ دعاؤں سے ہوگا۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں اس کا وعدہ ہے۔ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ( المومن: 61) ۔ عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دعا ہے وہ دنیا کے کیڑے ہیں اس لیے اس سے پَرے نہیں جا سکتے۔ اصل دعا دین ہی کی دعا ہے لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گنہگار ہیں یہ دعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی یہ غلطی ہے۔ بعض اوقات انسانی خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آ سکتا ہے اس لیے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے ۔ دیکھو! پانی کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہرحال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لیے کہ فطرتاً برودت اس میں ہے۔ ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔ وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی ۔ اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالی دُور کر دے گا ۔“ (ملفوظات جلد9 صفحہ 167۔168 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-11/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ”نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالی کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔ اس کی غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق سے اپنے مطلب کو پہنچ جاتاہے۔“ (ملفوظات جلد 9 صفحہ 3) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-10/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ رحیم کریم ہے۔ اُس پر بدظنی نہیں کرنی چاہیے۔ جو اُس کی سنت کو نگاہ میں رکھے گا اور اُس کے لئے دُکھ اور تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجاوے گا وہ ضرور کامیاب ہو گا۔ اگر اُس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہیں چلے گا اور بخل سے کام لے گا تو رہ جاوے گا۔ دیکھو! فوجوں میں جو لوگ بھرتی ہوتے ہیں اور دنیا کی خاطر لڑنے مرنے اور جان دینے کے لئے نوکر ہوتے ہیں، وہ کوئی ہزاروں روپیہ تو تنخواہ نہیں پاتے۔ یہی دس بارہ روپیہ کی خاطر جان دینا قبول کر لیتے ہیں مگر کتنے افسوس کی بات ہےکہ خدا تعالے کی خاطر اور اُس دائمی بہشت اور دائمی خوشنودی کے لئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔‘‘ ( ملفوظات جلد 9صفحہ447) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-8/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ”ہم نے تو اپنی اولاد وغیرہ کا پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ یہ سب خدا تعالیٰ کا مال ہے اور ہمارا اس میں کچھ تعلق نہیں اور ہم بھی خدا تعالیٰ کا مال ہیں جنہوں نے پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوتا ہے ان کو غم نہیں ہوا کرتا۔“ (ملفوظات جلد 9 صفحہ 409) - [خدمتِ دین، انسانی صحت کے لیے  انشورنس کا کام کرتی ہے](https://mushahedat.com/خدمتِ-دین،-انسانی-صحت-کے-لیے-انشورنس-ک/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ” دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کا یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور بار برداری اور سچی غم خواری میں اپنی زندگی وقف کر دی جائے۔ دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دُکھ اُٹھاویں اور دوسروں کو راحت کے لیے اپنے پر رنج گوارا کر لیں“ (آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 60) - [قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں تقویٰ کی حقیقی روح](https://mushahedat.com/قرآن-کریم-کی-تعلیمات-کی-روشنی-میں-تقویٰ/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ” قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیزگاری کے لیے بڑی تاکید ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لیے قوّت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لیے حرکت دیتی ہے۔‘‘ (ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14صفحہ342) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-7/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’دہلی کی جامع مسجد کو دیکھ کر فرمایا کہ مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں بلکہ اُن نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا ۔ مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیاداروں نے ایک مسجد بنوائی تھی وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے گرادی گئی۔ اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا یعنی ضرر رساں۔ اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔ مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔‘‘ ( ملفوظات جلد 8صفحہ170) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-6/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’ہماری جماعت کو ایسا ہونا چاہیے کہ نِری لفاظی پر نہ رہے بلکہ بیعت کے سچے منشا کو پورا کرنے والی ہو۔ اندرونی تبدیلی کرنی چاہئے ۔ صرف مسائل سے تم خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے ۔ اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور تمہارے غیر میں کچھ فرق نہیں۔ اگر تم میں مکر، فریب ،کسل اور سستی پائی جائے تو تم دوسروں سے پہلے ہلاک کئے جاؤ گے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے بوجھ کو اُٹھائے اور اپنے وعدے کو پورا کرے۔ عمر کا اعتبار نہیں۔ دیکھو! مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہو گئے۔ ہر جمعہ میں ہم کوئی نہ کوئی جنازہ پڑھتے ہیں، جو کچھ کرنا ہے اب کر لو جب موت کا وقت آتا ہے تو پھر تاخیر نہیں ہوتی۔ جو شخص قبل از وقت نیکی کرتا ہے امید ہے کہ وہ پاک ہو جائے۔ اپنے نفس کی تبدیلی کے واسطے سعی کرو۔ نماز میں دعائیں مانگو۔ صدقات خیرات سے اور دوسرے ہر طرح کے حیلہ سے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا ( العنکبوت:70) میں شامل ہو جاؤ۔ جس طرح بیمار طبیب کے پاس جاتا ، دوائی کھاتا مسہل لیتا ، خون نکلواتا ، ٹکور کرواتا اور شفا حاصل کرنے کے واسطے ہر طرح کی تدبیر کرتا ہے۔ اِسی طرح اپنی روحانی بیماریوں کو دُور کرنے کے واسطے ہر طرح کی کوشش کرو۔ صرف زبان سے نہیں بلکہ مجاہدہ کے جس قدر طریق خدا تعالیٰ نے فرمائے ہیں وہ سب بجا لاؤ۔ صدقہ خیرات کرو جنگلوں میں جا کر دعائیں کرو۔ سفرکی ضرورت ہو تو وہ بھی کرو ۔ بعض آدمی پیسے لے کر بچوں کو دیتے پھرتے ہیں کہ شاید اِسی طرح کشوف باطن ہو جائے ۔ جب باطن پر قفل ہو جائے تو پھر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ حیلے کرنے والے کو پسند کرتا ہے ۔ جب انسان تمام حیلوں کو بجا لاتا ہے تو کوئی نہ کوئی نشانہ بھی ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد 8صفحہ189-188) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-5/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’قرآن شریف میں آیا ہے وَالصُّلۡحُ خَیۡرٌ ( النساء: 129) اس لئے اگر آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا ہو بھی جائے تو صلح کر لینی چاہیے کیونکہ اس میں خیر اور برکت ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ غیر مذاہب کے ساتھ بھی یہ بات رکھی جائے بلکہ اُن کے ساتھ سخت مذہبی عداوت رکھنا چا ہئے ۔ جب تک مذہب کی غیرت نہ ہو انسان کا مذہب ٹھیک نہیں ہوتا۔ اب یہ جو ہندو عیسائی ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتے ہیں تو کیا ہم اُن کے ساتھ صلح رکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی محفلوں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ دوستی کرنا اور ان کے گھروں میں جانا تو معصیت میں داخل ہے۔ ہاں! آپس میں جو ایک فرقہ میں ہوں تو لڑائی جھگڑا کی زیادہ تر بنیاد بدظنی ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ دوزخ میں دو تہائی آدمی بدظنّی کی وجہ سے داخل ہوں گے۔ خدا تعالٰی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ اگر تم مجھ پر بد ظنّی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا ۔ حقیقت میں اگر لوگ خدا تعالیٰ پر بدظنّی نہ کرتے۔ تو اس کے احکام پر کیوں نہ چلتے۔ انہوں نے خدا تعالیٰ پر بدظنّی کی اور کفر اختیار کیا اور بعض تو خدا تعالیٰ کے وجود تک کے منکر ہو گئے۔ تمام فسادوں اور لڑائیوں کی وجہ یہی بدظنّی ہے۔‘‘ ( ملفوظات جلد 8صفحہ446) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-4/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ( الرعد:29) اس کے عام معنی تو یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب اطمینان پاتے ہیں۔ لیکن اس کی حقیقت اور فلاسفی یہ ہے کہ جب انسان سچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور ہر وقت اپنے آپ کو اس کے سامنے یقین کرتا ہے ۔ اِس سے اُس کے دل پر ایک خوف عظمتِ.الٰہی کا پیدا ہوتا ہے وہ خوف اس کو مکروہات اور منہیات سے بچاتا ہے اور انسان تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالٰی کے ملائکہ اُس پر نازل ہوتے ہیں اور وہ اُس کو بشارتیں دیتے ہیں اور الہام کا دروازہ اُس پر کھولا جاتا ہے۔ اُس وقت وہ اللہ تعالٰی کو گویا دیکھ لیتا ہے اور اس کی وراءُ الوراء طاقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ پھر اُس کے دل پر کوئی ہمّ و غم نہیں آسکتا اور طبیعت ہمیشہ ایک نشاط اور خوشی میں رہتی ہے۔ اسی لئے دوسرے مقام پر آیا ہے لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ( الاحقاف:14) اگر کوئی ہمّ و غم واقع بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے الہام سے اس کے لئے خارجی اسباب اُن کے دُور کرنے کے پیدا کر دیتا ہے۔ یا خارق عادت صبر اُن کو عطا کرتا ہے۔‘‘ ( ملفوظات جلد 8صفحہ2-1) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-3/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’ سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ لیا کریں کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے ۔ جس کو علم نہیں ہوتا مخالف کے سوال کے آگے حیران ہوتا ہے ۔ ‘‘ (ملفوظات جلد8صفحہ8) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پند-2/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور قرآن شریف خاتم الکتب ۔ اب کوئی اور کلمہ یا کوئی اور نماز نہیں ہو سکتی ۔ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا کر کے دکھایا اور جو کچھ قرآن شریف میں ہے اُ س کو چھوڑ کر نجات نہیں مِل سکتی ۔ جو اُس کو چھوڑے گا وہ جہنم میں جاوے گا ۔ یہ یمارا مذہب اور عقیدہ ہے ۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد8صفحہ 252) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-پندو/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ مخفی ہے مگر وہ اپنی قدرتوں سے پہچانا جاتا ہے ۔دُعا کے ذریعہ سے اُس کی ہستی کا پتہ لگتا ہے ۔ کوئی بادشاہ یا شہنشاہ کہلائے ہر شخص پر ضرور ایسے مشکلات پڑتے ہیں جن میں انسان بالکل عاجز رہ جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ اب کیا کرنا چاہیے ۔ اُس وقت دعا کے ذریعہ سے مشکلات حل ہو سکتے ہیں ۔‘‘ ( ملفوظات جلد 8صفحہ 35) - [اِرْکَبْ مَعَنَا (القرآن)](https://mushahedat.com/اِرْکَبْ-مَعَنَا-القرآن/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’ ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار ۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ واحمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی ۔‘‘ ( سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12صفحہ 82) - [”مساجد تو دراصل بیتُ المساکین ہوتی ہیں“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)](https://mushahedat.com/مساجد-تو-دراصل-بیتُ-المساکین-ہوتی-ہی/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں : ’’اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو۔ اسی لیے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔ اسی طرح چاہیئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔ اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے! اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا۔ اگر تم کوئی برا کام کروگی تو خدا تعالیٰ تم سے اس واسطے درگزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔ پس چاہیئے کہ تم ہر وقت اپنا کام دیکھ کر کیا کرو۔‘‘ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ370) - [نجات حقیقی کا اصل سرچشمہ، خدائے عزّوجل سے ذاتی محبت](https://mushahedat.com/نجات-حقیقی-کا-اصل-سرچشمہ،-خدائے-عزّوجل/) - حضرت مسیح موعود موعود علیہ لسلام ا فرماتے ہیں : ’’ تُم اس خدا کے پہچاننے کے لئے بہت کوشش کرو جس کا پانا عین نجات اور جس کا ملنا عین رستگاری ہے۔ وہ خدا اسی پر ظاہر ہوتا ہے جو دل کی سچائی اور محبت سے اس کو ڈھونڈتا ہے۔ وہ اسی پر تجلی فرماتا ہے جو اسی کا ہو جاتا ہے۔ وہ دل جو پاک ہیں وہ اس کا تخت گاہ ہیں اور وہ زبانیں جو جھوٹ اور گالی اور یاوہ گوئی سے منزّہ ہیں۔ وہ اس کی وحی کی جگہ ہیں اور ہر ایک جو اس کی رضا میں فنا ہوتا ہے اس کی اعجازی قدرت کا مظہرہو جاتا ہے۔‘‘ (کشف الغطاء، روحانی خزائن جلد14صفحہ188) - [اَنْتَ اَقْوٰی اَمِ اللّٰہ ؟](https://mushahedat.com/اَنْتَ-اَقْوٰی-اَمِ-اللّٰہ-؟/) - حضرت مسیح موعود موعود علیہ لسلام ا فرماتے ہیں : ’’دیکھو! ہم بھی رخصتوں پر عمل کرتے ہیں۔ نمازوں کو جمع کرتے ہوئے کوئی دو ماہ سے زیادہ ہوگئے ہیں بسبب بیماری کے اور تفسیر سورۃ فاتحہ کے لکھنے میں بہت مصروفیت کے سبب ایسا ہو رہا ہے اور اِن نمازوں کے جمع کرنے میں تُجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ کی حدیث بھی پوری ہو رہی ہے کہ مسیح موعودؑ کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔ اِس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود نماز کے وقت پیش امام نہ ہو گا بلکہ کوئی اور ہوگا اور وہ پیش امام مسیح کی خاطر نمازیں جمع کرائے گا۔ سو اب ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس دن ہم بیماری کی وجہ سے بالکل نہیں آ سکتے اُس دن نمازیں جمع نہیں ہوتیں اور اس حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار کے طریق سے یہ فرمایا ہے کہ اُس کی خاطر ایسا ہوگا… خداتعالیٰ نے ایسے ہی اسباب پیدا کر دیئے کہ اتنے عرصہ سے نمازیں جمع ہو رہی ہیں، ورنہ ایک دو دن کے لیے یہ بات ہوتی تو کوئی نشان نہ ہوتا۔ ہم حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ لفظ اور حرف حرف کی تعظیم کرتے ہیں ‘‘۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 446 ایڈیشن 1988ء) - [ہم یومِ مسیح موعودؑ کیوں مناتے ہیں؟](https://mushahedat.com/ہم-یومِ-مسیح-موعودؑ-کیوں-مناتے-ہیں؟/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’مسلمانوں کو چاہئے کہ جو انوار و برکات اس وقت آسمان سے اُتر رہے ہیں وہ ان کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ وقت پر ان کی دستگیری ہوئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اس مصیبت کے وقت ان کی نصرت فرمائی۔ لیکن اگر وہ خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر نہ کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کی کچھ پروا نہ کرے گا۔ وہ اپنا کام کرکے رہے گا مگر ان پر افسوس ہوگا۔ مَیں بڑے زور سے اور پورے یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دوسرے مذاہب کو مٹا دے اور اسلام کو غلبہ اور قوت دے۔ اب کوئی ہاتھ اور طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کا مقابلہ کرے۔ وہ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (البروج: 17) ہے ۔ مسلمانو! یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہیں یہ خبر (دے) دی ہے اور مَیں نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہے۔ اب اس کو سننا نہ سننا تمہارے اختیار میں ہے۔ یہ سچی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور مَیں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو موعود آنے والا تھا وہ مَیں ہی ہوں اور یہ بھی پکّی بات ہے کہ اسلام کی زندگی عیسیٰ کے مرنے میں ہے۔‘‘ (لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ290) - [ہم عیدکیسے منائیں؟](https://mushahedat.com/ہم-عیدکیسے-منائیں؟/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” آج عید کا دن ہے اور رمضان شریف کا مہینہ گزر گیاہے ۔ یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ایام تھے جبکہ اس نے اس ماہ مبارک میں قرآن شریف کا نزول فرمایا اور عامہ.اہل.اسلام کے لئے اس ماہ میں ہدایت مقدر فرمائی۔ راتوں کو اُٹھنا اور قرآن شریف کی تلاوت اور کثرت سے خیرات وصدق اس مہینہ کی برکات میں سے ہے۔ آج کے دن ہر ایک کو لازم ہے کہ سارے کنبہ کی طرف سے محتاج لوگوں کی خبر گیری کرے۔ دوبُک گیہوں کے یا چار جَوکے ہر ایک نفس کی طرف سے صدقہ نماز سے پیشتر ضرور ادا کیا جاوے اور جن کو خدا نے موقع دیا ہے وہ زیادہ دیویں۔“ (خطبات نور صفحہ 179) - [30 تقاریر بابت رمضان المبارک(ارشادات،افاضات،فتاویٰ،فقہی مسائل)](https://mushahedat.com/5050-2/) - پیش لفظ ”رمضان خدا“ اور ”ماہِ رمضان“ ماہِ رمضان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کا انتساب براہ راست اللہ تعالیٰ سے کیا گیا ہے کیونکہ بعض احادیث کے مطابق ”رمضان“خود اللہ جلشانہُ کا اسم مبارک بھی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے صفاتیناموں میں ایک نام ” رَمَضان“ بھی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَا تَقُوْلُوْا رَمَضَانَ فَاِنَّ رَمَضَانَ اِسْمٌمِنْ اَسْمَاءِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ قُوْلُوْا شَھْرُ رَمَضَانَ ) السنن الکبریٰ بیہقی جلد 4 صفحہ 339 کتاب الصیام، حدیث نمبر 7904( ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے - [ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعلق-فتاویٰ-او-6/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : ”ان ایام میں ہم پر بعض ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں یعنی پَو پھٹنے سے لے کر تمام وہ عاقل بالغ جو بیمار نہ ہوں، بچے کمزور اور بوڑھے نہ ہوں یا پھر حائضہ ، حاملہ یا دودھ پلانے والی عورتیں جو گو بیمار نہ ہوں لیکن روزہ کو برداشت نہ کر سکتی ہوں عام طور پر اکثر عورتوں کو حمل یا دودھ پلانے کی حالت میں غیر معمولی تکلیف کا امکان ہوتا ہے یا پھر مسافر کے سوا باقی سب کے لئے غروب آفتاب تک روزہ رکھنا فرض ہے۔‘‘ (فرموداتِ مصلح موعود۔ دربارہ فقہی مسائل صفحہ160-161) - [52 علامات 52 تقاریر بابت پییشگوئی مصلح موعودؓ](https://mushahedat.com/تعا/) - یوم مصلح موعود کے موقع پر 52 تقاریر جو حضرت مصلح موعودؓ کی سیرت، سوانح و کارناموں کے علاوہ پیشگوئی مصلح موعود کی مختلف علامات پر مشتمل ہیں ، خاکسار نے حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ایک ارشاد کو مدنظر رکھ کر لکھیں۔ حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ (پیشگوئی مصلح موعود کی) علامتیں ہیں جن میں سے ہر ایک علامت جو ہے ایک علیحدہ تقریر کا موضوع بن سکتا ہے“ (خطبہ جمعہ 18؍فروری 2018ء) - [ہم رمضان کیسے گزاریں؟](https://mushahedat.com/ہم-رمضان-کیسے-گزاریں؟/) - [عید اور عید سے متعلق فقہی مسائل](https://mushahedat.com/عید-اور-عید-سے-متعلق-فقہی-مسائل/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’عید کا دن صرف اچھے کپڑے پہن کر اچھے کھانے کھا کر گزارنے کا نام نہیں ہے بلکہ عید کے لیے عید گاہ میں آتے جاتے اور سارا دن بھی ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں صرف کرنا چاہیے۔ نمازوں کا بھی باقاعدہ خیال رکھنا چاہیے۔ نمازوں کی حاضری کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔‘‘ (خطبہ عید الفطر فرمودہ14نومبر2004ء) - [ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل  (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعلق-فتاویٰ-او-11/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’معتکف کے لیے بڑی تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے کہ وہ اپنی عبادت میں مصروف ہوتا ہے پردہ کے لیے ایک چادر ہی ٹانگی ہوتی ہے نا۔ پردہ کے پیچھے سے ایک ہاتھ اندر داخل ہوتا ہے جس میں مٹھائی اور ساتھ پرچی ہوتی ہے کہ میرے لیے دعا کرو یا نمازی سجدے میں پڑا ہوا ہے اوپر سے پردہ خالی ہوتا ہے تو اوپر سے کاغذ آکر اس کے اوپر گر جاتا ہے (ساتھ نام ہوتا ہے)کہ میرے لیے دعا کرو۔ یا ایک پُراسرار آواز پردے کے پیچھے سے آتی ہے آہستہ سے کہ مَیں فلاں ہوں میرے لیے دعا کرو۔ یہ سب غلط طریقے ہیں۔‘‘ (خطبات مسرور جلد2 صفحہ 781۔ 782) - [ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل  (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعلق-فتاویٰ-او-10/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’بات وہی ہے کہ اصل بنیاد تقویٰ پرہے، حکم بجا لاناہے، حکم یہ ہے کہ تم مریض ہو یا سفر میں ہو، قطع نظر اس کے کہ سفر کتناہے، جو سفر تم سفر کی نیت سے کررہے ہو وہ سفر ہے اور اس میں روزہ نہیں رکھناچاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاہے کہ دو تین کوس کا سفر بھی سفر ہے اگر سفر کی نیت سے ہے۔‘‘ (خطبات مسرور جلد2 صفحہ742 ) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-16/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’پس استغفار اور نیک اعمال جب ہمیں رمضان کے آخری عشرے میں داخل کریں گے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے مطابق آگ سے آزاد کرانے کا عشرہ ہو گا۔‘‘ (خطبہ جمعہ 19؍ ستمبر 2008ء) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-15/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’یہ رمضان ہمیں ایک دفعہ پھر موقع دے رہا ہے کہ ہم خدا کے آگے جھکیں جس طرح جھکنے کا حق ہے۔ اُس کی عبادت کریں، جس طرح عبادت کرنے کا حق ہے تو اللہ.تعالیٰ ہماری دُعاؤں کا یقیناً جواب دے گا اور یہ عہد کریں کہ آئندہ ہم اِن عبادتوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ اگر یہ ہو جائے تو اِس سے ہم اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالیٰ جماعت کی سالوں میں ہونے والی ترقیات کو دِنوں میں واقع ہوتے دیکھیں گے۔ اِس لئے مَیں پھر یہی کہوں گا کہ اپنی عبادتوں کو زندہ کریں۔ دوسروں کے پاس دُعائیں کروانے کی بجائے خود اللہ تعالیٰ کی ذات کی قدرتوں کا تجربہ حاصل کریں۔‘‘ (خطبہ جمعہ 22؍اکتوبر2004ء) - [ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعلق-فتاویٰ-او-9/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ لیلۃ القدر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتےہیں: ’’ لیلۃ القدر زیادہ تر رمضان سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ رمضان کے آخری دنوں میں عبادت کی تلقین کرنے کے لئے کوئی ایک دن مقرر نہیں فرمایا بلکہ ہر طاق رات جو آخری عشرے میں آتی ہے اس میں کوشش کرو تو لیلۃ القدر مل سکتی ہے۔ خاص وہ عبادت کے دن ہوتے ہیں لوگ خاص زور ماررہے ہوتے ہیں لیکن بعض لوگوں کو جو توبہ کا دن نصیب ہو جائے چاہے کسی وقت ہو کسی بھی عمر میں ہو سچی توبہ کا دن نصیب ہو جائے تو اس کی لیلۃ القدر اسی وقت آگئی ہے۔ یہ فرمایا ہے کہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں یہ بھی حکمت ہے کہ اوسط عمر زیادہ سے زیادہ جو صحت مند ممالک میں ان کی بھی اسّی سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی اس سال کچھ مہینے تو ساری عمر اگر آدمی اس ایک رات کو نہ پائے تو وہ اس کی ساری عمربے کارہو جائے گی اور اگر وہ پالے تو جب بھی پالے تو اس کی وہ ایک رات جو ہے خدا نے اس کے گناہ معاف کردیئے صاف کردیئے تو اس کی ساری زندگی سے بہترہے۔‘‘ (جرمن خواتین سے ملاقات۔ الفضل 10؍جون 2002ء صفحہ4) - [(تقریر نمبر 1)ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/تقریر-نمبر-1ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعل/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں: ’’رمضان کے روزوں کے سلسلے میں… بچوں کو سحری کے وقت اٹھا کر کھانے سے پہلے کچھ نوافل پڑھنے کی عادت ڈالی جائے۔ قادیان میں یہی دستور تھا جو بہت ہی ضروری اور مفید تھا جسے اب بہت سے گھروں میں ترک کر دیا گیا ہے۔‘‘ (الفضل 3؍اپریل 1991ء) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-14/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں: ’’پس اس فتنے کی فکر کرو جو تمہارے گھروں میں ہورہا ہے تمہارے بچوں کی صورت میں رونما ہورہا ہے۔ تمہارے احوال کی صورت میں رونما ہورہا ہے اور اس کو دور کرنے کے لئے الصلوۃ والصوم دو ہی چیزیں ہیں۔ نمازوں سے گھر کو بھر دو اور جب رمضان کے مہینے آیا کریں اور ویسے بھی اپنے گھروں کو روزوں سے بھر دیا کرو۔ ہر قسم کے فتنے سے نجات پاؤ گے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ؍دسمبر1997ء) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-13/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں: ’’روزہ بمقابل نماز نہیں ہے بلکہ روزہ کا مقصد نماز ہے اور نمازوں کی حالت کو درست کرنا ہے۔ پس اگر روزہ میں نمازیں نہ سنوریں تو روزہ بے کار ہے۔ اگر روزہ میں نمازیں سنور جائیں تو روزہ نماز کا معراج اور نماز میں روزے کا معراج بن جاتی ہیں۔ پس اس میں تفریق نہ کریں ورنہ مضمون بالکل بگڑ جائے گا۔ حقیقت میں روزہ کے دوران جتنی نمازیں سنوریں گی اتنا ہی روزہ کا آپ پھل پائیں گے اور اس حد تک سنور جانی چاہئیں کہ گویا آپ کو خدا نظر آ گیا اور گویا اللہ آپ کو دیکھنے لگا ۔‘‘ (خطبہ جمعہ 16؍ جنوری 1998ء ) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-12/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں: ’’ کبھی کسی اور مہینے میں اس کثرت کے ساتھ خدا کی رحمت کے ایسے چھینٹے نہیں پھینکے جاتے جو دنیا کے ہر کونے میں ہر ملک میں برس رہے ہوں اور جس کسی پر بھی پڑیں اُسے خوش نصیب بنا دیں ۔ اس لیے رمضان کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ ‘‘ ( خطبات طاہر جلد 7صفحہ258) - [ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل  (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ  کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعلق-فتاویٰ-او-8/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں : ’’جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو وہ کسی اور وقت رمضان کے روزوں کی گنتی کو پورا کرے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرا ارادہ ہے کہ اس طرح مَیں اپنے بندوں کے لئے سہولت کے سامان پیدا کروں۔ مومن وہی ہوتا ہے جو اپنے ارادہ اور خواہش کو چھوڑ دیتا ہے اور خدا کے ارادہ کو قبول کرتا ہے۔ پس مومن کی علامت ہے کہ وہ سفر میں اور بیماری میں اپنی شدید خواہش کے باوجود اپنی اس تڑپ کے باوجود کہ کاش میں بیمار نہ ہوتا یا سفر میں نہ ہوتا روزہ نہیں رکھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نیکی اس بات میں نہیں کہ میں بھوکا رہوں بلکہ نیکی یہ ہے کہ میں اپنے ارادہ کو خداتعالیٰ کے ارادہ کے لئے چھوڑ دوں ۔‘‘ ( خطبہ جمعہ 24؍نومبر1967ء) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 4)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-11/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں : ’’آخری دنوں کے متعلق بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ اس عشرہ میں مسلمان کو اس رات کی تلاش کرنی چاہیےتقدیر کی جس رات میں دعائیں قبول ہوں اور اسلام کے حق میں دنیا کی تقدیریں بدل دی جائے۔“ (خطبات ناصر جلد اول صفحہ 1006) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-10/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں : ’’ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں نے تمہارے لئے ہدایت کے سامان بھی مہیا فرمائے ہیں اور پھر تم ماہ رمضان میں قبولیت دعا کے نمونے بھی دیکھتے ہو لیکن اگر تم مستقل طور پر میری اطاعت کو اختیار نہیں کرو گے تو میرے فضل بھی تم پر مستقل طور پر نازل نہیں ہوں گے اور نہ ہی تمہارا انجام بخیر ہو گا۔ انجام بخیر اسی کا ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جؤا اپنی گردن پررکھے۔‘‘ (خطبات ناصر جلد اول صفحہ61) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-9/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں : ’’ ماہ رمضان کا دوہرا تعلق قرآن کریم سے ہے۔ اِس لئے کہ قرآن کریم میں اس کے احکام ہیں ۔ ماہِ رمضان کی عبادات صَوم کی جو عبادات ہیں اس کے احکام جو ہیں وہ قرآن کریم میں نازل ہوئے اور دوسرے یہ کہ قرآن کریم ماہ رمضان میں نازل ہوا۔حدیث میں آتا ہے کہ ہر رمضان میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےجتنا قرآن نازل ہوتا تھا اس کا دور کیا کرتے تھے۔ تو ماہِ رمضان کا ایک گہرا تعلق اور دوہرا تعلق قرآن عظیم سے ہے۔‘‘ ( خطبات ناصر جلد 8صفحہ 300) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-8/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں : ’’ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ۔اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہم نے تم پر روزے فرض کئے تو یہ حکم بھی دیا کہ سارے رمضان کے روزے رکھو تا کہ تم اس کی گنتی کو پورا کرو۔ اگر صرف یہ حکم ہوتا کہ روزے رکھو تو کوئی بیس دن کے روزے رکھتا۔ کوئی دس دن کے، کوئی رمضان کے مہینے میں رکھتا کوئی دوسرے مہینوں میں۔ پس ہم نے رمضان میں روزے رکھنے کا اس لئے حکم دیا تاکہ اُمّتِ مسلمہ ساری کی ساری اس سارے مہینے میں روزے رکھے اور ان اجتماعی برکات سے فائدہ اٹھائے جو اجتماعی عبادات سے تعلق رکھتی ہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ24دسمبر1965ء) - [ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعلق-فتاویٰ-او-7/) - شوال کے روزے کب رکھنے چاہئیں، اس بابت جماعت کو تاکیداً مخاطب کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : ’’جن لوگوں کو علم نہ ہو وہ سن لیں اور جوغفلت میں ہو وہ بیدار ہوجائیں کہ سوائے ان کے جو بیمار اورکمزور ہونے کی وجہ سے معذور ہیں چھ روزے رکھیں، اگر مسلسل نہ رکھ سکیں تو وقفہ ڈال کر بھی رکھ سکتے ہیں ‘‘ (خطبات محمود جلد 1 صفحہ71) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-7/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : ’’لیلۃ القدر آتی تو ہر سال ہےمگر ہر شخص کو وہ رات میسر تو نہیں آ جاتی۔جو لوگ سچے تقویٰ اور سچی نیکی سے خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں انہیں خاص توجہ اور خاص خشوع و خضوع کی حالت میں وہ میسر آتی ہے۔ یعنی گو اس کی عام برکات تو عام مسلمانوں کو ہر سال ہی مل جاتی ہیں لیکن اس کا کامل ظہور جبکہ انسان کو یہ معلوم بھی ہو جاتا ہے کہ آج لیلۃ القدر ہے، خاص خاص آدمیوں کو اور کبھی کبھی ہی نصیب ہوتا ہے ۔ یہ تجربہ درمیانہ درجہ کے مومنوں کو اپنی عمر میں کبھی ایک دفعہ یا دو دفعہ نصیب ہوتا ہے۔ پس اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں لیلۃ القدر مل جائے اسے سمجھنا چاہیے کہ اس کی ساری عمر کامیاب ہوگئی اور عمر کا اندازہ تراسی سال لگا کر بتایا ہے کہ ایسے شخص کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ رات اس کی باقی عمر سے افضل ہے اور اسی رات کی خاطر اس کی زندگی گزری ہے اور یہ رات اس کی زندگی کا نچوڑ ہے۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد 13صفحہ 491) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-6/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : ’’اسی طرح افطاری میں تنوع اور سحری میں تکلفات بھی نہیں ہونے چاہئیں اور یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ سارا دن بھوکے رہے ہیں اب پُرخوری کرلیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام ؓ افطاری کے لئے کوئی تکلفات نہ کرتے تھے ۔ کوئی کھجور سے، کوئی نمک سے ، بعض پانی سے اور بعض روٹی سے افطار کر لیتے تھے۔ ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اس طریق کو پھر جاری کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے نمونہ کو زندہ کریں۔ ‘‘ (تفسیر کبیر ۔ سورۃ البقرہ زیر آیت 186 ) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-5/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : ’’رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص برکات اور خاص رحمتیں لے کر آتا ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کے انعام اور احسان کے دروازے ہر وقت ہی کھلے رہتے ہیں اور انسان جب چاہے ان سے حصہ لے سکتا ہے صرف مانگنے کی دیر ہوتی ہے ورنہ اس کی طرف سے دینے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ خداتعالیٰ اپنے بندہ کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ ہاں بندہ خداتعالیٰ کو چھوڑ کر بعض دفعہ دوسروں کے دروازہ پر چلا جاتا ہے… سو اس رحیم و کریم ہستی سے تعلق پیدا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ہر گھڑی رمضان کی گھڑی ہوسکتی ہے اور ہر لمحہ قبولیت دعا کا لمحہ بن سکتا ہے۔ اگر دیر ہوتی ہے تو بندہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی اس کے احسانات میں سے ہی ہے کہ اُس نے رمضان کا ایک مہینہ مقرر کر دیا تاکہ وہ لوگ جو خود نہیں اٹھ سکتے ان کو ایک نظام کے ماتحت اٹھنے کی عادت ہو جائے اور ان کی غفلتیں اُن کی ہلاکت کا موجب نہ ہوں۔‘‘ )تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 382-383) - [سیدنامصلح موعود رضی اللہ عنہ](https://mushahedat.com/سیدنامصلح-موعود-رضی-اللہ-عنہ/) - [ماہ ِ رمضان اور سورج و چاند گرہن (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/ماہ-ِ-رمضان-اور-سورج-و-چاند-گرہن-حضرت-خل/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’سورج گرہن کو دیکھ کر یہ فائدہ اٹھانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو سورج بھی کہا ہے اور قمر بھی کہا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہر سے باطن کی طرف جائے۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دیکھا کہ سورج کی روشنی جو دنیا کو پہنچتی ہے وہ رک گئی تو آپ گھبرا اٹھے کہ کہیں ہماری روشنی اور ہمارا فیضان اِس طرح کم نہ ہوجائے اور رک نہ جائے۔ گھبراہٹ کے وقت دعا اور تضرّع اور خیرات و صدقہ سے کام لینا چاہیے۔ لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا، تضرّع، خیرات اور صدقہ سب سے کام لیا اور دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور آپ کی روشنی بلا انقطاع قیامت تک دنیا میں رہنے والی ہے۔ اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے اس کی تجدید ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔ فرمایا۔ کسوف خسوف خدا تعالیٰ کے نشانات میں سے ہے جو بندوں کو دکھایا جاتا ہے اور سمجھایا جاتا ہے کہ بڑی بڑی روشن چیزیں جو ہیں ان کو بھی خدا تعالیٰ تاریک کرسکتاہے۔‘‘ ( ارشاداتِ نور جلد دوم صفحہ 499) - [ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعلق-فتاویٰ-او-5/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’مریض اور مسافر کے لئے قضاء رمضان علٰی الاتصال ضروری نہیں جب چاہے بتدریج عدّت کو پوری کرے۔ جولائی کے روزے دسمبر میں رکھ سکتا ہے یہی شرع اسلام کا حکم ہے۔ یہی معمول امام کا تھا۔‘‘ (ارشاداتِ نور جلد دوم صفحہ47) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-4/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”غرض روزہ جو رکھا جاتا ہے تو اس لئے کہ انسان متقی بننا سیکھے۔ ہمارے امام فرمایا کرتے ہیں کہ بڑا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جس نے رمضان تو پایا مگر اپنے اندر کوئی تغیر نہ پایا۔ پانچ سات روزے باقی رہ گئے ہیں۔ ان میں بہت کوشش کرو اور بڑی دعائیں مانگو۔ بہت توجہ الی اللہ کرو اور استغفار اور لاحول کثرت سے پڑھو۔ قرآن مجید سن لو، سمجھ لو، سمجھا لو۔ جتنا ہو سکے صدقہ اور خیرات دے لو اور اپنے بچوں کو بھی تحریک کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور تمہیں توفیق دے۔ آمین“ (خطبات نور صفحہ265) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-3/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’حضرت جبرائیل قرآن شریف کا دور رمضان میں کیا کرتے تھے ۔ مَیں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہر رمضان شریف میں قرآن مجید کا دور خصوصیت سے کیاکریں ۔‘‘ ( ارشادات نور جلد سوم صفحہ442) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-ف-2/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کوئی شبہ نہیں کہ ظلماتِ جسمانیہ کے دُور کرنے کے لئے روزہ سے بہتر اور افضل کوئی عبادت نہیں اور انوار و مکالماتِ الٰہیہ کی تحصیل کے لئے روزہ سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں“ (خطباتِ نور صفحہ 230) - [ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 4)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعلق-فتاویٰ-او-4/) - حضرت اقدس مسیح موعودؑنے لیلۃالقدر کے تین معنی بیان فرمائے ہیں۔ آپؑ فرماتےہیں:قرآن شریف میں جو لیلۃُ القدر کا ذکر آیا ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہاں لیلۃُ القدر کے تین معنی ہیں۔اوّل تو یہ کہ رمضان میں ایک رات لیلۃالقدر کی ہوتی ہے۔دوم یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی ایک لیلۃالقدر تھا یعنی سخت جہالت اور بے ایمانی کی تاریکی کے وہ زمانہ میں آیا جبکہ ملائکہ کا نزول ہوا۔کیونکہ نبی دنیا میں اکیلا نہیں آتا۔ بلکہ وہ بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ لاکھوں کروڑوں ملائکہ کا لشکر ہوتا ہے۔ جو ملائک اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں اور لوگوں کے دلوں کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں ۔سوم۔ لیلۃُ القدر انسان کے لئے اس کا وقت اصفیٰ ہے۔ تمام وقت یکساں نہیں ہوتے۔ بعض وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہؓ .کو کہتے ہیں کہ اَرِحْنَا یَا عائشہ یعنی اے عائشہؓ! مجھ کو راحت و خوشی پہنچا اور بعض وقت آپ بالکل دعا میں مصروف ہوتے۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 336) - [ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 3)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعلق-فتاویٰ-او-3/) - حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں : ’’فدیہ دے دینے سے روزہ اپنی ذات میں ساقط نہیں ہو جا تا بلکہ یہ محض اِس بات کا فدیہ ہے کہ ان مبارک ایام میں وہ کسی جائز شرعی عذر کی بناء پر باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر یہ عبادت ادا نہیں کر سکے ۔ آگے یہ عذر دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک عارضی اور ایک مستقل ۔ نديد بشرط استطاعت ان دونوں حالتوں میں دینا چاہئے ۔ غرضیکہ خواہ کوئی فدیہ بھی دے دے بہر حال سال دو سال یا تین سال کے بعد جب بھی اُس کی صحت اجازت دے اُسے پھر روزے رکھتے ہوں گے ۔ سوائے اس صورت کے کہ پہلے مرض عارضی تھا اور صحت ہونے کے بعد ارادہ ہی کرتا رہا کہ آج رکھتا ہوں کل رکھتا ہوں کہ اس دوران میں اس کی صحت پھر مستقل طور پر خراب ہو جائے ۔ باقی جو بھی کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہوا گر وہ مریض یا مسافر ہے تو اُس کے لئے ضروری ہے کہ رمضان میں ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے اور دوسرے ایام میں روزے رکھے ۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مذہب تھا اورآپ ہمیشہ فدیہ بھی دیتے تھے اور بعد میں روزے بھی رکھتے تھے اور اسی کی دوسروں کو تاکید فرمایا کرتے تھے۔“ ( تفسیرکبیر جلد 2 صفحہ 389) - [ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 2)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعلق-فتاویٰ-او-2/) - حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے ۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا۔ آپ ہمیشہ شریعت میں سہل راستہ کو اختیار فرمایا کرتے تھے۔ (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 637) - [ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 1)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کے-متعلق-فتاویٰ-اور/) - حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حافظ نور محمد صاحب ظ نور محمد صاحب فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ ” ایک دفعہ ماہ رمضان میں سحری کے وقت کسی شخص نے اصل وقت سے پہلے اذان دے دی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ میں نے دودھ کا گلاس منہ کے قریب کیا ہی تھا کہ اذان کی آواز آئی ۔ اس لئے وہ گلاس میں نے وہیں رکھ دیا ۔ کسی شخص نے عرض کی ۔ کہ حضور ا بھی تو کھانے پینے کا وقت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہمارا دل نہیں چاہتا کہ بعد اذان کچھ کھایا جائے ۔“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت اگر درست ہے تو حضور نے اس وقت اپنی ذات کے لئے یہ احتیاط برتی ہوگی ۔ ورنہ حضور کا طریق یہی تھا کہ وقت کا شمار اذان سے نہیں بلکہ سحری کے نمودار ہونے سے فرماتے تھے ۔ اور اُس میں بھی اِس پہلو کو غلبہ دیتے تھے کہ فجر واضح طور پر ظاہر ہو جاوے۔ جیسا کہ قرآنی آیت کا منشاء ہے مگر بزرگوں کا قول ہے کہ فتویٰ اور ہے اور تقوی اور ۔ (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 520) - [ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت مسیح موعودعلیہ السلام  کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/ماہِ-رمضان-اور-روزہ-کی-اہمیت،-فرضیت،-فض/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اوراس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتاہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتاہے اورکشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ ‘‘ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 102 ایڈیشن2003ء) - [ہم رمضان کیسے گزاریں؟ (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/ہم-رمضان-کیسے-گزاریں؟-تقریر-نمبر2/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہمارے دوستوں کو کس نے بتایا ہے کہ زندگی بڑی لمبی ہے۔ موت کا کوئی وقت نہیں کہ کب سر پر ٹوٹ پڑے۔ اِس لئے مناسب ہے کہ جو وقت ملے اُسے غنیمت.سمجھو۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 302) - [ہم رمضان کیسے گزاریں؟ (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/ہم-رمضان-کیسے-گزاریں؟-تقریر-نمبر1/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مُچ تقویٰ کی راہوں پرقدم مارو گے۔ سواپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خداتعالیٰ کو دیکھتے ہو اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو خود تقویٰ سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔‘‘ (کشتی نوح،روحانی خزائن جلد 19 صفحہ15) - [ہم یوم مصلح موعودکیوں مناتے ہیں؟ (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/ہم-یوم-مصلح-موعودکیوں-مناتے-ہیں؟-تقریر/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’یہ ایک عظیم پیشگوئی ہےجو کسی شخص کی ذات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی اسلام کی نشأۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس پیشگوئی کی اصل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍فروری 2011ء) - [50تقاریر بابت سیرت و شمائل حضرت محمد ﷺ (حصہ سوم)](https://mushahedat.com/50تقاریر-بابت-سیرت-و-شمائل-حضرت-محمد-ﷺ-حص/) - صدر دروازہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی حیات پر یقین رکھنا اورآپؐ کو زندہ نبی کہنا اور اُنہیں زندہ نبی ثابت کرنا ہرمسلمان بالخصوص ہر احمدی مسلمان کا فرض ہے۔ اس کے لئے جہادباللسّان، جہاد بالقلم ، جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے - [20تقاریربعنوان صحبتِ صالحین](https://mushahedat.com/20تقاریربعنوان-صحبتِ-صالحین/) - تحریر اوّل کوئی تحریر لکھنا خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو آسان امر نہیں ہے۔ اس کے لیے اللہ کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ اُس کے بغیر انسان کچھ نہیں لکھ سکتا ۔اگر خدا پر توکّل نہ ہو اور انسان اپنی تحریر کو اپنی طاقت کا سرچشمہ قراردے تو پھر تکبر کے ذرات صحبتِ صالحین کے حوالہ سے یہ 20 تقاریر کا مجموعہ اس مضمون کی کئی سَمت اور رُخ کھولنے کا موجب ہوگا۔ ان شاءاللہ۔ قارئین اِس کتاب میں صحبتِ صالحین کے تحت اللہ سے دوستی کو دیکھیں گے۔ حضرت محمدؐ سے محبت اور آپؐ پر نازل ہونے والے قرآن کریم کی صحبت بھی صحبتِ صالحین نظر آئے گی - [10تقاریربعنوان صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا](https://mushahedat.com/10تقاریربعنوان-صحابہ-سے-ملا-جب-مجھ-کو-پا/) - شاخِ مُثمَرم مبارک وہ جو اب ایمان لایاصحابہ سے ملا جب مجھ کو پایاوہی مَے ان کو ساقی نے پلا دیفسبحان الّذی اخزی الاعادی مجھے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے محوّلہ بالا قطعہ اشعار میں سے دوسرے مصرع ؏ ”صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا“ پر دس تقاریر پر مشتمل ادارہ - [50 تقاریر بابت وجود باری تعالی](https://mushahedat.com/50-تقاریر-بابت-وجود-باری-تعالی/) - اَلْاَوَّلُ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی کم از کم 175 صفات کا تذکرہ ہے۔ حدیث میں 104 صفات کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اِن کے علاوہ اپنی جن صفات پر اطلاع دی وہ 27 ہیں۔ ( الفضل انٹرنیشنل 23؍دسمبر 2025ء) ان کُل 306 صفات میں سے ایک صفت ”اَلْاَوَّلُ “ بھی ہے یعنی پہلا۔ اِسی صفت کو آج مَیں نے ”مشاہدات“ کے 32ویںمجموعہ کے پیش لفظ کے عنوان کے طور پر چُنا ہے۔ ہمیں اللہ.تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم اور احادیث میں وجودِ الہٰی اور توحیدِ باری تعالیٰ کے ثبوت - [کاغذی ہے پیرہن](https://mushahedat.com/کاغذی-ہے-پیرہن/) - کاغذی ہے پیرہنڈاؤن لوڈ - [ایمان اور اُس کی حفاظت ؟](https://mushahedat.com/ایمان-اور-اُس-کی-حفاظت-؟/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ’’اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات حب دنیا کا غلبہ بھی سلب ایمان کا باعث ہوجایا کرتا ہے لہٰذا دنیوی امور میں بہت انہماک اوردنیوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا کہ گویا دین ایمان اورآخرت کی پروا ہی نہ رہے یہ بھی خطرناک زہریلا مرض ہے۔یہ تووہ زمانہ ہے جس کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ،درختوں کے تنوں سے لگ جاؤ اور جس طرح سے بن پڑے زمانہ کے فتن سے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش کرو۔‘‘ (ملفوظات جلد 5صفحہ 526،ایڈیشن1988ء) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-55/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”دُعا کی مثال ایک چشمۂ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے۔ وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کرسکتا ہے۔ جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دُعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اُسے کسی بدمعاشی میں میسّر آسکتا ہے ، ہیچ ہے ۔ بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الٰہی ہے۔ دُعا کے ذریعہ ہی انسان خداتعالیٰ کے نزدیک ہوجاتا اور اُسے اپنی طرف کھینچتا ہے ۔ جب مومن کی دُعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہوجاتا ہے ۔تو خداتعالیٰ کو بھی اس پر رحم آجاتا ہے اور خداتعالیٰ اس کا متولِّی ہوجاتا ہے ۔ اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الٰہی تولّی کے بغیر انسانی زندگی قطعًا تلخ ہوجاتی ہے۔“ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 59) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-54/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَیں پھر کہتا ہوں کہ مسلمان اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہیے اور دوسرے مذاہب کے آگے تودعا کے لئے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور وہ توجہ نہیں کر سکتے ۔ مَیں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ایک عیسائی جو خونِ مسیح پر ایمان لا کر سارے گناہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے ۔ اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دعا کرتا رہے اور ایک ہندو جو یقین کرتا ہے کہ توبہ قبول ہی نہیں ہوتی اور تناسخ کے چکّر سے رہائی ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا کے واسطے ٹکڑیں مارتا رہے گا وہ تو یقیناً سمجھتا ہے کہ کُتّے، بلّے، بندر ، سؤر بننے سے چارہ ہی نہیں ہے ۔ اس لئے یاد رکھو کہ یہ اسلام کا فخر ہے اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم ہے اس میں کبھی سُستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو۔“ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 267-268 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-53/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَیں پھر جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ تم لوگ ان کی مخالفتوں سے غرض نہ رکھو۔ تقویٰ طہارت میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا اور ان لوگوں سے وہ خود سمجھ لیوے گا وہ فرماتا ہے۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ (النحل: 129) اور خوب یاد رکھو کہ اگر تقویٰ اختیار نہ کرو گے اور اس نیکی سے جسے خدا چاہتا ہے کثیر حصّہ نہ لو گے تو اللہ تعالیٰ سب سے اوّل تم ہی کو ہلاک کرے گا کیونکہ تم نے ایک سچائی کو مانا ہے اور پھر عملی طور سے اس کے منکر ہوتے ہو۔ اس بات پر ہرگز بھروسہ نہ کرو اور مغرور مت ہو کہ بیعت کر لی ہے۔ جب تک پوری تقویٰ اختیار نہ کرو گے۔ ہرگز نہ بچو گے ۔ خداتعالیٰ کا کسی سے رشتہ نہیں نہ اس کو کسی کی رعایت منظور ہے ۔ جو ہمارے مخالف ہیں وہ بھی اسی کی پیدائش ہیں اور تم بھی اسی کی مخلوق ہو۔ صرف اعتقادی بات ہرگز کام نہ آوے گی جب تک تمہارا قول اور فعل ایک نہ ہو۔“ (ملفوظات جلد 7صفحہ 144-145 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-52/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”یاد رکھو کہ سارے فضل ایمان کے ساتھ ہیں ۔ایمان کو مضبوط کرو۔ قطع حقوق، معصیت ہے اور انسان کی زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے ۔ایسا پرہیز اور بُعد جو ظاہر ہوا ہے وہ عقل اور انصاف کی رُو سے صحیح نہیں ہے۔ ایسے امور سے اپنے آپ کو بچاؤ جو تجربہ میں مضرّ ثابت ہوئے ہیں۔ یہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نمونہ بنانا چاہتا ہے اگر اس کا بھی یہی حال ہوا کہ ان میں اخوّت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہوگی ۔“ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 353) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-51/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اب بڑی تبدیلی کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ سے سچی صلح کے دن ہیں۔ بعض لوگ اپنی غلط فہمی اور شرارت سے اس سلسلہ کو بدنام کرنے کے لئے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض آدمی طاعون سے ہلاک ہوئے ہیں۔ مَیں نے بارہا اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ یہ سلسلہ منہاج نبوت پر واقع ہوا ہے۔ آنحضرت صلی.اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کفار پر جو عذاب آیا تھا وہ تلوار کا عذاب تھا۔ حالانکہ وہ اُن کے لئے مخصوص تھا۔ لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ صحابہؓ میں سے بعض شہید نہیں ہو گئے ؟ اسی طرح پر یہ سچ ہے کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض لوگ طاعون سے شہید ہوئے ہیں مگر یہ بھی تو دیکھو کہ طاعون کے ذریعہ سے ہمارا نقصان ہوا ہے یا دوسروں کا ؟ ہماری جماعت کی تو ترقی ہوتی گئی ہے اور ہو رہی ہے اور مَیں پھر کہتا ہوں کہ جو لوگ نافع الناس ہیں اور ایمان ، صدق و وفا میں کامل ہیں وہ یقیناً بچا لئے جائیں گے۔ پس تم اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کرو۔ اپنے رشتہ داروں اور بیوی بچوں کو بھی سمجھاؤ اور یہی تلقین کرو اور دوستوں کے ساتھ یہی شرط دوستی رکھو کہ وہ بدی سےبچیں۔ پھر مَیں یہ بھی کہتا ہوں کہ سختی نہ کرو اور نرمی سے پیش آؤ۔ جنگ کرنا اس سلسلہ کے خلاف ہے۔ نرمی سے کام لو اور اس سلسلہ کی سچائی کو اپنی پاک باطنی اور نیک چلنی سے ثابت کرو۔ یہ میری نصیحت ہے اس کو یاد رکھو ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔ آمین۔“ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 239- 240) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-50/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’نفس اور اخلاق کی پاکیزگی حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ صحبتِ صادقین بھی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ یعنی تم خدا تعالیٰ کے صادق اور راست باز لوگوں کی صحبت اختیار کرو تاکہ ان کے صدق کے انوار سے تم کو بھی حصہ ملے جو مذاہب کے تفرقہ پسند کرتے ہیں اور الگ الگ رہنے کی تعلیم دیتے ہیں وہ یقیناً وحدتِ جمہوری کی برکات سے محروم رہتے ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا کہ ایک نبی ہو جو کہ جماعت بنا دے اور اخلاق کے ذریعے آپس میں تعارف اور وحدت پیدا کرے۔“ (ملفوظات جلد7 صفحہ 130 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-49/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’وہ دن کون سا دن ہے جو جمعہ اور عیدین سے بھی بہتر اور مبارک دن ہے؟ مَیں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ دن انسان کی توبہ کا دن ہے جو ان سب سے بہتر ہے اور ہر عید سے بڑھ کر ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس دن وہ بداعمال نامہ جو انسان کو جہنم کے قریب کرتا جاتا ہے اور اندر ہی اندر غضبِ الٰہی کے نیچے اُسے لا رہا تھا دھو دیا جاتا ہے اور اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ حقیقت میں اس سے بڑھ کر انسان کے لیے اور کون سا خوشی اور عید کا دن ہوگا جو اُسے ابدی جہنّم اور ابدی غضبِ الٰہی سے نجات دے دے۔ توبہ کرنے والا گنہگار جو پہلے خدا تعالیٰ سے دُور اور اُس کے غضب کا نشانہ بنا ہوا تھا ۔ اب اس کے فضل سے اس کے قریب ہوتا اور جہنّم اور عذاب سے دُور کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ (البقرہ: 223) ۔ بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے اِس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی توبہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری ہے ورنہ نِری توبہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔ پس جو دن ایسا مبارک دن ہو کہ انسان اپنی بد کرتوتوں سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچّا عہد صلح باندھ لے اور اس کے احکام کے لیے اپنا سر تسلیم خم کر دے تو کیا شک ہے کہ وہ اس عذاب سے جو پوشیدہ طور پر اس کے بدعملوں کی پاداش میں تیار ہو رہا تھا ۔ بچایا جاوے گا اور اس طرح پر وہ وہ چیز پا لیتا ہے جس کی گویا اسے توقع اور امید ہی نہ رہی تھی۔“ (ملفوظات جلد7 صفحہ 148-149 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-48/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہم تو یہ دعا کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ جماعت کو محفوظ رکھے اور دنیا پر یہ ظاہر ہو جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برحق رسول تھے اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر لوگوں کو ایمان پیدا ہو جائے ۔ خواہ کیسے ہی زلزلے پڑیں پر خدا کا چہرہ لوگوں کو ایک دفعہ نظر آ جائے اور اس ہستی پر ایمان قائم ہو جائے۔“ (ملفوظات جلد7 صفحہ 340) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-47/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت بھی اگر بیچ کا بیج ہی رہے گی تو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ جوردّی رہتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو بڑھاتا نہیں ۔ پس تقویٰ ، عبادت اور ایمانی حالت میں ترقی کرو۔ اگر کوئی شخص مجھے دجّال اور کافر وغیرہ ناموں سے پکارتا ہے تو تم اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کرو ۔ کیونکہ جب خدا میرے ساتھ ہے تو مجھے ان کے ایسے بدکلمات اور گالیوں کا کیا ڈر ہے؟ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کافر کہا تھا۔ ایک زمانہ ایسا آگیا کہ پکار اُٹھا کہ مَیں اس خدا پر ایمان لایا جس پر موسیٰ اور اس کے متّبِع ایمان لائے ہیں۔ ایسے لوگ یا د رکھو کہ مخنّث اور نامرد ہوتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے ایک بچہ بعض اوقات اپنی ماں اور باپ کو بھی ناسمجھی کی وجہ سے گالی دے دیتا ہے۔ مگر اس کے اس فعل کو کوئی بُرا نہیں سمجھتا۔“ (ملفوظات جلد7 صفحہ 233-234) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-46/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”جو دعا سے منکر ہے وہ خدا سے منکر ہے صرف ایک دعا ہی ذریعہ خداشناسی کا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کی ذات کو طوعاً و کرہًا مانا جاوے۔ اصل میں سب جگہ دہریت ہے۔ آجکل کی محفلوں کا یہ حال ہے کہ دعا، توکّل اور انشاء اللہ کہنے پر تمسخر کرتے ہیں۔ ان باتوں کو بیوقوفی کہا جاتا ہے ورنہ اگر خدا سے ان کو ذرا بھی اُنس ہوتا تو اس کے نام سے کیوں چڑتے؟ جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ ہیر پھیر سے کسی نہ کسی طرح سے محبوب کا نام لے ہی لیتا ہے۔ اگر اُن کے نزدیک خدا کوئی شئے نہیں ہے۔ تو اب موت کا دروازہ کھلا ہے اسے ذرا بند کر کے تو دکھلا ویں۔ تعجّب ہے کہ ہمیں جس قدر اس کے وجود پر امیدیں ہیں اُسی قدر وہ دوسرا گروہ اس سے نا امید ہے۔ اصل میں خدا کے فضل کی ضرورت ہے۔ اگر وہ دل کے قفل نہ کھولے تو اَور کون کھول سکتا ہے ۔ اگر وہ چاہے تو ایک کُتّے کو عقل دے سکتا ہے کہ اس کی باتوں کو سمجھ لیوے اور انسان کو محروم رکھ سکتا ہے “ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 1-2 ) - [قرآن کریم حَکَم ہے](https://mushahedat.com/قرآن-کریم-حَکَم-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ایک اَور غلطی اکثر مسلمانوں کے درمیان ہے کہ وہ حدیث کو قرآن شریف پر مقدم کرتے ہیں حالانکہ یہ غلط بات ہے۔ قرآن شریف ایک یقینی مرتبہ رکھتا ہے اور حدیث کا مرتبہ ظنّی ہے۔حدیث قاضی نہیں بلکہ قرآن اس پر قاضی ہے۔ ہاں حدیث قرآن شریف کی تشریح ہے ۔اس کو اپنے مرتبہ پر رکھنا چاہئے۔ حدیث کو اس حدتک ماننا ضروری ہے کہ قرآن شریف کے مخالف نہ پڑے اور اس کے مطابق ہو لیکن اگر اس کے مخالف پڑے تو وہ حدیث نہیں بلکہ مردود قول ہے۔ لیکن قرآنِ.شریف کے سمجھنے کے واسطے حدیث ضروری ہے۔ قرآن شریف میں جو احکام الٰہی نازل ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عملی رنگ میں کر کے اور کراکے دکھا دیا اور ایک نمونہ قائم کر دیا۔ اگر یہ نمونہ نہ ہوتا تو اسلام سمجھ میں نہ آ سکتا لیکن اصل قرآن ہے۔“ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 363-364، ایڈیشن 1984ء) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-45/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”تم لوگوں نے اس وقت جو بیعت کی ہے اس کا زبان سے کہہ دینا اور اقرار کرلینا تو بہت ہی آسان ہے مگر اس اقرار بیعت کا نبھانا اور اس پر عمل کرنا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ نفس اور شیطان انسان کو دین سے لاپروا بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ دنیا اور اس کے فوائد کو آسان اور قریب دکھاتے ہیں ۔ لیکن قیامت کے معاملہ کو دور دکھاتے ہیں جس سے انسان سخت دل ہوجاتا ہے اور پچھلا حال پہلے سے بدترین ہوجاتا ہے۔ اس لئےیہ بہت ہی ضروری امر ہے کہ اگر خداتعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔ تو جہاں تک کوشش ہوسکے ساری ہمت اور توجہ سے اس اقرار کو نبھانا چاہیے اور گناہوں سے بچنے کے لئے کوشش کرتے رہو۔ “ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 392 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-44/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”انسان اگر اپنے نفس کی پاکیزگی اور طہار ت کی فکر کرے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر گناہوں سے بچتا رہے تو اللہ تعالیٰ یہی نہیں کہ اس کو پاک کردے گا بلکہ وہ اس کا متکفّل اور متولِّی بھی ہوجائے گا اور اسے خبیثات سے بچائے گا۔ اَلۡخَبِیۡثٰتُ لِلۡخَبِیۡثِیۡنَ کے یہی معنی ہیں۔ اندرونی معصیت، ریاکاری، عُجب، تکبّر ، خوشامد ، خودپسندی، بدظنی اور بدکاری وغیرہ وغیرہ خباثتوں سے بچنا چاہیے۔ اگر اپنے آپ کو ان خباثتوں سے بچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو پاک و مطہَّر کردے گا۔ “ (ملفوظات جلد 6صفحہ 337 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-43/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” یقیناً یاد رکھو کہ ا بتلا اور امتحان ایمان کی شرط ہے اس کے بغیر ایمان، ایمان کامل ہوتا ہی نہیں اور کوئی عظیم الشان نعمت بغیر ابتلا ملتی ہی نہیں ہے۔ دنیا میں بھی عام قاعدہ یہی ہے کہ دنیاوی آسائشوں اور نعمتوں کےحاصل کرنے کے لئے قسم قسم کی مشکلات اور رنج و تعب اُٹھانے پڑتے ہیں۔ طرح طرح کے امتحانوں میں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر کامیابی کی شکل نظر آتی ہے اور پھر بھی وہ محض خداتعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔ پھر خداتعالیٰ جیسی نعمتِ عظمیٰ جس کی کوئی نظیر ہی نہیں یہ بدوں امتحان کیسے میسّر آسکے۔ پس جو چاہتا ہے کہ خداتعالیٰ کو پاوے اُسے چاہئے کہ وہ ہر ایک ابتلا کے لئے تیار ہوجاوے ۔ “ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 254 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-42/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”تقویٰ اس بات کا نام ہے کہ جب وہ دیکھے کہ مَیں گناہ میں پڑتا ہوں تو دعا اور تدبیر سے کام لیوے ورنہ نادان ہوگا ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہےمَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا۔ وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ ( الطلاق:4-3) کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہر ایک مشکل اور تنگی سے نجات کی راہ اُس کے لیے پیدا کر دیتا ہے۔ متقی درحقیقت وہ ہے کہ جہاں تک اس کی قدرت اور طاقت ہے وہ تدبیر اور تجویز سے کام لیتا ہے“ ) ملفوظات جلد 6 صفحہ218) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-41/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” گناہوں کا چھوڑنا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے یہ ایک ذلیل کام ہے اگر کوئی کہے کہ مَیں چوری نہیں کرتا ۔زنا نہیں کرتا ۔ خون نہیں کرتا اور فسق وفجور نہیں کرتا تو کو ئی خوبی کی بات نہیں اور نہ خدا پر یہ احسان ہے کیونکہ اگر وہ ان باتوں کا مرتکب نہیں ہوتا تو ان کے بدنتائج سے بھی وہی بچا ہوا ہے۔کسی کو اس سے کیا ؟اگر چوری کرتا گرفتار ہوتا سزا پاتا ۔اس قسم کی نیکی کو نیکی نہیں کہا کرتے۔“ (ملفوظات جلد 6 صفحہ180 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-40/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ اگر کوئی شخص بیعت کر کے یہ خیال کرتا ہے کہ ہم پر احسان کرتا ہے تو یاد رکھیں کہ ہم پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اُس نے یہ موقع اُسے نصیب کیا ۔سب لوگ ایک ہلاکت کے کنارے پر پہنچے ہوئے تھے۔ دین کا نام و نشان نہ تھا اور تباہ ہو رہے تھے ۔ خدا نے اُس کی دستگیری کی کہ یہ سلسلہ قائم کیا۔ اب جو اِس مائدہ سے محروم رہتا ہے وہ بے نصیب ہے لیکن جو اس کی طرف آوے اسے چاہیے کہ اپنی پوری کوشش کے بعد دعا سے کام لیوے ۔ جو شخص اس خیال سے آتا ہے کہ آزمائش کرے کہ فلاں سچا ہے یا جھوٹا وہ ہمیشہ محروم رہتا ہے ۔آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ایسی نظیر نہ پیش کر سکو گے کہ فلاں شخص فلاں نبی کے پاس آزمائش کے لیے آیا اور پھر اُسے ایمان نصیب ہوا ہو۔ پس چاہیے کہ یہ خدا کے آگے روئے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر گریہ وزاری کرے کہ خدا اُسے حق دکھا دے ۔‘‘ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ220-219) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-39/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ہماری جماعت کو اس بات کا بہت خیال چاہیے کہ اگر ایک شخص فوت ہوجاوے تو حتّی الوسع سب جماعت کو اس کے جنازہ میں شامل ہونا چاہیے اور ہمسایہ کی ہمدردی کرنی چاہیے ۔ یہ تمام باتیں حقوق العباد میں داخل ہیں ۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ جس تعلیم اور درجہ تک خدا تعالیٰ پہنچانا چاہتا ہے اس میں ابھی بہت کمزوری ہے ۔ صرف دعویٰ ہی دعویٰ نہ ہونا چاہیے کہ ہم ایمان دار ہیں بلکہ اس ایمان کو طلب کرنا چاہیے جسے خدا چاہتا ہے۔ بھائیوں کے حقوق کو اور ہمسائیوں کے حقوق کو شناخت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ زبان سے کہہ لینا کہ ہم جانتے ہیں بیشک آسان ہے مگر سچی ہمدردی اور اخوّت کو بَرت کر دکھلانا مشکل ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام حرکات، اعمال، افعال کے لیے ایمان مِثل ایک انجن کے ہے ۔ جب ایمان ہوتا ہے تو سب حقوق خود بخود نظر آتے جاتے ہیں اور بڑے بڑے اعمال اور ہمدردی خود ہی انسان کرنے لگتا ہے ۔ ایمان کا تُخم آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے لیکن یہ ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا ۔‘‘ ( ملفوظات جلد6 صفحہ107) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-38/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ رسول وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات ہوتے ہیں۔ پس جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بہت خطرناک جرم کا مرتکب ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ شریعت کے سارے سلسلہ کو باطل کرنا چاہتا ہے اور حِلّت و حرمت کی قید اٹھا کر اباحت کا مسئلہ پھیلانا چاہتا ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیسے نجات کا مانع نہ ہو۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو لاانتہا برکات اور فیوض لے کر آیا ہے اس کا انکار ہو اور پھر نجات کی امید۔ اس کا انکار کرنا ساری بدیوں اور بدمعاشیوں کو جائز سمجھنا ہے کیونکہ وہ ان کو حرام ٹھہراتا ہے۔‘‘ ( ملفوظات جلد6 صفحہ89-88) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-37/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا مگر تاہم آپؐ کی بیویاں سب کام کر لیا کرتی تھیں ۔جھاڑو بھی دے لیا کرتی تھیں اور ساتھ اس کے عبادت بھی کرتی تھیں۔ چنانچہ ایک بیوی نے اپنی حفاظت کے واسطے ایک رسا لٹکا رکھا تھا کہ عبادت میں اُونگھ نہ آئے۔ عورتوں کے لیے ایک ٹکڑا عبادت کا خاوندوں کا حق ادا کرنا ہے اور ایک ٹکڑا عبادت کا خدا کا شکر بجا لانا ہے۔ خدا کا شکر کرنا اور خدا کی تعریف کرنی یہ بھی عبادت ہے اور دوسرا ٹکڑا عبادت کا نماز کو ادا کرنا ہے ۔“ ( ملفوظات جلد6 صفحہ53) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-36/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ ہر ایک شۓ کی ایک اُمّ ہوتی ہے ۔ مَیں نے سوچا کہ جو انعامات ہیں اُن کی اُمّ کیا ہے ؟ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اُن کی اُمّ اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ( المومن:61) ہے ۔ کوئی انسان بدی سے بچ نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو ۔ پس اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ فرما کر یہ جتلا دیا کہ عاصم وہی ہے اُسی کی طرف تم رجوع کرو۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد6 صفحہ 3) - [بِکھرنا ۔ نِکھرنا-اور خودی](https://mushahedat.com/بِکھرنا-۔-نِکھرنا-اور-خودی/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’انسان بیعت کنندہ کو اوّل انکسارى اور عِجز اختیار کرنى پڑتى ہے اور اپنى خودى اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتاہے تب وہ نشوونما کے قابل ہوتاہے لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھى رکھتاہے اسے ہر گز فیض حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ455) - [’’آج حوّا کی بریّت کے ہوئے ہیں سامان ‘‘](https://mushahedat.com/آج-حوّا-کی-بریّت-کے-ہوئے-ہیں-سامان/) - حضور انور ایدہ اللہ نے سانحہ لاہور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”دشمن نے ایک مذموم سازش کی اور اپنے زعم میں احمدیوں سے ان کا دین اور ایمان چھیننا چاہا لیکن اس کا یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔ ہم نے تو یہ نظارے دیکھے کہ باپ کے شہید ہونے پر اس کے نو دس سالہ بیٹے کو ماں نے یہ نصیحت کر کےمسجد بھجوایا کہ بیٹا وہیں کھڑے ہو کر جمعہ پڑھنا جہاں تمہارا باپ شہید ہوا تھا تا کہ یہ بات تمہارے ذہن میں رہے کہ موت ہمیں ہمارے عظیم مقاصد کے حصول سےخوفزدہ نہیں کر سکتی۔ پس جس قوم میں ایمان کی دولت سے لبریز ایسے بہادر بچے اور مائیں ہوں اس قوم کی ترقی کو کوئی دشمن اور دنیاوی طاقت روک نہیں سکتی۔ “ (ماہنامہ انصار اللہ نومبر،دسمبر2010ء کو شہدائے لاہور نمبر صفحہ 9) - [حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کا ایک مقصد ۔ مخلوق کا اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنا](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-آمد-کا-ایک-مقصد-۔-مخ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’بیعت سے اصل مدعا یہ ہے کہ اپنے نفس کو اپنے رہبر کی غلامی میں دے کر وہ علوم اور معارف اور برکات اس کے عوض میں لیوے جن سے ایمان قوی ہو اور معرفت بڑھے اور خدا تعالیٰ سے صاف تعلق پیدا ہو اور اسی طرح دنیوی جہنم سے رہا ہوکر آخرت کے دوزخ سے مخلصی نصیب ہو۔‘‘ (ضرورۃ الاما م،روحانی خزائن جلد 13صفحہ498) - [50 تقاریر بابت اخلاقیات (جلد چہارم)](https://mushahedat.com/50-تقاریر-بابت-اخلاقیات-جلد-چہارم/) - پیرہن آپ قا رئین نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ مَیں اپنی کتب کے پیش لفظ کو کوئی نہ کوئی عنوان دے کرتحریر کرتا ہوں۔ اِس وقت میرے ہاتھوں میں ”مشاہدات“ کی 31ویں کاوش ہے جو اخلاقیات پر 50 تقاریر پر مشتمل ہے۔ اس کے پیش لفظ کو مَیں ”پیرہن“ کا عنوان دے رہا ہوں جس کے معنی پوشاک اور لباس کے ہیں ۔ جس طرح انسان اپنے لباس سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کی شخصیت اُجاگر ہوتی ہے اسی طرح کسی کتاب کے پیش لفظ - [25 تقاریر بابت عہد بیعت ، شرائط بیعت اور ہم](https://mushahedat.com/25-تقاریر-بابت-عہد-بیعت-،-شرائط-بیعت-اور-ہ/) - ان تقاریرکو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات و خطابات میں بیان فرمودہ 10 شرائطِ بیعت پر مشتمل مواد سے بطور خلاصہ تیار کیاگیا ہے جو ماہ نومبر اور ماہ دسمبر 2025ءمیں آن ائیر ہوئیں۔ جِن میں بیعت، اطاعت پر مشتمل مزید تقاریر شامل کر کے 25 تقاریرپر ایک مجموعہ ”مشاہدات“ کے کرمفرماؤں کی خدمت میں پیش ہے۔ جس میں آپ کو لفظ بیعت کے معنی، اُس کے تقاضے، اِس حوالے سے ہماری ذمہ داریاں، 10شرائطِ بیعت اور اِس میں درج اخلاقیات، اطاعت،وفاداری اور حضرت مسیح موعود علیہ لسلام کی آمد ، بعثت اور آپؑ کے ارشادات پر سیر حاصل بحث ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے بہت مبارک کرے اور ہمیں اِن مبارک و مقدّس تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-35/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” کوئی مشکل مشکل اور کوئی مصیبت مصیبت رہ سکتی ہی نہیں اگر کوئی شخص استقامت اور صبر اپنا شیوا کر لے اور خدا تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرے خدا داری چہ غم داری۔‘‘ ( ملفوظات جلد5 صفحہ 274) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-34/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’سود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے ۔ قمار بازی میں ذمہ داری نہیں ہوتی۔ دنیا کے کاروبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ دوسرے ان تمام سوالوں میں اس امر کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہیئں ۔ مثلاً اب کوئی دعوت کھانے جاوے اور اسی خیال میں لگ جاوے کہ کسی وقت حرام کا پیسہ ان کے گھر میں آیا ہوگا پھر اس طرح تو آخر کار دعوتوں کا کھانا ہی بند ہو جاوے گا۔ خدا کا نام ستّار بھی ہے ورنہ دنیا میں عام طور پر راست باز کم ہوتے ہیں مستور الحال بہت ہوتے ہیں۔ یہ بھی قران میں لکھا ہےوَلَا تَجَسَّسُوْا یعنی تجسّس مت کیا کرو ورنہ اس طرح تم مشقت میں پڑو گے۔“ ( ملفوظات جلد5 صفحہ223) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-33/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” بہترین دعا وہ ہوتی ہے جو جامع ہو تمام خیروں کی اور مانع ہو تمام مضرّات کی۔ اس لئے اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ کی دُعا میں آدمؑ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کُل منعم علیہم لوگوں کے انعامات کے حصول کی دعا ہے اور غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ میں ہر قسم کی مضرّتوں سے بچنے کی دُعا ہے ۔ چونکہ مغضوب سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاریٰ بالاتفاق ہیں تو اس دعا کی تعلیم کا منشا صاف ہے کہ یہود نے جیسے بے جا عداوت کی تھی ۔ مسیح موعود کے زمانہ میں مولوی لوگ بھی ویسا ہی کریں گے اور حدیثیں اس کی تائید کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ یہودیوں کے قدم بہ قدم چلیں گے۔ “ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 429-430) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-32/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ۔ ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔ مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے۔ وَلَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں ۔ بعض لوگوں کاحال سُنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔ گالیاں دیتے ہیں۔حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کردیتے ہیں۔ چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔ انسان کے اخلاقِ فاضلہ اور خداتعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں ۔ اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خداتعالیٰ سے صلح ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےخَیۡرُکُمۡ خَیۡرُکۡمۡ لِاَھۡلِہٖ ۔ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے۔“ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 417-418) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-31/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے اور صرف ایک ہی قرآن شریف اس رسول پر نازل ہوا ہے جس کی تابعداری سے ہم خدا کو پاسکتے ہیں ۔ آج کل فقراء کے نکالے ہوئے طریقے اور گدی نشینوں اور سجادہ نشینوں کی سیفیاں اور دعائیں اور درود اور وظائف یہ سب انسان کو مستقیم راہ سے بھٹکانے کا آلہ ہیں۔ سو تم اُن سے پرہیز کرو ۔ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کی مَہر کو توڑنا چاہا گویا اپنی الگ ایک شریعت بنالی ہے۔ تم یاد رکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی پَیروی اور نماز روزہ وغیرہ جو مسنون طریقے ہیں ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کُنجی ہے ہی نہیں ۔ بُھولا ہوا ہے جو اِن راہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔ ناکام مرے گا وہ جو اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کا تابعدار نہیں۔ بلکہ اَور اَور راہوں سے اُسے تلاش کرتا ہے ۔ دیکھو! گناہ کبیرہ بھی ہیں اُن کو تو ہر ایک جانتا ہے اور اپنی طاقت کے موافق نیک انسان اُن سےبچنے کی کوشش بھی کرتا ہے مگر تم تمام گناہوں سے کیا کبائر اور کیا صغائر سب سےبچو ۔ کیونکہ گناہ ایک زہر ہے جس کے استعمال سے زندہ رہنا محال ہے ۔ گناہ ایک آگ ہے جو رُوحانی قویٰ کو جلاکر خاک سیاہ کردیتی ہے۔ پس تم ہر قسم کے کیا صغیرہ کیا کبیرہ سب اندرونی بیرونی گناہوں سے بچو۔ آنکھ کے گناہوں سے ، ہاتھ کے گناہوں سے، کان ناک اور زبان اور شرمگاہ کے گناہوں سے بچو۔ غرض ہر عضو کے گناہ کے زہر سے بچتے رہو اور پرہیز کرتے رہو۔“ (ملفوظات جلد 5صفحہ 125-126) - [نیا سال مبارک](https://mushahedat.com/نیا-سال-مبارک/) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-30/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” تم لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اسی پر بھروسہ نہ کر لینا۔ صرف اتنی ہی بات کافی نہیں۔ زبانی اقرار سے کچھ نہیں بنتا جب تک عملی طور سے اس اقرار کی تصدیق نہ کر کے دکھائی جاوے۔ یوں زبانی تو بہت سے خوش آمدی لوگ بھی اقرار کر لیا کرتے ہیں مگر صادق وہی ہے جو عملی رنگ سے اس اقرار کا ثبوت دیتا ہے ۔ خدا تعا لیٰ کی نظر انسان کے دل پر پڑتی ہے۔ پس اب سے اقرار سچا کر لو اور دل کو اس اقرار میں زبان کے ساتھ شریک کر لو کہ جب تک قبر میں جاویں ہر قسم کے گناہ سے شرک وغیرہ سے بچیں گے۔ غرض حق اور حق العباد میں کوئی کمی یا سستی نہیں کریں گے ۔اس طرح سے خدا تعا لیٰ تم کو ہر طرح کے عذابوں سے بچاوے گا اور تمہاری نصرت ہر میدان میں کرے گا۔ ظلم کو ترک کرو۔ خیانت، حق تلفی اپنا شیوہ نہ بناؤ اور سب سے بڑا گناہ جو غفلت ہے اس سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔‘‘ ( ملفوظات جلد5 صفحہ240-239) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-29/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ دیکھو! قرآن شریف سورۂ مزمّل میں صاف تاکید ہے کہ انسان کو کچھ حصہ رات آرام بھی کرنا چاہیے ۔ اس سے دن بھر کی کوفت اور تکان دور ہو کر قویٰ کو اپنا حرج شدہ مادہ بہم پہنچانے کا وقفہ مِل جاتا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل یعنی سنّت بھی اسی کے مطابق ثابت ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں اُصَلِّیْ وَ اَنُوْمُ اصل میں انسان کی مثال ایک گھوڑے کی سی ہے ۔ اگر ہم ایک گھوڑے سے ایک دن اس کی طاقت سے زیادہ کام لیں اور اُسے آرام کرنے کا وقفہ ہی نہ دیں تو بہت قریب ایساوقت ہو گا کہ ہم اس کے وجود کو ہی ضائع کر کے تھوڑے فائدہ سے بھی محروم ہو جائیں گے ۔ نفس کو گھوڑے سے مناسبت بھی ہے ۔‘‘ ( ملفوظات جلد5 صفحہ129) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-28/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں جلا دینے کی کوشش کی گئی اس وقت اُن کے پاس فرشتے آئے اور کہا کہ تمہیں کوئی حاجت ہے تو ابراہیم علیہ السلام نے ان کو یہی جواب دیا ۔ بلٰی وَلٰکِنْ اِلَیْکُمْ فَلَا۔ یعنی ہاں حاجت تو ہے لیکن تمہاری طرف نہیں۔ ایسے مقام پر دعا بھی منع ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام اس مقام کو خوب سمجھتےہیں۔ گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی غرض اصل غرض انسان کی محبت ذاتی ہونی چاہیے۔ اس سے جو کچھ اطاعت اور عبادت ہوگی وہ اعلیٰ درجہ کے نتائج اپنے ساتھ رکھے گی۔ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے مبارک بندے ہوتے ہیں وہ جس گھر میں ہوں وہ گھر مبارک اور جس شہر میں ہوں وہ شہر مبارک۔ اس کی برکت سے بہت سی بلائیں دور ہو جاتی ہیں اس کی ہر حرکت و سکون، اُس کے در و دیوار پر خدا کی برکت اور رحمت نازل ہوتی ہے ۔ مَیں اسی راہ کو سکھانا چاہتا ہوں اسی غرض کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے ۔‘‘ ( ملفوظات جلد5 صفحہ 108) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-27/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ہماری جماعت تو ایمان لاتی ہے۔ مگر اصل میں مدارِ ایمان نشانوں پر ہوتا ہے۔ اگرچہ انسان محسوس نہ کرے مگر اس کے اندر بعض کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں اور جب تک وہ کمزوریاں دور نہ ہوں اعلیٰ مراتب ایمانی نہیں مل سکتے اور یہ کمزوریاں نشانات ہی کے ذریعہ دور ہوتی ہیں اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے ان کمزوریوں کو دور کرے اور جماعت اپنے ایمان میں ترقی کرے اب وہ وقت آگیا ہے کہ إِنَّ اللّٰهَ عَلَى نَصْرِهِم لَقَدِيرٌ (الحج:40) کا نمونہ دکھائے ۔ اللہ تعالیٰ کی نظر سے صادق اور کاذب، خائن اور مظلوم پوشیدہ نہیں ہیں۔ اب ضروری ہے کہ سب گروہ متفق ہو کر میرے استیصال کے درپے ہوں جیسے جنگ احزاب میں ہوئے تھے۔ جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب خدا تعالیٰ نے چاہا ہے۔ مَیں نے جو خواب میں دیکھا کہ دریائے نیل کے کنارہ پر ہوں اور بعض چلّائے کہ ہم پکڑے گئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا وقت بھی آوے جب جماعت کو کوئی ياس ہو مگر مَیں یقین رکھتا ہوں کہ خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس وقت یہ پورے زور لگائیں گے تاکہ قتل کے مقدمہ کی حسرتیں نہ رہ جائیں کہ کیوں چُھوٹ گیا۔ یہ لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مَیں پیش کرتا ہوں مگر وہ دیکھ لیں گے کہ اِ کرَاماً عَجَبًا کیسے ہوتا ہے۔‘‘ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 40) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-26/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’تم کو خدا تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ اپنی حالت بدل دو اور سمجھو کہ ایک دن موت آنی ہے۔ خدا کا دستور ہے کہ وہ گناہ گار کو بلا سزا دیے نہیں چھوڑتا۔ توبہ کرنے سے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ بہت ہی رحم کرنے والا ہے مگر سزا بھی بہت دینے والا ہے۔ تمہاری فطرت میں کوئی نیکی ہوگی ورنہ عام طور پر اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ اس طرح سے خبر دیوے اس لیے اپنی زندگی کو بدلو اور عادتوں کو ٹھیک کرو۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 40) - [فہرست مشاہدات  1-900](https://mushahedat.com/فہرست-مشاہدات-1-900/) - فہرست مشاہدات-1-900ڈاؤن لوڈ - [فہرست مشاہدات-1-800](https://mushahedat.com/فہرست-مشاہدات-1-800/) - فہرست مشاہدات-1-800ڈاؤن لوڈ - [50 تقاریر برموقع یوم خلافت2025ء (حصہ دوم)](https://mushahedat.com/50-تقاریر-برموقع-یوم-خلافت2025ء-حصہ-دوم/) - ”مشاہدات“ کے آنگن کا 22 واں درخت بنیادی اینٹ خلافت کے حوالہ سے جو بھی موضوع ذہن میں آئے جیسے ضرورتِ خلافت، قیامِ خلافت، نظامِ خلافت، مقام و منصبِ خلافت، برکاتِ خلافت، استحکامِ خلافت اور حفاظتِ خلافت نیز خلافت سے وابستگی، خلافت سے پختہ تعلق اور پیار و محبت۔ ان تمام کو پایۂ تکمیل تک - [50تقاریر(جلد دوم)برموقع یوم مسیح موعودؑ2025ء](https://mushahedat.com/50تقاریرجلد-دومبرموقع-یوم-مسیح-موعودؑ2025/) - اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم سورت ابراہیم کی آیت 6 میں حضرت موسیٰؑ کے اپنی قوم کے نام پیغام ” ذَکِّرْھُمْ بِاَیّٰمِ اللّٰہِ“ کہ اُنہیں اللہ کے دن یاد کرواتا رہ، کو محفوظ فرمایا ہے۔ انبیاء کی یہ سُنَّت مستمرّہ رہی ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو اللہ کے فضلوں اور انعامات کے خاص دن یاد کرواتے رہتے ہیں تا اُس خدائے عزّ و جلّ کا شکریہ ادا کیا جا سکے جس نے اِن انبیاء کو کامیابیوں سے ہمکنار کیا۔ اِسی سُنَّت کی روشنی میں جماعتِ احمدیہ بھی سال بھر مختلف دن مناتی رہتی ہے اور ”مشاہدات“کو گزشتہ دو سالوں سے اِن اہم مبارک دنوں کے حوالے سے مواد تحریری و تقریری شکل کے علاوہ کتابی اشکال میں بھی مہیا کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ یہ 50 تقریریں اِسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جو یومِ مسیح موعودؑ 2025ء کے موقع پر منصۂ شہود پر لایا جا رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ - [50تقاریر برموقع یوم مسیح موعودؑ](https://mushahedat.com/50تقاریر-برموقع-یوم-مسیح-موعودؑ-2/) - ابتدائیہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی دی ہوئی توفیق سے لجنہ اماء اللہ کے سو سال پر 100 تقاریر، عید میلاد النبی 2023ء کے موقع پر 39 تقاریراور یوم مصلح موعودؓ کے موقع پر52 تقاریر کے مجموعوں کے بعد اب یوم مسیح موعود ؑکے موقع پر 50 تقاریر پر مشتمل مجموعہ کتابی شکل - [20تقاریربابت فلسفہ دُعا اور اس کی حقیقت](https://mushahedat.com/20تقاریربابت-فلسفہ-دُعا-اور-اس-کی-حقیقت/) - نماز اور دعا کا رمضان المبارک کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ اس دفعہ رمضان ایسے وقت میں آرہا ہے جب امت مسلمہ شدید اختلافات کا شکار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ باقی اسلامی ممالک بھی کوئی محفوظ نہیں ہیں۔ اِن حالات میں ہمیں اِس رمضان میں بہت دعائیں کرنی ہوں گی۔اِسے دعاؤں کا رمضان بنانا ہوگا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ان دنوں جن دعاؤں کی طرف بلارہے ہیں انہیں حرزِ جان بناکر نمازوں کو بروقت ادا کرنا ہے اور ان نمازوں کو دعاؤں والی نمازیں بنا دینا ہے۔ - [40تقاریربابت خاندان حضرت مسیح موعودؑ (حصہ دوم)](https://mushahedat.com/40تقاریربابت-خاندان-حضرت-مسیح-موعودؑ-حص/) - ” مشاہدات“ کی یہ متذکرہ بالا کتاب 17ویں جلد ہے جو 40 تقاریر بابت خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلددوم پر مشتمل ہے گو یہ 40 تقاریر ہیں لیکن بعض تقاریر میں بیگمات کو شامل کر کے 48 افراد کی سیرت بیان ہوئی ہے ۔ اس سے قبل اِسی عنوان پر 60 تقاریر پر مشتمل تصنیف 16ویں جلد کے طور پر منصّہ شہود پر آئی تھی جو67 افراد کی سیرت پر مشتمل ہے اور یوں دونوں کتب میں 115 افراد کی سیرت کو جمع کر دیا گیا ہے - [  60 تقاریر بابت افراد خاندان حضرت مسیح موعودؑ   (حصہ اول)](https://mushahedat.com/60-تقاریر-بابت-افراد-خاندان-حضرت-مسیح-م/) - الحمدللّٰہ ثم الحمدللّٰہ! مجھ حقیر اور بے نفس انسان کو مامُورِ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو غیرمعمولی محبت و عقیدت ہے اس کا اظہار خاکسار بہت دفعہ اپنے آپ سے مخاطب ہو کر یوں کرتا رہا ہے کہ کاش! خاکسار بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دَور میں ہوتا۔ مال، وقت،عزت و آبرو کی قربانی کرتا اور ایک پیسہ، دو پیسہ اعلائے کلمۃُ الاسلام کے لیے چندہ دیتا اور میرا نام بھی تاابد روحانی خزائن کی جلدوں میں لکھا جاتا ۔ گو یہ مبارک و مقدس موقع میرے لیے مقدر نہ تھا لیکن آج آپؑ سے اِسی محبت و عقیدت کا نتیجہ ہے کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی نسلِ طیبہ پر قلم اٹھانے اور 100 سے زائد اپنےنام زندہ کر جانے والوں کی سیرت و سوانح پر تقاریر کی صورت میں مضامین لکھنے کی توفیق ملی - [70 تقاریربرائے خدام الاحمدیہ   ](https://mushahedat.com/70-تقاریربرائے-خدام-الاحمدیہ/) - ”مشاہدات“ کے قارئین کے لیے یہ امر خوشی کا باعث ہوگا کہ لجنہ اماء اللہ کی 100 تقاریر اور مجلس انصاراللہ سے متعلقہ 65 تقاریر کے مجموعوں کے بعد مجلس خدام الاحمدیہ کے لیے 70 تقاریر کا مجموعہ پیش ہے۔ یہ مجموعی طور پر ادارہ ”مشاہدات“ کا 13واں مجموعہ ہے اور یوں ان 13 مجموعوں میں مجموعی طور پر 557 تقاریرکو سمو دیا گیا ہے۔ بعض تقاریر ایک سے زائد مجموعوں میں دو بار بھی آئیں ہیں جبکہ کل تقاریر کی تعداد 550 کے فگر کو چھو رہی ہے ۔الحمدللّٰہ رب العالمین - [20تقاریر بابت محرم الحرام](https://mushahedat.com/20تقاریر-بابت-محرم-الحرام/) - بابُ الدُّخُول جامعہ احمدیہ کی تعلیم کے دوران شیعہ ازم وہ مضمون تھا جو مجھے مشکل لگا کرتا تھا شاید اس کی ایک وجہ کم سِنی میں محرم کے دردناک واقعات کو پڑھنے یا سننے کی سکت نہ ہوتی تھی۔ دل اُس محبت اور عقیدت کی وجہ سے جو بالطبع ایک احمدی کو حضرت مسیح - [25تقاریربابت اہلِ بیتِ رسولؐ اور اُن کا مقام و مرتبہ](https://mushahedat.com/25تقاریربابت-اہلِ-بیتِ-رسولؐ-اور-اُن-کا/) - محرم الحرام سے متعلق تقاریر کی تیاری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اور اولاد مبارکہ کے متعلق تقاریر تیار ہونی شروع ہوئیں جو اب کتابی شکل میں ہدیہ قارئین ہے۔ ”مشاہدات“ کی یہ گیارہویں کاوش ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حقیر کوششوں کو قبول فرمائے اور اہلِ بیتِ رسولؐ سے محبت اور عقیدت بڑھانے کا موجب ہو ۔آمین - [50 تقاریر  بابت سیرت و شمائل حضرت محمد ﷺ (حصہ دوم)](https://mushahedat.com/2578-2/) - اور اب تک کی 550 تقاریر میں 89 تقاریرآنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کےمختلف پہلوؤں پر ہیں۔ جن میں سے 39 تقاریر کو گزشتہ سال ربیع الاول 1445ھ کے موقع پر سیرت وشمائل محمدﷺ کے نام سے کتابی شکل دی گئی ۔ اب اِس سال مزید 50 تقاریرسیرت و شمائل محمد ﷺکے نام سے حصہ دوم کی صورت میں ہدیہ قارئین کی جا رہی ہیں۔ - [تقاریربابت اخلاقیات (حصہ اول)](https://mushahedat.com/تقاریربابت-اخلاقیات-حصہ-اول/) - اخلاقیات کے حوالہ سے بہت ہی کارآمد باتیں تو کتاب میں مندرج 50 تقاریر میں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں تاہم یہاں یہ بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اخلاقیات پر تقریر کرتے وقت یا اِس کی تیاری کے وقت ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عالِم با عمل اور عامِل باعلم بننے کی کوشش کرتا ہے یا کرتی ہے ۔ وہ ہزار دفعہ سوچتا یا سوچتی ہے کہ مَیں جس اچھی بات کو پبلک میں بیان کرنے لگا ہوں /لگی ہوں کیا مَیں خود اِ س پر عمل پیرا ہوں یا نہیں ۔ اِسی پہلو کو مدِ نظر رکھ کر اخلاقیات پر پہلے مرحلہ میں 50 تقاریر پیش کی جا رہی ہیں ۔ - [50تقاریر بابت قرآن کریم (حصہ اول)](https://mushahedat.com/50تقاریر-بابت-قرآن-کریم-حصہ-اول/) - خاکسار اپنے خداوند کریم کا شکر گزار ہے جس نے پہلے قرآن کریم پر تقاریر کے لئے عناوین تلاش کرنے اور سوچنے کی توفیق دی۔ پھر 50 عناوین کا چناؤ کرکے ان پر مواد اکٹھا کرنے اور کروانے کے سلسلے کا آغاز ہوا اور پھر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے تقاریر لکھ کر کمپوز کروائی گئیں۔ تب PDF بن کر مشاہدات کا نمبر لگ کر ویب سائیٹ پر اپلوڈ ہوتی رہیں اور روزانہ کی بنیاد پر قارئین کی خدمت میں پیش کی گئیں۔ اب کتابی شکل میں رنگ برنگے پھولوں کا یہ گلدستہ احبابِ جماعت کی خدمت میں پیش کرکے خاکسار بے حد مسرت محسوس کررہا ہے۔ - [عید مبارک](https://mushahedat.com/عید-مبارک/) - [مشاہدات کے دو سال](https://mushahedat.com/مشاہدات-کے-دو-سال/) - ‎⁨مشاہدات-796-’’مشاہدات‘‘ کے دو سال⁩ڈاؤن لوڈ - [30تقاریر بابت قولِ سدید و قولِ زُور](https://mushahedat.com/30تقاریر-بابت-قولِ-سدید-و-قولِ-زُور/) - بنیادی وصف ۔سچائی ”مشاہدات“ کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے احباب جماعت کی تعلیم و تربیت اور اصلاحِ احوال کے لیے تقاریر کی صورت میں خدمت کرنے کی توفیق مل رہی ہے بالخصوص امیرالمومنین حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات، پیغامات اور ہدایات کو اوّلین فرصت میں احبابِ جماعت تک - [شرائط بیعت سلسلہ عالیہ احمدیہ](https://mushahedat.com/شرائط-بیعت-سلسلہ-عالیہ-احمدیہ/) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-25/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” بس یہی بڑی بات ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو۔ کسی نے نُوح علیہ السلام سے دریافت کیا تھا کہ آپ تو قریب ایک ہزار سال کے دُنیا میں رہ کے آئے ہیں۔ بتلایئے کیا کچھ دیکھا۔ نوح ؑ نے جواب دیا کہ یہ حال معلوم ہوا ہے جیسے ایک دروازے سے آئے اور دوسرے سے چلے گئے۔ تو عُمر کا کیا ہے لمبی ہوئی تو کیا، تھوڑی ہوئی تو کیا۔ خاتمہ بالخیر چاہئے۔“ (ملفوظات جلد 4 صفحہ170) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-24/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان کسی بات کو خالی الذہن ہو کر نہیں سوچتا اور تمام پہلوؤں پر توجہ نہیں کرتا اور غور سے نہیں سُنتا ۔ اس وقت تک پُرانے خیالات نہیں چھوڑ سکتا ۔ اس لئے جب آدمی کسی نئی بات کو سُنے تو اُسے یہ نہیں چاہئے کہ سُنتے ہی اُ س کی مخالفت کے لئے تیار ہوجاوے بلکہ اس کا فرض ہے کہ اُس کے سارے پہلوؤں پر پورا فکر کرے اور انصاف اور دیانت اور سب سے بڑھ کرخداتعالیٰ کے خوف کو مد نظر رکھ کر تنہائی میں اس پر سوچے۔“ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 1-2) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-23/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’آوائل میں جو سچا مسلمان ہوتا ہے اُسے صبر کرنا پڑتا ہے ۔ صحابہ پر بھی ایسے زمانے آئے ہیں کہ پتّے کھا کھا کر گزارہ کيا ۔ بعض وقت روٹی کا ٹکڑا بھی میسر نہیں آتا تھا کوئی انسان کسی کے ساتھ بھلائی نہیں کر سکتا جب تک خدا بھلائی نہ کرے جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو خدا اس کے واسطے دروازہ کھول دیتا ہے مَنْ يَتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (الطلاق: 3)۔ خدا تعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ اس سے سب کچھ حاصل ہوگا ۔ استقامت چاہیے ۔ انبیاء کو جس قدر درجات ملے ہیں استقامت سے ملے ہیں ۔ اور یوں خشک نمازوں اور روزوں سے کیا ہو سکتا ہے؟ ‘‘ (ملفوظات جلد4 صفحہ 204) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-22/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’خَلق اور خُلق دو لفظ ہیں۔ خَلق تو ظاہری حسن پر بولا جاتا ہے اور خُلق باطنی حُسن پر بولا جاتا ہے۔ باطنی قویٰ میں جس قدر مِثل عقل، فہم ،سخاوت، شجاعت، غضب وغیرہ انسان کو دیے گئے ہیں ان سب کا نام خُلق ہے اور عوام الناس میں آج کل جسے خُلق کہا جاتا ہے جیسے ایک شخص کے ساتھ تکلّف کے ساتھ پیش آنا اور تصنّع سے اس کے ساتھ ظاہری طور پر بڑی شیریں الفاظی سے پیش آنا تو اس کا نام خُلق نہیں بلکہ نفاق ہے۔ خُلق سے مراد یہ ہے کہ اندرونی قویٰ کو اپنے اپنے مناسب مقام پر استعمال کیا جائے ۔ جہاں شجاعت دکھانے کا موقع ہو وہاں شجاعت دکھاوے ۔جہاں صبر دکھانا ہے وہاں صبر دکھائے ۔جہاں انتقام چاہیے وہاں انتقام لے۔ جہاں سخاوت چاہیے وہاں سے سخاوت کرے یعنی ہر ایک محل پر ہر ایک قویٰ کو استعمال کرے نہ گھٹایا جائے نہ بڑھایا جائے۔ یہاں تک کہ عقل اور غضب بھی جہاں تک کہ اس سے نیکی پر استقامت کی جاوے۔ خُلق ہی میں داخل ہے … غرض یہ کہ انسان کے نفس میں یہ سب صفات مِثل صبر ،سخاوت، انتقام، ہمت، بخل، عدم بخل، حسد ،عدم حسد ہوتی ہیں اور ان کو اپنے محل اور موقع پر صرف کرنے کا نام خُلق ہے ۔ حسد بہت بُری بلا ہےلیکن جب موقع کے ساتھ اپنے مقام پر رکھا جاوے تو پھر بہت عمدہ ہو جاوے گا ۔حسد کے معنی ہیں دوسرے کا زوالِ نعمت چاہنا لیکن جب اپنے نفس سے بالکل محو ہو کر ایک مصلحت کے لیے دوسرے کا زوال چاہتا ہے تو اس وقت یہ ایک محمود صفت ہو جاتی ہے جیسے کہ ہم تثلیث کا زوال چاہتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد4 صفحہ327-326) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-21/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اب دوسری سیروں کو چھوڑ کر روحانی سیروں کی طرف متوجہ ہو جاویں۔ یہ آپ کی سعادت کی علامت ہے کہ اتنی دور سے اس جلسہ کے واسطے آئے اور یہاں ٹھہر گئے اور اس قدر مقابلہ نفس کا کیا ۔ ہر ایک کو یہ طاقت نہیں ہوتی کہ جذب نفس کے ساتھ کُشتی کریں ۔آپ نے جن کو وہاں جا کر دیکھنا تھا اُن کی صورتیں انسانوں کی ہی ہوں گی مگر دل کا کیا پتہ کہ وہ بھی انسانوں کے ہوں گے یا نہیں۔ لوگ باوجود اس کے کہ ابتلاؤں میں مبتلا ہیں مگر تکبّر ان کے دماغ سے نہیں گیا ۔ ہم سے تمسخر وغیرہ اسی طرح ہے اور دلی والے پنجابیوں کو تو بَیل کہتے ہیں جس کے معنی پنجابی میں ڈھگا ہے۔ ان کے خیالوں میں صرف دنیا کی زندگی ہے مگر جو لوگ بہروپیوں کے رنگ میں بولتے ہیں ان کو پاک عقل نہیں ملتی ۔‘‘ (ملفوظات جلد4 صفحہ 325-324) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-20/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اطاعت کوئی چھوٹی سی بات نہيں اور سہل امر نہیں۔ يہ بھی ايک موت ہوتی ہے۔ جيسے ايک زندہ آدمی کی کھال اُتاری جائے ويسی ہی اطاعت ہے۔‘‘ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 74 حاشيہ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-19/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”یاد رکھو کہ بیعت کے بعد تبدیلی کرنی ضروری ہوتی ہے۔ اگر بیعت کے بعد اپنی حالت میں تبدیلی نہ کی جاوے۔ تو پھر یہ استخفاف ہے۔ بیعت بازیچہ اطفال نہیں ہے۔ درحقیقت وہی بیعت کرتا ہے جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر ایک امر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ پہلے تعلقات معدوم ہو کر نئے تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔ “ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 339) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-18/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’یہ مجھے گالیاں دیتے ہیں لیکن مَیں ان کی گالیوں کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ ان پر افسوس کرتا ہوں کیونکہ وہ اس مقابلہ سے عاجز آگئے ہیں اور اپنی عاجزی اور فرو مائیگی کو بجز اس کے نہیں چھپا سکتے کہ گالیاں دیں ،کفر کے فتوے لگائیں، جھوٹے مقدمات بنائیں اور قسم قسم کے افترا اور بہتان لگائیں۔ وہ اپنی ساری قوتوں کو کام میں لا کر میرا مقابلہ کر لیں اور دیکھ لیں کہ آخری فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے ۔ مَیں اُن کی گالیوں کی اگر پرواہ کروں تو وہ اصل کام جو خدا تعالیٰ نے مجھے سپرد کیا ہے رہ جاتا ہے۔ اس لیے جہاں مَیں اُن کی گالیوں کی پرواہ نہیں کرتا مَیں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اُن کو مناسب ہے کہ اُن کی گالیاں سن کر برداشت کریں اور ہرگز ہرگز گالی کا جواب گالی سے نہ دیں کیونکہ اس طرح پر برکت جاتی رہتی ہے ۔ وہ صبر اور برداشت کا نمونہ ظاہر کریں اور اپنے اخلاق دکھائیں ۔ یقیناً یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔ جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردبادی کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے ۔ غصّہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لیے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 180) - [احمدیہ اسٹیج کا تقدّس](https://mushahedat.com/احمدیہ-اسٹیج-کا-تقدّس/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’انسان کو چاہئے شوخ نہ ہو۔ بے حیائی نہ کرے۔ مخلوق سے بد سلوکی نہ کرے۔ محبت اور نیکی سے پیش آوے۔ اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھے۔ سختی اور نرمی مناسب موقع اور مناسب حال کرے۔‘‘ ْ (ملفوظات جلد5 صفحہ609 ایڈیشن 1988ء) - [’’کہنا ‘‘ ۔ اور ۔ ’’کرنا ‘‘](https://mushahedat.com/کہنا-۔-اور-۔-کرنا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔ ‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ67 ایڈیشن 1984ء) - [ہم نئے سال کا آغاز کیسے کریں  (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/ہم-نئے-سال-کا-آغاز-کیسے-کریں-تقریر-نمب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتےہیں: ”مَیں یہ بھی کہوں گا کہ ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا فائدہ ہمیں تبھی ہوگا جب ہم اپنے جائزے لیں کہ گزشتہ سال میں ہم نے اپنے احمدی ہونے کے حق کو کس حد تک ادا کیا ہے اور آئندہ کے لئے ہم اس حق کو ادا کرنے کے لئے کتنی کوشش کریں گے۔پس ہمیں اس جمعہ سے آئندہ کے لئے ایسے ارادے قائم کرنے چاہئیں جو نئے سال میں ہمارے لئے اس حق کی ادائیگی کے لئے چستی اور محنت کا سامان پیدا کرتے رہیں۔“ (خطبہ جمعہ 2 ؍جنوری 2015ء ) - [ہم نئے سال کا آغاز کیسے کریں (ازحضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ) (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/ہم-نئے-سال-کا-آغاز-کیسے-کریں-ازحضرت-خلی/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتےہیں: ’’ہم ہر سال کی مبارک باد ایک دوسرے کو دیتے ہیں لیکن ایک مومن کے لئے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہو ں، اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے کہ اصل عید اور خوشی کا دن اور مبارک دن وہ ہوتا ہے جو انسان کی توبہ کا دن ہوتا ہے۔ اس کی مغفرت اور بخشش کا دن ہوتا ہے۔ جو انسان کی روحانی منازل کی طرف نشان دہی کروانے کا دن ہوتا ہے۔ جو دن ایک انسان کو روحانی ترقی کے راستوں کی طرف رہنمائی کرنے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو بروئے کار لانے کی طرف توجہ دلانے والادن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کا قرب پانےکے لیے عملی کوششوں کا دن ہوتا ہے۔ پس ہمارے سال اور دن اُس صورت میں ہمارے لیے مبارک بنیں گے جب ان مقاصد کے حصول کے لیے ہم خالص ہو کر، اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے، اس کے آگے جھکیں گے۔ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘ (خطبہ جمعہ یکم جنوری 2010ء) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-17/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”انسان کوسچائی تک پہنچنے کے واسطے دو باتوں کی ضرورت ہے۔ اوّل خداداد عقل اور فہم ہو۔ دوم خداداد سمجھ اور سعادت ہو۔ جن لوگوں کو مناسبت نہیں ہوتی ۔ ان کے دلوں میں کراہت اور اعتراض ہی پیدا ہوتے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ لوگوں میں سے اکثرلوگوں نے راستبازوں کا انکارکیا۔ آپ دُور دراز سے آئے ہیں اورآپ کو آتے ہی ایک روک بھی پیدا ہوگی اور ہم نے تو ایک ہی روک کا ذکر سُنا ہے۔ مخالفانہ گفتگو کے بُجز احقاق حق نہیں ہوتا۔ بہت لوگ منافقانہ طور پر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ۔ پس ایسے لوگ کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ تم خوب جی کھول کر اعتراض کرو۔ ہم پورے طور پر جواب دینے کو تیار ہیں۔“ (ملفوظات جلد 3صفحہ 425) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-16/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کو یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ وہ اس امر کو مد نظر رکھیں جو مَیں بیان کرتا ہوں۔ مجھے ہمیشہ اگر کوئی خیال آتا ہے تو یہی آتا ہے کہ دنیا میں تو رشتےناطے ہوتے ہیں ۔ بعض ان میں سے خوبصورتی کے لحاظ سے ہوتے ہیں بعض خاندان یا دولت کے لحاظ سے اور بعض طاقت کے لحاظ سے لیکن جنابِ الٰہی کو اِن امور کی پرواہ نہیں۔ اُس نے تو صاف طور پر فرما دیا کہ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزّز و مکرّم ہے جو متقی ہے ۔اب جو جماعت اتقیاء ہے خدا اس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہوسکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور ناپاک بھی وہیں ۔ ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہواور خبیث ہلاک کیاجاوے اور چونکہ اس کا عِلم خدا کو ہے کہ کون اُس کے نزدیک متقی ہے ۔ پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے ۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے اور بدبخت ہے جو لعنت کے نیچے آیا ہے۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 238) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-15/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’استغفار کرتے رہو اور موت کو یاد رکھو۔ موت سے بڑھ کر اور کوئی بیدار کرنے والی چیز نہیں ہے جب انسان سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ247) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-14/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ مختلف مذہب کے لوگ یک جا جمع نہیں ہو سکتے ۔ سُنّۃُ اللّٰہ کا نہ سمجھنا بھی ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ بعض وقت بَلا کو ہم ٹلا دیتے ہیں۔ تو انسان بے باک ہو کر کہتا ہے کہ بَلا ٹل گئی اور پھر شوخیاں کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ پکڑتا ہے اور ہلاک کر دیتا ہے۔ پس اگر طاعون کم ہو جاوے تو اس سے دلیر نہیں ہونا چاہیے۔ خدا تعالیٰ کی مہلت سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 384-385) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-13/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”بَیعت کے معنے ہیں اپنے تئیں بیچ دینا اور یہ ایک کیفیت ہے جس کو قلب محسوس کرتا ہے جبکہ انسان اپنے صِدق اوراخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہوجائے تو وہ بَیعت کے لئے خود بخود مجبور ہوجاتا ہے اورجب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جائے تو انسان سمجھ لے کہ ابھی اس کے صِدق اور اخلاص میں کمی ہے۔“ (ملفوظات جلد 2۔صفحہ 294) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-12/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”دُعا کے لئے رِقّت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں۔ یہ مُناسب نہیں کہ انسان مسنُون دعاؤں کے ایسا پیچھے پڑے کہ اُن کو جنترمنتر کی طرح پڑھتا رہے اورحقیقت کو نہ پہچانے۔ اتّباع سنّت ضروری ہے۔ مگر تلاشِ رقّت بھی اتباع سنّت ہے۔ اپنی زبان میں جس کو تم خوب سمجھتے ہو۔ دُعا کرو۔ تاکہ دُعا میں جوش پیدا ہو۔ الفاظ پرست مخذُول.ہوتا ہے۔ حقیقت پرست بننا چاہئے ۔ مسنُون دعاؤں کو بھی برکت کے لئے پڑھنا چاہئے۔ مگر حقیقت کو پاؤ ۔ہاں جس کو عربی زبان سے موافقت اور فہم ہو وہ عربی میں پڑھے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 338 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-11/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”انسان اصل میں اُنسان سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی اُنس ہوں ایک اللہ تعالیٰ سے اور دوسرا بنی نوع کی ہمدردی سے ۔ جب یہ دونوں اُنس اس میں پیدا ہوجاویں ۔ اُس وقت انسان کہلاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو انسان کا مغز کہلاتی ہے اور اسی مقام پر انسان اُولُوا الۡاَلۡبَابِ کہلاتا ہے ۔ جب تک یہ نہیں کچھ بھی نہیں۔ ہزار دعویٰ کر دکھاؤ مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک، اس کے نبی اور اس کے فرشتوں کے نزدیک ہیچ ہے۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تمام انسان نمونہ کے محتاج ہیں اور وہ نمونہ انبیاء علیہم السلام کا وجود ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ درختوں پر کلام الٰہی لکھاتا مگر اُس نے جو پیغمبروں کو بھیجا اور اُن کی معرفت کلام الٰہی نازل فرمایا۔ اس میں سرّ یہ تھا کہ تا انسان جلوۂ اُلوہیّت کو دیکھے جو پیغمبروں میں ہو کر ظاہر ہوتا ہے۔ “ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 168) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-10/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم وُہ ایمان پیدا کروجو ابو بکر رضی اللہ عنہ اور صحابہ کا ایمان تھا۔ رضی اللہ عنہم۔ کیونکہ اس میں حُسنِ ظنّ اور صبر ہے اور وہ بہت سے برکات اور ثمرات کا منتج ہے اور نِشان دیکھ کر ماننا اور ایمان لانا اپنے ایمان کو مشرُوط بنانا ہے ۔ یہ کمزور ہوتا ہے اور عموماً باروَر نہیں ہوتا۔ ہاں جب انسان حُسنِ ظنّ کے ساتھ ایمان لاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے مومن کو وُہ نِشان دکھاتا ہے جو اُس کے ازدیادِ ایمان کا مُوجب اور انشراح صدر کا باعِث ہوتے ہیں خود اُن کو نشان اور آیتُ اللہ بنادیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اقتراحی نشان کسی نبی نے نہیں دکھلائے ۔مومن صادق کو چاہئے کہ کبھی اپنے ایمان کونشان بینی پر مبنی نہ کرے ۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 94 -95 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد  2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-9/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اصل بات یہ ہے کہ بہشتی زندگی اِسی دُنیا سے شروع ہوجاتی ہے اور اسی طرح پر کورانہ زیست جو خداتعالیٰ اور اس کے رسول سے بالکل الگ ہو کر بسر کی جائے ۔ جہنّمی زندگی کا نمونہ ہے اور وہ بہشت جو مرنے کے بعد ملے گا۔ اسی بہشت کا اصل ہے اوراسی لئے تو بہشتی لوگ نعماء جنّت کے حظّ اُٹھاتے وقت کہیں گے۔ ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ۔ دُنیا میں انسان کو جو بہشت حاصل ہوتا ہے۔ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰہَا پر عمل کرنے سےمِلتا ہے۔ جب انسان عبادت کا اصل مفہُوم اورمغز حاصل کرلیتا ہے تو خداتعالیٰ کے انعام و اکرام کا پاک سِلسلہ جاری ہوجاتا ہے اور جو نعمتیں آئندہ بعد مُردن ظاہری، مرئی اور محسوس طور پر ملیں گی وہ اب رُوحانی طور پر پاتا ہے ۔ پس یاد رکھو کہ جب تک بہشتی زندگی اسی جہاں سے شروع نہ ہو اور اس عالَم میں اُس کا حظّ نہ اُٹھاؤ ۔ اس وقت تک سیر نہ ہو اور تسلّی نہ پکڑو۔ کیونکہ وُہ جو اِس دُنیا میں کچھ نہیں پاتا اور آئندہ جنّت کی امید کرتا ہے وہ طمع خام کرتا ہے۔ اصل میں وُہ مَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ کا مصداق ہے۔ اس لئے جب تک ماسِوی اللہ کے کنکر اور سنگریزے زمینِ دل سے دُور نہ کرلو اور اُسے آئینہ کی طرح مُصفّا اور سُرمہ کی طرح باریک نہ بنا لو۔ صبر نہ کرو۔ “ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 66) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد  2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-8/) - ایک دفعہ ایک دوست کی شکایت ہوئی کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔ تو آپؑ نے فرمایا : ”ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 1-2) - [یومِ اُمَّہات(Mother’s day)](https://mushahedat.com/یومِ-اُمَّہاتmothers-day/) - ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ! لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپؐ نے فرمایا تیری والدہ ! پھر اُس شخص نے اپنے سوال کو دہرایا ۔ آپؐ نے پھر یہی جواب دیا کہ تمہاری والدہ ! اُس کے تیسری مرتبہ دریافت کرنے پر بھی والدہ کا ہی نام حضورؐ نے فرمایا۔ پھر اُس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا ماں کے بعد تیرا باپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار۔ - [یوم والدین](https://mushahedat.com/یوم-والدین/) - حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کوزیادہ پسند ہے؟ فرمایا کہ نماز اپنے وقت پر پڑھنا۔ پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور فرمایا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (بخاری رقم: 504) - [فادرز ڈے(Father’s day)](https://mushahedat.com/4605-2/) - ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ’’ ہم اپنے باپ سے کس انداز ولہجے میں بات کریں ؟‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ایک غلام، جس کا آقا بہت سخت اور ظالم ہو ، غلام سے کوئی بڑی خطا سرزد ہو جائے اور وہ آقا کو اس کی اطلاع دینا چاہے، تو کیسا انداز اور لب و لہجہ اختیار کرے گا ؟ پس اسی طرح اپنے باپ کو مخاطب کیا کرو۔‘‘ - [50تقاریربرائےنَونِہالانِ جماعت(جلداوّل)](https://mushahedat.com/50تقاریربرائےنَونِہالانِ-جماعتجلداو/) - برگِ سبز است تحفۂ درویش ہر چھوٹی اور نئی چیز جہاں پیاری ہوتی ہے اور پیاری لگتی ہے وہاں وہ ننھی مُنّی اشیاء دوسروں کی نسبت پیار بھی زیادہ لیتی ہیں اور اِن کی دیکھ بھال، نشوونما، پروان چڑھنے اور پالنے پوسنے کی طرف توجہ بھی بہت دی جاتی ہے۔ جیسے نرسری سےلایا ہوا ننھا - [50تقاریربابت اخلاقیات(جلدسوم)](https://mushahedat.com/50تقاریربابت-اخلاقیاتجلدسوم/) - اخلاقیات-ایک کھلی کتاب خُلق جس کی جمع اَخلاق ہے جس کے معنی عمدہ و پسندیدہ عادات، اچھے خصائل اور اسلامی خوبیوں کے ہیں۔ وہ علم اور طریق جن کے ذریعے تعلیم و تربیت و اصلاحِ نفس و معاشرہ کے دستور اپنائے جاتے ہیں اُسے علم.الاَخلاق یا اخلاقیات کہا جاتا ہے۔ یہ علم یا اخلاقیات کے - [50تقاریربابت اخلاقیات(جلددوم)](https://mushahedat.com/50تقاریربابت-اخلاقیاتجلددوم/) - اِبۡتِغَآءِ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ کی راہیں اخلاقیات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں بہت زور دیا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری عمر صحابہؓ. کو اخلاقیات کی پیاری تعلیم دینے میں گزار دی۔ تربیت و اصلاح کے مختلف نرالے اور - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر7)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-7/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا سے صلح کرو ۔ سچی پرہیزگاری سے کام لو۔ آسمان اپنے غیر معمولی حوادث سے ڈرا رہا ہے۔ زمین بیماریوں سے انذار کر رہی ہے۔ مبارک وہ جو سمجھے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ263) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر6)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-6/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”یاد رکھو! فضائِل بھی امراض متعدّیہ کی طرح متعدّی ہونے ضروری ہیں۔ مومن کے لئے حکم ہے وہ اپنے اخلاق کو اس درجہ پر پہنچائے کہ وہ متعدّی ہوجائیں۔ کیونکہ کوئی عُمدہ بات قابل پذیرائی اورواجب التعمیل نہیں ہوسکتی ۔جب تک اُس کے اندر ایک چمک اور جذبہ نہ ہو۔ اُس کی درخشانی دُوسروں کو اپنی طرف متوجّہ کرتی ہے اور جذب ان کو کھینچ لاتا ہے اور پھر اس فیض کی اعلیٰ درجہ کی خوبیاں خودبخود دوسرے کے عمل کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ دیکھو! حاتم کا نیک نام ہونا سخاوت کے باعث مشہور ہے ۔ گو مَیں نہیں کہہ سکتا کہ وہ خُلوص سے تھی۔ ایسا ہی رستم و اسفند یار کی بہادری کے فسانے عام زبان زد ہیں۔ اگرچہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ خُلوص سے تھے۔ میرا ایمان اورمذہب یہ ہے کہ جب تک انسان سچا مومن نہیں بنتا ۔ اُس کے نیکی کے کام خواہ کیسے ہی عظیم الشان ہوں لیکن وُہ ریاکاری کے ملمّع سے خالی نہیں ہوتے ۔ لیکن چونکہ اُن میں نیکی کی اصل موجود ہوتی ہے اور یہ وُہ قابل قدر جوہر ہے جو ہر جگہ عزّت کی نِگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس لئے بایں ہمہ ملمّع سازی و ریاکاری وہ عزّت سے دیکھے جاتےہیں۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 212-213) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-5/) - (تقریر نمبر5) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت میں شہزور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں ۔ بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیلِ اخلاق کے لیے کوشِش کرنے والے ہوں۔ یہ ایک امرواقعی ہے کہ وہ شہزور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے۔ نہیں! نہیں! ۔ اصلی بہادر وُہی ہے جو تبدیلِ اخلاق پر مقدرت پاوے ۔ پس یاد رکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیلِ اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے ۔ “ (ملفوظات جلد اول صفحہ 140) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-4/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کے نزدیک اُس شخص کی قدرو منزلت ہے جو دین کا خادم اور نافع النّاس ہے ۔ ورنہ وُہ کچھ پَرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کتّوں اور بھیڑوں کی موت مَر جائیں۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 324) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-3/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہرایک سے نیک سلوک کرو۔ حکّام کی اطاعت اور وفاداری ہر مُسلمان کا فرض ہے وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں اور ہر قسم کی مذہبی آزادی ہمیں دے رکھی ہے۔ مَیں اِس کو بڑی بے ایمانی سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کی اطاعت اوروفاداری سچّے دل سے نہ کی جائے۔ برادری کے حقُوق ہیں۔ اُن سے بھی نیک سلوک کرنا چاہئے۔ البتہ اُن باتوں میں جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف ہیں، اُن سے الگ رہنا چاہئے۔ ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہرایک سے نیکی کرو اور خداتعالیٰ کی کُل مخلوق سے احسان کرو۔ “ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 459-460) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصا-2/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”تہجد میں خاص کر اُٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں بہ باعث ملازمت کے ابتلا آجاتا ہے۔ رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہیے۔ ظہر و عصر کبھی کبھی جمع ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے ۔ اس لئے یہ گنجائش رکھ دی ۔ مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہوسکتی ۔ جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں (اور موردِ عتاب حکام ہوتے ہیں) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اُٹھاویں تو کیاخوب ہے“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 6) - [حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-احباب-جماعت-کو-نصائ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” اس لئے اس سے پیشتر کہ عذاب الٰہی آکر توبہ کا دروازہ بند کردے توبہ کرو۔ جبکہ دُنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ خداتعالیٰ کے قانون سے نہ ڈریں۔ جب بَلا سر پر آپڑے تو اس کا مزہ چکھنا ہی پڑتا ہے۔ چاہئے کہ ہر ایک شخص تہجد میں اُٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملادیں ۔ ہرایک خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کریں ۔ توبہ سے یہ مراد ہے کہ ان تمام بدکاریوں اور خدا کی نارضا مندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی کریں اور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کریں ۔ اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے ۔ عاداتِ انسانی کو شائستہ کریں۔ غضب نہ ہو۔ تواضع اور انکسار اس کی جگہ لے لے ۔ اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا (الدھر: 9)یعنی خدا کی رضا کے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم دیتے ہیں اور اُس دن سے ہم ڈرتے ہیں جونہایت ہی ہَولناک ہے۔قصّہ مختصر دُعا سے، توبہ سے کام لواور صدقات دیتے رہو ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔ “ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 208 ایڈیشن 1984ء ) - [”اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی“](https://mushahedat.com/اگر-نوحؑ-کے-وقت-میں-یہ-نماز-ہوتی-تو-وہ-ق/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”نماز ایسی شئ ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جُھک پڑتا ہے۔ نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ مَیں مرگیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گِر پڑی ہے ۔ اگر طبعیت میں قبض اور بدمزگی ہو تو اس کے لئے بھی دعا ہی کرنی چاہئے کہ الٰہی! تُو ہی اُسے دُور کر اور لذّت اور نور نازل فرما۔ جس گھر میں اِس قسم کی نماز ہوگی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہوگا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔“ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 421-422) - [”اک دن تمہارا لوگ جنازہ اُٹھائیں گے “](https://mushahedat.com/اک-دن-تمہارا-لوگ-جنازہ-اُٹھائیں-گے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ ‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ18) - [آنحضورؐکے دور کے مسلمان بچوں کے سنہری کارنامے](https://mushahedat.com/آنحضورؐکے-دور-کے-مسلمان-بچوں-کے-سنہری-ک/) - سات یتیم بہنوں کے بھائی جابرؓ نے بھی حضورؐ کے سامنے گٹنے ٹیک کر جھک کر اس قدر عاجزی کے ساتھ جنگ میں شمولیت کے لئے درخواست کی کہ حضورؐ نے ان کو جنگ میں شمولیت کی اجازت دےدی۔ - [اَحْسِنْ کَمَا اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ( القصص: 78) جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان کیا ہے تُو بھی لوگوں پر احسان کر](https://mushahedat.com/اَحْسِنْ-کَمَا-اَحْسَنَ-اللّٰہُ-اِلَ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ نہ صرف اپنے بھائیوں ،عزیزوں ، رشتہ داروں ،اپنے جاننے والوں، ہمسایوں سے حسن سلوک کرو،ان سے ہمدردی کرو اور اگر ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے تو اُن کی مدد کرو، ان کو جس حد تک فائدہ پہنچا سکتے ہو فائدہ پہنچاؤ بلکہ ایسے لوگ، ایسے ہمسائے جن کو تم نہیں بھی جانتے، تمہاری ان سے کوئی رشتہ داری یا تعلق داری بھی نہیں ہے جن کو تم عارضی طورپر ملے ہو ان کو بھی اگر تمہاری ہمدردی اور تمہاری مدد کی ضرورت ہے، اگر ان کو تمہارے سے کچھ فائدہ پہنچ سکتاہے تو ان کو ضرور فائدہ پہنچاؤ۔اس سے اسلام کا ایک حسین معاشرہ قائم ہوگا۔ ہمدردیٔ خلق اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا وصف اور خوبی اپنے اندر پیدا کرلوگے اور اس خیال سے کرلوگے کہ یہ نیکی سے بڑھ کر احسان کے زمرے میں آتی ہے اوراحسان تو اس نیت سے نہیں کیا جاتا کہ مجھے اس کا کوئی بدلہ ملے گا۔احسان تو انسان خالصتاً اللہ.تعالیٰ کی خاطر کرتاہے۔تو پھر ایسا حسین معاشرہ قائم ہو جائے گاجس میں نہ خاوند بیوی کا جھگڑا ہوگا، نہ ساس بہو کا جھگڑا ہوگا، نہ بھائی بھائی کا جھگڑا ہوگا، نہ ہمسائے کا ہمسائے سے کوئی جھگڑا ہوگا، ہر فریق دوسر ے فریق کے ساتھ احسان کا سلوک کر رہا ہوگا اور اس کے حقوق اسی جذبہ سے ادا کرنے کی کوشش کررہا ہوگا۔ اور خالصتاً اللہ.تعالیٰ کی محبت،اس کا پیار حاصل کرنے کے لئے،اس پر عمل کر رہاہوگا۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 12؍ستمبر 2003ء) - [”اے جُنوں ! کچھ کام کر بے کار ہیں عقلوں کے وار “](https://mushahedat.com/اے-جُنوں-کچھ-کام-کر-بے-کار-ہیں-عقلوں-کے/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اطاعت بھی ایک موت ہوتی ہے جیسے ایک زندہ آدمی کی کھال اتاری جائے ویسی ہی اطاعت ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 74) - [عہدِ بیعت ،اہمیت اور اِس  کے تقاضے](https://mushahedat.com/عہدِ-بیعت-،اہمیت-اور-اِس-کے-تقاضے/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’درحقیقت وہی بیعت کرتا ہے جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر ایک امر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ257 ) - [خلافت اور ہمارا عہدِ بیعت](https://mushahedat.com/خلافت-اور-ہمارا-عہدِ-بیعت/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’بیعت سے مراد خدا تعالیٰ کو جان سپرد کرنا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اپنی جان آج خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دی۔ یہ بالکل غلط ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں چل کر انجام کار کوئی شخص نقصان اٹھاوے۔ صادق کبھی نقصان نہیں اٹھا سکتا۔ نقصان اسی کا ہے جو کاذب ہے۔ جو دنیا کے لئے بیعت کو اور عہد کو جو اللہ تعالیٰ سے اُس نے کیا ہے توڑ رہا ہے۔ وہ شخص جو محض دنیا کے خوف سے ایسے امور کا مرتکب ہو رہا ہے، وہ یاد رکھے بوقت موت کوئی حاکم یا بادشاہ اُسے نہ چھڑا سکے گا۔ اُس نے احکم الحاکمین کے پاس جانا ہے جو اُس سے دریافت کرے گا کہ تُو نے میرا پاس کیوں نہیں کیا؟ اِس لئے ہر مومن کے لئے ضروری ہے کہ خدا جو ملک السموٰات والارض ہے اس پر ایمان لاوے اور سچی توبہ کرے۔‘‘ (ملفوظات جلدہفتم صفحہ29-30 ) - [خلافت کی بیعت کیوں ضروری ہے؟ ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/خلافت-کی-بیعت-کیوں-ضروری-ہے؟-تقریر-نمب-2/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھا دینا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے۔ یہ کام تو ایک مُلّاں بھی کر سکتا ہے اس کے لئے کسی خلیفے کی ضرورت نہیں اور مَیں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں۔ بیعت وہ ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔‘‘ (الفرقان خلافت نمبرمئی جون 1986ء صفحہ28) - [خلافت کی بیعت کیوں ضروری ہے؟ ( تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/خلافت-کی-بیعت-کیوں-ضروری-ہے؟-تقریر-نمب/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن فَارَقَ الجَمَاعَۃَ شِبرًا فَمَاتَ اِلَّامَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃَ ۔ کہ جس نے جماعت سے ایک بالشت بھر بھی علیحدگی اختیار کی اور اس حال میں مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔ (بخاری کتاب الفتن باب قول النبیؐ سترون بعدی اموراتنکرونھا) - [طاعت در معروف](https://mushahedat.com/طاعت-در-معروف/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں : ’’پس جب نبی اللہ تعالیٰ کے احکامات سے پرے نہیں ہٹتا توخلیفہ بھی جو نبی کے بعد اس کے مشن کو چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کی ایک جماعت کےذریعہ مقرر ہوتاہے، وہ بھی اسی تعلیم کو، انہیں احکامات کو آگے چلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم تک پہنچائےاور اس زمانے میں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضاحت کر کے ہمیں بتائے۔تو اب اسی نظام خلافت کے مطابق جو آنحضور صلی.اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت میں قائم ہوا ہےاور ان شا ءاللہ قیامت تک قائم رہے گا۔ ان میں شریعت اور عقل کے مطابق ہی فیصلے ہوتے رہے ہیں اور ان شا ءاللہ ہوتے رہیں گے اور یہی معروف فیصلے ہیں۔‘‘ (شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ 172 ایڈیشن2007ء) - [بیعت کی حقیقت کو جاننے کی ضرورت](https://mushahedat.com/بیعت-کی-حقیقت-کو-جاننے-کی-ضرورت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”اب وقت تنگ ہے مَیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی جوان یہ بھروسہ نہ کرے کہ اٹھارہ یا انیس سال کی عمر ہے اور ابھی بہت وقت باقی ہے۔ تندرست اپنی تندرستی اور صحت پر ناز نہ کرے اسی طرح اور کوئی شخص جو عمدہ حالت رکھتا ہے وہ اپنی وجاہت پر بھروسہ نہ کرے۔ زمانہ انقلاب میں ہے، یہ آخری زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ صادق اور کاذب کو آزمانا چاہتا ہے۔ اِس وقت صدق و وفا کے دکھانے کا وقت ہے اور آخری موقع دیا گیا ہے۔ یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔ یہ وہ وقت ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں یہاں آ کر ختم ہو جاتی ہیں اس لئے صدق اور خدمت کا یہ آخری موقع ہے جو نوع انسان کو دیا گیا ہے۔ اب اس کے بعد کوئی موقع نہ ہو گا۔ بڑا ہی بد قسمت وہ ہے جو اس موقع کو کھو دے۔ نِرا زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے بلکہ کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگو کہ وہ تمہیں صادق بنا دے۔ اس میں کاہلی اور سُستی سے کام نہ لو بلکہ مستعد ہو جاؤ اور اس تعلیم پر جو مَیں پیش کر چکا ہوں۔ عمل کرنے کے لئے کوشش کرو اور اس راہ پر چلو جو مَیں نے پیش کی ہے۔ عبد اللطیف کے نمونہ کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھو کہ اس سے کس طرح پر صادقوں اور وفاداروں کی علامتیں ظاہر ہوئی ہیں۔ یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے پیش کیا ہے۔“ (ملفوظات جلد6 صفحہ263-264 ایڈیشن 1984ء) - [ایک خوبصورت، انوکھا اخلاص اور قربانی کا جذبہ](https://mushahedat.com/ایک-خوبصورت،-انوکھا-اخلاص-اور-قربانی-ک/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کا یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور بار برداری اور سچّی غم خواری میں اپنی زندگی وقف کردی جائے دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دُکھ اُٹھا ویں اور دوسروں کی راحت کے لئے اپنے پر رنج گوارا کرلیں۔“ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5صفحہ 60) - [مذہب میں ۔ آزادی ،بااختیاری اور خودمختاری کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر 3)](https://mushahedat.com/مذہب-میں-۔-آزادی-،بااختیاری-اور-خودمخت/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ”وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اوّل خود اپنی اصلاح کرو۔ اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔ قرآن شریف میں خضر اور موسیٰ علیہما السلام کا قصہ درج ہے کہ ان دونوں نے مل کر ایک دیوار کو بنا دیا جو یتیم بچوں کی تھی۔ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَکَانَ اَبُوْھُمَا صَالِحًا (الکہف :83 ) اِن کا والد صالح تھا۔ یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ آپ کیسے تھے۔ پس اس مقصد کو حاصل کرو۔ اولاد کے لئے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو۔“ (ملفوظات جلد8 صفحہ110 ایڈیشن 1984ء) - [مذہب میں ۔ بااختیاری اور خودمختاری کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/مذہب-میں-۔-بااختیاری-اور-خودمختاری-کہا/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں : ’’پس احمدی خوش قسمت ہیں ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ان کو احمدی گھروں میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور کچھ کو احمدی ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور ان باتوں سے بچا کے رکھا جو باغیانہ روش پیدا کرتی ہیں ۔ بعض احمدی بچیوں میں بھی ردّعمل ہوتا ہے، ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ غیر آکر ہمارے سے متأثر ہوتے ہیں اس لئے کسی بھی قسم کے کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اسلام کی جو خوبصورت تعلیم ہے یہ ہر ایک کے لئے ایسی تعلیم ہے جس کا فطرت تقاضا کرتی ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘ (خطبہ جمعہ 5؍ستمبر 2014ء) - [مذہب میں ۔ آزادی اور روشن خیالی کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/مذہب-میں-۔-آزادی-اور-روشن-خیالی-کہاں-تک/) - حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ نے میرے کندھے کو پکڑ کر فرمایا: کُنۡ فِیۡ الدُّنۡیَا کَأنَّکَ غَرِیۡبٌ اَوۡ عَابِرُ سَبِیۡلٍ (بخاری کتاب الرقاق) کہ اے عبداللہ ! دنیا میں ایسے زندگی بسر کر کہ گویا تو مسافر ہے یا راہ چلتا مسافر۔ - [وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ](https://mushahedat.com/وَابۡتَغُوۡۤا-اِلَیۡہِ-الۡوَسِیۡلَۃ/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَابْتَغُوا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ قرب اور وسیلہ کے حصول کے لیے جو راستہ اور سبیل ہے وہ تین قسم کی ہے۔ ایک تو صحیح روحانی علم کا حاصل ہونا ،معرفت کا حاصل ہونا دوسرے خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر اس کی عبادت کرنا اور تیسرے شریعتِ حقّہ اسلامیہ کے مکارم کو اختیار کرتے ہوئے اپنی روح اور اپنے ذہن اور اپنے عمل اور اپنے عقیدہ میں حسن پیدا کرنے کی کوشش کرنا ۔ ان تینوں چیزوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی ڈھال بن جاتا ہے اور اُسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے ۔“ ( خطبات ناصر جلد ششم صفحہ 445) - [وسیلہ یا واسطہ کا اسلامی فلسفہ (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/وسیلہ-یا-واسطہ-کا-اسلامی-فلسفہ-تقریر-ن-2/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ۔وسیلہ کے دو معنی ہیں۔ ایک تو حاجت۔ پس مطلب ہوا کہ اپنی حاجتیں جناب الہٰی میں لے جاؤ… (اور) دوسرے معنی ہیں ذریعہ کے … پس الۡوَسِیۡلَۃَ فرمایا یعنی ذریعہ ہو۔ مگر اس ذریعہ کو دیکھ لو وہ بے ایمان کا تو نہیں ۔ عقل و تجربہ و ایمان کے موافق ہے یا نہیں۔مکلّف انسان عقل و تجربہ و ایمان سے تقویٰ کے سامان کرے مگر وہ عقل و تجربہ شریعت کے خلاف نہ ہو۔ پھر یہ مجاہدہ فی سبیل اللہ کرے۔ جب اِن تین قاعدہ پر چلے گا تو مظفرومنصورہوگا۔ “ (حقائق الفرقان جلد2صفحہ 100-101) - [وسیلہ یا واسطہ کا اسلامی فلسفہ (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/وسیلہ-یا-واسطہ-کا-اسلامی-فلسفہ-تقریر-نم/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہر ایک شخص کو خودبخو د خدا تعا لیٰ سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے، واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس واسطے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے وہ کبھی با مراد نہ ہوگا۔انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔ غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اُسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہوجاؤ ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِم(الزمر:54) اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو ۔سب حکموں پر کار بند رہو جیسے کہ حکم ہے ۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران:32)یعنی اگر تم خدا تعالیٰ سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے فرماں بردار بن جاؤ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں فنا ہوجاؤ تب خدا تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔ جب لوگ بدعتوں پر عمل کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں دُنیا سے چھٹکارا نہیں ملتا یا کہتے ہیں کہ ناک کٹ جاتی ہے ۔ایسے وقت میں گویا انسان خداتعالیٰ کے اس فرمان کو چھوڑتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ہے اور خیال کرتا ہے کہ خداتعالیٰ سے محبت کرنا بےفائدہ ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 5صفحہ 321-322 ) - [دسویں شرطِ بیعت](https://mushahedat.com/دسویں-شرطِ-بیعت/) - ’’یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض للہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اُس پر تا وقتِ مرگ قائم رہے گا اور اس عقدِ اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیاوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔‘‘ - [نویں  شرطِ بیعت](https://mushahedat.com/نویں-شرطِ-بیعت/) - ’’ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔‘‘ - [آٹھویں شرطِ بیعت](https://mushahedat.com/آٹھویں-شرطِ-بیعت/) - ’’ دین اور دین کی عزت اور ہمدردیٔ اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔ ‘‘ - [ساتویں  شرطِ بیعت](https://mushahedat.com/ساتویں-شرطِ-بیعت/) - ’’ تکبّر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔‘‘ - [چھٹی شرطِ بیعت](https://mushahedat.com/چھٹی-شرطِ-بیعت/) - ’’ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآنِ شریف کی حکومت کو بکلّی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہریک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔‘‘ - [مشاہدات کی مالا کے 1000 موتی](https://mushahedat.com/مشاہدات-کی-مالا-کے-1000-موتی/) - اک سے ہزار ہوویں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے: ” یہ بات ہر ایک جانتا ہے کہ تالیفات کی نسبت یہ عام محاورہ ہے کہ ان کو نتائجِ طبع کہتے ہیں یعنی طبع.زادبچے“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ350-351) لغات میں لکھا ہے کہ نتائجِ طبع سے مراد طبیعت - [پانچویں  شرطِ بیعت](https://mushahedat.com/پانچویں-شرطِ-بیعت/) - ’’ ہر حال رنج وراحت اور عسر اور یسر اور نعمت اور بلاء میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا داری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہو گا۔ اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنےکے لئے اُس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اُس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا‘‘ - [چوتھی  شرطِ بیعت](https://mushahedat.com/چوتھی-شرطِ-بیعت/) - ’’ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے، نہ کسی اور طرح.سے۔‘‘ - [تیسری  شرطِ بیعت](https://mushahedat.com/تیسری-شرطِ-بیعت/) - ’’ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روزاپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اُس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا ۔‘‘ - [دوسری شرطِ بیعت](https://mushahedat.com/دوسری-شرطِ-بیعت/) - ’’جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔‘‘ - [پہلی شرطِ بیعت](https://mushahedat.com/پہلی-شرطِ-بیعت/) - ’’بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اُس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو، شرک سے مجتنب رہے گا۔‘‘ - [”صحبت، خدمت اور صبر“](https://mushahedat.com/صحبت-خدمت-اور-صبر/) - مشاہدات-988-صحبت۔خدمت اور صبرڈاؤن لوڈ - [چھ ارکانِ ایمان](https://mushahedat.com/چھ-ارکانِ-ایمان/) - ”حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جس کے کپڑے بہت سفید تھے اور بالوں کا رنگ بہت سیاہ تھا اس پر سفر کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اُسے پہچانتا تھا ۔ وہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کے ساتھ اپنا گھٹنا ملا کر (مؤدب) بیٹھ گیا اور عرض کیا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایمان کسے کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ، یوم آخرت کو مانے اور خیر اور شر کی تقدیر اور اس کے صحیح صحیح اندازے پر یقین رکھے۔ “ ( حدیقۃُ الصالحین حدیث نمبر166) - [”زمین کے حقیقی وارث“](https://mushahedat.com/زمین-کے-حقیقی-وارث/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”زمین کی وراثت کا راز تقویٰ میں ہے۔ زمین کے حقیقی وارث وہ نہیں ہیں جن کے پاس مادی دولت یا طاقت ہے بلکہ وہ ہیں جن کے پاس ایمان اور تقویٰ کی دولت ہے۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 69) - [ہمسایوں سے حسن سلوک](https://mushahedat.com/ہمسایوں-سے-حسن-سلوک/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ مَیں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھا ئیوں کے لئے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔ اگر ایک بھا ئی بھوکا مر تا ہو تو دوسرا تو جہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیری کے لئےتیار نہیں ہوتا۔ یا اگر وہ کسی اورقسم کی مشکلات میں ہے تو اتنانہیں کرتے کہ اس کے لئے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔ حدیث شریف میں ہمسا یہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہاں تک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکا ؤ تو شوربہ زیادہ کرلو تا کہ اُسے بھی دے سکو۔ اب کیا ہوتا ہے، اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں لیکن اس کی کچھ پر واہ نہیں۔ یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا ہی مطلب ہے جو گھرکے پاس رہتا ہو۔ بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔‘‘ (ملفو ظات جلد 4صفحہ 215) - [وجودِ باری تعالیٰ پر دس دلائل (از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ) (قسط نمبر 2)](https://mushahedat.com/وجودِ-باری-تعالیٰ-پر-دس-دلائل-از-حضرت-خ-2/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سلطنتوں میں ہزاروں مدبّر ان کی درستی کے لئے رات دن لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی دیکھتے ہیں کہ ان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہو تی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بالکل تباہ ہوجاتی ہیں لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں لیکن یہ اتفاق تو غلطی نہیں کرتا۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو بڑے وسیع عالم کا مالک اور عزیز ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو یہ انتظام نظر نہ آتا۔ اب جس طرف نظر دوڑا کر دیکھو۔ تمہاری نظر قرآن شریف کے ارشاد کے مطابق خائب و خاسر واپس آئے گی اور ہر ایک چیز میں ایک انتظام معلوم ہوگا۔ نیک جزاء اور بدکار سزا پا رہے ہیں۔ ہر ایک چیز اپنا مفوّضہ کام کررہی ہے اور ایک دم کے لئے سُست نہیں ہوئی۔ “ - [وجودِ باری تعالیٰ پر دس دلائل (از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ) (قسط نمبر 1)](https://mushahedat.com/وجودِ-باری-تعالیٰ-پر-دس-دلائل-از-حضرت-خ/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہزاروں راستبازوں کی شہادت جو اپنے عینی مشاہدہ پر خدا تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کسی صورت میں بھی ردّ کے قابل نہیں ہو سکتی۔ تعجب ہے کہ جو اس کوچہ میں پڑے ہیں وہ تو سب باتفاق کہہ رہے ہیں کہ خدا ہے لیکن جو روحانیت کے کوچہ سے بالکل بے بہرہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ان کی بات نہ مانوکہ خدا ہے حالانکہ اصول شہادت کے لحاظ سے اگر دوبرابر کے راستباز آدمی بھی ایک معاملہ کے متعلق گواہی دیں تو جو کہتا ہے کہ مَیں نے فلاں چیز کود یکھا اس کی گواہی کو اس گواہی پرجو کہتا ہے مَیں نے اس چیز کونہیں دیکھا ترجیح دی جائے گی کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کی نظر اس چیز پر نہ پڑی ہو لیکن یہ ناممکن ہے کہ ایک نے نہ دیکھا ہو اور سمجھ لے کہ میں نے دیکھا ہے۔ پس خدا کے دیکھنے والوں کی گواہی اس کے منکروں پر بہرحال حجت ہوگی۔“ - [”خداتعالیٰ کہنے میں بڑی برکات ہیں“](https://mushahedat.com/خداتعالیٰ-کہنے-میں-بڑی-برکات-ہیں/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا کے تمام کامل نام اِسی سے مخصوص ہیں اور اِن میں شرکت غیر کی جائز نہیں سو خدا کو انہیں ناموں سے پکارو جو بلاشرکت غیرے یعنی نہ مخلوقاتِ ارضی و سماوی کے نام خدا کے لئے وضع کرو اور نہ خدا کے نام مخلوق چیزوں پر اطلاق کرو اور ان لوگوں سے جدا رہو جو کہ خدا کے ناموں میں شرکتِ غیر جائز رکھتے ہیں۔ عنقریب وہ اپنے کاموں کا بدلہ پائیں گے ۔“ ( براہینِ احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 522۔ حاشیہ درحاشیہ نمبر3) - [ہُن مَیں چھ مہینے لئی تیرا ربّ نہیں رہیا؟](https://mushahedat.com/ہُن-مَیں-چھ-مہینے-لئی-تیرا-ربّ-نہیں-رہیا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد 5صفحہ 273 ایڈیشن 1988ء) - [’’ میرے نور الدین کو ‘‘](https://mushahedat.com/میرے-نور-الدین-کو/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مَیں نے کسی روایت کے ذریعہ سنا تھا کہ جب بیت اللہ نظرآئے تواس وقت کوئی ایک دعامانگ لو وہ ضرورہی قبول ہوجاتی ہے۔ مَیں علوم کا اس وقت ماہرتوتھاہی نہیں جوضعیف و قوی روایتوں میں امتیاز کرتا ۔ مَیں نے یہ دعامانگی۔”الٰہی! مَیں تو ہر وقت محتاج ہوں اب مَیں کون سی دعامانگوں ۔ پس مَیں یہی دعامانگتاہوں کہ مَیں جب ضرورت کے وقت تجھ سے دعامانگوں تواس کو قبول کرلیاکر“۔ روایت کا حال تومحدثین نے کچھ ایسا ویسا ہی لکھاہے مگر میراتجربہ ہے کہ میری تویہ دعاقبول ہی ہوگئی۔ بڑے بڑے نیچریوں ، فلاسفروں ، دہریوں سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور ہمیشہ دعاکے ذریعہ مجھ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ایمان میں بڑی ترقی ہوتی گئی۔‘‘ (مرقاۃ الیقین ) - [نُورِالٰہی، نُورِمصطفویؐ اور نُورِقرآن احمدی مسمانوں کا ورثہ ہے](https://mushahedat.com/نُورِالٰہی،-نُورِمصطفویؐ-اور-نُورِق/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا ہی ہے جو ہر دم آسمان کا نور اور زمین کا نور ہے۔ اس سے ہر ایک جگہ روشنی پڑتی ہے۔ آفتاب کا وہی آفتاب ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کی وہی جان ہے۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ444) - [اطاعت کے ذریعہ پراگندہ موتیوں کا اجتماع](https://mushahedat.com/اطاعت-کے-ذریعہ-پراگندہ-موتیوں-کا-اجتما/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اطاعت کا مادہ نظام کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ پس جب بھی خلافت ہو گی اطاعتِ رسول بھی ہو گی کیونکہ اطاعتِ رسول یہ نہیں کہ نماز پڑھو یا روزے رکھو یا حج کرو۔ یہ تو خدا کے احکام کی اطاعت ہے۔ اطاعتِ رسول یہ ہے کہ جب وہ کہےکہ اب نمازوں پر زور دینے کا وقت ہے تو سب نمازوں پر زور دینا شروع کر دیں ۔“ (تفسیر کبیر سورۃنور صفحہ 369) - [لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ](https://mushahedat.com/لَا-تَاۡخُذُہٗ-سِنَۃٌ-وَّلَا-نَوۡمٌ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” خدا کی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ اُن سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ اُن کے اُٹھانے سے وہ تھکتا نہیں۔ “ (چشمۂ معرفت ، روحانی خزائن جلد 23صفحہ 118 حاشیہ) - [ہمیشہ مسکراتے رہو](https://mushahedat.com/ہمیشہ-مسکراتے-رہو/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ” ہر ایک سے مسکراتے ہوئے ملیں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو۔ بعض عہدیدار مَیں نے دیکھا ہے بڑی سخت شکل بنا کر دفتر میں بیٹھے ہوتے ہیں یا ملتے ہیں۔ اِن کو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس اسوہ پر عمل کرنا چاہئے جس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے کہ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے مَیں نے اسلام قبول کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاقات سے منع نہیں فرمایا اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے تھے۔ (بخاری کتاب الأدب باب التبسم والضحک)۔ تو کوئی پابندی نہیں تھی جب بھی ملتے مسکرا کر ملتے۔“ (خطبہ جمعہ 31 دسمبر2004ء) - [اسپورٹس مَین سَپِرٹ](https://mushahedat.com/اسپورٹس-مَین-سَپِرٹ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”احمدیوں کو چاہئے کہ جب بھی وہ کوئی کھیل کھیلیں تو حقیقی اسپورٹس مَین سپرٹ کا مظاہرہ کریں۔ اعلیٰ اخلاق، برداشت اور دوسروں کے احترام کا ایسا معیار قائم ہوناچاہئے جو احمدی نوجوانوں کو دوسروں سے ممتاز کرے ۔ اگر ہم بلند اخلاقی معیار نہ دکھا سکیں تو احمدی ہونے کا کیا فائدہ؟ اِسی لئے مَیں پھر کہتا ہوں کہ ہمارے کھیلوں کےپروگرام اِس مقصد کے لئے ہوتے ہیں کہ خدام اور اطفال کی ذہنی نشوو نما ہو تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق، انسانیت کے حقوق اور جماعت کی خدمت بہترین انداز میں.کرسکیں“ - [سچّے احمدی کی  ماں ۔ زندہ باد](https://mushahedat.com/سچّے-احمدی-کی-ماں-۔-زندہ-باد/) - حضرت مرزا بشیر احمد ؓ فرماتے ہیں: ’’ اگر مائیں بچپن سے ہی بچوں کی اچھی تربیت کریں اور اُن کے اعمال کی نگرانی رکھیں تو وہ اُن کو جنت کے راستہ میں ڈال کر ابدالآباد کی نعمتوں کا وارث بنا دیتی ہیں ۔ ‘‘ ( ماہنامہ مصباح دسمبر ، جنوری1962-1961ء ) - [میڈیا کے ذریعہ جھوٹ، لغویات کی تشہیر](https://mushahedat.com/میڈیا-کے-ذریعہ-جھوٹ،-لغویات-کی-تشہیر/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’آج انٹرنیٹ یا کمپیوٹر پر آپس کے تعارف کا ایک نیا ذریعہ نکلا ہے جسے face book کہتے ہیں۔ گو اتنا نیا بھی نہیں لیکن بہرحال یہ بعد کی چند سالوں کی پیداوار ہے۔ اِس طریقے سے مَیں نے ایک دفعہ منع بھی کیا، خطبے میں بھی کہا کہ یہ بے حیائیوں کی ترغیب دیتا ہے۔آپس کے جوحجاب ہیں، ایک دوسرے کا حجاب ہے، اپنے راز ہیں بندے کے وہ اُن حجابوں کو توڑتا ہے،اُن رازوں کو فاش کرتا ہے اور بےحیائیوں کی دعوت دیتا ہے۔ اِس سائٹ کو جو بنانے والا ہے اُس نے خود یہ کہا ہے کہ مَیں نے اِسے اس لئے بنایا ہے کہ مَیں سمجھتا ہوں کہ انسان جو کچھ ہے وہ ظاہر و باہر ہوکر دوسرے کے سامنے آجائے اور اُس کے نزدیک ظاہر و باہر ہوجانا یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی ننگی تصویر بھی ڈالتا ہے تو بیشک ڈال دے اور اس پر دوسروں کو تبصرہ کرنے کی دعوت دیتا ہے تو یہ جائز ہے۔ اِنَّاللّٰہ۔ اسی طرح دوسرے بھی جو کچھ کسی بارے میں دیکھیں اس میں ڈال دیں۔ یہ اخلاقی پستی اور گراوٹ کی انتہا نہیں تو اَور کیا ہے؟ اوراِس اخلاقی پستی اور گراوٹ کی حالت میں ایک احمدی ہی ہے جس نے دنیا کو اخلاق اور نیکیوں کے اعلیٰ معیار بتانے ہیں۔‘‘ (اختتامی خطاب برموقع جلسہ سالانہ جرمنی فرمودہ 26؍جون 2011ء ) - [گھریلوجھگڑوں و عائلی تنازعات کی وجہ ۔ جھوٹ اور قولِ زور](https://mushahedat.com/گھریلوجھگڑوں-و-عائلی-تنازعات-کی-وجہ-۔-ج/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’بہت سے جھگڑے خاوند بیوی کے اس لئے ہو رہے ہوتے ہیں کہ بے اعتمادی کا شکار ہوئے ہوتے ہیں۔ عورت کو شکوہ ہوتا ہے کہ مرد سچ نہیں بولتا۔ مرد کو شکوہ ہوتا ہے کہ عورت سچ نہیں بولتی اور اس کوسچ بولنے کی عادت ہی نہیں اور اکثر معاملات میں یہ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہوتے ہیں کہ میرے سے غلط بیانی سے کام لیا یا مستقل ہر بات میں غلط بیانی کرتے ہیں یا کرتی ہے۔ پھر سچ پر قائم نہ رہنے کی وجہ سے بچوں پر بھی اثر پڑتا ہے اور بچے بھی جھوٹ بولنے کی عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ‘‘ (جلسہ سالانہ جرمنی خطاب از مستورات فرمودہ21؍ اگست2004ء) - [وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ](https://mushahedat.com/وَاجۡتَنِبُوۡا-قَوۡلَ-الزُّوۡرِ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بُت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجتَنِبُوا الرِّجسَ مِنَ الاَوثَانِ وَاجتَنِبُوا قَولَ الزُّورِیعنی بُتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پرہیز کرو ۔“ ( نور القرآن نمبر2روحانی خزائن جلد9صفحہ403، تفسیر حضرت مسیح موعودؑ سورۃ الحج صفحہ373) - [عہد شکنی نہ کرو](https://mushahedat.com/عہد-شکنی-نہ-کرو/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں : ”کیا ہی خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو اپنے دلوں کو صاف کرتے اور اپنے دلوں کو ہر ایک آلودگی سے پاک کرلیتے ہیں اور اپنے خدا سے وفاداری کا عہد باندھتے ہیں کیونکہ وہ ہرگز ضائع نہیں کئے جائیں گے ۔ ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کیونکہ وہ خدا کے ہیں اور خدااُ ن کا۔ وہ ہر ایک بَلا کے وقت بچائے جائیں گے ۔“ ( کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 19-20) - [عِلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبّت یاربّ!](https://mushahedat.com/عِلم-کی-شمع-سے-ہو-مجھ-کو-محبّت-یاربّ/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اُطْلُبُوْا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّیْنِ کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔ - [زُباں  کی کھیتی](https://mushahedat.com/زُباں-کی-کھیتی/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’گالیاں دیتے ہیں اس کی تو مجھے پرواہ نہیں ہے۔ بہت سے خطوط گالیوں کے آتے ہیں جن کا مجھے محصول بھی دینا پڑتا ہے اور کھولتا ہوں تو گالیاں ہوتی ہیں۔ اشتہاروں میں گالیاں دی جاتی ہیں اور اب تو کھلے لفافوں پر گالیاں لکھ کر بھیج دیتے ہیں مگر ان باتوں سے کیا ہوتا ہے اور کیا خدا کا نور کہیں بجھ سکتا ہے؟ ہمیشہ نبیوں، راستبازوں کے ساتھ نا شکروں نے یہی سلوک کیا۔ مَیں بنی نوع انسان کا حقیقی خیرخواہ ہوں۔ جو مجھے دشمن سمجھتا ہے وہ خود اپنی جان کا دشمن ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 3 صفحہ126) - [آخری پیغامات](https://mushahedat.com/آخری-پیغامات/) - مؤمن کی تعریف کرتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَلۡمُوۡمِنُ مَنۡ اٰمَنَہُ النَّاسُ کہ مومن وہ ہے جس سے دنیا کی مخلوق امن میں رہے ۔ - [”قبولیتِ دعا ہستی باری تعالیٰ کی زبردست دلیل ہے“ ( مسیح موعودؑ)](https://mushahedat.com/قبولیتِ-دعا-ہستی-باری-تعالیٰ-کی-زبرد/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” دُعا میں خداتعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔ خدا نے مجھے بار بار الہامات کے ذریعہ یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دُعا کے ذریعہ سے ہوگا ۔ ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اور اس کے سوا کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں ہے۔ جو کچھ ہم پوشیدہ خدا سے مانگتے ہیں ۔ خدا اس کو ظاہر کرکے رکھ دیتا ہے۔ “ ( سیرت حضرت مسیح موعود از یعقوب علی عرفانیؓ صفحہ 518) - [کائنات اور ایک خدا](https://mushahedat.com/کائنات-اور-ایک-خدا/) - حضور انور ایدہ اللہ نے امریکہ کے شہرزائن (Zion) میں مسجد فتح عظیم کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا : ’’آج سے ایک سو بیس سال پہلے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر جس جھوٹے دعویدار اور دشمنِ اسلام کی ہلاکت کی پیش گوئی آپؑ نے فرمائی تھی آج اس کے شہر میں جس کے بارے میں اس کا اعلان تھا کہ کوئی مسلمان یہاں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ عیسائی نہیں ہو جاتا اللہ تعالیٰ نے جماعت کو مسجد بنانے کی توفیق دی۔ پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے کام۔ ایک ارب پتی اور دنیاوی جاہ و حشمت رکھنے والے کو اللہ تعالیٰ نے جھوٹا کر دیا، ختم کر دیا اور پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والے اپنے فرستادے کا دعویٰ جو اسلام کی نشأة ثانیہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ دنیا کے دو سو بیس ممالک میں گونجنے کے سامان پیدا کر دیے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 30ستمبر2022 ء) - [خدا کی ہستی اور انبیاء کی غیبی تائیدات](https://mushahedat.com/خدا-کی-ہستی-اور-انبیاء-کی-غیبی-تائیدات/) - کس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے آپؐ کے استیصال کے لئے منصوبے بنائے ۔ مکہ میں تیرہ برس تک وہ دکھ دیے جو ایک معمولی انسان کے تباہ کرنے کے لئے بہت کافی تھے۔ آخر کار مکہ سے آپؐ کو نکلنے پر مجبور کیا اور اپنے وطن سے بہت دور ایک بیگانہ سر زمین میں آپؐ پناہ گزیں ہوئے۔ عرب کی متفقہ قوموں نے اس نبی کے استیصال کے لئے بہت کوششیں کیں مگر وہ کامیاب ہوا اور ایسا کامیاب ہوا کہ اس کی کامیابی کی کوئی نظیردنیا میں نہیں ۔ - [مکتبۂ عشق](https://mushahedat.com/مکتبۂ-عشق/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے اِس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّہُ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ربّ پر عاشق ہوگیا ۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔“ (ملفوظات جلد 3صفحہ524) - [تربیتِ اولاد](https://mushahedat.com/تربیتِ-اولاد/) - حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’قرآن مجید نے جو لَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ،کے الفاظ فرمائے ہیں اِن میں بھی اِسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اگر تم اپنے بچوں کی عمدہ تربیت اور اچھی تعلیم کا خیال نہیں رکھو گے تو گویا اِنہیں قتل کرنے والے ٹھہرو گے۔‘‘ (چالیس جواہرپارے صفحہ نمبر 65) - [اسلامی مطمح نظر](https://mushahedat.com/اسلامی-مطمح-نظر/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”ہر شخص کی کوئی نہ کوئی جہت ہوتی ہے۔ یا ہر شخص کا کوئی نہ کوئی نصب العین ہوتا ہے جس پر وہ اپنی تمام توجہات کو مرکوز کردیتا ہے اور جسے زندگی بھر اپنے سامنے رکھتا ہے اور پورے انہماک اور توجہ سے اُسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر لوگ تو اپنے مقاصد اپنے لئے خود تجویز کرتے ہیں ۔ لیکن ہم اُمّت محمدیہ پر رحم کرتے ہوئے خود ہی ایک بلند ترین مطمح نظر اُس کے سامنے رکھتے ہیں اور ہدایت دیتے ہیں کہ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ۔ تمہارا مطمح نظر یہ ہونا چاہئے کہ تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اس جگہ نیکیوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کی تحریک فرما کر اللہ تعالیٰ نے قومی ترقی کاایک عجیب گُر بتایا ہے۔ “ (تفسیر کبیر جلد 2صفحہ 253) - [”استغفار کلیدِ ترقیاتِ روحانی ہے“ ( مسیح موعودؑ)](https://mushahedat.com/استغفار-کلیدِ-ترقیاتِ-روحانی-ہے-مس/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔ یہ لفظ غَفْر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں سو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغْفِرکی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔ لیکن بعداس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد لیا گیا کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈھانک لے۔ لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے۔“ (عصمتِ انبیاء علیھم السلام، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 671) - [بد تر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/بد-تر-بنو-ہر-ایک-سے-اپنے-خیال-میں-تقریر-ن/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ ( مشکوٰۃ کتاب الادب) یعنی جس شخص کے دل میں ذرہ بھر تکبّر ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ - [بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/بدتر-بنو-ہر-ایک-سے-اپنے-خیال-میں-تقریر-ن/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں کے لیے آسانی مہیا کرو- ان کے لیے مشکل پیدا نہ کرو اور اچھی خبر ہی دیا کرو اور لوگوں کومایوس نہ کرو‘‘ (مسلم کتاب الجھاد( - [”انسان ہونا، ہمارا انتخاب نہیں، قدرت کی عطا ہے“](https://mushahedat.com/انسان-ہونا،-ہمارا-انتخاب-نہیں،-قدرت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”قرآن شریف کا یہ مقصد تھا کہ حیوانوں سے انسان بناوے اور انسان سے بااخلاق انسان بناوے اور با اخلاق انسان سے باخدا انسان بناوے “ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 329 ) - [اسلام کا ایک بنیادی وصف ۔ سچائی](https://mushahedat.com/اسلام-کا-ایک-بنیادی-وصف-۔-سچائی/) - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”یقیناً یاد رکھو! جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں ۔ مگر مَیں کیوں کر اس کو باور کروں ۔ مجھ پر 7 مقدمے ہوئے ہیں اور خدا کے فضل سے کسی میں بھی ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی “ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 238) - [غصّہ پر قابو پانا](https://mushahedat.com/غصّہ-پر-قابو-پانا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔جب جوش اور غصّہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔ غصّہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 180) - [کھانے کے آداب](https://mushahedat.com/کھانے-کے-آداب/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” انسان کے کھانے پینے کے طریق بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر بھی اثر کرتے ہیں۔ اس واسطے قرآن شریف نے تمام عبادات اور اندرونی پاکیزگی کی اغراض اور خشوع و خضوع کے مقاصد میں جسمانی طہارتوں اور جسمانی آداب اور جسمانی تعدیل کو بہت ملحوظ رکھا ہے اور غور کرنے کے وقت یہی فلاسفی نہایت صحیح معلوم ہوتی ہےکہ جسمانی اوضاع کا روح پر بہت قوی اثر ہے۔ “ (اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 18-19) - [آؤ بچو! لغویات سے کیسے بچیں؟](https://mushahedat.com/آؤ-بچو-لغویات-سے-کیسے-بچیں؟/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مومن صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں اور سوزوگداز ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر وہ مومن ہیں کہ جو باوجود خشوع اورسوزو گداز کے تمام لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو تعلقوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اپنی خشوع کی حالت کو بیہودہ کاموں اور لغو باتوں کے ساتھ ملا کر ضائع اور برباد ہونے نہیں دیتے اور طبعاً تمام لغویات سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ کاموں سے ایک کراہت اُن کے دلوں میں پیدا ہوجاتی ہے … پس دنیا کی لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو سیرو تماشا اور لغو صحبتوں سے واقعی طور پر اُسی وقت انسان کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے جب دل کا خدائے رحیم سے تعلق ہو جائے اور دل پر اس کی عظمت اور ہیبت غالب آجائے۔ خدا پرایمان لا کر ہر ایک لغو بات اور لغو کام اور لغو مجلس اور لغو حرکت اور لغو تعلق اور لغو جوش سے کنارہ کشی کی جائے۔“ ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21 صفحہ199۔200) - [فضول چیزوں سے اجتناب](https://mushahedat.com/فضول-چیزوں-سے-اجتناب/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ کہ ہر نشہ پیدا کرنے والی چیز حرام ہے جو خمار پیدا کرتی ہے ۔ - [مساجد کے آداب](https://mushahedat.com/مساجد-کے-آداب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر فرمایا کہ ” سب سے اہم عمارات مساجد ہیں۔ مسجد کے ماحول کو پھولوں ،کیاریوں اورسبزے سے خوبصورت رکھنا چاہیے... اِس کے ساتھ ہی مسجد کے اندر کی صفائی کا بھی خاص اہتمام ہونا چاہیے۔“ ( خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 272) - [نازک ترین معاملہ زبان سے ہے (مسیح موعودؑ)](https://mushahedat.com/نازک-ترین-معاملہ-زبان-سے-ہے-مسیح-موعودؑ/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” نرمی کی عادت ڈالنا تا کہ خدا تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔ ورنہ اگر تم خدا تعالیٰ کی مخلوق پر درشتی کرتے ہو تو تم بھی اپنے آپ کو اس بات کا حق دار بناتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم پر بھی درشتی کرے “ (انوار العلوم جلد 5 صفحہ 436 ) - [نَونِہالانِ جماعت](https://mushahedat.com/نَونِہالانِ-جماعت/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہادر وہ نہیں جو کُشتی میں کسی کو بچھاڑے مگر بہادر وہ ہے جو غصّہ پر قابو کرے۔ - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں احترامِ انسانیت، شرفِ انسانیت اور خدمتِ انسانیت](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کے-ارشادات-کی/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”یہ مومن کا کام ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو جب پڑھے، آپ کے اُسوۂ حسنہ کو جب دیکھے تو جہاں اس پر عمل کرنے اور اسے اپنانے کی کوشش کرے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجے کہ اس محسنِ اعظم نے ہم پر کتنا عظیم احسان کیا ہے کہ زندگی کے ہر پہلو کو خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق عمل کرکے دکھا کر اور ہمیں اس کے مطابق عمل کرنے کا کہہ کر خدا تعالیٰ سے ملنے کے راستوں کی طرف ہماری رہنمائی کر دی۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے معیار حاصل کرنے کے راستے دکھا دئیے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرنے کی ذمہ داری کا احساس مومنین میں پیدا کیا جس سے ایک مومن خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سب باتیں تقاضا کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہوئے ہم دنیا کو بھی اس تعلیم اور آپ کے اُسوہ سے آگاہ کریں۔ آپ کے حسن و احسان سے دنیا کو آگاہ کریں۔ جب بھی غیروں کے سامنے آپ کی سیرت کے پہلو آئے تو وہ لوگ جو ذرا بھی دل میں انصاف کی رمق رکھتے تھے، وہ باوجود اختلافات کے آپ کی سیرت کے حسین پہلوؤں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔“ (خطبہ جمعہ 5؍ اکتوبر 2012ء) - [احترامِ انسانیت، خدمتِ انسانیت  اور شرفِ انسانیت (از روئے قرآنِ کریم)](https://mushahedat.com/احترامِ-انسانیت،-خدمتِ-انسانیت-اور-ش/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”مسلمانوں کے سب سے بہتر ہونے کی یہ وجہ ہے کہ انہیں اپنے فائدہ کی بجائے سب دنیا کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ کاش! مسلمان اس حکمت کو سمجھیں اور اس طرح ذلیل نہ ہوں۔ “ ( تفسیر صغیر سورۃ آل عمران ۔ حاشیہ آیت 111) - [قُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْداً (خلاصہ خطبہ جمعہ حضورِ انورایدہ اللہ فرمودہ 21؍ جون 2013ء ) ( تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/قُوْلُوْا-قَوْلاً-سَدِیْداً-خلاصہ-خط/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ’’انسان کو دقائق تقویٰ کی رعایت رکھنی چاہئے۔ سلامتی اسی میں ہے کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا نہ کرے تو پھر ایک دن وہی چھوٹی چھوٹی باتیں کبائر کا مرتکب بنادیں.گی اور طبیعت میں کسل اور لاپروائی پیدا ہوکرہلاک ہو جائے گا ۔ تم اپنے زیرِ نظر تقویٰ کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کرنا رکھو اور اس کے لئے دقائقِ تقویٰ کی رعایت ضروری ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 442 ایڈیشن 2003ء) - [قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا](https://mushahedat.com/قُوۡلُوۡا-قَوۡلًا-سَدِیۡدًا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام قولِ سدید کی تشریح میں فرماتے ہیںکہ ’’وہ بات منہ پر لاؤ جو بالکل راست اور نہایت معقولیت میں ہو اور لغو اور فضول اور جھوٹ کا اس میں سرِمُو دخل نہ ہو۔‘‘ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1صفحہ209-210حاشیہ نمبر11) - [ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے](https://mushahedat.com/ڈھونڈو-خدا-کو-دل-سے-نہ-لاف-و-گزاف-سے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ ”توحید ایک نور ہے جو آفاقی وانفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے اور وجود کے ذرّہ ذرّہ میں سرایت کر جاتا ہے پس وہ بجز خدا اور اُس کے رسول کے ذریعہ کے محض اپنی طاقت سے کیونکر حاصل ہو سکتا ہے انسان کا فقط یہ کام ہے کہ اپنی خودی پر موت وارد کرے اس شیطانی نخوت کو چھوڑ دے کہ مَیں علوم میں پرورش یافتہ ہوں اور ایک جاہل کی طرح اپنے تئیں تصوّر کرے اور دعامیں لگا رہے تب توحید کا نور خدا کی طرف سے اُس پر نازل ہوگا اور ایک نئی زندگی اُس کو بخشے گا۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 148) - [ہستی باری تعالیٰ پر سائنسی دلائل (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/ہستی-باری-تعالیٰ-پر-سائنسی-دلائل-تقریر/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اس کے ہو گئے ہیں۔ وہ غیروں پر جو اس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق وفادارنہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔ کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں۔ کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اُس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دَفْ سے مَیں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے مَیں علاج کروں تا سُننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 21۔ 22) - [سائنس کی رو سے ہستی باری تعالیٰ (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/سائنس-کی-رو-سے-ہستی-باری-تعالیٰ-تقریر-ن/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں : ’’آج انسان سائنس میں بڑی ترقی حاصل کرچکا ہے ۔ یہ ترقی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے بیان کر دی تھی کہ انسان دنیا میں ہر علم میں ترقی کرے گا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیرنہیں ہوسکتا۔ہر چیز جو دنیا میں موجود ہے چاہے اس کا علم ہمیں ہے یا نہیں وہ خداتعالیٰ کی پیدا کردہ ہے اور پھر انسان پر اس رب العالمین کا یہ احسان ہے کہ جو چیزیں بھی خداتعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس کو اشرف المخلوقات کے لئے فائدہ مند بنایا تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھا سکے۔ اور جوں جوں دنیا تحقیق کے ذریعہ خداتعالیٰ کی مختلف قسم کی پیدائش کے بارہ میں علم حاصل کر رہی ہے اس میں انسانی فوائد واضح طور پر نظر آتے چلے جا رہے ہیں۔ “ (خطبہ جمعہ 18؍ جون 2004ء) - [ہستئ باری تعالیٰ کے بارے میں سائنسی دلائل (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/ہستئ-باری-تعالیٰ-کے-بارے-میں-سائنسی-دلا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’جب مَیں ان بڑے بڑے اجرام کو دیکھتا ہوں اور ان کی عظمت اورعجائبات پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ صرف ارادۂ الٰہی سے اور اس کے اشارہ سے ہی سب کچھ ہوگیا تو میری رُوح بے اختیار بول اُٹھتی ہے کہ اے ہمارے قادر خدا! تو کیا ہی بزرگ قدرتوں والا ہے تیرے کام کیسے عجیب اور وراء العقل ہیں۔ نادان ہے وہ جو تیری قدرتوں سے انکار کرے اور احمق ہے وہ جو تیری نسبت یہ اعتراض پیش کرے کہ اس نے ان چیزوں کو کس مادّہ سے بنایا؟‘‘ (نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ425 حاشیہ) - [عقلی دلائل سے ہستئ باری تعالیٰ کے ثبوت](https://mushahedat.com/عقلی-دلائل-سے-ہستئ-باری-تعالیٰ-کے-ثبوت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’وہ عالِمُ الشہادۃ ہے یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔ یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو۔ وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا۔ وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہوگا؟ سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔ پھر فرمایا ھُوَ الرَّحْمٰن یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کے پاداش میں ان کے لئے سامان راحت میسر کرتا ہے۔ جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا۔ اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے۔ اور اس کام کے لحاظ سے خدائے تعالیٰ رحمن کہلاتا ہے۔“ ( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد10صفحہ372) - [ہستئ باری تعالیٰ ، کتبِ مقدّسہ کی روشنی میں](https://mushahedat.com/ہستئ-باری-تعالیٰ-،-کتبِ-مقدّسہ-کی-روشنی/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” خدا آسمان و زمین کا نور ہے۔ یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے خواہ وہ ارواح میں ہے خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ ذہنی ہے خواہ خارجی اسی کے فیض کا عطیہ ہے ۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہو رہا ہے اور کوئی اس کے فیصلے خالی نہیں۔ وہی تمام فیوض کا مبدءہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے۔ اسی کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیوم اور تمام زیر و زبر کی پناہ ہے۔ وہی ہے جس نے ہر یک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا اور خلت وجود بخشا۔ بجز اس کے کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو۔ یا اس سے مستفیض نہ ہوں بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور روح اور جسم سب اُسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔“ ( براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد1 صفحہ1 19 حاشیہ نمبر 11 ( - [ہستی باری تعالیٰ از روئے قرآنِ کریم ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/ہستی-باری-تعالیٰ-از-روئے-قرآنِ-کریم-تق/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس زندہ خدا کا پیغام اس زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کی اتباع میں دنیا کو پہنچانے والے ہوں اور دنیا کو یہ احساس دلانے والے ہوں کہ زندہ خدا ہے، موجود ہے، اب بھی سنتا ہے، نشان بھی دکھاتا ہے۔ اس کی طرف لَوٹو۔ اس کی طرف آؤ۔ اور ہم خود بھی اس خدا سے زندہ تعلق پیدا کرنے والے ہوں اور اس تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں۔ اس کی عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ اس کی صفات کا صحیح ادراک حاصل کرنے والے ہوں۔ اس کے انعامات کے وارث ہوں۔ ہماری نسلیں بھی اور ہم بھی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے شرک سے ہر طرح محفوظ رہیں۔‘‘ ( خطبہ جمعہ 18 اپریل2014ء) - [سُنو! اب وقتِ توحیدِ اَتَمّ ہے](https://mushahedat.com/سُنو-اب-وقتِ-توحیدِ-اَتَمّ-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ نے اپنے مولیٰ کے حضور ان الفاظ میں دعا کی: ’’اے میرے قادر خدا میری عاجزانہ دعائیں سن لے اور اس قوم کے کان اور دل کھول دے اور ہمیں وہ وقت دکھا کہ باطل معبودوں کی پرستش دنیا سے اٹھ جائے اور زمین پر تیری پرستش اخلاص سے کی جائے اور زمین تیرے راستباز اور موحَّد بندوں سے ایسی بھر جائے جیسا کہ سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے اور تیرے رسول کریم محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور سچائی دلوں میں بیٹھ جائے۔“ - [معاشرتی اور اخلاقی زوال کے اسباب](https://mushahedat.com/معاشرتی-اور-اخلاقی-زوال-کے-اسباب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’آج کل دنیا میں یہی حالات ہیں۔ کاروباروں میں بدعہدی ہے۔ روزمرہ کے معاملات میں بدعہدی ہے۔ قومی سطح پر اتنی بدعہدی ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک تجارت کا معاہدہ کرتے ہیں اور اس میں اتنی خیانت اور بدعہدی ہے کہ تصور سے باہر ہے۔ کسی نے مجھے بتایا بلکہ ایک کاروبار کرنے والے نے ہی بتایا کہ پاکستان سے ہم جواچھا باسمتی چاول دنیا کو بھیجتے ہیں اُس کے درمیان میں ہم نے ایک ایسا طریقہ رکھا ہوا ہے جس میں اِری جو باسمتی چاول نہیں ہوتا، موٹے چاول کی ایک قسم ہے لیکن اتنا موٹا بھی نہیں ہوتا‘ وہ اس طریقے سے ڈالتے ہیں کہ کسی کو پتہ بھی نہ چلے اور یہ کوئی پرواہ نہیں کہ اگر پتہ لگ جاتا ہے تو اس سے ان کی تجارت پر بھی اثر پڑے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کی بدنامی ہو گی۔ پھر اسی طرح اور بہت سے کام ہیں جو کئے جاتے ہیں۔ یعنی یہ صرف بدعہدی نہیں ہے بلکہ خیانت بھی ہے، جھوٹ بھی ہے۔ صرف چار پیسے کمانے کے لئے یہ بد عہدی کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ 4 فروری 2011ء) - [اسلامی تہوار اور تقریبات](https://mushahedat.com/اسلامی-تہوار-اور-تقریبات/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’یہ گوشت اور خون جو تم نے جانور کو ذبح کر کے حاصل کیا ہے اور بہایا ہے اگر یہ تقویٰ سے خالی ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے مقصد سے خالی ہے تو اللہ تعالیٰ کو اِن مادی چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو یہ ظاہری قربانی کی روح تم میں پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ جب تم جانوروں کو ذبح کرو تو تمہیں یہ احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک حکم پورا کروانے کے لیے اس جانور کو میرے قبضہ میں کیا ہے اور مَیں نے اس کی گردن پر چُھری پھیری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت ابراہیم ؑ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دی ہے ۔ اللہ تعالٰی نے مجھے توفیق دی ہے کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کی ……تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب اس نیت سے قربانی کر رہے ہو تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے قربانی کرو گے تو یہ قربانی مجھ تک پہنچے گی تو جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ روح ہے جس کے ساتھ اللہ کے حضور قربانیاں پیش ہونی چاہئیں ۔ ‘‘ ( خطبہ عید الاضحہ 21جنوری 2005ء) - [اولاد دین کی پہلوان ہو (سیرت حضرت مسیح موعودؑ کے تناظر میں )](https://mushahedat.com/اولاد-دین-کی-پہلوان-ہو-سیرت-حضرت-مسیح-م/) - حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں: مَیں بچپن میں اکثر دیکھتا کہ حضورؑ تہجد میں لمبی لمبی دعائیں کرتے اور اپنے بچوں کے لیے بھی بہت دعا کیا کرتے۔ کئی دفعہ مَیں نے سنا کہ حضور دعا میں روتے ہوئے یہ الفاظ دہرا رہے ہیں کہ ”اے اللہ! میری اولاد کو اپنا صالح بندہ بنا دے۔“ - [قرآنِ  کریم ، آنحضورؐ کی  زندگی کا مکمل ضابطہ حیات ہے](https://mushahedat.com/قرآنِ-کریم-،-آنحضورؐ-کی-زندگی-کا-مکمل/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خاص فضل سے روحانی کمالات، انعامات وبرکات، اسرار ومعارف اور محسن.باری.تعالیٰ کے خزائن عطا فرمائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن جیسی رحمت شفاء، نور، امام کتاب لے کر آئے اور قرآن کا نزول رحمانی صفت ہی کا اقتضاء تھا جیسے فرمایا اَلرَّحۡمٰنُ۔ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ قرآن کا نزول چونکہ اس صفت کے نیچے تھا ۔ آپؐ جب معلّمِ القرآن ہوئے تو اسی صفت کے مظہر بن کر باوجود اس کے کہ اُن سے دکھ اٹھائے مگر دُعا ، توجہ ، عقدِ ہمت اور تدبیر کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ آخر آپؐ کامیاب ہوگئے۔ پھر جن لوگوں نے آپؐ کی سچی اور کامل اتباع کی ان کو اعلیٰ درجہ کی جزا ملی اور ان کی تعریف ہوئی ۔ اس پہلو سے آپؐ کا نام احمدؐ ٹھہرا کیونکہ دوسرے کی تعریف جب کرتا ہے جب فائدہ دیتا ہے۔ چونکہ آپؐ نے عظیم الشان فائدہ دنیا کو پہنچایا ،اس لیے آپؐ کی اسی قدر تعریف بھی ہوئی۔‘‘ (حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 112) - [وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ](https://mushahedat.com/وَاللّٰہُ-یَعۡصِمُکَ-مِنَ-النَّاسِ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کے ہاتھوں قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے اور قرآن شریف کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی ہے کہ وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اور پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخر الزمان کسی کے ہاتھوں قتل نہیں ہوگا۔ “ (ملفوظات جلد 8صفحہ 11) - [قیامِ امن کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کی عالمگیر مساعی](https://mushahedat.com/قیامِ-امن-کے-لئے-حضرت-خلیفۃ-المسیح-الخا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ” اسلام ہر معاملہ میں کامل عدل اور مساوات کا درس دیتا ہے،چنانچہ سورۃ مائدہ آیت نمبر 3 میں ہمیں ایک بہت ہی اہم اور رہنما اصول ملتا ہے کہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان لوگوں سے بھی عدل و انصاف کا سلوک کیا جائے جو اپنی دشمنی اور نفرت میں تمام حدود پار کر چکے ہیں۔ ایک سوال طبعاً پیدا ہوتا ہے کہ اسلام جس عدل کا تقاضا کرتا ہے اس کا معیار کیا ہے اس بارے سورت نساء آیت نمبر 136 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خواہ تمہیں اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا اپنے والدین یا اپنے عزیز ترین رشتہ دار کے خلاف گواہی دینی پڑے تب بھی تمہیں انصاف اور سچائی کو قائم رکھنے کے لیے ایسا کرنا چاہیے۔“ (خطاب حضور انور بعنوان ”عالمی بحران اور امن کی راہ“) - [اِسۡتِیۡنَاس کیا ہے اور اس کے آداب](https://mushahedat.com/اِسۡتِیۡنَاس-کیا-ہے-اور-اس-کے-آداب/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” دوسرے گھروں میں وحشیوں کی طرح خود بخود بے اجازت نہ چلے جاؤ۔ اجازت لینا شرط ہے اور جب تم دوسروں کے گھروں میں جاؤ تو داخل ہوتے ہی السلام علیکم کہو اور اگر ان گھروں میں کوئی نہ ہو تو جب تک کوئی مالک خانہ تمہیں اجازت نہ دے اُن گھروں میں مت جاؤ اور اگر مالک خانہ یہ کہے کہ واپس چلے جاؤ توتم واپس چلےجاؤ۔“ ( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 336) - [آج کا نوجوان  بطور ایک اُمید  کے](https://mushahedat.com/آج-کا-نوجوان-بطور-ایک-اُمید-کے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالی کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں، نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتبِ تربیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔ میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔ بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بُری عادتیں سکھا دیتے ہیں ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں۔ تو ان کو تنبیہہ نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دِ ن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔“ (ملفو ظات جلد اوّل صفحہ 562 ) - [بنی نوع انسان سے ہمدردی اور خدمت انسانیت (حضرت مسیح موعودؑ کے پاک کلمات اور ارشادات  کے آئینہ میں) ( تقریر نمبر 3)](https://mushahedat.com/بنی-نوع-انسان-سے-ہمدردی-اور-خدمت-انسان-3/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اس بات کو بھی خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے دو حکم ہیں اول یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نہ اُس کی ذات میں نہ صفات میں نہ عبادات میں اور دوسرے نوع.انسان سے ہمدردی کرو اور احسان سے یہ مراد نہیں کہ اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں ہی سے کرو بلکہ کوئی ہو۔ آدم زاد ہو اور خدا تعالیٰ کی مخلوق میں کوئی بھی ہو۔ مت خیال کرو کہ وہ ہندو ہے یا عیسائی۔ مَیں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا انصاف اپنے ہاتھ میں لیا ہے، وہ نہیں چاہتا کہ تم خود کرو۔ جس قدر نرمی تم اختیار کرو گے اور جس قدر فروتنی اور تواضع کرو گے ۔ اللہ تعالیٰ اُسی قدر تم سے خوش ہوگا۔ اپنے دشمنوں کو تم خدا تعالیٰ کے حوالے کرو۔ قیامت نزدیک ہے تمہیں ان تکلیفوں سے جو دشمن تمہیں دیتے ہیں گھبرانا نہیں چاہئے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ابھی تم کو ان سے بہت دکھ اٹھانا پڑے گا کیونکہ جو لوگ دائرہ تہذیب سے باہر ہو جاتے ہیں ان کی زبان ایسی چلتی ہے جیسے کوئی پل ٹوٹ جاوے تو ایک سیلاب پھوٹ نکلتا ہے۔ پس دیندار کو چاہئے کہ اپنی زبان کو سنبھال کر رکھے۔‘‘ (ملفوظات جلد5 صفحہ130) - [بنی نوع انسان سے ہمدردی اور خدمت انسانیت (حضرت مسیح موعودؑ کے پاک کلمات اور ارشادات  کے آئینہ میں) ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/بنی-نوع-انسان-سے-ہمدردی-اور-خدمت-انسان-2/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہوسکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہرا وے ۔ اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور مَیں باوجود اپنی صحت اور تندرستی کے چارپائی پر قبضہ کرتا ہوں تاوہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر مَیں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چارپائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر مَیں اس کے مقابل پر امن سے سو رہوں اور اس کے لئے جہاں تک میرے بس میں ہے آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں… کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو…خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جھک کر بات کرنا مقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔ “ ( شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395) - [بنی نوع انسان سے ہمدردی اور خدمت انسانیت (حضرت مسیح موعودؑ کے پاک کلمات اور ارشادات  کے آئینہ میں) ( تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/بنی-نوع-انسان-سے-ہمدردی-اور-خدمت-انسانی/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب پیغام صلح میں ہندوستان کی دو بڑی قوموں مسلمانوں اور ہندوؤں کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں : ”ہمارا فرض ہے کہ صفائے سینہ اور نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے کے رفیق بن جائیں اور دین و دنیا کی مشکلات میں ایک دوسرے کی ہمدردی کریں اور ایسی ہمدردی کریں کہ گویا ایک دوسرے کے اعضاء بن جائیں۔اے ہموطنو! وہ دین، دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو اور نہ وہ انسان ،انسان ہے جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ “ ( پیغام صلح ، روحانی خزائن جلد 23صفحہ439) - [ہجرت بھی ایک سنّتِ خَیْرُ الانام ہے](https://mushahedat.com/ہجرت-بھی-ایک-سنّتِ-خَیْرُ-الانام-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ درحقیقت وہ خدا بڑا زبردست اور قوی ہے جس کی طرف محبت اور وفا کے ساتھ جھکنے والے ہرگز ضائع نہیں کئے جاتے۔ دشمن کہتا ہے کہ مَیں اپنے منصوبوں سے اُن کو ہلاک کر دوں اور بد اندیش ارادہ کرتا ہے کہ مَیں ان کو کچل ڈالوں۔ مگر خدا کہتا ہے کہ اے نادان! کیا تُو میرے ساتھ لڑے گا؟ اور میرے عزیز کو ذلیل کر سکے گا؟ درحقیقت زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا مگر وہی جو آسمان پر پہلے ہو چکا اور کوئی زمین کا ہاتھ اس قدر سے زیادہ لمبا نہیں ہو سکتا جس قدر کہ وہ آسمان پر لمبا کیا گیا ہے۔ پس ظلم کے منصوبے باندھنے والے سخت نادان ہیں جو اپنے مکروہ اور قابل شرم منصوبوں کے وقت اس برترہستی کو یادنہیں رکھتے جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔ لہٰذا وہ اپنے ارادوں میں ہمیشہ ناکام اور شرمندہ رہتے ہیں اور اُن کی بدی سے راستبازوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا بلکہ خدا کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خلق اللہ کی معرفت بڑھتی ہے۔ وہ قوی اور قادر خدا اگرچہ ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا مگر اپنے عجیب نشانوں سے اپنے تئیں ظاہر کر دیتا ہے۔ ‘‘ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ19-20) - [فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ پس (اے جنّ و اِنس!) تم دونوں اپنے ربّ کی کس کس نعمت کا انکار کروگے](https://mushahedat.com/فَبِاَیِّ-اٰلَآءِ-رَبِّکُمَا-تُکَذِ/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا بِشَیْئٍ مِنْ نِعْمَکَ رَبَّنَا نُکَذَّبُ فَلَکَ الْحَمْد اے ہمارے ربّ! ہم تیری کسی بھی نعمت کا انکار نہیں کرتے۔ پس سب تعریف تیرے لیے ہے۔ - [جماعت احمدیہ کی صحافت اور روایتی صحافت میں فرق](https://mushahedat.com/جماعت-احمدیہ-کی-صحافت-اور-روایتی-صحافت/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” اِس زمانہ میں خداتعالیٰ نے چاہا کہ سیف یعنی تلوار کا کام قلم سے لیا جائے اور تحریر سے مقابلہ کر کے مخالفوں کو پست کیاجائے۔ اس وقت جو ضرورت ہے و ہ یقیناً سمجھ لو سیف کی نہیں قلم کی ہے۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ59) - [صحافت اور ذرائع اِبلاغ کی ضرورت اور اہمیت](https://mushahedat.com/صحافت-اور-ذرائع-اِبلاغ-کی-ضرورت-اور-اہم/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’اخبار قوم کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جو قوم زندہ رہنا چاہتی ہے۔ اسے اخبار کو زندہ رکھنا چاہئے اور اپنے اخبار کے مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو ان امور پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔‘‘ (الفضل 31دسمبر 1954ء) - [جدید ایجادات کے منفی اثرات و مضرَّات](https://mushahedat.com/جدید-ایجادات-کے-منفی-اثرات-و-مضرَّات/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بے حیائی اور یاوہ گوئی سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ بے حیائی اور یاوہ گوئی کو پسند نہیں کرتا ۔ (مسند احمد بن حنبل) - [جدید ایجادات کا درست اور برمحل استعمال](https://mushahedat.com/جدید-ایجادات-کا-درست-اور-برمحل-استعمال/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں: ”آجکل انٹر نیٹ اور ای میل …کے بارے میں …غور کریں کہ کس طرح استعمال کرنا ہے، کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کے غلط استعمال جو ہورہے ہیں تو اس کا صحیح استعمال کیوں نہ کیا جائے۔“ (خطبہ جمعہ 22؍دسمبر 2006ء) - [قيامِ نماز ۔ حصول الْبِّر کا ذريعہ ( مسیح  موعودؑ)](https://mushahedat.com/قيامِ-نماز-۔-حصول-الْبِّر-کا-ذريعہ-مسی/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” پس وہ لوگ جو ...اپنی نمازوں کی مُحَافَظَت کرتے ہیں اور گو مال کا نقصان ہو یا عزت کا نقصان ہو یا نماز کی وجہ سے کوئی ناراض ہو جائے نماز کو نہیں چھوڑتے اور اُس کے ضائع ہونے کے اندیشہ میں سخت بے تاب ہوتے اور پیچ و تاب کھاتے گویا مر ہی جاتے ہیں اور نہيں چاہتے کہ ایک دم بھی یادِالٰہی سے الگ ہوں۔ وہ درحقیقت نماز اور یادِالٰہی کو اپنی ضروری غذا سمجھتے ہیں جس پر اُن کی زندگی کا مدار ہے ۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 212-213) - [حضرت مسیح موعودؑ  کا جادوئی روحانی انقلاب](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کا-جادوئی-روحانی-انق/) - حضرت مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری صاحب  مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مخاطب کرکے بیعت کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ قرآن کریم کی جو عظمت اب میرے دل میں ہے، خود پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت جو میرے دل میں اب ہے پہلے نہ تھی۔ یہ سب حضرت مرزا صاحب کی بدولت ہے‘‘ (اصحاب احمد جلد 14 صفحہ56) - [بہتان طرازی اور الزام تراشی۔ایک گنا ہِ کبیرہ](https://mushahedat.com/بہتان-طرازی-اور-الزام-تراشی۔ایک-گنا-ہِ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں اور لغو باتوں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ359) - [حفاظت و سیکیورٹی کی ضرورت ، اہمیت اور اس کے فوائد](https://mushahedat.com/حفاظت-و-سیکیورٹی-کی-ضرورت-،-اہمیت-اور-اس/) - حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتےہیں: ”ماحول اور حال کو مدّ نظر رکھنا چاہئے ۔ دشمنوں کی طرف سے چوکس رہو اور ساتھ ہی اپنا ایمان بھی مضبوط رکھو کہ تمہارا خدا تمہارے چاروں طرف ہے۔ “ (خطبات محمود جلد 22 صفحہ604) - [محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں ( پس منظر اور ضرورت )](https://mushahedat.com/محبت-سب-کے-لیے-نفرت-کسی-سے-نہیں-پس-منظر-ا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں: ’’ مَیں نے اپنی عمر میں سینکڑوں مرتبہ قرآن کریم کا نہایت تدبُّر سے مطالعہ کیا ہے اس میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جو کہ دنیاوی معاملات میں ایک مسلم اور غیر مسلم میں تفریق کی تعلیم دیتی ہو۔ شریعت بنی نوع انسان کے لیے خالصتاً باعث رحمت ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے دلوں کو محبت ،پیار اور ہمدردی سے جیتا تھا۔ اگر ہم بھی لوگوں کے دلوں کو فتح کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔ قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے سب سے محبت اور نفرت کسی سے نہیں ۔یہی طریق ہے دلوں کو جیتنے کا ۔اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں۔‘‘ ( دورہ مغرب صفحہ 523) - [انسان کی انسانيت کا تقاضا اپنے بھائی سے مُروَّت، احسان کا سلوک کرے](https://mushahedat.com/انسان-کی-انسانيت-کا-تقاضا-اپنے-بھائی-سے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں: ’’ تم جو ميرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم ہر شخص خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ہمدردی کرو اور بلا تميز ہر ايک سے نيکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 219) - [یُفِیْضُ الۡمَالَ حَتّٰی لَا یَقۡبَلُہُ اَحَدٌ یعنی آنے والا مسیحؑ مال لُٹائے گا لیکن لوگ اُس مال کو قبول نہیں کریں گے](https://mushahedat.com/یُفِیْضُ-الۡمَالَ-حَتّٰی-لَا-یَقۡبَل/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں: ”آپ کا فرضی مسیح اورمہدی تو ظاہر ہو کر اور تمام کافروں کو قتل کر کے اُن کا مال آپ لوگوں کو دے دے گا اور تمام نفسانی خواہشیں پوری کردے گا جیسا کہ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ لیکن مَیں تو اس لئے نہیں آیا کہ آپ لوگوں کو دنیا کے گندے مال میں مبتلا کروں اور آپ پر تمام ہواوہوس کے پورے کرنے کے دروازے کھول دوں بلکہ مَیں اس لئے آیا ہوں کہ موجودہ دنیا کے حظ سے بھی کچھ کم کرکے خداتعالیٰ کی طرف کھینچوں ۔ پس حقیقت میں میرے آنے سے آپ لوگوں کا بہت ہی حرج ہوا ہے۔ گویا تیرہ سو برس کے مال و متاع کی آرزوئیں خاک میں مل گئیں یا یوں کہو کہ کروڑ ہا روپیہ کا نقصان ہوگیا۔ “ (تریاق القلوب ، رُوحانی خزائن جلد 15 صفحہ159) - [”خادمِ نوعِ انسان“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)](https://mushahedat.com/خادمِ-نوعِ-انسان-حضرت-مسیح-موعود-عل/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں: ”متکبّر دوسرے کا حقیقی ہمدرد نہیں ہوسکتا۔اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہ رکھو بلکہ ہرایک کے ساتھ کرو ۔ اگر ایک ہندو سے ہمدردی نہ کرو گے تو اسلام کے سچے وصایا اُسےکیسے پہنچاؤ گے؟ خدا سب کا ربّ ہے ۔ ہاں مسلمانوں کی خصوصیت سے ہمدردی کرو اور پھر متقی اور صالحین کی اس سے زیادہ خصوصیت سے ۔ مال اور دُنیا سے دل نہ لگاؤ۔ اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ تجارت وغیرہ چھوڑ دو بلکہ دل بایار اور دست باکار رکھو ۔ خدا کاروبار سے نہیں روکتا بلکہ دنیا کو دین پر مقدم رکھنے سے روکتا ہے ۔ اس لیے تم دین کو مقدم رکھو۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ592۔ایڈیشن 2003ء) - [جماعت احمدیہ اور خدمتِ انسانیت](https://mushahedat.com/جماعت-احمدیہ-اور-خدمتِ-انسانیت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” ہمارا یہ اصول ہے کہ کل بنی نوع کی ہمدردی کرو ۔ اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور یہ نہیں اٹھتا کہ تا آگ بھجانے میں مدد دے تو مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کے چھڑانے کے لئے مدد نہیں کرتا تو مَیں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم میں سے نہیں۔“ ( سراج منیر ،روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 28) - [ہم ایک ہیں!](https://mushahedat.com/ہم-ایک-ہیں/) - حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ کسی جماعت کی ترقی کے لئے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے سب افراد آپس میں ایک ہو جائیں ۔ جب تک کوئی جماعت فرد واحد کی طرح نہیں ہوجاتی ترقی نہیں کر سکتی۔ خواہ وہ جماعت دینی ہو یا دنیوی کیونکہ تمام کامیابیوں اور ترقیوں کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ قاعدہ جاری کیا ہوا ہے کہ جب تک سا ری جماعت ایک نہ ہو جائے ، لڑنا جھگڑنا ، دشمنی، نفاق و حسد و کینہ ، بغض و عداوت کو چھوڑ نہ دے اس وقت تک ترقی نہیں کرے گی۔ ‘‘ (الفضل 10 ؍مئی 1992ء) - [ULEZ اور انسانی زندگی](https://mushahedat.com/ulez-اور-انسانی-زندگی/) - حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کہ یہ کون عورت ہے ۔ مَیں نے عرض کی۔ یہ فلاں ہے جو اس قدر عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتی ہے کہ سوتی بھی نہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ تم پر اسی قدر عبادت واجب ہے جتنی تم میں طاقت ہے ۔ خدا کی قسم!تم تھک اور اُکتا جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ نہیں اُکتائے گا ۔ اللہ تعالیٰ کو وہی عمل پسند ہے جس پر میانہ روی کے ساتھ مداومت ہو ۔ ( حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 779) - [انسان اور کِردار](https://mushahedat.com/انسان-اور-کِردار/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ تمہاری بیعت کا اقرار کرنا زبان تک محدود رہا تو یہ بیعت کچھ فائدہ نہ پہنچائے گی۔ چاہئے کہ تمہارے اعمال تمہارے احمدی ہونے پر گواہی دیں۔ مَیں ہرگز یہ بات نہیں مان سکتا کہ خداتعالیٰ کا عذاب اس شخص پر وارد ہو جس کا معاملہ خداتعالیٰ کے ساتھ ہو۔ خداتعالیٰ اسے ذلیل نہیں کرتا جو اس کی راہ میں ذلت اور عاجزی اختیار کرے۔ یہ سچی اور صحیح بات ہے۔ پس راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو۔ کوٹھڑی کے دروازے بند کرکے تنہائی میں دعا کرو کہ تم پر رحم کیاجائے۔ اپنا معاملہ صاف رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل تمہارے شامل حال ہو۔ جو کام کرو نفسانی غرض سے الگ ہو کر کرو تا خداتعالیٰ کے حضور اجر پاؤ‘‘ (ملفوظات جلد 5صفحہ 272) - [تُو آئے تو ہم تجھ کو سر آنکھوں پہ بٹھائیں (حضرت مصلح موعودؓ  کا اللہ سے خطاب)](https://mushahedat.com/تُو-آئے-تو-ہم-تجھ-کو-سر-آنکھوں-پہ-بٹھائی/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’مسلمانوں کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ اُن کا خدا دعاؤں کو سننے والا ہے‘‘ (ملفوظات جلد 2صفحہ 148 ) - [آنحضورؐ کی چند مزید فضیلتیں](https://mushahedat.com/آنحضورؐ-کی-چند-مزید-فضیلتیں/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسانِ کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالَم کا عالَم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔ وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء،ختم المرسلین ، فخر النبیین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتدائے دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔ اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملاکی اور یحيٰ اور زکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگرچہ سب مقرّب اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اسی نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔“ (اتمام الحجۃ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308 ) - [لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلاکْ اگر تم نہ ہوتے تو مَیں کائنات کی کوئی بھی چیز پیدا نہ کرتا](https://mushahedat.com/لَوْلَاکَ-لَمَا-خَلَقْتُ-الْاَفْلاک/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’انسان کامل جن کا نام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ہے جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ! مَیں نے زمین و آسمان کو بھی تیری وجہ سے پیدا کیا ہے۔ اپنے نور ہونے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں۔ایک روایت مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الایمان میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی وہ میرا نور ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الایمان بالقدر) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس انسان کامل کو دیا جانے والا نور وہ نور ہے جو نہ پہلوں میں کبھی کسی کو دیا گیا اور نہ بعد میں آنے والوں کو دیا جائے گا۔ وہ صرف اور صرف انسان کامل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہو گا۔‘‘ ( خطبہ جمعہ 22جنوری2010ء) - [اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ (حضرت محمدؐ ) مجھے اخلاقِ حسنہ کی تکمیل  کے لئے مبعوث کی گیا ہے (ارشادات حضرت مسیح موعودؑ کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/اِنَّمَا-بُعِثْتُ-لِاُتَمِّمَ-مَکَا-2/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ کے بارے میں فرماتے ہیں : ”تُو اے نبی! ایک خُلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنی اپنی ذات میں تمام مکارمِ اخلاق کا ایسا متمَّم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصوّر نہیں کیونکہ لفظ عَظِیْم محاورۂ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو……بعضوں نے کہا ہے کہ عَظِیْم وہ چیز ہےجس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطۂ.ادراک سےباہرہو۔ “ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 194 بقیہ حاشیہ نمبر 11) - [اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ (حضرت محمدؐ ) مجھے اخلاقِ حسنہ کی تکمیل  کے لئے مبعوث کی گیا ہے (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/اِنَّمَا-بُعِثْتُ-لِاُتَمِّمَ-مَکَا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے ،اپنے اعمال سے اوراپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُرزوردریاسے کمال تام کا نمونہ علماًو عملاً و صدقاً وثباتاً دکھلایا اورا نسانِ کامل کہلایا…وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اورحشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہوگیا۔ وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر النبیین جناب محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا! اِس پیارے نبی پروہ رحمت اوردرود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پرنہ بھیجا ہو۔‘‘ (اتمام الحجہ، روحانی خزائن جلد8صفحہ308) - [فَأَمَمْتُهُمْ ( حضرت محمدؐ ) مَیں نے ان سب انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت کرائی (واقعہ اسراء)](https://mushahedat.com/فَأَمَمْتُهُمْ-حضرت-محمدؐ-مَیں-نے-ان/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف کی یہ آیت کہ سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے اور بغیر اس کے معراج ناقص رہتا ہے۔ پس جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے بیت المقدس تک پہنچا دیا ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے آنجناب کو شوکت اسلام کے زمانہ سے جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا برکات اسلامی کے زمانہ تک جو مسیح موعود کا زمانہ ہے پہنچا دیا۔ پس اس پہلو کی رو سے جواسلام کے انتہا زمانہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر کشفی ہے مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے۔‘‘ - [آنحضرتؐ کی سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی تک رسائی اور جنت کا دیکھنا (معراج مصطفیؐ کا شُہرہِ آفاق سفر)](https://mushahedat.com/آنحضرتؐ-کی-سِدْرَۃِ-الْمُنْتَہٰی-تک/) - قرآن کریم اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ معراج دو مرتبہ ہوا۔ پہلا معراج ابتدائے نبوت میں ہوا جس میں نمازیں فرض ہوئیں اوردوسرا معراج نبوت کے پانچویں سال یا اس سے کچھ عرصہ پہلے ہوا۔ سورۃ نجم میں جس معراج کا ذکر ہے وہ دوسرا معراج ہے۔ (تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ284) - [اَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّنَ (حضرت محمدؐ ) مَیں وہ اینٹ ہوں اور مَیں خَاتَمُ النبین ہوں](https://mushahedat.com/اَنَا-اللَّبِنَۃُ-وَاَنَا-خَاتَمُ-ال/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا جو خاتم المومنینؐ، خاتم العارفینؐ اور خاتم النبیینؐ ہے اور اسی طرح پر وہ کتاب اس پر نازل کی جو جامع الکتب اور خاتم الکتب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبیین ہیں اور آپ پر نبوت ختم ہو گئی۔ تو یہ نبوت اس طرح پر ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلا گھونٹ کر ختم کر دے۔ ایسا ختم قابل فخر نہیں ہوتا۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ طبعی طور پر آپ پر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔ یعنی وہ تمام کمالات متفرقہ جو آدمؑ سے لے کر مسیح.ابن مریمؑ تک نبیوں کو دئیے گئے تھے۔کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی، وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کر دئیے گئے اور اس طرح پر طبعاً آپؐ خاتم.النبیین ٹھہرے اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات، وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں وہ قرآن شریف پر آ کر ختم ہو گئے اور قرآن شریف خاتم.الکتب.ٹھہرا۔‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ341-342 ایڈیشن 1984ء) - [لَوْ کَانَ مُوْسیٰ وَ عِیْسیٰ حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اِتَّبَاعِیْ ( حضرت محمدؐ ) اگر حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ زندہ ہوتے تو اُنہیں میری پیروی کے بغیرچارہ نہ ہوتا](https://mushahedat.com/لَوْ-کَانَ-مُوْسیٰ-وَ-عِیْسیٰ-حَیَّیْ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ابتدا میں چند آدمی آپؐ پر ایمان لائے تھے اُس وقت خدا تعالیٰ نے آپؐ سے کہا کہ مَیں تیری جماعت میں اتنی برکت دوں گا کہ انسانوں کے لحاظ سے دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی جماعت تیرا مقابلہ نہیں کر سکے گی ۔ زمانہ ترقی کرتا گیا اللہ تعالٰی نے لوگوں کے دلوں میں آپؐ کی محبت اور عشق پیدا کیا۔ ایک طرف آپؐ کا دائرہ وسیع ہو گیا اور دوسری طرف تمام ممالک میں آپؐ کی تعلیم نے وہ اثر کیا کہ آپؐ کی وفات کے وقت دنیا نے دیکھا کہ نہ صرف یہ کہ ابو جہل اورعاص بن وائل کے ساتھیوں کے مقابلہ میں ہی آپؐ کو اچھے اتباع ملے بلکہ آپؐ کی وفات کے وقت دنیا نے یہ مان لیا کہ جو اتباع آپؐ کو ملے ہیں اُن کے مقابلہ میں موسٰی اور عیسٰی علیہما السلام کے ساتھی بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتے ۔ چنانچہ آپؐ فرماتے ہیں لَوْ کَانَ مُوْسیٰ وَ عِیْسیٰ حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اِتَّبَاعِیْ (الیواقیت والجواہر صفحہ 24) اگر حضرت موسٰی اور عیسٰی علیہما السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کو میرے صحابہ میں شامل ہوئے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا۔ گویا حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی علیہما السلام بھی آپؐ کے زمانہ میں زندہ موجود ہوتے تو وہ بھی آپؐ کے فرمانبردار اور مطیع ہوتے۔دیکھو! کتنا بڑا کوثر ہے جو آپؐ کو عطا کیا گیا۔ اگر آپؐ کی ابتدائی حالت کو دیکھا جائے ،اللہ تعالیٰ کے آپؐ کے ساتھ جو ابتدائی سلوک تھا اسے دیکھا جائے ،آپؐ کے اخلاق کے مظاہروں کو دیکھا جائے اور پھر آپؐ کے آخری انجام کو دیکھا جائے تو دل ایمان سے لبریز ہو جاتا ہے۔“ (تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 231) - [مجھ پر سورۃ الکوثر نازل ہوئی  (حضرت محمدؐ ) (تقریر نمبر 6)](https://mushahedat.com/مجھ-پر-سورۃ-الکوثر-نازل-ہوئی-حضرت-محمد/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” (کوثر میں) وہ تمام امور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ سب کے سب کوثر کا حصّہ ہیں اور اِس لفظ میں یہ دعویٰ ہے کہ وہ تمام کمالات جو نبوت کا حصّہ ہیں یا نبوت سے اِن کا گہرا تعلق ہے۔ اُن سب میں آپؐ کو کوثر ملی ۔“ ( تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 248) - [اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَر اَلۡکَوثَرۡ ۔ خَیرِ کَثِیر بذریعہ حضرت مسیح موعودؑ (تقریر نمبر5)](https://mushahedat.com/اِنَّاۤ-اَعۡطَیۡنٰکَ-الۡکَوۡثَر-اَل/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے سورۃ الکوثر میں اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَر کے تحت فٹ نوٹ میں فرمایا: ” کَوۡثَر کے معنے ہر چیز کی کثرت کے ہیں نیز ایسے شخص کے جو بہت خیرات کرنے والا اور سخی ہو ۔ جیسا کہ حدیثوں میں مسیحؑ کی نسبت آتا ہے کہ وہ آئے گا اور مال لٹائے گا لیکن لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔ پس اس جگہ ایک آنے والے اُمتی کا ذکر ہے جو روحانی طور پر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ہوگا ۔ چنانچہ اس سورۃ میں بتایا ہے کہ کافر کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتر ہیں ۔ وہ کس طرح ابتر ہوسکتے ہیں جبکہ ان کی روحانی اولاد میں تو ایک ایسا شخص کھڑا ہونے والا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہو ئی تعلیم کے خزانے لٹائے گا۔ یہاں تک کہ لوگ اس کے دئے ہوئے مال کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ایسا مال جس کے لینے سے لوگ انکار کرتے ہیں علمی خزانے ہی ہوتے ہیں ورنہ ظاہری مال کے لحاظ سے تو اگر کسی کے پاس کروڑ پونڈ ہوتو اُسے اگر ایک پونڈ بھی دیا جائے تو وہ اسے قبول کرلیتا ہے۔“ ( تفسیر صغیر صفحہ نمبر847 فٹ نوٹ ) - [اَلْکَوْثَرْ۔ خَیْرِ کَثَیْر اَیْ اَلْقُرْآن (اَلْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ) (تقریر نمبر4)](https://mushahedat.com/اَلْکَوْثَرْ۔-خَیْرِ-کَثَیْر-اَیْ-اَ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ”میرا مذہب یہ ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ جو تمہاری ہدایت کے لئے خدا نے تمہیں دی ہیں۔ سب سے اوّل قرآن ہے جس میں خدا کی توحید اور جلال اور عظمت کا ذکر ہے اور جس میں ان اختلافات کا فیصلہ کیا گیا ہے جو یہود اور نصاریٰ میں تھے... خدا نےمجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اَلْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں یہی بات سچ ہے ...قرآن ایک ہفتہ میں انسان کو پاک کر سکتا ہے اگر صوری یا معنوی اعراض نہ ہو قرآن تم کو نبیوں کی طرح کر سکتا ہے اگر تم خود اس سے نہ بھاگو ……تمہاری تمام کوشش اسی میں مصروف ہونی چاہئے کہ تم خدا کے تمام احکام کے پابند ہو جاؤ اور یقین میں ترقی چاہو نجات کے لئے نہ الہام نمائی کے لئے۔“۔۔۔۔ ۔ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26 - 28 ) - [الکوثر، خیر کثیر کے معانی (حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر3)](https://mushahedat.com/الکوثر،-خیر-کثیر-کے-معانی-حضرت-مصلح-موع/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”غرض موسیٰ علیہ السلام کو کتاب ملی جس کے معنے حکم ہوتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو احکام دئےجن میں سے آپ کو کچھ احکام تو لفظاً لفظاً یاد رہ گئے اور باقی کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے الفاظ میں بیان کردیا اور وہ تورات میں درج ہوگئے۔ مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کلام اللہ دیا گیا جس کے الفاظ اوّل سے آخر تک وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں۔ گویا سورۃ فاتحہ کی 'ب' سے لیکر سورۃ النّاس کی 'س' تک نہ کوئی لفظ ایسا ہے اور نہ کوئی زیر اور زبر جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے شامل کردیا ہو۔ بلکہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں۔ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کتنی بڑی فضیلت ہے کوئی عیسائی یا یہودی تورات کے متعلق قسم نہیں کھاسکتا کہ یہ وہی کتاب ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔ کوئی عیسائی یا یہودی بھلا یہ قسم کھا کر کہہ تو دے کہ میرے بیوی بچوں کو خداتعالیٰ تباہ کرے اور اگلے جہان میں بھی اُن پر لعنت ہو اگر تورات کے الفاظ وہی نہ ہوں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اُترے تھے۔ کوئی عیسائی یا یہودی ایسی قسم نہیں کھاسکتا ۔ لیکن ہم قرآن کریم کے متعلق یہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں آج بھی آئندہ بھی۔ کہ اگر یہ وہی الفاظ نہ ہوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے تھے تو ہمارے بیوی بچوں کو خداتعالیٰ تباہ کرے اور اگلے جہان میں بھی اُن پر لعنت ہو ۔ یہ کتنی بڑی فضیلت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ پر حاصل ہوئی۔“ - [اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ (حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی تفسیر کے آئینہ میں) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/اِنَّاۤ-اَعۡطَیۡنٰکَ-الۡکَوۡثَرَ-حض-2/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں کہ ”یہ سورۃ مکّی ہے… یہ ایک مختصر سی سورۃ ہے اور اس مختصر سی سورۂ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان پیشگوئی بیان فرمائی ہے۔ جو جامع ہے پھر اس کے پورا ہونے پر شکریہ میں مخلوقِ الٰہی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے … پس یہ ایک سورۂ شریفہ ہے ۔ بہت ہی مختصر ۔ لفظ اتنے کم کہ سننے والے کو کوئی ملال طوالت کا نہیں یہاں تک کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی ایک دن میں ہی اُسے یاد کرلے۔ اگر ان کے مطالب اور معانی دیکھو تو حیرت انگیز۔“ (حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ نمبر498) - [اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ (حضرت مسیح موعودؑ  کے ارشادات کی روشنی میں ) (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/اِنَّاۤ-اَعۡطَیۡنٰکَ-الۡکَوۡثَرَ-حض/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ”اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ میں ایک بروزی وجود کا وعدہ دیا گیا جس کے زمانہ میں کوثر ظہور میں آئے گا یعنی دینی برکات کے چشمے بہ نکلیں گے اور بکثرت دنیا میں سچے اہل اسلام ہو جائیں گے۔ اس آیت میں بھی ظاہری اولاد کی ضرورت کو نظرِ تحقیر سے دیکھا اور بروزی اولاد کی پیش گوئی کی۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ (530 - [عَسٰۤیاَنۡیَّبۡعَثَکَرَبُّکَمَقَامًامَّحۡمُوۡدًا قریب ہے کہ تیرا ربّ تجھے مقامِ محمود پر فائز کردے](https://mushahedat.com/عَسٰۤیاَنۡیَّبۡعَثَکَرَبُّکَمَقَا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ”عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی یعنی گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بد ظنّی کی راہ سے بد گوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر خدائے تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہو گی“ ( مجموعۂ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 137) - [وَاصۡطَفَانِیۡ مِنۡ بَنِیۡ ھَاشَمٍ (حضرت محمدؐ ) اللہ تعالیٰ نے مجھے بنو ہاشم میں سے منتخب فرمایا (تقریر نمبر 17)](https://mushahedat.com/وَاصۡطَفَانِیۡ-مِنۡ-بَنِیۡ-ھَاشَمٍ-ح/) - حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا : مَیں نے تمام زمین کے اطراف.واکناف اور گوشہ گوشہ کو چھان مارا، مگر نہ تو مَیں نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کسی کو پایا اور نہ ہی مَیں نے بنو ہاشم کے گھر سے بڑھ کر بہتر کوئی گھردیکھا۔ ( الطبرانی فی المعجم الأوسط، الرقم : 6285) - [إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ (حضرت محمدؐ ) مَیں یقیناً تمہارا پیش رَو ہوں اور تم پر گواہ ہوں (تقریر نمبر 16)](https://mushahedat.com/4125-2/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار ۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ و احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی ۔ ‘‘ ) سراج منیر صفحہ 72) - [اَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (حضرت محمدؐ ) میں قیامت کے روز حمد کا جھنڈا اُٹھائے ہوئے ہوں گا (تقریر نمبر 15)](https://mushahedat.com/اَنَا-حَامِلُ-لِوَاءِ-الْحَمْدِ-یَوْ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’اصل حقیقت یہ ہے کہ سب نبیوں سے افضل وہ نبی ہے کہ جو دنیا کا مربّیٔ اعظم ہے۔ یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ سے فساد اعظم دنیا کا اصلاح پذیر ہوا۔ جس نے توحید گم گشتہ اور ناپدید شدہ کو پھر زمین پر قائم کیا۔ جس نے تمام مذاہب باطلہ کو حجت اور دلیل سے مغلوب کر کے ہریک گمراہ کے شبہات مٹائے جس نے ہریک ملحد کے وسواس دور کئے اور سچا سامان نجات کا……اصول حقہ کی تعلیم سے ازسرنو عطا فرمایا۔ پس اس دلیل سے کہ اس کا فائدہ اور افاضہ سب سے زیادہ ہے اس کا درجہ اور رتبہ بھی سب سے زیادہ ہے۔ اب تورایخ بتلاتی ہے۔ کتاب آسمانی شاہد ہے اور جن کی آنکھیں ہیں وہ آپ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ نبی جو بموجب اس قاعدہ کے سب نبیوں سے افضل ٹھہرتا ہے وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ ہر چہارحصص، روحانی خزائن جلد 1صفحہ 97حاشیہ) - [اُعۡطِیۡتُ الشَّفَاعَۃَ وَلَمۡ یُعۡطَ نَبِیٌّ قَبۡلِیۡ   (حضرت محمدؐ) مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں ہوئی (تقریر نمبر 3)](https://mushahedat.com/اُعۡطِیۡتُ-الشَّفَاعَۃَ-وَلَمۡ-یُعۡ/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”شفاعت کی حقیقت سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری یے کہ یہ لفظ شفع سے نکلا ہے اور مندرجہ آیت اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (آل عمران: 32)سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع انسان کے گناہوں کی مغفرت کا موجب ہے۔ حضور انور کی ذات ستودہ صفات ایک نور ہے جو اس نور سے تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس سے ظلمات دور ہوتی ہیں۔ یہ شفاعت ہے۔ مجرموں کی جنبہ بازی کا نام شفاعت نہیں جیسا کہ بعض نادانوں نے غلطی سے سمجھا ہے اور اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ “ (تشحیذ الاذہان جلد 7 صفحہ 136) - [أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ ( حضرت محمدؐ) مَیں قیامت کے روز اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر کوئی گھمنڈ یا فخر نہیں (تقریر نمبر 14)](https://mushahedat.com/أَنَا-سَيِّدُ-وَلَدِ-آدَمَ-يَوْمَ-الْ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ مَیں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر)۔ یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیساحق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی ۔ اِس لئے خدانے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریّتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافرِنعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اِسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔ اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منوّر رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑےہیں۔ ‘‘ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118-119) - [جُعِلَتْ صُفُوْفَنَا کَصُفُوْفِ الْمَلَائِکَۃِ (حضرت محمدؐ ) ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی رکھی گئی ہیں (تقریر نمبر 13)](https://mushahedat.com/جُعِلَتْ-صُفُوْفَنَا-کَصُفُوْفِ-الْ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس حدیث کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کےانوار دوسرے میں سرایت کر سکیں۔‘‘ (لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ281-282) - [اَنَا حَبِيْبُ  اللّٰہِ ( حضرت محمدؐ) مَیں اللہ تعالیٰ کا حبیب ہوں (تقریر نمبر 12)](https://mushahedat.com/اَنَا-حَبِيْبُ-اللّٰہِ-حضرت-محمدؐ-مَ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌعَلیٰ رَ بِہٖ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب پر عاشق ہو گیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 524، ایڈیشن1988ء) - [سُمِّيْتُ أَحْمَدَ) حضرت محمدؐ) میرا نام احمد رکھا گیا (تقریر نمبر 11)](https://mushahedat.com/سُمِّيْتُ-أَحْمَدَ-حضرت-محمدؐ-میرا-نا/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اِسْمِیْ فِی الْقُرَانِ مُحَمَّد وَفِی الانجیل اَحْمَدُ کہ میرا نام قرآن میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے اور انجیل میں احمد ہے۔ (خصائص الکبریٰ جلد اول صفحہ 78 ) - [جُعِلَتْ اُمَّتِیْ خَيْرَ الْأُمَمِ (حضرت محمدؐ ) میری امت کو بہترین امت بنایا گیا ہے (تقریر نمبر10)](https://mushahedat.com/جُعِلَتْ-اُمَّتِیْ-خَيْرَ-الْأُمَمِ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” وہ لوگ جو دین کے لئے وعظ کرتے ہیں ان کی بھی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں ایک وہ جو محض اِس لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں اور امر بالمعروف کا جو فرض ان کو ملا ہے اس کو ادا کریں۔ بنی نوع انسان کی بھلائی کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کریں اور اپنے آپ کو خیرِ اُمّت میں داخل ہونے کی فِکر ہوتی ہے جس کا ذکر یُوں کیا گیا ہے کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ (الآیہ )تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہو امر بالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر … مَیں دُنیا پرست واعظوں کا دشمن ہوں کیونکہ ان کی اغراض محدود ، ان کے حَوصلے چھوٹے ، خیالات پَست ہوتے ہیں جس واعظ کی اغراض دینی ہوں وہ ایک ایسی زبردست اور مضبوط چٹان پر کھڑا ہوتا ہے کہ دُنیوی وعظ سب اس کےاندر آجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک اَمر بالمعروف کرتا ہے ۔ ہر بھلی بات کا حکم دینے والا ہوتا اور ہر بُری بات سے روکنے والاہوتا ۔“ (الحکم 17 مارچ 1903۔ صفحہ:14-15) - [جُعِلَ التَّرَابُ لِیْ طَہُوْرًا ( حضرت محمدؐ ) مٹی کو میرے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا گیا (تقریر نمبر 9)](https://mushahedat.com/جُعِلَ-التَّرَابُ-لِیْ-طَہُوْرًا-حضر/) - سعید بن عبدالرحمٰن اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمربن خطابؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جُنبی ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا۔ تو حضرت عمار بن یاسرؓ نے حضرت عمر بن خطابؓ سے کہا۔ کیا آپؓ کو یاد نہیں کہ ہم یعنی مَیں اور آپ ایک سفر میں تھے۔ آپؓ نے تو نماز نہ پڑھی اور مَیں تو مٹی میں جانوروں کی طرح لوٹا اور نماز پڑھ لی۔ گویا پانی نہ ہونے کی وجہ سے تیمّ کیا۔ مَیں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کو صرف اس طرح کافی تھا اور آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے۔ پھر اِن پر پھونکا اور اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔ (صحیح بخاری کتاب التیمّم حدیث 338) - [اُتِیْتُ بِمَفَاتِیْحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ( حضرت محمدؐ ) مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں (تقریر نمبر 8)](https://mushahedat.com/اُتِیْتُ-بِمَفَاتِیْحِ-خَزَائِنِ-ال/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہونا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاً ظاہر ہوں یا کسی اَور شخص کے واسطہ سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ قیصر وکسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں آپؐ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوچکے تھے اور آنجنابؐ نے نہ قیصر اور کسریٰ کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کنجیاں دیکھیں۔ مگر چونکہ مقدر تھا کہ وہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلّی طور پرگویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا اس لیے عالمِ وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا۔ ‘‘ (ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 265) - [خُتِ٘مَ بِیَ النَّبِیُّوۡنَ    (حضرت محمدؐ) میرے ذریعہ نبیوں پر مہر لگائی گئی ہے (تقریر نمبر 7)](https://mushahedat.com/خُتِ٘مَ-بِیَ-النَّبِیُّوۡنَ-حضرت/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”آپؐ کی تصدیق کے بغیر اور آپؐ کی تعلیم کی شہادت کے بغیر کوئی شخص نبوت یا ولایت کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا ۔ لوگوں نے نبیوں کی مہر کی جگہ آخری نبی کے معنی لئے ہیں مگر اس سے بھی ہماری پوزیشن میں فرق نہیں آتا۔“ ( تفسیر صغیر فٹ نوٹ زیر آیت الاحزاب : 41) - [اُحِلَّتۡ لِیَ الۡغَنَائِمُ  (حضرت محمدؐ) غنیمتیں میرے لئے جائز کی گئی ہیں (تقریر نمبر 6)](https://mushahedat.com/اُحِلَّتۡ-لِیَ-الۡغَنَائِمُ-حضرت-مح/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے سورۃ انفال آیت 2 کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ: ”یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ: تین الفاظ ہیں۔ فَے ، غنیمت ، نفل۔ 1۔ فَے : جس مال پر مسمانوں کا کچھ بڑا خرچ نہ ہوا ہو جیسے سورہ حشر میں فَمَا اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِکَابٍ ۔ ( حشر:7)۔ 2۔ نفل: وہ مال جو خرچ کے بالمقابل زیادہ ملا ہو۔ 3۔ غنیمت : اِس لفظ کے معنوں میں عام لوگوں نے سخت غلطی کھائی ہے … غنیمت کے معنی لُوٹ کے کئے جاتے ہیں۔ عربی زبان میں غنیمت کہتے ہیں ۔ مطلق حصولِ مال کو۔ “ (حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ250) - [اُعۡطِیۡتُ جَوَامِعَ الۡکَلِمِ ( حضرت محمدؐ ) مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں ( تقریر نمبر 5)](https://mushahedat.com/اُعۡطِیۡتُ-جَوَامِعَ-الۡکَلِمِ-حضرت/) - امام زہریؒ کے علاوہ بعض کا خیال ہے کہ جَوَامِعُ الکَلِم سے مراد قرآن کریم ہے اور اس کی تائید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے بھی ہوتی ہے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ مَیں جَوَامِعُ الکَلِم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں اور قرآن کا یہ اعجاز تو بڑا نمایاں ہے کہ اس کے الفاظ تو مختصر ہیں لیکن معنی میں بہت زیادہ وسعت ہے۔ - [ہمارے دل کی زباں ہیں جلسے](https://mushahedat.com/ہمارے-دل-کی-زباں-ہیں-جلسے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمۂِ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات اَنہونی نہیں۔ عنقریب وہ وقت آتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ اس مذہب میں نہ نیچریت کا نشان رہے گا اور نہ نیچر کے تفریط پسند اور اَوہام پرست مخالفوں کا، نہ خوارق کے انکار کرنے والے باقی رہیں گے اور نہ ان میں بیہودہ اور بے اصل اور مخالفِ قرآن روایتوں کو ملانے والے، اور خدا تعالیٰ اس اُمتِ وَسط کے لئے بَین بَین کی راہ زمین پر قائم کر دے گا۔ وہی راہ جس کو قرآن لایا تھا، وہی راہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سکھلائی تھی۔ وہی ہدایت جو ابتداء سے صدیق اور شہید اور صلحاء پاتے رہے۔ یہی ہو گا۔ ضرور یہی ہو گا۔ جس کے کان سننے کے ہوں سنے۔ مبارک وہ لوگ جن پر سیدھی راہ کھولی جائے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد 1صفحہ 341- 342) - [بُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ کَافَّۃً (حضرت محمدؐ) مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے (تقریر نمبر 4)](https://mushahedat.com/بُعِثْتُ-اِلَی-النَّاسِ-کَافَّۃً-حضر/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ’’ اللہ تعالیٰ جو انبیاء کو بھیجتا ہے اور آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دنیا کی ہدایت کے واسطے بھیجا اور قرآن مجید کو نازل فرمایا تو اس کی غرض کیا تھی؟ ہر شخص جو کام کرتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے۔ ایسا خیال کرنا کہ قرآن شریف نازل کرنے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجنے سے اللہ تعالیٰ کی کوئی غرض اور مقصدنہیں ہے کمال درجہ کی گستاخی اور بے ادبی ہے کیونکہ اس میں (معاذ اللہ)، اللہ تعالیٰ کی طرف ایک فعل عبث کو منسوب کیا جائے گا۔ حالانکہ اس کی ذات پاک ہے (سبحانہ وتعالیٰ شانہٗ)۔ پس یاد رکھو کہ کتاب مجید کے بھیجنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ تا دنیا پر عظیم الشان رحمت کا نمونہ دکھاوے جیسے فرمایا۔ وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ (الانبیاء: 108) اور ایسا ہی قرآن مجید کے بھیجنے کی غرض بتائی کہ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْن (البقرہ: 3)۔ یہ ایسی عظیم الشان اغراض ہیں کہ ان کی نظیر نہیں پائی جا سکتی۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 340) - [جُعِلَتۡ لِیَ الۡاَرۡضُ مَسۡجِدًا وَّ طَہُوۡرًا  (حضرت محمدؐ) ساری زمین میرے لئے مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنا دی گئی ہے (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/جُعِلَتۡ-لِیَ-الۡاَرۡضُ-مَسۡجِدًا-وَ/) - حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جو ہماری اس مسجد میں اس نیّت سے داخل ہو گا کہ بھلائی کی بات سیکھے یا بھلائی کی بات جانے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔ اور جو مسجد میں کسی اور نیّت سے آئے تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کسی ایسی چیز کو دیکھتا ہے جو اس کو حاصل نہیں ہوسکتی۔ ‘‘ (مسند احمد بن حنبل جلد 2صفحہ 350 مطبوعہ بیروت) - [نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَةَ شَھْرٍ (حضرت محمدؐ) مجھے ایک مہینے کی مسافت کے برابر رُعب سے نوازا ہے (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/نُصِرْتُ-بِالرُّعْبِ-مَسِیْرَةَ-شَھ/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہىں: ’’ہم جب انصاف کى نظر سے دیکھتے ہىں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلى درجہ کا جواں مرد نبى اور زندہ نبى اور خدا کا اعلى درجہ کا پیارا نبى صرف ایک مرد کو جانتے ہىں۔ یعنى وہى نبىوں۔کاسردار۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفىٰ و احمد مجتبىٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ جس کے زیرِ سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنى ملتى ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہىں مل سکتى تھى‘‘ (سراج منیر،روحانى خزائن جلد12 صفحہ82) - [حضورؐ! مَیں اللہ اور اُس کا رسولؐ گھر چھوڑ آیا ہوں (حضرت ابوبکرؓ )](https://mushahedat.com/حضورؐ-مَیں-اللہ-اور-اُس-کا-رسولؐ-گھر-چھ/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’ایک جہاد کے موقع کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں۔ مجھے خیال آیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیشہ مجھ سے بڑھ جاتے ہیں۔ آج مَیں ان سے بڑھوں گا۔ یہ خیال کر کے مَیں گھر گیا اور اپنے مال میں سے آدھا مال نکال کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے لے آیا۔ وہ زمانہ اسلام کے لئے انتہائی مصیبت کا دور تھا لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ ابوبکرؓ ! گھر میں کیا چھوڑ آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کا رسولؐ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ یہ سن کر مجھے سخت شرمندگی ہوئی اور مَیں نے سمجھا کہ آج مَیں نے سارا زور لگا کر ابوبکرؓ سے بڑھنا چاہا تھا مگر آج بھی مجھ سے ابوبکرؓ بڑھ گئے۔‘‘ (انوار العلوم جلد11 صفحہ577) - [قُرَّۃُ عَیۡنِیۡ فِی الصَّلٰوۃِ ( حضرت محمدؐ ) نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے (تقریر نمبر 17)](https://mushahedat.com/قُرَّۃُ-عَیۡنِیۡ-فِی-الصَّلٰوۃِ-حضرت/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’کیا اس محسن انسانیت جیسا کوئی اور ہے جو ساری ساری رات اپنے رب کے حضور لوگوں کے لئے مغفرت مانگتے ہی گزار دیتا ہے، بخشش مانگتے ہی گزار دیتا ہے۔ اپنے رب کے عشق میں سر شار ہے اور اس کی مخلوق کی ہمدردی نے بھی بے چین کر دیا ہے۔ اپنی رات کی نیند کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے اپنی سب سے چہیتی بیوی کے قرب کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ خواہش ہے تو صرف یہ کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہو جائے اور اس کی مخلوق عذاب سے بچ جائے۔ کیا ایسے شخص کے بارے میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ دنیا کی رنگینیوں میں ملوث تھا۔ آپؐ کی راتیں کس طرح گزرتی تھیں اس کی ایک اور گواہی دیکھیں۔ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ کچھ دیر سوتے پھر کچھ دیر اٹھ کر نماز میں مصروف ہوتے۔ پھر سو جاتے، پھر اٹھ بیٹھتے اور نماز ادا کرتے۔ غرض صبح تک یہی حالت جاری رہتی۔(ترمذی کتاب فضائل القرآن باب ماجآء کیف کان قراء ۃ النبیؐ)“ (خطبہ جمعہ 18فروری2005ء ) - [اَلۡجِہَادُ خُلُقِیۡ  (حضرت محمدؐ) جہاد میرا خُلق ہے (تقریر نمبر 16)](https://mushahedat.com/اَلۡجِہَادُ-خُلُقِیۡ-حضرت-محمدؐ-جہا/) - حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ کون سا (عمل) کام اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے؟۔ آپؐ نے فرمایا نمازکو اپنے وقت پر پڑھنا ،مَیں نے پوچھا پھر کون سا کام؟ فرمایا ۔پھر ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔ مَیں نے پوچھا پھر کون سا کام؟ فرمایا۔ پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ابن مسعودؓ نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین باتیں بیان کیں۔ اگر مَیں اور پوچھتا تو آپؐ اور زیادہ بیان فرماتے۔ (بخاری جلد اوّل کتاب مواقیت الصلوٰۃ) - [اَلطَّاعَۃُ حَسَبِیۡ (حضرت محمدؐ) اطاعتِ الٰہی میرا حسَب ہے (تقریر نمبر 15)](https://mushahedat.com/اَلطَّاعَۃُ-حَسَبِیۡ-حضرت-محمدؐ-اطاع/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ہاں جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ ؑ سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہےاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم:5) تو خلق عظیم پر ہے اور عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اس چیز کے انتہائی کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس سے یہ مطلب ہوگا کہ جہاں تک درختوں کے لیے طول و عرض اور تناوری ممکن ہے وہ سب اس درخت میں حاصل ہے۔ ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائلِ حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کاملہ تامہ نفس محمدی میں موجود ہیں۔ سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں ۔‘‘ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ606بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر 3) - [اَلصِّدۡقُ شَفِیۡعَتِیۡ (حضرت محمدؐ) صدق میرا شفیع ہے (تقریر نمبر 14)](https://mushahedat.com/اَلصِّدۡقُ-شَفِیۡعَتِیۡ-حضرت-محمدؐ-ص/) - اپنے اور بیگانے آپؐ کی صداقت کے قائل تھے۔ ابوسفیان سے ہرقل بادشاہ نے جب پوچھا کہ اُس مدعی نبی نے کبھی جھوٹ بولا ہے۔ ابوسفیان باوجود شدید معاند اور دشمن ہونے کے بے ساختہ بول اُٹھا کہ نہیں تب ہرقل نے کہا کہ جس شخص نے کسی سے جھوٹ نہیں بولا وہ خدا پر کیا جھوٹ بولے گا۔ (بخاری کتاب بدء الوحی) - [اَلیَّقِیْنُ قُوَّتِیْ ( حضرت محمدؐ) یقین میری قوّت ہے (تقریر نمبر 13)](https://mushahedat.com/اَلیَّقِیْنُ-قُوَّتِیْ-حضرت-محمدؐ-یق/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’جیسے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل مُتَبَتَّل تھے ویسے ہی کامل متوَکَّل بھی تھے اور یہی وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اور قوم اور قبائل والے سرداروں کی ذرا بھی پروا نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے۔ آپؐ میں ایک فوق العادت یقین خدا تعالی کی ذات پر تھا۔ اسی لیے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپؐ نے اٹھا لیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی۔یہ بڑا نمونہ ہے توکل کا جس کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔‘‘ (الحکم جلد5 نمبر37 صفحہ1 - 3 پرچہ 10 اکتوبر 1901ء) - [اَلذُّہۡدُ حِرۡفَتِیۡ(حضرت محمدؐ) زُہد میرا پیشہ  ہے (تقریر نمبر 12)](https://mushahedat.com/اَلذُّہۡدُ-حِرۡفَتِیۡحضرت-محمدؐ-زُہ/) - ایک دفعہ حضرت سہیل بن مسعودؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا عمل کرنے کا پوچھاکہ جس سے اللہ اور لوگ مجھ سے محبت کرنے لگیں تو آپؐ نے فرمایا اِزۡھَدۡ فِی الدُّنۡیَا یُحبُّکَ اللّٰہُ وَاَزۡھَدۡ فِیۡمَا فِیۡ اَیۡدِیۡ النَّاسِ یُحِبُّکَ النَّاسُ کہ دنیا سے بے رغبت ہو جا اللہ تم سے محبت کرے گااور اُس سے جولوگوں کے ہاتھوں میں ہے بے رغبت ہو جا لوگ تجھ سے محبت کریں گے۔ (حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 803) - [وَالۡعِجۡزُ فَخۡرِیۡ (حضرت محمدؐ) عاجزی میرا فخر ہے (تقریر نمبر 11)](https://mushahedat.com/وَالۡعِجۡزُ-فَخۡرِیۡ-حضرت-محمدؐ-عاجز/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ اَوْحٰى اِلَيَّ اَنْ تَوَاضَعُوا حَتّٰى لَا يَفْخَرَ اَحَدٌ عَلَى اَحَدٍ یعنی اللہ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم لوگ تواضُع (عاجزی)اختیار کرو یہاں تک کہ کوئی بھی دوسرے پر فَخْر نہ کرے۔ (مسلم حدیث 7210 ) - [اَلرَّضَاءُ غَنِیۡمَتِیۡ (حضرت محمدؐ) رضا میری غنیمت ہے (تقریر نمبر 10)](https://mushahedat.com/اَلرَّضَاءُ-غَنِیۡمَتِیۡ-حضرت-محمدؐ/) - حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ یا جب کوئی اچھی چیز (یا اچھی صورت حال ) دیکھتے تو فرماتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کے فضل و انعام سے نیک کام (اور مقاصد ) پورے ہوتے ہیں۔ اور جب کوئی ناپسندیدہ چیز (یا بری صورتِ حال) سامنے آتی تو فرماتےاَلْحَمدُ اللّٰهِ عَلٰى كُلِّ حَالٍہر حال میں اللہ کی تعریف اور اس کا شکر ہے۔ (سنن ابن ماجه، الأدب، حدیث: 3803) - [اَلصَّبۡرُ رِدَائِیۡ (حضرت محمدؐ) صبر میری چادر ہے (تقریر نمبر 9)](https://mushahedat.com/اَلصَّبۡرُ-رِدَائِیۡ-حضرت-محمدؐ-صبر-م/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ’’ تیرہ برس کا زمانہ کم نہیں ہوتا اس عرصہ میں آپؐ نےجس قدر دکھ اٹھائے ان کا بیان بھی آسان نہیں ہے۔ قوم کی طرف سے تکالیف اور ایذا رسانی میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی جاتی تھی اور ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر و استقلال کی ہدایت ہوتی اور بار بار حکم ہوتا تھاکہ جس طرح پہلے نبیوں نے صبر کیا ہے توبھی صبر کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کمال صبر کے ساتھ ان تکالیف کو برداشت کرتے تھے اور تبلیغ میں سست نہ ہوتے تھے۔ بلکہ قدم آگے ہی پڑتا تھا اور اصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر پہلے نبیوں جیسا نہ تھا کیونکہ وہ تو ایک محدود قوم کے لئے مبعوث ہو کر آئے تھے اس لئے ان کی تکالیف اور ایذا رسانیاں بھی اسی حد تک محدود ہوتی تھیں لیکن اس کے مقابلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر بہت ہی بڑا تھا کیونکہ سب سے اول تو اپنی ہی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالف ہو گئی اور ایذا رسانی کے در پہ ہوئی اور عیسائی بھی دشمن ہو گئے۔‘‘ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ53 ) - [اَلۡعِلۡمُ سَلَاحِیۡ (حضرت محمدؐ) علم میرا ہتھیار ہے (تقریر نمبر 8)](https://mushahedat.com/اَلۡعِلۡمُ-سَلَاحِیۡ-حضرت-محمدؐ-علم-م/) - ایک دفعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں صحابہ کو دو حلقوں میں بیٹھے دیکھا۔ ایک قرآن پڑھ رہے تھے اور دعاؤں میں مصروف تھے جبکہ دوسرے حلقہ کے صحابہ علم حاصل کررہے تھے اور علم سکھا رہے تھے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ کر کہ مَیں معلّم بنا کر بھیجا گیا ہوں یوں آپؐ دوسرے گروہ یعنی علم والوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ (حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 140) - [اَلۡحُزۡنُ رَفِیۡقِیۡ وَغَمِّیۡ لِاَجَلِ اُمَّتِیۡ  (حضرت محمدؐ) غم میرا رفیق ہے اور میرا غم میری  امت کے لئے ہے (تقریر نمبر 7)](https://mushahedat.com/اَلۡحُزۡنُ-رَفِیۡقِیۡ-وَغَمِّیۡ-لِا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم خُلق کو یوں بیان فرماتے ہیں: ’’تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیارہ لڑکےپیداہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہوگئے تھے اور آپ نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اورخدا کی طرف جاؤں گا۔ ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جو لخت جگر ہوتے ہیں یہی منہ سے نکلتا تھا کہ اے خدا ہر ایک چیز پر میں تجھے مقدّم رکھتا ہوں مجھے اس اولاد سے کچھ تعلق نہیں. کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بالکل دُنیا کی خواہشوں اور شہوات سے بے تعلق تھے اور خدا کی راہ میں ہر ایک وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے تھے۔‘‘ (چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد23 صفحہ299) - [اَلثِّقَۃُ کَنْزِیْ (حضرت محمدؐ) وثوق میرا خزانہ ہے ( تقریر نمبر 6)](https://mushahedat.com/اَلثِّقَۃُ-کَنْزِیْ-حضرت-محمدؐ-وثوق-م/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم الانبیاء ہیں، ان میں تو یہ وصف تمام انسانوں سے بلکہ تمام نبیوں سے بھی بڑھ کر تھا۔ جس کی مثالیں نہ اُس زمانے میں ملتی تھیں، نہ آئندہ زمانوں میں مل سکتی ہیں۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر موقع پر جرأت کا مظاہرہ کیا ہے تاریخ میں کسی لیڈر کی ایسی مثال نظر نہیں آتی بلکہ سوواں، ہزارواں حصہ بھی نظر نہیں آتی۔ انتہائی مشکل حالات میں بھی قوم کا حوصلہ بلند رکھنے کے لئے، اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بلند رکھنے کے لئے، ان کو صبر اور استقامت اور جرأت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کی تلقین نہ کی ہو اور خود آپؐ کا عمل یہ تھا کہ اگر تنہا بھی رہ گئے اور دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں تب بھی کبھی کسی قسم کے خوف کا اظہار نہیں کیا۔‘‘ ( خطبہ جمعہ 22اپریل2005ء ) - [ذِکرُاللّٰہِ اَنِیسِیْ وَثَمۡرَۃُ فُؤَادِیۡ فِیۡ ذِکۡرِہٖ (حضرت محمدؐ) ذکر الٰہی میرا مونس اور میرے دل کا پھل ہے (تقریر نمبر 5)](https://mushahedat.com/ذِکرُاللّٰہِ-اَنِیسِیْ-وَثَمۡرَۃُ-ف/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ (ابو داؤد کتاب الوتر) کہ اے اللہ! مجھے اپنا ذکر، اپنے شکر اور خوبصورت پیاری مقبول نماز کی توفیق دے ۔ - [اَلشَّوْقُ مَرْکَبِیْ وَشَوۡقِیۡ اِلیٰ رَبِّیۡ عَزَّ وَجَلَّ (حضرت محمدؐ) شوق میری سواری ہے اور  میرا شوق اپنے رب عزّوجلّ کی  طرف ہے (تقریر نمبر 4)](https://mushahedat.com/اَلشَّوْقُ-مَرْکَبِیْ-وَشَوۡقِیۡ-اِ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اورپھروہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب پر عاشق ہو گیا ۔ ‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 524) - [اَلْحُبُّ اَسَاسِیْ (حضرت محمدؐ) محبت میری اساس ہے (تقریر نمبر 3)](https://mushahedat.com/اَلْحُبُّ-اَسَاسِیْ-حضرت-محمدؐ-محبت-م/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ دعا بکثرت پڑھا کرتےتھے ۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، اَللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي، وَمِنَ المَاءِ البَارِدِ (ترمذی کتاب الدعوات) کہ اے اللہ! مَیں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اُس کی محبت بھی جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔ مَیں تجھ سے ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے اللہ! اپنی اتنی محبت میرے دل میں ڈال دے جو میری اپنی ذات، میرے مال، میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔ - [اَلۡعَقۡلُ اَصۡلُ دِیۡنِیۡ  (حضرت محمدؐ) عقل میرے دین و ایمان کی جزو ہے (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/اَلۡعَقۡلُ-اَصۡلُ-دِیۡنِیۡ-حضرت-محم/) - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اولوالالباب فرمایا ہے۔ پھر اس کے آگے فرماتا ہے اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قَعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِم … اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو بیان کیا ہے کہ اولوالالباب اور عقل سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جلشانہ‘ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں۔ سچی فراست اور سچی دانش اللہ.تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو ۔ کیونکہ وہ الٰہی نور سے دیکھتا ہے صحیح فراست اور حقیقی دانش کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو۔ اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو۔ فکر کرو، سوچو۔ تدبر اور فکر کے لئے قرآن کریم میں بار بار تاکیدیں موجود ہیں۔ کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پار ساطبع ہو جاؤ۔ جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم ماروگے پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہوجائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تمہارے دل سے نکلے گاجب انسان ان باتوں کو سمجھتا ہے تب اللہ تعالیٰ جو صانع حقیقی ہے۔ جو ہر چیز کوپیدا کرنے والا ہے اس کاثبوت سامنے آ جائے گا۔اس وقت سمجھ میں آ جائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تاکہ طرح طرح کے علوم و فنون جو دین کو مدد دیتے ہیں ظاہر ہوں۔ ‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 41۔ 42 جدید ایڈیشن) - [اَلۡمَعۡرِفَۃُ رَاسُ مَالِیۡ (حضرت محمدؐ) معرفت میرا سرمایہ  ہے (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/اَلۡمَعۡرِفَۃُ-رَاسُ-مَالِیۡ-حضرت-مح/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’خداتعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے یہی قانون ٹھہرا رکھا ہے کہ پہلے وہ امور غیبیہ پر ایمان لا کر فرمانبرداروں میں داخل ہوں اور پھر عرفان کا مرتبہ عطا کرکے سب عقد ے ان کے کھولے جائیں لیکن افسوس کہ جلد باز انسان اِن راہوں کو اختیار نہیں کرتا۔ خداتعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ وعدہ ہے کہ جو شخص ایمانی طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو مان لیوے تو وہ اگر مجاہدات کے ذریعہ سے ان کی حقیقت دریافت کرنا چاہے وہ اس پر بذریعہ کشف اور الہام کے کھولے جائیں گے اور اس کے ایمان کو عرفان کے درجہ تک پہنچایا جائے گا‘‘ )آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر 5صفحہ 253حاشیہ ) - [میری آل (حضرت محمدؐ)](https://mushahedat.com/میری-آل-حضرت-محمدؐ/) - حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ’’مَنْ آلُکَ‘‘ کہ آپ کی آل سے کیا مراد ہے ؟۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کُلُّ تَقِیٍّ “ کہ ہر نیک اور متقی آدمی میری آل میں شامل ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ اِنْ اَوْلِیَاءُہٗ اِلَّا الْمُتَّقُونَ (الانفال: 35) جس کا ترجمہ یہ ہے کہ حرمت والی مسجد کے حقیقی وارث متقیوں کے سوا اور کوئی نہیں ۔ (حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر996 ( - [صحابۂ رسولؐ کا عشق رسولؐ](https://mushahedat.com/صحابۂ-رسولؐ-کا-عشق-رسولؐ/) - ہجرتِ مدینہ کے وقت حضرت ابوبکرؓ نے ایک مشرک سراقہ کو تعاقب میں آتے دیکھا تو رو پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو عرض کیا۔ ’’اپنی جان کے خوف سے نہیں آپؐ کی وجہ سے روتا ہوں کہ میرے آقا کو کوئی گزند نہ پہنچے۔‘‘ (مسند احمد جلد1 صفحہ 2مصر) - [ارشادات حضرت مسیح موعودؑ کی رُو سے اخلاقی بُرائیوں سے بچنے کی نصائح](https://mushahedat.com/ارشادات-حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-رُو-سے-اخلا/) - حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہو گا کہ ان تمام وصیتوں کے کار بند ہوں اور چاہیے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو اور یاد رکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں ہے اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور درگزر کی عادت ڈالو،صبر اور حلم سے کام لو اور کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرواور جذبات نفس کو دبائے رکھواور اگر کوئی بحث کرو یا کوئی مذہبی گفتگو ہو تو نرم الفاظ میں اور مہذبانہ طریق سے کرو اور اگر کوئی جہالت سے پیش آوے ۔ سلام کہہ کر ایسی مجلس سے جلد اٹھ جاؤ۔اگر تم ستائے جاؤاور گالیاں دیے جاؤ اور تمہارے حق میں بُرے بُرے لفظ کہیں جائیں تو ہوشیار رہو کہ سفاحت کا سفاحت کے ساتھ تمہارا مقابلہ نہ ہو ورنہ تم بھی ویسے ہی ٹھہرو گے جیساکہ وہ ہیں۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بنا دے کہ تم تمام دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہرو۔ سو اپنے درمیان سے ایسے شخص کو جلدی نکالوجو بدی اور شرارت اور فتنہ انگیزی اور بد نفسی کا نمونہ ہے۔ جو شخص ہماری جماعت میں غربت اور نیکی اور پرہیزگاری اور حلم اور نرم زبانی اور نیک مزاجی اور نیک چلنی کے ساتھ نہیں رہ سکتا وہ جلد ہم سے جدا ہو جائے۔کیونکہ ہمارا خدا نہیں چاہتا کہ ایسا شخص ہم میں رہے اور یقیناًوہ بدبختی میں مرے گا کیونکہ اس نے نیک راہ کو اختیار نہ کیا۔سو تم ہوشیار ہو جاؤاور واقعی نیک دل اور غریب مزاج اور راست باز بن جاؤ۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 47۔ 48) - [حضرت مسیح موعودؑ کے  آنے کی غرض ’’تا لوگ قوتِ یقین میں ترقی کریں‘‘ (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کے-آنے-کی-غرض-تا-لو-2/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الم نشرح کی تفسیر میں ایک درس القرآن کے موقع پر فرماتے ہیں ۔ ”قرآن کریم نے یقین کے مختلف مدارج بیان کئے ہیں۔ یوں تو اس کے ہزاروں مدارج ہیں مگر موٹے موٹے تین مدارج ہیں۔ علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں میں جو خاص اصولی مضامین ہیں ان میں سے ایک یہ بھی مضمون ہے جو مراتب یقین کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ پہلے صوفیاء کی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں پہلے صوفیاء کی کتابوں میں بھی بے شک اس کا ذکر ملتا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مضمون میں جو جِدتیں پیدا کی ہیں وہ ان لوگوں کی تشریحات میں نہیں ہیں۔ بعض لوگ اس حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ یہ باتیں تو امام غزالیؒ کی کتابوں میں بھی پائی جاتی ہیں یا فلاں فلاں مضامین انہوں نے بھی بیان کئے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر اقبال نے کہہ دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس قسم کے مضامین صوفیاء کی کتابوں سے چرا لئے تھے حالانکہ اگر غور وفکر سے کام لیا جائے تو دونوں کے تقابل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ انہوں نے مضمون میں وہ باریکیاں پیدا نہیں کیں جو ایک ماہرِ فن پیدا کیا کرتا ہے اور نہ مضمون کی نوک پلک انہوں نے نکالی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس مضمون کو بھی لیا ہے ایک ماہرِ فن کے طور پر اس کی باریکیوں اور اس کے خدوخال پر پوری تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور کوئی پہلو بھی تشنۂ تحقیق رہنے نہیں دیا اور یہی ماہر کا کام ہوتا ہے کہ دوسروں سے نمایاں کام کر کے دکھا دیتا ہے۔ مثلاً تصویرکھینچنا بظاہر ایک عام بات ہے ہر شخص تصویرکھینچ سکتا ہے میں بھی اگر پنسل لے کر کوئی تصویر بنانا چاہوں تو اچھی یا بُری جیسی بھی بن سکے کچھ نہ کچھ شکل بنا دوں گا مگر میری بنائی ہوئی تصویر اور ایک ماہرِ فن کی بنائی ہوئی تصویر میں کیا فرق ہوگا یہی ہوگا کہ ماہرِفن اس کی نوکیں پلکیں خوب درست کرے گا اور میں صرف بے ڈھنگی سی لکیریں کھینچ دینے پر اکتفا کر دوں گا۔ پس کسی مضمون کا خالی بیان کر دینا اَور بات ہوتی ہےاور اس کی نوک پلک درست کر کے اسے بیان کرنا اور بات ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے گو بعض جگہ وہی مضامین لئے ہیں جو پُرانے صوفیاء بیان کرتے چلے آئے تھے مگر آپ کے بیان کردہ مضامین اور پہلے صوفیاء کے بیان کردہ مضامین میں وہی فرق ہے جو ایک اناڑی اور ماہر مصور کی بنائی ہوئی تصاویر میں ہوتاہے۔ انہوں نے تصویر اس طرح کھینچی ہے جیسے ڈرائنگ کا ایک طالب علم کھینچتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تصویر اس طرح کھینچی ہے جس طرح ایک ماہرِفن تصویر کھینچ کر اپنے کمالات کا دنیا کے سامنے ثبوت پیش کرتا ہے اور پھر ہر بات پر قرآن کریم سے شاہد پیش کر کے بتایا ہے کہ اس مضمون کا بتانے والا قرآن کریم ہے۔“ (الفضل قادیان 15؍ اپریل 1946ء) - [حضرت مسیح موعودؑ کے  آنے کی غرض ’’تا لوگ قوتِ یقین میں ترقی کریں‘‘ (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کے-آنے-کی-غرض-تا-لو/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’سچائی کی فتح ہو گی اور اسلام کے لئے پھر اُس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔ لیکن ابھی ایسا نہیں۔ ضرور ہے کہ آسمان اُسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اُس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لیے ساری ذلّتیں قبول نہ کرلیں۔ اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔ وہ کیا ہے؟ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلّی موقوف ہے۔‘‘ (فتح اسلام،روحانی خزائن جلد 3 صفحہ10۔ 11) - [صحبتِ صالحین کی اہمیت ( خلفاء کے اِرشادات کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/صحبتِ-صالحین-کی-اہمیت-خلفاء-کے-اِرشادا/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحبت صالحین کے متعلق میں فرماتے ہیں کہ ’’انسان ہمیشہ اپنے گندے جلیسوں کی و جہ سے تباہی کے گڑھے میں گرا کرتا ہے۔ وہ پہلے تواپنے دوستوں کی مصاحبت پر فخر کرتا ہے۔ مگر جب اسے کسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ لَیْتَنِیْ لَمْ اَ تَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا کہ اے کاش! مَیں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا اس نے تو مجھے گمراہ کردیا۔ اسی و جہ سے قرآن کریم نے مومنوں کو خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(التوبہ: 119)یعنی اے مومنو! تم ہمیشہ صادقوں کی معیت اختیار کیا کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے گردوپیش کی اشیاء سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا مگر وہ اپنی دوستی اور ہم نشینی کے لئے ان لوگوں کا انتخاب کرے گا جو اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوں گے اور جن کا مطمح نظر بلند ہو گا تو لازماً وہ بھی اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گا اور رفتہ رفتہ اس کی یہ کوشش اس کے قدم کو اخلاقی بلندیوں کی طرف بڑھانے والی ثابت ہوگی۔ لیکن اگر وہ بُرے ساتھیوں کا انتخاب کرے گا تو وہ اسے کبھی راہ راست کی طرف نہیں لے جائیں گے۔ بلکہ اسے اخلاقی پستی میں دھکیلنے والے ثابت ہوں گے۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ481) - [صحبتِ صالحین کے ذرائع](https://mushahedat.com/صحبتِ-صالحین-کے-ذرائع/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کتب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے متعلق فرماتے ہیں: ’’آپؑ کی کتب پڑھنے کی طرف بھی بہت توجہ دینی چاہئے یہ بات بھی صحبتِ صادقین کے زمرے میں آتی ہے کہ آپؑ کے علم کلام سے فائدہ اٹھایا جائے۔‘‘ (خطبات مسرور جلد سوم صفحہ394) - [سادھ سنگت ( چند مثالوں کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/سادھ-سنگت-چند-مثالوں-کی-روشنی-میں/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ )التوبہ (119:بھی اسی واسطے فرمایا گیا ہے۔ سادھ سنگت بھی ایک ضرب المثل ہے۔ پس یہ ضروری بات ہے کہ انسان باوجود علم کے اور باوجود قوّت۔وشوکت کے امام کے پاس ایک سادہ لوح کی طرح پڑا رہے تا اس پر عمدہ رنگت آوے۔ سفید کپڑا اچھا رنگا جاتا ہے اور جس میں اپنی خودی اور علم کا پہلے سے کوئی میل کچیل ہوتا ہے اس پر عمدہ رنگ نہیں چڑھتا۔ صادق کی معیت میں انسان کی عقدہ کشائی ہوتی ہے اور اسے نشانات دئے جاتے ہیں جن سے اس کا جسم منور اور روح تازہ ہوتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد4 صفحہ262۔263 ایڈیشن 2016ء) - [اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰهِ ( سیرتِ رسولؐ کے آئینہ میں)](https://mushahedat.com/اَلْخَلْقُ-عِیَالُ-اللّٰهِ-سیرتِ-رسو/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’قرابت نوازی ،حسن خلق اور خوشگوار ہمسائیگی سے بستیاں آباد ہوتی ہیں اور عمریں دراز ہوتی ہیں۔‘‘ - [وَخَلْقُ اللّٰہِ عَیَالِیْ (مسیح موعودؑ) مخلوقِ خدا میرا عیال اور خاندان ہے](https://mushahedat.com/وَخَلْقُ-اللّٰہِ-عَیَالِیْ-مسیح-موعو/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میری نصیحت یہی ہے کہ دو باتوں کویاد رکھو۔ ایک خداتعالیٰ سے ڈرو دوسرے اپنے بھائیوں سے ایسی ہمدردی کرو جیسی اپنے نفس سے کرتےہو۔‘‘ (ملفوظات جلد5 صفحہ40) - [ذِکْرُاللّٰہِ مَالِیْ (مسیح موعودؑ) یاد الٰہی میری دولت ہے](https://mushahedat.com/ذِکْرُاللّٰہِ-مَالِیْ-مسیح-موعودؑ-یا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمدِ الٰہی ہے ،استغفار ہے اور درود شریف۔ تمام وظائف ... کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اِس سے ہر ایک قسم کے غم وہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپؐ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ہے اَ لَا بِذِکرِ اللّٰہِ تَطمَئِنُّ القُلُوبُ (الرعد:29)۔ اطمینان، سکینتِ قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اَور کوئی ذریعہ نہیں...میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو ۔ اس سے تمہیں اطمینانِ قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یادِ الٰہی کا ذریعہ ہے اسی لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکرِی۔“ (الحکم 31 مئی 1903ء صفحہ9) - [وَالصَّالِحُوْنَ اِخْوَانِیْ (مسیح موعودؑ) صالحین میرے بھائی ہیں](https://mushahedat.com/وَالصَّالِحُوْنَ-اِخْوَانِیْ-مسیح-م/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’صادقوں کی صحبت میں رہنا بہت ضروری ہے خواہ انسان کیسا علم رکھتا ہو۔ طاقت رکھتا ہو، لیکن صحبت میں رہنے سے جو اس کے شبہات دور ہوتے ہیں اور اسے علم حاصل ہوتا ہے وہ دوسرے طور سے حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ ۔(البدر جلد2 نمبر8 مورخہ 13مارچ 1903ء صفحہ59) - [اَلْمَسْجِدُ مَکَانِیْ(مسیح موعودؑ) مسجد میرا مکان ہے](https://mushahedat.com/اَلْمَسْجِدُ-مَکَانِیْمسیح-موعودؑ-م/) - حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ ارکانِ اسلام میں سب سے زیادہ زور نماز پر دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نمازیں سنوار کر پڑھاکرو۔ (سیرت المہدی جلد3 صفحہ126 ) - [حضور اکرمؐ کے ارفع و اعلیٰ اخلاق کی روشنی میں بنیادی اخلاق کی تعلیم (خلاصہ خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ )](https://mushahedat.com/حضور-اکرمؐ-کے-ارفع-و-اعلیٰ-اخلاق-کی-روشن/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔جو جمیع اخلاق میں کامل تھے۔ اسی لئے آپ کی شان میں فرمایا۔ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔“ ( ملفوظات جلد 1صفحہ 133 ایڈیشن 1984ء) - [پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/پھونکوں-سے-یہ-چراغ-بجھایا-نہ-جائے-گا-تق-2/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’منہ کی پھونکیں کیا ہوتی ہیں ؟ یہی کہ کسی نے ٹھگ کہہ دیا، کسی نے دکاندار اور کافر اور بے دین کہہ دیا۔ غرض یہ لوگ ایسی باتوں سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں، مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ نور اللہ کو بجھاتے بجھاتے خود ہی جل کر ذلیل ہوجاتے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد 5، مورخہ 24؍جنوری 1901ء) - [پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا (تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/پھونکوں-سے-یہ-چراغ-بجھایا-نہ-جائے-گا-تق/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام دشمنوں کی تدبیروں اور اللہ تعالیٰ کی تقدیروں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’کیا کیا مکر ہیں جو کر رہے ہیں اور کیا کیا منصوبے ہیں جو اندر ہی اندر ان کے گھروں میں ہو رہے ہیں۔ مگر کیا وہ خدا پر غالب آجائیں گے اور کیاوہ اس قادر مطلق کے ارادے کو روک دیں گے جو تمام نبیوں کی زبانی ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ اس ملک کے شریر اور بد قسمت دولت مند دنیا داروں پر بھروسہ رکھتے ہیں مگر خدا کی نظر میں وہ کیا ہیں ؟صرف ایک مرے ہوئے کیڑے۔ اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کوجو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہےنامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی…مَیں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اورکوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ67) - [اسلام میں قیامِ توحید کی اہمیت](https://mushahedat.com/اسلام-میں-قیامِ-توحید-کی-اہمیت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ’’ہم سب ابرار، اخیار امت کی عزت کرتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں لیکن ان کی محبت اور عزت کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ ہم ان کو خدا بنا لیں … یاد رکھو! انبیاء علیہم السلام کو جو شرف اور رتبہ ملا وہ صرف اسی بات سے ملا ہے کہ انہوں نے حقیقی خدا کو پہچانا اور اس کی قدر کی۔ اسی ایک ذات کے حضور انہوں نے اپنی ساری خواہشوں اور آرزوؤں کو قربان کیا، کسی مردہ اور مزار پر بیٹھ کر انہوں نے مرادیں نہیں مانگی ہیں“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 522-524) - [خلافت ، پہرہ اور امام کی حفاظت](https://mushahedat.com/خلافت-پہرہ-اور-امام-کی-حفاظت/) - حضرت شیخ محمد اسماعیل سرساوی صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ نے نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ہم نے خلافت کی حقیقت کو سمجھا تھا کہ خلافت ہی ایسی ضروری ہے کہ جس کے بغیراسلام کی حفاظت ہو نہیں سکتی۔ پس ہم نے اپنے وقت میں اپنے خلیفہ کی بھی حفاظت کماحقہ کرکے دکھا دی تھی اور حفاظت بھی کماحقہ کرکے اپنے پیارے خدا کی خوشنودی حاصل کرلی تھی۔ اب ہم تو بوڑھے ہو گئے اور ہڈیاں بھی ہماری کھوکھلی ہوگئیں۔ ٹھوکریں ہی کھاتے رہے اور ٹھوکریں کھاتے ہی اس دنیا سے گزر جائیں گے۔ اب تمہارا نوجوانوں کا ہی کام ہے کہ آگے آگے قدم رکھو اور اپنے پیارے خلیفہ کی بھی حفاظت کرو اور خلافت کی بھی حفاظت کرو۔ (رجسٹر روایات صحابہ نمبر6 صفحہ78) - [50 تقاریر برموقع یوم خلافت (حصہ اول)](https://mushahedat.com/50-تقاریر-برموقع-یوم-خلافت/) - یہ کتاب یوم خلافت کی 50 تقاریر کا مجموعہ ہے جس کے پیش لفظ اور انڈیکس کے سیکشن شامل ہیں۔ اس مکمل کتاب کو ڈاونلوڈ یا آنلائن پڑھنے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ - [فہرست-مشاہدات-1۔700](https://mushahedat.com/فہرست-مشاہدات-1۔700/) - مکمل فہرست مشاہدات-1-700ڈاؤن لوڈ - [’’اُٹھو! نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں‘‘ ( الہام حضرت مسیحِ موعودؑ)](https://mushahedat.com/اُٹھو-نمازیں-پڑھیں-اور-قیامت-کا-نمو/) - ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی کو مخاطب ہوکر فرمایا ’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ کےتکرار سے‘‘ سے مشکلات دُور ہوتی ہیں۔ (سیرة المہدی جلد دوم حصہ چہارم صفحہ 28 روایت نمبر1016) - [صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا (تقریر نمبر 10)](https://mushahedat.com/صحابہ-سے-ملا-جب-مجھ-کو-پایا-تقریر-نمبر-10/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ ایک دفعہ مَیں کشتی میں بیٹھا دریا کی سیر کر رہا تھا اور بھائی عبد الرحیم صاحب میرے ساتھ تھے ۔ میرے لڑکے ناصر احمد نے بچپن کے لحاظ سے کہا کہ ابا جان! اگر اس وقت ہمارے پاس کوئی مچھلی بھی ہوتی تو بڑا مزا آتا ۔ اس وقت یکدم میرے دل میں خیال پیدا ہوا لوگ تو خواجہ خضر سے کچھ اور مراد لیتے ہیں مگر مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ خضر ایک فرشتہ ہے جس کے قبضہ میں اللہ تعالیٰ نے دریا رکھے ہوئے ہیں ۔ جب ناصر احمد نے یہ بات کہی تو مَیں نے کہا خواجہ خضر ہم آپ کے علاقہ میں سے گزر رہے ہیں۔ ہماری دعوت کیجیے اور ہمیں کھانے کے لیے مچھلی دیجئے ۔ جونہی مَیں نے یہ فقرہ کہا بھائی جی کہنے لگے آپ نے یہ کہہ دیا کہ خواجہ خضر ہماری دعوت کریں ۔ اس سے تو بچے کی عقل ماری جائے گی ۔ مگر ابھی بھائی جی کا یہ فقرہ ختم ہی ہوا تھا کہ یکدم ایک بڑی سی مچھلی کود کر ہماری کشتی میں آ پڑی اور مَیں نے کہا بھائی جی! لیجئے مچھلی آگئی ۔ چنانچہ اس کے بعد ہم نے وہ مچھلی پکا کر تبرک کے طور پر سب ہمراہیوں کو تھوڑی چکھائی کہ یہ ہمارے خدا کی طرف سے مہمان نوازی ہوئی ہے ۔“ ( سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحہ98) - [صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا (تقریر نمبر 9)](https://mushahedat.com/صحابہ-سے-ملا-جب-مجھ-کو-پایا-تقریر-نمبر-9/) - سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’آئندہ دنیا کے افق پر احمدیت کی فتوحات اُبھر رہی ہیں۔ شہداء کی قربانیاں ہمارے ایمانوں میں بھی اضافے کا موجب بن رہی ہیں۔ ہمیں صرف اس بات پر ہی تسلی نہیں پکڑنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ قربانیوں کو ضائع نہیں کرتا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مَیں تجھے فتوحات دوں گا، یہ تو ہوگا اور ان شاء اللہ تعالیٰ یقیناً ہو گا۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 31 دسمبر 2010ء) - [خلافت کی اساس، اطاعت  کے رُوح پرور واقعات](https://mushahedat.com/خلافت-کی-اساس،-اطاعت-کے-رُوح-پرور-واقع/) - حضرت مصلح موعودؓ کو اطاعتِ خلافت کا سرٹیفکیٹ تو خود حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے بایں الفاظ عطا فرمایا: ’’میاں محمود بالغ ہے اُس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے … مَیں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار ہے کہ تم (میں سے) ایک بھی نہیں۔‘‘ (اخبار بدر 4 جولائی 1912ء) - [خلافت احمدیہ کے خلاف سازشوں کا بدانجام (خلافتِ ثالثہ اور رابعہ کا ذکر) ( تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/خلافت-احمدیہ-کے-خلاف-سازشوں-کا-بدانجام/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خلافت ثالثہ کے متعلق فرمایا: ’’ مَیں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا....اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد19صفحہ161) - [خلافتِ احمدیہ کے خلاف سازشوں کا بدانجام ( خلافتِ ثانیہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ذکر) ( تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/خلافتِ-احمدیہ-کے-خلاف-سازشوں-کا-بدانجا/) - دہلی کے رسالہ’’اسلامی دنیا‘‘نے جولائی1935ء میں لکھا: ’’مجلس احرار جیسی افتراق انگیز انجمنوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے ایسے ہی غداروں کے ہاتھوں مسلمان ذلیل ہوئے ہیں۔ مجلسِ احرار کی اس غدارانہ رَوِش کے بعد مسلمانوں کو معلوم ہو گیا کہ عطاء اللہ شاہ بخاری کی مجلس احرار کُوفیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی جنہوں نے آلِ رسول کو اور عاشقانِ اسلام کو بُلا کر یزید کے ہاتھوں شہید کرا دیا تھا۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد7صفحہ561) - [خلافت راشدہ کے خلاف سازشیں (خلافتِ ثالثہ و رابعہ کا تذکرہ) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/خلافت-راشدہ-کے-خلاف-سازشیں-خلافتِ-ثالث/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو تعلق تھا اور آپؐ کی نظر میں ان کا جو مقام تھا اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ سے بغض رکھنے والے ایک شخص کا جنازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا۔ اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کا جنازہ لایا گیا تا کہ آپؐ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں لیکن آپؐ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ کسی نے عرض کی یا رسول اللہؐ ! اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپؐ نے کسی کی نمازجنازہ چھوڑی ہو۔ اس پر آپؐ نے فرمایا یہ شخص عثمانؓ سے بغض رکھتا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ بھی اس سے دشمنی رکھتاہے۔‘‘ (سنن الترمذی ابواب المناقب باب فی مناقب عثمان…… حدیث نمبر 3709) ( خطبہ جمعہ فرمودہ 9 اپریل 2021 ء ) - [خلافت راشدہ کے خلاف سازشیں (خلافتِ اُولیٰ و ثانیہ کا ذکر) (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/خلافت-راشدہ-کے-خلاف-سازشیں-خلافتِ-اُول/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’حضرت ابوبکر صدیق ؓ.کا دورِخلافت چاروں خلفائے راشدین میں سے مختصر دور تھا جو کہ تقریباً سوا دو سال پر مشتمل تھا لیکن یہ مختصر سا دور خلافت راشدہ کا ایک اہم ترین اور سنہری دور کہلانے کا مستحق تھاکیونکہ حضرت ابوبکرؓ .کو سب سے زیادہ خطرات اور مصائب کاسامنا کرنا پڑا اور پھر خدا تعالیٰ کی غیرمعمولی تائید و نصرت اور فضل کی بدولت حضرت ابوبکرؓ کی کمال شجاعت اور جوانمردی اور فہم و فراست سے تھوڑے ہی عرصہ میں دہشت و خطرات کے سارے بادل چھٹ گئے اور سارے خوف امن میں تبدیل ہو گئے اور باغیوں اور سرکشوں کی ایسی سرکوبی کی گئی کہ خلافت کی ڈولتی ہوئی امارت مستحکم اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گئی۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 4مارچ2022 ء ) - [خلافتِ راشدہ کے خلاف سازشوں کے المناک اثرات](https://mushahedat.com/خلافتِ-راشدہ-کے-خلاف-سازشوں-کے-المناک-ا/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ’’دیکھو! ہم ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔ مگر تم نے کبھی غور کیا کہ یہ تبلیغ کس طرح ہو رہی ہے۔ ایک مرکز ہے جس کے ماتحت وہ تمام لوگ جن کے دلوں میں اسلام کا درد ہے اکٹھے ہو گئے ہیں اور اجتماعی طور پر اسلام کے غلبہ اور اس کے احیاء کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بظاہر چند افراد نظر آتے ہیں مگر ان میں ایسی قوت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ بڑے بڑے اہم کام سرانجام دے سکتے ہیں۔ جس طرح آسمان سے پانی قطروں کی صورت میں گرتا ہے پھر وہی قطرے دھاریں بن جاتی ہیں اور وہی دھاریں ایک بہنے والے دریا کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ اس طرح ہمیں زیادہ سے زیادہ قوت اور شوکت حاصل ہوتی چلی جا رہی ہے… اس کی وجہ محض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلافت کی نعمت عطا کی ہے جس سے وہ لوگ محروم ہیں۔ اس خلافت نے تھوڑے سے احمدیوں کو بھی جمع کر کے انہیں طاقت بخشی ہے جو منفردانہ طور پر کبھی حاصل نہیں ہو سکتی“ (الفضل، 25مارچ1951) - [نظامِ خلافت اور زکٰوۃ](https://mushahedat.com/نظامِ-خلافت-اور-زکٰوۃ/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ’’ دیکھ لو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زکوٰۃ کی وصولی کا باقاعدہ انتظام تھا۔ پھر جب آپؐ کی و فات ہوگئی اور حضرت ابو بکرؓ خلیفہ ہوگئےتو اہلِ عرب کے کثیر حصہ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ حکم صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تھا بعد کے خلفاء کے لئے نہیں مگر حضرت ابو بکرؓ نے ان کے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا بلکہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی رسی بھی زکوٰۃ میں دینے سے انکار کریں گے تو مَیں ان سے جنگ جاری رکھوں گا اور اُس وقت تک بس نہیں کروں گا جب تک اُن سے اُسی رنگ میں زکوٰۃ وصول نہ کرلوں جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ادا کیا کرتے تھے چنانچہ آپ اس مہم میں کامیاب ہوئےاور زکوٰۃ کا نظام پھر جاری ہوگیا۔ جو بعد کے خلفاء کےزمانوں میں بھی جاری رہا۔مگرجب سے خلافت جاتی رہی مسلمانوں میں زکوٰۃ کی وصولی کا بھی کوئی انتظام نہ رہا اور یہی اللہ تعالیٰ اِس آیت (استخلاف)میں فرمایا تھا کہ اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو مسلمان زکوٰۃ کے حکم پر عمل نہیں کر سکتے۔‘‘ (تفسیر کبیر سورۃ نور آیت347-348) - [استحکامِ  خلافت اور ہماری ذمہ داریاں](https://mushahedat.com/استحکامِ-خلافت-اور-ہماری-ذمہ-داریاں/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” مَیں یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اِعتَصَام حَبلُ اللّٰہ کے ساتھ ہو۔ قرآن تمہارا دستورالعمل ہو۔ باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضانِ الٰہی کو روکتا ہے …… چاہیے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میَّت غسَّال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مُردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسے وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔ استغفار کثرت سے کرواور دعاؤں میں لگے رہو۔ وحدت کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔ تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آ سکتا ،پس اس نعمت کا شکر کرو کیونکہ شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے“ (خطبات نور صفحہ131 ) - [خلافت کے ذریعہ وحدت ِقومی](https://mushahedat.com/خلافت-کے-ذریعہ-وحدت-ِقومی/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد اپنے دور خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر مورخہ 26دسمبر1908ء کو جو پُر معارف خطاب فرمایا تھا، اس میں حضورفرماتے ہیں: ’’حقیقی بات یہی ہے کہ ضرورت ہے اجتماع کی اور شیراہ اجتماع قائم رہ سکتا ہے ایک امام کے ذریعے اور پھر یہ اجتماع کسی ایک خاص وقت میں کافی نہیں۔ مثلاً صبح کو امام کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اب ظہر کو کیا ضرورت ہے، عصر کو کیا، پھر شام کو کیا، پھر عشاء کو کیا۔ پھر ہر جمعہ کو اکٹھے ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر عید کے دن کیا ضرورت ہے، پھر حج کیا ضرورت ہے؟ اسی طرح ایک وقت کی روٹی کھالی تو پھر دوپہر کے وقت کیا ضرورت ہے۔ جب ان باتوں میں تکرار کی ضرورت ہے تو اس اجتماع میں بھی یہی تکرار ضروری ہے۔ یہ میں اس لیے بیان کرتا ہوں تا تم سمجھو کہ ہمارے امام چلے گئے تو پھر بھی ہم میں اسی وحدت، اتفاق، اجتماع اور پر جوش روح کی ضرورت ہے“ (بدر، 7جنوری 1909ء، صفحہ4۔ 5) - [خلافت کے ذریعہ توحید کا قیام](https://mushahedat.com/خلافت-کے-ذریعہ-توحید-کا-قیام/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ آیتِ استخلاف کے فُٹ نوٹ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’نبوّت کی آمد کا مقصد دنیا میں توحید کا قیام ہے ۔ چنانچہ خلافتِ حقّہ کی بھی یہی نشانی رکھی ہے کہ اِس کا آخری مقصد توحید کا قیام ہے۔‘‘ ( قرآنِ کریم اردو ترجمہ صفحہ 606) - [خلافت کے فیوض و برکات ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/خلافت-کے-فیوض-و-برکات-تقریر-نمبر-2/) - خدا تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود ؓ .کو آپ کے دور خلافت کی ابتدا میں فرمایا: ’’مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت! تم پر خلافت کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ ‘‘ (منصب خلافت صفحہ 27) - [’’وہ( خلافت) دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا‘‘ (دائمی خلافت کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء کے ارشادات)](https://mushahedat.com/وہ-خلافت-دائمی-ہے-جس-کا-سلسلہ-قیامت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو چھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا وے ۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لیے تم میری اس بات سے جو مَیں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں۔ لیکن جب مَیں جاؤں گا تو خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لیے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔ مَیں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور مَیں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہو گے… اور چاہیے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں“ (الوصیت، ر وحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305) - [خلافتِ حقَّہ  اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر5 بابت خلا فتِ خامسہ)](https://mushahedat.com/خلافتِ-حقَّہ-اور-اشاراتِ-الہٰیہ-تقری-2/) - (تقریر نمبر5 بابت خلا فتِ خامسہ) مکرم شیخ عمر احمد منیر صاحب۔ راولپنڈی لکھتے ہیں کہ جنوری 2003ء میں مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں لندن میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے پیچھے نماز جمعہ ادا کررہا ہوں۔ سلام پھیرنے کے بعد جاتے ہوئے حضور کی نظر جب مجھ پر پڑتی ہے تو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کب آئے ہیں ۔ حضور کی قدم بوسی کے لئے آگے بڑھتا ہوں اور حضور سے مصافحہ کرتا ہوں تو حضور فرماتے ہیں ۔ شیخ صاحب! میرے بعد اب آپ نے صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب سے مصافحہ کرنا ہے۔ اتنی دیر میں مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب حضور کے ساتھ آکر کھڑے ہوجاتے ہیں اور مَیں فوراً صاحبزادہ صاحب سے مصافحہ کرلیتا ہوں تو حضور رحمہ اللہ میری کمر پر تھپکی دیتے ہیں اور اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے ۔ - [خلافتِ حقَّہ  اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر4 بابت خلا فتِ رابعہ)](https://mushahedat.com/خلافتِ-حقَّہ-اور-اشاراتِ-الہٰیہ-تقری/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت ام طاہررضی اللہ عنہا کو مخاطب ہوکرایک مرتبہ فرمایا: ”مجھے خداتعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ طاہر ایک دن خلیفہ بنے گا۔“ (ایک مرد خداصفحہ208) - [خلافتِ حقَّہ اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر3  بابت خلا فتِ ثالثہ)](https://mushahedat.com/خلافتِ-حقَّہ-اور-اشاراتِ-الہٰیہ-تقریر/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مجھے بھی خداتعالیٰ نے ایسی خبردی ہے کہ مَیں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گاجودین کا ناصر ہوگااور اسلام کی خدمت پر کمربستہ ہوگا۔“ (الفضل8؍اپریل1915ء) - [خلافتِ حقہ اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر2بابت خلا فتِ ثانیہ)](https://mushahedat.com/خلافتِ-حقہ-اور-اشاراتِ-الہٰیہ-تقریر-نم-2/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اپنے خطبہ جمعہ 25؍جون 1937ء میں فرماتے ہیں: ” مَیں ابھی سترہ سال کا تھا۔ جو کھیلنے کودنے کی عمر ہوتی ہے کہ اس سترہ سال کی عمر میں خداتعالیٰ نے الہاماً میری زبان پر یہ کلمات جاری کئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ہاتھوں سے ایک کاپی پر لکھ لئے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْااِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کہ وہ لوگ جو تیرے متبع ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں قیامت تک اُن لوگوں پرفوقیت اور غلبہ دے گا ۔جو تیرے منکر ہوں گے۔ “ (روزنامہ الفضل قادیان 09؍جولائی 1937ءصفحہ 4) - [خلافتِ حقہ اور اشاراتِ الہٰیہ (تقریر نمبر1بابت خلا فتِ اولیٰ)](https://mushahedat.com/خلافتِ-حقہ-اور-اشاراتِ-الہٰیہ-تقریر-نم/) - حضرت سید احمد نور صاحب کابلیؓ بیان کرتے ہیں : ”ایک دفعہ عجب خان تحصیلدار جو ہمارے یہاں آئے ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے گھر جانے کی اجازت لے کر شہید مرحوم(یعنی حضرت شہزادہ عبدالطیف صاحب شہید) کے پاس آئے اور کہا کہ مَیں نے حضرت صاحب سے اجازت لے لی ہے لیکن مولوی نور الدین صاحب سے نہیں لی۔ شہید مرحوم نے فرمایا کہ مولوی صاحب سے جاکر ضرور اجازت لینا کیونکہ مسیح موعودؑ کے بعد یہی اوّل خلیفہ ہوں گے۔ چنانچہ جب شہید مرحوم جانے لگے تو مولوی صاحب سے حدیث بخاری کے دو تین صفحے پڑھے اور ہم سے فرمایا کہ یہ مَیں نے اس لئے پڑھے ہیں کہ تا مَیں ان کی شاگردی میں داخل ہوجاؤں حضرت صاحب کے بعد یہ خلیفہ اوّل ہوں گے۔“ (شہید مرحوم کے چشم دید واقعات از سید احمد نور کابلی صاحب صفحہ9-10) - [خلافت ، روحانی ترقیات و فیضان  کا ذریعہ](https://mushahedat.com/خلافت-،-روحانی-ترقیات-و-فیضان-کا-ذریعہ/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’محض کسی ذات سے تعلق رکھنے والے عموماً ٹھوکر کھایا کرتے ہیں۔ میرے خیال میں تو انبیاء کی صفات بھی ان کے درجہ اور عہدہ کے لحاظ سے ہی ہوتی ہیں نہ کہ ان کی ذات کے لحاظ سے۔ پس تمہیں درجہ (خلافت) کی قدر کرنی چاہیے، کسی کی ذات کو نہ دیکھنا چاہیے“ (درس القرآن صفحہ 73) - [خلفاء کے ادوار میں جماعتی ترقیات و فتوحات (خلافتِ رابعہ اور خامسہ میں الٰہی تائیدات، فتوحات و ترقیات) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/خلفاء-کے-ادوار-میں-جماعتی-ترقیات-و-فتو-2/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’خلافتِ رابعہمیں ترقیات کا ایک اَور باب کھلا۔ اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور نصرت کے نئے نظارے ہم نےدیکھے۔ اشاعتِ اسلام کے نئے نئے رستے کھلے۔ خلیفۂ وقت کےہاتھ کاٹنے کا سوچنے والوں کے اپنے ہاتھ کٹ گئے اور فضا میں ان کے جسم بکھر گئے لیکن جماعت کی ترقی کے قدم نہیں رکے۔ تبلیغ کے میدان میں وسعت پیدا ہوئی۔ ایم ٹی اے کا آغاز ہوا جس سے ہر گھر میں جماعت کا پیغام پہنچنا شروع ہوا۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا تکمیل کی طرف بڑھنا ہے اور یہی چیز ہے اگر کوئی سمجھے تو۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا پورا ہونا نہیں تو اَور کیا تھا۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مئی 2022 ء ) - [خلفاء کے ادوار میں جماعتی ترقیات و فتوحات (خلافتِ اولیٰ، ثانیہ و ثالثہ کے ادوار) (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/خلفاء-کے-ادوار-میں-جماعتی-ترقیات-و-فتوح/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ترقی دینی ہے اور دے رہا ہے۔ خود لوگوں کی راہنمائی فرماتا ہے۔ خلافت کے ساتھ ان کو جوڑتا ہے اور جوڑ رہا ہے ورنہ یہ انسانی بس کی بات نہیں ہے۔ افرادِ جماعت اور خلیفۂ وقت کو ایک ایسے مضبوط بندھن میں باندھنا جس کی مثال ممکن نہ ہو، یہ انسان کے بس کی بات نہیں اور نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دل خلافت کے ساتھ جوڑتا ہے جو پہلے احمدی ہیں بلکہ ان کے بھی دل خلافت کے ساتھ جوڑتا ہے کہ جو خود بعد میں شامل ہو رہے ہیں اور بالکل نئے آنے والے ہیں جن کی پوری طرح تربیت بھی نہیں ہے۔ یہ صرف خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے۔ وہی اخلاص و وفا بیعت کے بعد لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دکھاتے ہیں۔ وہی اخلاص ووفا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰةوالسلام کے مشن کو پورا کرنے کے لیے اور آپ علیہ السلام کے نام پر خلافتِ احمدیہ سے دکھاتے ہیں اور دکھا رہے ہیں۔ حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کی بیعت جس طرح لوگوں نے کی وہ اللہ تعالیٰ کی خالص تائید و نصرت نہیں تھی تو اَور کیا تھا۔ سوائے چند منافق طبع لوگوں کے جو ہر جماعت میں ہوتے ہیں خلافت کے فدائی اور شیدائی بڑھتے چلے گئے اور جو منافق تھے ان کی آپؓ نے اچھی طرح سرزنش کی اور ان کو ان کے مقام پر رکھا۔ ان کو سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ پھرخلافتِ ثانیہ کے انتخاب کے وقت انہی مخالفوں کے شور مچانے کے باوجود جو خلافتِ اولیٰ میں منافقت کرتے ہوئے جماعت میں رہ رہے تھے۔ انہوں نے مخالفت کی۔ لیکن جماعت نے باوجود ان لوگوں کے ورغلانے کے، شور مچانے کے، فتنہ اور فساد پیدا کرنے کے حضرت میاں صاحبؓ ، حضرت مرزا محمود احمد صاحبؓ کہہ کر حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کی بیعت کر لی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح تیزی سے جماعت ترقی کرتی چلی گئی۔ دنیا میں مشن ہاؤس کھلے، مساجد بنیں، لٹریچر کی اشاعت ہوئی۔ وہ کام جن کے کرنے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے تھے آگے بڑھتے رہے۔ پھرخلافتِ ثالثہ میں اللہ تعالیٰ نے باوجود حکومتِ وقت کے بہت سخت حملے کے جماعت کو ترقیات سے نوازا۔ کشکول جماعت کے ہاتھ میں پکڑانے والے خود بُری حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مئی 2022 ء ) - [خلافتِ  احمدیہ کے دوران جماعتی ترقیات](https://mushahedat.com/خلافتِ-احمدیہ-کے-دوران-جماعتی-ترقیات/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خد تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو چھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لیے تم میری اس بات سے جو مَیں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا… مَیں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور مَیں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہو گے…اور چاہیے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں“ (الوصیت، ر وحانی خزائن جلد 20 صفحہ 300) - [دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر 4 بابت خلافتِ خامسہ)](https://mushahedat.com/دونوں-طرف-ہو-آگ-برابر-لگی-ہوئی-تقریر-نم-4/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں اور کوئی ایسا لیڈر نہیں جو ایک دوسرے کے لیے اتنے بے قرار ہوں۔جماعتِ احمدیہ کے افراد ہی وہ خوش قسمت ہیں جن کی فکر خلیفۂ وقت کو رہتی ہے … کوئی مسئلہ بھی دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کا چاہے وہ ذاتی ہو یا جماعتی، ایسا نہیں جس پر خلیفۂ وقت کی نظر نہ ہو اور اُس کے حل کے لئے وہ عملی کوشش کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا نہ ہو۔ اُس سے دعائیں نہ مانگتا ہو… دنیا میں کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشمِ تصور میں مَیں نہ پہنچتا ہوں اور اُن کے لیے سوتے وقت بھی اور جاگتےوقت بھی دعا نہ کرتاہوں۔ (الفضل یکم اگست2014ء) - [دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر3  بابت خلافتِ ثالثہ و رابعہ)](https://mushahedat.com/دونوں-طرف-ہو-آگ-برابر-لگی-ہوئی-تقریر-نم-3/) - 1974ء کے حالات میں احمدی لٹے پٹے ربوہ میں آتے تھے۔ طبعی طور پر افسردہ اور بےچین چہروں کے ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے ملتے تھے اور ہنستے مسکراتے چہروں کے ساتھ باہر آتے تھے۔ وہ کیا چیز تھی جو ان کے چہروں کی زردی کو سرخی میں بدل دیتی تھی۔ وہ ایک روحانی باپ کی محبت تھی۔ ایک ٹھنڈا سایہ تھا،وہ پیار کا چشمہ تھا جس میں سارے غم دھل جاتے تھے۔ - [دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر 2 بابت خلافتِ ثانیہ)](https://mushahedat.com/دونوں-طرف-ہو-آگ-برابر-لگی-ہوئی-تقریر-نم-2/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مَیں دیانت داری سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کے لیے جو اخلاص اور محبت میرے دل میں میرے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے ہے جس پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اور جو ہمدردی اور رحم میں اپنے دل میں پاتا ہوں وہ نہ باپ کو بیٹے سے ہے اور نہ بیٹے کو باپ سے ہو سکتا ہے۔ (الفضل14؍اپریل1924ء) - [دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر 1 بابت خلافتِ اُولیٰ )](https://mushahedat.com/دونوں-طرف-ہو-آگ-برابر-لگی-ہوئی-تقریر-نم/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ 1910ء میں گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے تو جماعت کے لیے قیامت کا لمحہ تھا۔ گھر کےباہر مردوں اور عورتوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا ۔ فرمایا: اِن سب سے کہہ دو کہ مَیں گھبراتا نہیں سب اپنے نام لکھوادیں اور گھروں کو چلے جائیں۔ مَیں ان کے لیے دعا کرتا رہوں گا۔ (حیات نور صفحہ472 ) - [امامِ وقت سے اِک رشتۂِ صدق و وفا رکھنا](https://mushahedat.com/امامِ-وقت-سے-اِک-رشتۂِ-صدق-و-وفا-رکھنا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’درحقیقت جو شخص کسی سے کامل محبت کرتا ہے تو گویا اُسے پی لیتا ہے…اور اس کے اخلاق اور اس کے چال چلن کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے… یہاں تک کہ اسی کا رُوپ ہوجاتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ یہی بھید ہے کہ جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے وہ ظلّی طور پر بقدر اپنی استعداد کے اُس نور کو حاصل کر لیتا ہےجو خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے اور شیطان سے محبت کرنے والے وہ تاریکی حاصل کر لیتے ہیں جو شیطان میں ہے‘‘ (نورالقرآن نمبر2، روحانی خزائن جلد 9صفحہ 430 - [تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/تحریکات-حضرت-خلیفۃ-المسیح-الخامس-ایدہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”اگر نظامِ خلافت سے فیض پانا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اِحکم کی تعمیل کرو کہ یَعبُدُونَنِی یعنی میری عبادت کرو اِس پر عمل کرنا ہو گا … دنیا کی ہر جماعت میں جہاں جہاں بھی احمدی آباد ہیں۔ نمازوں کے قیام کی خاص طور پر کوشش کریں۔ “ (الفضل 29؍مئی 2007ء) - [تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ](https://mushahedat.com/تحریکات-حضرت-خلیفۃ-المسیح-الرابع-رحمہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ تمام دنیا کے احمدیوں کو مَیں اس اعلان کے ذریعہ متنبِّہ کرتا ہوں کہ اگر وہ پہلے مبلغ نہیں تھے تو آج کے بعد ان کو لازماً بننا پڑے گا ۔ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے لیے بہت وسیع تقاضے ہیں اور یہ بہت بڑا بوجھ ہے جو جماعت احمدیہ کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے …..اس کی زندگی کے ہر لمحہ کا جواز اس بات میں مضمر ہوگا کہ وہ خدا کی خاطر جیتا ہے اور خدا کی طرف بلانے کے لیے جیتا ہے۔ اِس عہد کے ساتھ جب وہ کام شروع کرے گا تو آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دنیا میں کس کثرت کے ساتھ اور کس تیزی کے ساتھ وہ انقلاب پیدا ہونا شروع ہو جائے گا جس کی ہم تمنا لیے بیٹھے ہیں ۔ ‘‘ ( خطبات طاہر جلد 2 صفحہ62-57) - [تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ](https://mushahedat.com/تحریکات-حضرت-خلیفۃ-المسیح-الثالث-رحمہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ میرے دل میں یہ خواہش شدّت سے پیدا کی گئی ہے کہ قرآنِ کریم کی سورۃ بقرہ کی ابتدائی 17 آیتیں جن کی مَیں نے ابھی تلاوت کی ہے ہر احمدی کو یاد ہونی چاہئیں اور ان کے معنی بھی آنے چاہئیں اور جس حد تک ممکن ہو ان کی تفسیر بھی آنی چاہیے اور پھر ہمیشہ دماغ میں وہ مستحضر بھی رہنی چاہیے ۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ستَّر اسِّی صفحات کا ایک رسالہ جو حضرت مسیح موعودؑاور حضرت خلیفہ اوّلؓ اور حضرت مصلح موعودؓ کی تفاسیر کے متعلقہ اقتباسات پر مشتمل ہو گا ، شائع بھی کر دیں گے ۔ مجھے آپ کی سعادت مندی اور جذبہ اخلاص اور اس رحمت کو دیکھ کر جو ہر آن اللہ تعالیٰ آپ پر نازل کر رہا ہے امید ہے کہ آپ میری روح کی گہرائی سے پیدا ہونے والے اس مطالبہ پر لبیک کہتے ہوئے ان آیات کو زبانی یاد کرنے کا اہتمام کریں گے ۔ مرد بھی یاد کریں گے، عورتیں بھی یاد کریں گی ، چھوٹے بڑے سب ان سترہ آیات کو از بر کر لیں گے ۔ پھر تین مہینے کے ایک وسیع منصوبہ پر عمل در آمد کرتے ہوئے ہم ہر ایک کے سامنے ان آیات کی تفسیر بھی لے آئیں گے ۔ ‘‘ ( خطبات ناصر جلد2 صفحہ851) - [تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ](https://mushahedat.com/تحریکات-حضرت-خلیفۃ-المسیح-الثانی-رضی-ا/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ ہمارے دوست اپنی زندگیاں وقف کریں اور مختلف پیشے سیکھیں۔ پھر ان کو جہاں جانے کے لیے حکم دیا جائے وہاں چلے جائیں اور وہ کام کریں جو انہوں نے سیکھا ہے۔ کچھ وقت اس کام میں لگے رہیں تاکہ اُن کے کھانے پینے کا انتظام ہوسکے اور باقی وقت دین کی خدمت میں صرف کریں۔ مثلاً کچھ لوگ ڈاکٹری سیکھیں کہ یہ بہت مفید علم ہے۔ بعض طب سیکھیں۔ اگرچہ طب جہاں ڈاکٹری پہنچ گئی ہے کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ مگر ابھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں طب کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ اِسی طرح اور کئی کام ہیں۔ ان تمام کاموں کو سیکھنے سے ان کی غرض یہ ہو کہ جہاں وہ بھیجے جائیں وہاں خواہ ان کاکام چلے یا نہ چلے۔ لیکن کوئی خیال ان کو روک نہ سکے …میرے دل میں مدت سے یہ تحریک تھی لیکن اب تین چار دوستوں نے باہر سے بھی تحریک کی ہے کہ اِسی رنگ میں دین کی خدمت کی جائے پس مَیں اس خطبہ کے ذریعہ یہاں کے دوستوں اور باہر کے دوستوں کومتوجہ کرتا ہوں کہ دین کے لیے جوش رکھنے والے بڑھیں اور اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ جو ابھی تعلیم میں ہیں اور زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مجھ سے مشورہ کریں کہ کس ہنر کوپسند کرتے ہیں۔ تا ان کے لیے اس کام میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔ لیکن جو فارغ التحصیل تو نہیں لیکن تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔ وہ بھی مشورہ کرسکتے ہیں‘‘ ( خطبات محمود جلد5صفحہ611-610) - [تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ](https://mushahedat.com/تحریکات-حضرت-خلیفۃ-المسیح-الاوّل-رضی-ا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ مَیں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے سوا کوئی ایسی کتاب نہیں ہے کہ اس کو جتنی بار پڑھو، جس قدر پڑھو اور جتنا اس پر غور کرواُس قدر لطف اور راحت بڑھتی جاوےگی ۔ طبیعت اُکتانے کی بجائے چاہے گی کہ اَور وقت اِس پر صرف کرو۔ عمل کرنے کے لئے کم از کم جوش پیدا ہوتا ہے اور دل میں ایمان،یقین اور عرفان کی لہریں اٹھتی ہیں۔ ‘‘ (حقائق الفرقان جلد 1صفحہ34 ) - [مقامِ خلافت کی عظمت اور اہمیت](https://mushahedat.com/مقامِ-خلافت-کی-عظمت-اور-اہمیت/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جس کو خد اخلیفہ بناتا ہے، کوئی نہیں جو اس کے کاموں میں روک ڈال سکے۔ اس کو ایک قوت اور اقبال دیا جاتا ہے اور ایک غلبہ اور کامیابی اس کی فطرت میں رکھ دی جاتی ہے“ (روزنامہ الفضل، 25 مارچ1961 ء) - [بزرگانِ اُمّت  کے نزدیک خلافت کی اہمیت](https://mushahedat.com/بزرگانِ-اُمّت-کے-نزدیک-خلافت-کی-اہمیت/) - حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ ’’نزولِ نعمتِ الٰہی یعنی ظہور خلافتِ راشدہ سے کسی زمانہ میں مایوس نہ ہونا چاہیے اور اِسے مجیب الدعوات سے طلب کرتے رہنا چاہیے اور اپنی دعا کی قبولیت کی امید رکھنا اور خلیفہ راشد کی جستجو میں ہر وقت ہمت صرف کرنا چاہیے، شاید کہ یہ نعمتِ کاملہ اِسی زمانہ میں ظہور فرماوے اور خلافتِ راشدہ اِسی وقت ہی جلوہ گر ہو جائے“ (منصبِ امامت صفحہ 86) - [خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ](https://mushahedat.com/خلافت-از-افاضات-حضرت-خلیفۃ-المسیح-الخا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے احمدیوں پر کہ نہ صر ف ہادیٔ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل ہونے کی توفیق ملی بلکہ اس زمانے میں مسیح موعود علیہ السلام اور مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق بھی اس نے عطا فرمائی جس میں ایک نظام قائم ہے، ایک نظام خلافت قائم ہے، ایک مضبوط کڑا آپ کے ہاتھ میں ہے جس کاٹوٹنا ممکن نہیں لیکن یاد رکھیں کہ یہ کڑا تو ٹوٹنے والا نہیں لیکن اگر آپ نے اپنے ہاتھ ذرا ڈھیلے کیے تو آپ کے ٹوٹنے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس سے بچائے اس لیے اس حکم کو ہمیشہ یا رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ ے رکھو اور نظام جماعت سے ہمیشہ چمٹے رہو کیونکہ اب اس کے بغیر آپ کی بقا نہیں۔‘‘ (خطبات مسرور جلد1۔صفحہ256۔257خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 22اگست2003ء) - [خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ](https://mushahedat.com/خلافت-از-افاضات-حضرت-خلیفۃ-المسیح-الرا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ سارا عالَمِ اسلام مل کر زور لگا لے اور خلیفہ بنا کر دکھا دے، وہ نہیں بنا سکتے، کیونکہ خلیفہ کا تعلق خدا کی پسند سے ہے“ (الفضل انٹر نیشنل، 12 ؍پریل 1993 ء) - [خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ](https://mushahedat.com/خلافت-از-افاضات-حضرت-خلیفۃ-المسیح-الثا-2/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ ہی بناتا ہے۔ اگر بندوں پر اس کو چھوڑا جاتا تو جو بھی بندوں کی نگاہ میں افضل ہوتا اسے ہی وہ اپنا خلیفہ بنا لیتے۔ لیکن خلیفہ خود اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور اس کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں۔ وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چنتا ہے ، جسے وہ بہت حقیر سمجھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت اور جلال کا ایک جلوہ کرتا ہے اور جو کچھ وہ تھا اور جو کچھ اس کا تھا اس میں سے وہ کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے سامنے کلّی طور پر فنا اور بے نفسی کا لبادہ وہ پہن لیتا ہے اور اس کا وجود دنیا سے غائب ہو جاتا ہے اور خدا کی قدرتوں میں وہ چھپ جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے “ (الفضل، 17مارچ1967) - [خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ](https://mushahedat.com/خلافت-از-افاضات-حضرت-خلیفۃ-المسیح-الثا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”…خلافت کے تو معنے ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اُس وقت سب سکیموں، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم ، وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ ٔوقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔ جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اُس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ24؍جنوری 1936ءمطبوعہ خطبات محمود جلد 17صفحہ 74) - [خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ](https://mushahedat.com/خلافت-از-افاضات-حضرت-خلیفۃ-المسیح-الاو/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’بیعت کے معنے اپنے آپ کو بیچ دینے کے ہیں اور جب انسان کسی کو دوسرے ہاتھ پر بیچ دیتا ہے تو اُس کا اپنا کچھ نہیں رہتا ۔ ‘‘ ( خطبات نور صفحہ171) - [بابت تاریخ ’’مشاہدات‘‘ کے دو سال](https://mushahedat.com/بابت-تاریخ-مشاہدات-کے-دو-سال/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کوئی محدود طاقتوں والا نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے کہ نبی کے زمانے میں بھی نبی سے کئے گئے تمام وعدے اور فتوحات کو اس زمانہ میں اور اس کی زندگی میں پورا کر دے تو کر سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بعد میں آنے والے بھی ان فتوحات اور انعامات سے حصہ لینے والے بن جائیں۔ پس اس زمانہ کے تیز وسائل ہمیں اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ان کا صحیح استعمال کریں۔ انہیں کام میں لائیں اور صحابہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زمانہ کے امام کے معین و مددگار بن جائیں اور مددگار بن کر اس کے مشن کو پورا کرنے والے ہوں۔ تیز رفتار وسائل اس طرف توجہ مبذول کروا رہے ہیں کہ ہم اس تیز رفتاری کو خدا تعالیٰ کا انعام سمجھتے ہوئے اس کے دین کے لئے استعمال کریں ……پس خداتعالیٰ نے اس نشر کے اس زمانہ میں جدید طریقے مہیا فرما دیئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے پاس آج کل کے وسائل اور جدید طریقے موجودنہیں تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے تبلیغِ اسلام کا حق ادا کر دیا۔ آج کل ہمارے پاس یہ طریقے موجود ہیں ….. جو تیزی میڈیا میں آج کل ہے آج سے چند دہائیاں پہلے ان کا تصوّر بھی نہیں تھا۔ پس یہ مواقع ہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائے ہیں کہ اسلام کی تبلیغ اور دفاع میں ان کو کام میں لاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ جدید ایجادات اس زمانہ میں ہمارے لئے اس نے مہیا فرمائی ہیں۔ ہمارے لئے یہ مہیا کر کے تبلیغ کے کام میں سہولت پیدا فرما دی ہے اور ہماری کوشش اس میں یہ ہونی چاہئے کہ بجائے لغویات میں وقت گزارنے کے، ان سہولتوں سے غلط قسم کے فائدے اٹھانے کے ان سہولتوں کا صحیح فائدہ اٹھائیں، ان کو کام میں لائیں اور اگر اُس گروہ کا ہم حصہ بن جائیں جو مسیح محمدی کے پیغام کو دنیا میں پہنچا رہا ہے تو ہم بھی اس گروہ میں شامل ہو سکتے ہیں، ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن کی خداتعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ15 ؍اکتوبر 2010ء) - [بابت خلافت خلافت از افاضات حضرت مسیح موعود علیہ السلام](https://mushahedat.com/بابت-خلافت-خلافت-از-افاضات-حضرت-مسیح-مو/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’خلیفہ کے معنےجانشین کے ہیں، جو تجدید دین کرے، نبیوں کے زمانہ کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں، انہیں خلیفہ کہتے ہیں“ (ملفوظات، جلد چہارم صفحہ 383 ) - [نظام خلافت (تعارف ، تعریف، اہمیت اور اقسام)](https://mushahedat.com/نظام-خلافت-تعارف-،-تعریف،-اہمیت-اور-اقس/) - حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مَا کَانَت نُبوَّۃُ قَطُّ اِلَا تَبِعَتْہَا خِلَافَۃٌ یعنی ہر نبوت کے بعد لازماًخلافت کا سلسلہ قائم ہوتا ہے۔ - [پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی یا پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن](https://mushahedat.com/پھر-بہار-آئی-خدا-کی-بات-پھر-پوری-ہوئی-یا/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’نبیوں کا عظیم الشان کما ل یہ ہے کہ وہ خدا سے خبریں پاتے ہیں۔ چنانچہ قرآن شریف میں آیاہے فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ (الجن: 27تا28) یعنی خدا تعالیٰ کے غیب کی باتیں کسی دوسرے پر ظاہر نہیں ہوتیں ہاں اپنے نبیوں میں سے جس کو وہ پسند کرے۔ جو لوگ نبوت کے کمالات سے حصہ لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو قبل از وقت آنے والے واقعات کی اطلاع دیتاہے اور یہ بہت بڑا عظیم الشان نشان خدا کے مامور اور مُرسَلوں کاہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اَور کوئی معجزہ نہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 412) - [پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ](https://mushahedat.com/پیوستہ-رہ-شجر-سے-اُمیدِ-بہار-رکھ/) - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ ’’وہ شاخ جو اپنے تنے اور درخت سے سچا تعلق نہیں رکھتی وہ بے پھل رہ جاتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد4 صفحہ233) - [پاک محمدمصطفیؐ  نبیوں کا سردار](https://mushahedat.com/پاک-محمدمصطفیؐ-نبیوں-کا-سردار/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا، جو خَاتَمُ المؤمنینؐ، خَاتَمُ العارِفینؐ اور خَاتَمُ النَّبِیِّیْنؐہے اور اسی طرح پروہ کتاب اس پر نازل کی جو جَامِع الکُتُب اور خَاتَمُ.الکُتب.ہے۔ “ (ملفوظات جلداول صفحہ311 ) - [تقریر بابت  تربیتِ اولاد والدین کے تقویٰ کے اولاد پراثرات](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-تربیتِ-اولاد-والدین-کے-تقو/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلا م فرماتے ہیں۔ ” صالح آدمی کا اثر اس کی ذریت پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اِس سے فائدہ اٹھاتی ہے... حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا ہے کہ مَیں بچہ تھا بوڑھا ہوامَیں نے کسی خدا پرست کو ذلیل حالت میں نہیں دیکھا اور نہ اُس کے لڑکوں کو دیکھا کہ وہ ٹکڑے مانگتے ہوں۔گویا متقی کی اولاد کا بھی خدا تعالیٰ ذمہ دار ہوتا ہے، لیکن حدیث میں آیا ہے ظالم اپنے اہل و عیال پر بھی ظلم کرتا ہے کیونکہ ان پراس کا بد اثر پڑتا ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 117۔ 118 ) - [درس نمبر30 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور اَلۡاَعۡمَالُ بِالۡخَوَاتِیۡمِ](https://mushahedat.com/درس-نمبر30-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ”بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنم میں سے ہوتا ہے۔ ایک دوسرا بندہ لوگوں کی نظر میں اہلِ جہنم کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور فرمایا اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِخَوَاتِیْمِہَا کہ اعمال کا اعتبار اُن کے خاتمہ پر موقوف ہے۔“ (بخاری حدیث نمبر6607) - [شہید کی جو موت ہے،  قوم کی حیات ہے](https://mushahedat.com/شہید-کی-جو-موت-ہے،-قوم-کی-حیات-ہے/) - ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: شہید کے سوا کوئی بھی ایسا نہیں جو جنت میں داخل ہوجائے اور پھر دنیا میں واپس آنا پسند کرے گو اُسے جو کچھ بھی زمین میں ہے مل جائے۔ شہید آرزو کرتا ہے کہ وہ دنیا میں دس بار لوٹے اور مارا جائے اس لئے کہ وہ عزت دیکھ لیتا ہے (جو شہید کو ملتی ہے)۔ (صحیح بخاری ، کتاب الجہاد والسیر) - [درس نمبر 29بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان کے  سبق کو سارا سال جاری رکھیں](https://mushahedat.com/درس-نمبر-29بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-کے/) - حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ عمل وہ اچھالگتا تھا جس پر کوئی مستقل مزاجی سے مسلسل قائم رہے۔ ) صحیح بخاری کتاب الرقاق، باب القصد والمداومة( - [تقریر بابت  اخلاقیات برداشت اور صبر و حوصلہ کی اقسام](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-اخلاقیات-برداشت-اور-صبر-و-ح/) - ہمارے پیارےامام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جماعت کو صبروبرداشت کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’ایک نیکی صبر و تحمّل ہے صبر کے نتیجہ میں بہت سی بُرائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ صبر کی کمی کے باعث غلط فہمیاں اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہراحمدی کو صبراختیار کرناچاہئے۔دل خراش باتوں کو برداشت کریں۔ اس پالیسی کے نتیجہ میں بہت سے جھگڑوں کا حل ہو سکتا ہے۔ فیملی تنازعات ، خواہ وہ خاوند و بیوی کے درمیان ہوں یا بھائیوں کے درمیان ہوں۔ یہ سب بچگانہ تنازعات ہوتے ہیں…دنیا بھر میں ایک طوفان بےتمیزی ہے۔ قتلِ عام ہو رہا ہے اور قومیں دوسری قوموں پر حملہ آور ہورہی ہیں۔ یہ سب بے صبری کا ہی نتیجہ ہے۔ دنیا تباہی کے دہانے پر ہے۔ احمدیوں کو دنیا کو بچانا ہوگا۔ اس لحاظ سے صبر و برداشت کی عادت کو اس انداز میں اختیار کرنا ہو گا کہ احمدی ہر میدان میں صبر و برداشت کا نمونہ بن جائیں‘‘ (افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ غانا 17؍اپریل 2008ء،مشعل راہ جلد 5 صفحہ140) - [درس نمبر28 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور مجالس کے آداب](https://mushahedat.com/درس-نمبر28-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اُسے سلام کرنا چاہئے، وہاں بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے اور جب جانے کے لئے کھڑا ہو تو تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ افضل نہیں ہے۔ (سنن الترمذی، کتاب الاستئذان والآداب عن رسول اللّٰہ) - [تقریر بابت  اخلاقیات اعتدال پسندی](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-اخلاقیات-اعتدال-پسندی/) - اللہ تعالیٰ ابنائے آدم کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے۔ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ۔)اعراف(32: کہ کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ - [درس نمبر27 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور مساجد کے آداب](https://mushahedat.com/درس-نمبر27-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اِنَّ ھٰذِہ المَسَاجِدَ لا تصلح لِشَئِی مِن ھَذَاالبَوْلِ وَلَاالقَذرِ اِنَّما ھِیَ لِذِکْرِا للّٰہِ تَعَالَی وَقِرائَۃِالقُرآن۔ (مسلم کتاب الطھارۃباب وجوب الغسل البول) یعنی یقیناً مسجدیں اس لیے نہیں کہ اُن میں پیشاب کیا جائے، تھوکا جائے یا کوئی گندگی وغیرہ پھینکی جائے یعنی مسجدوں کو ہرقسم کی گندگی سے پاک و صاف رکھنا چاہئے۔ - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء اَلصَّلٰوۃُ عِمَادُ الدِّیْن](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-اَلصَّلٰ/) - حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نماز کو چھوڑنا انسان کو شرک اور کفر کے قریب کر دیتا ہے۔ (مسلم کتاب الایمان) - [درس نمبر26 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور حسنِ معاشرت](https://mushahedat.com/درس-نمبر26-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - عَنۡ عَبۡدِ اللّٰہِ بۡنِ عَمۡرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ اِنَّمَا الدُّنۡیَا مَتَاعٌ، وَلَیۡسَ مِنۡ مَتَاعِ الدُّنۡیَا شَیٔ ءٌ أَفۡضَلَ مِنَ الۡمَرۡ أَۃِ الصَّالِحَۃِ (ابن ماجہ کتاب النکاح باب افضل النساء1855) حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا تو صرف ایک عارضی فائدہ کی چیز ہے اور اس دنیا کے عارضی فائدے میں صالحہ عورت سے بڑھ کر افضل کوئی چیز نہیں ۔ - [قرآن کی رمضان سے نسبت، تعلق اور اِس کی  اہمیت و برکات (خلاصہ خطبہ جمعہ حضورِ ایدہ اللہ فرمودہ 14  مارچ 2025ء)](https://mushahedat.com/قرآن-کی-رمضان-سے-نسبت،-تعلق-اور-اِس-کی/) - حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر سال جو بھی قرآن کریم نازل ہوا ہوتا تھا اس کا ایک دور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل کروایا کرتے تھے اور آپؐ کی زندگی کے آخری سال میں تو دو دفعہ مکمل ہوا۔ تو قرآن کریم کی اہمیت اور نسبت رمضان کےساتھ بہت زیادہ ہے۔ پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے اور قرآن کریم کو پڑھنے، سننے اور درسوں میں شامل ہونے وغیرہ کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ - [عشقِ الٰہی وَسّے منہ پر وَلیاں ایہہ نشانی](https://mushahedat.com/عشقِ-الٰہی-وَسّے-منہ-پر-وَلیاں-ایہہ-نشا/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’کوئی صاحبِ نور دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے اور جب وہ آتا ہے تو اُس کی طرف مستعد روحیں کھنچی چلی آتی ہیں اور پاک فطرتیں خودبخود روبحق ہوتی جاتی ہیں اور جیسا کہ ہرگز ممکن نہیں کہ شمع کے روشن ہونے سے پروانہ اس طرف رخ نہ کرے ایسا ہی یہ بھی غیرممکن ہے کہ ہر وقت ظہور کسی صاحبِ نور کے صاحبِ فطرت سلیمہ کا اس کی طرف بارادت متوجہ نہ ہو‘‘ )روحانی خزائن جلد 1صفحہ646( - [سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ کا نادر و نایاب نسخہ](https://mushahedat.com/سُبْحَانَ-مَنْ-یَّرَانِیْ-کا-نادر-و-نا/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا تھا جو ہر بُرائی میں ملوث تھا۔ چوری بہت کرتا تھا۔ ڈاکہ بھی ڈالتا تھا۔ زنا بھی کرتا تھا اور جھوٹ بھی بولتا تھا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے یہی نصیحت فرمائی تھی کہ جھوٹ ترک کردو۔ وہ جھوٹ ترک کرنے کے پختہ عزم کے ساتھ دربارِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوا اور جب بھی بُرائی کی طرف بڑھا۔ ہمیشہ یہی خیال دل میں جنم لیتا کہ اگر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا یہ کام کیا ہے؟ اگر وہ بُرا کام کیا ہو اور مَیں کہوں کہ نہیں کیا تو یہ جھوٹ ہوگا جبکہ خدا مجھے دیکھ رہا ہو گا اور اگر کہا۔ کیا ہے تو یہ اپنی ذات میں قابل سرزنش ہے اوریوں اس نے تمام بُرائیوں اور بدیوں کو خیر آباد کہہ دیا۔ اس کے سامنے ایک ذات سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی اور اگر اس عظیم ذات کو پیدا کرنے والی ہستی کو ہم اپنی زندگیوں میں مدنظر نظر رکھیں تو کیا کایا نہیں پلٹ سکتی۔ - [’’ زکریا والی توبہ کرو‘‘](https://mushahedat.com/زکریا-والی-توبہ-کرو/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”سچی توبہ درحقیقت ایک موت ہے جو انسان کے ناپاک جذبات پر آتی ہے اور ایک سچی قربانی ہے جو انسان اپنے پورے صدق سے حضرت احدیت میں ادا کرتا ہے اور تمام قربانیاں جو رسم کے طور پر ہوتی ہیں اسی کا نمونہ ہے۔ “ (قادیان کے آریہ اور ہم، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 447-448) - [وہی اُس کے مقرب ہیں جو اپنا آپ کھوتے ہیں](https://mushahedat.com/وہی-اُس-کے-مقرب-ہیں-جو-اپنا-آپ-کھوتے-ہیں/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے۔ محمدؐ جو جلالی نام تھا اور احمدؐ جوکہ جمالی نام تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی نام احمدؐ کی صفت پر ہے اور یہ دَور بھی جمالی یعنی محبت و پیار کا دَور ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے فرقہ کا نام ’’مسلمان فرقہ احمدیہ‘‘ رکھ کر اس کی توجیہ یہ فرمائی کہ ’’ اِس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دوسرا احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسم محمد جلالی نام تھا اور اِس میں یہ مخفی پیشگوئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دیں گے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صد ہا مسلمانوں کو قتل کیا۔ لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے۔ سو خدا نے ان دو ناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کی زندگی میں اسم احمدکا ظہور تھا اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہوگا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پس اِسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام احمدیہ رکھا جائے تا اِس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے اور جنگ اور لڑائی سے اِس فرقہ کو کچھ سروکار نہیں۔ سو اے دوستو! آپ لوگوں کو یہ نام مبارک ہو اور ہر ایک جو امن اور صلح کا طالب ہو یہ فرقہ بشارت دیتا ہے۔ نبیوں کی کتابوں میں پہلے سے اس مبارک فرقہ کی خبر دی گئی ہے اور اس کے ظہور کے لئے بہت سے اشارات ہیں۔ زیادہ کیا لکھا جائے خدا اس نام میں برکت ڈالے۔ خدا ایسا کرے کہ تمام روئے زمین کے مسلمان اِسی مبارک فرقہ میں داخل ہوجائیں تا انسانی خونریزیوں کا زہر بکلی اُن کے دلوں سے نکل جائے اور وہ خدا کے ہو جائیں اور خدا اُن کا ہو جائے۔ اے قادرو کریم! تو ایسا ہی کر۔ آمین‘‘ (تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15 صفحہ 527۔ 528) - [صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 8)](https://mushahedat.com/صحابہ-سے-ملا-جب-مجھ-کو-پایا-تقریر-نمبر-8/) - حضرت حاجی محمد موسیٰ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ: ایک دفعہ میرے لڑکے عبدالمجید نے جس کی عمر اُس وقت قریباً چار برس کی تھی۔ اس بات پر اصرار کیا کہ میں نے حضرت صاحب کو چمٹ کر یعنی ’’جپھی‘‘ ڈال کر ملنا ہے۔ اُس نے مغرب کے وقت سے لے کر صبح تک یہ ضد جاری رکھی اور ہمیں رات کو بہت تنگ کیا۔ صبح اُٹھ کر پہلی گاڑی میں اُسے لے کر بٹالہ پہنچا اور وہاں سے ٹانگے پر ہم قادیان گئے اور جاتے ہی حضرت صاحب کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ عبدالمجید آپ کو ملنا چاہتا ہے۔ گلے ملنا چاہتا ہے یا ’’جپھی‘‘ ڈالنا چاہتا ہے۔ (چھوٹا سا بچہ ہی تھا۔ چار سال عمر تھی) حضورؑ اس موقع پر باہر تشریف لائے اور عبدالمجید آپ کی ٹانگوں کو چمٹ گیا اور اس طرح اُس نے ملاقات کی اور پھر وہ چار سال کا بچہ کہنے لگا کہ ’’ہن ٹھنڈ پے گئی اے۔ ‘‘ (ماخوذ ازرجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ12 روایت حضرت حاجی محمد موسیٰ صاحبؓ) - [صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 7)](https://mushahedat.com/صحابہ-سے-ملا-جب-مجھ-کو-پایا-تقریر-نمبر-7/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے صحابہؓ کی مالی قربانیوں کا خود بھی ذکر فرمایا کرتے تھے ۔ آپؑ فرماتے ہیں: ”میاں شادی خان لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپے چندہ دے چکے ہیں اور اب اس کام کے لیے دو سو روپے چندہ بھیج دیا ہے اور یہ وہ متوکّل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھا جائے تو شاید تمام جائداد پچاس روپیہ سے زیادہ نہ ہو۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ‘‘چونکہ ایامِ قحط ہیں اور دنیوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دینی تجارت کر لیں اس لیے جو کچھ اپنے پاس تھا سب بھیج دیااور درحقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔‘‘ )مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 315۔ اشتہار یکم جولائی1900ء) - [صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 6)](https://mushahedat.com/صحابہ-سے-ملا-جب-مجھ-کو-پایا-تقریر-نمبر-6/) - حضرت میاں محمد دین صاحبؓ 313 اصحاب میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ آپ بچپن میں پنجوقتہ نمازوں اور تہجد کا اہتمام کرتے تھے مگر پھر اپنے ماحول کے زیر اثر تارک صلوٰۃ ہوگئے اور دہریت کا شکار ہوتے گئے۔ تقدیرِ الٰہی کے تابع آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ پڑھنے کی توفیق ملی اور ہستی باری تعالیٰ کے دلائل پڑھ کر دہریت کے سارے زنگ اُتر گئے۔ اُسی وقت کپڑے دھوئے اور گیلے کپڑے پہن کر ہی نماز پڑھنی شروع کی۔ محویت کے عالَم میں ایک طویل نماز پڑھی۔ فرماتے ہیں یہ نماز ’’براہین‘‘ نے پڑھائی اور بعد ازاں آج تک کوئی نماز مَیں نے نہیں چھوڑی۔ - [صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 5)](https://mushahedat.com/صحابہ-سے-ملا-جب-مجھ-کو-پایا-تقریر-نمبر-5/) - مکرم مولانا محمد صدیق امرتسری مرحوم سابق مبلغ سیرا لیون اپنی سوانح عمری میں تحریر کرتے ہیں: جہاں تک مجھے یاد ہے سیرالیون میں الحاج علی روجرز واحد ایسے مسلمان ہیں جنہوں نے احمدی ہوتے ہی الحاج مولانا نذیر احمد علی کی تحریک پر محض اسلام کی تعلیم پر صحیح طور پر عمل کرنے کی خاطر اور خوفِ خدا دل میں رکھتے ہوئے اور قیام شریعت کی غرض سے اپنی 15 بیویوں میں سے صرف چار دیندار اور مناسب حال منتخب کر کے باقی گیارہ بیویوں کو طلاق دے کر با عزت و احترام رخصت کر دیا تھا۔ حالانکہ ان میں سے اکثر اچھے خاندان اور امیر گھرانوں کی با اولاد خواتین تھیں۔ (روح پرور یادیں صفحہ424) - [صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 4)](https://mushahedat.com/صحابہ-سے-ملا-جب-مجھ-کو-پایا-تقریر-نمبر-4/) - حیدرآباد دکن سے بیعت کرنے والے سب سے پہلے خوش قسمت حضرت میر مردان علی صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’اگر ہماری جانیں بھی حضورؑ کے قدموں پر نثار ہوجائیں تو ہم حقِ خدمت سے سُبکدوش نہیں ہو سکتے۔ ‘‘ (الحکم 21؍جنوری 1903ء صفحہ 4) - [صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 3)](https://mushahedat.com/صحابہ-سے-ملا-جب-مجھ-کو-پایا-تقریر-نمبر-3/) - حضرت قاضی ضیاء الدین صاحبؓ آف قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ حضورؑ کے دعویٰ سے بہت پہلے فروری 1885ء میں حضورؑ کی زیارت سے پہلی بار مشرف ہوئے اور صرف پانچ روزہ قیام میں حضورؑ کی صحبت سے اس قدر متأثر ہوئے کہ واپس روانگی سے پہلے مسجد اقصیٰ کی دیوار پر یہ فارسی شعر لکھ گئے۔ حسن و خوبی و دلبری بر تو تمام صحبتے بعد از لقائے تو حرام یعنی حسن و خوبی اور دل کشی کا خدا داد ملکہ آپؑ کی ذات پر مکمل ہو چکا ہے۔ اس لیے اب کوئی بھی صحبت آپؑ کی صحبت اور ملاقات کے بعد حرام ہے۔ (اصحاب احمد جلد ششم صفحہ11) - [صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/صحابہ-سے-ملا-جب-مجھ-کو-پایا-تقریر-نمبر-2/) - جلسہ کے تیسرے روز اختتامی خطاب کے بعد نظمیں پڑھنے کی روایت ہے۔ جس میں اسٹیج کے قریب والے حاضرین کھڑے ہو کر حضور انور کا قریب سے دیدار کرتے ہیں۔ جلسہ سالانہ برطانیہ 2021ء چونکہ Covid 19 کے تمام تر SOPs کے ساتھ منعقد ہو رہا تھا۔ جس میں حاضرین کا ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنا ضروری تھا۔حاضرین نظموں کے دوران حسب سابق اسٹیج کے ارد گرد اکٹھےہو کر کھڑے ہوگئے تو حضور انور نے کرونا کے خطرے کو بھانپتے ہوئے فرمایا: ’’اپنی کرسیاں چھوڑ کر کیوں آگے آئے ہیں اپنی اپنی کرسیوں پر واپس جائیں‘‘ تو یہ خلافت کے متوالے اور جماعت کے فدائی اپنی کرسیوں پر واپس اِس طرح لپکے ہیں جس طرح عقاب اپنے شکار پر لپکتا ہے اور دوستوں کو جہاں جہاں جگہ ملی وہاں بیٹھ گئے۔ ایم ٹی اے کے توسط سے یہ تاریخی نظارہ ساری دنیا نے بالعموم اور احمدیوں نے بالخصوص دیکھا۔ - [صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/صحابہ-سے-ملا-جب-مجھ-کو-پایا-تقریر-نمبر-1/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحبؓ کے محاسن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اُن کے مال سے جس قدرمجھے مدد پہنچی ہے مَیں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اُس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ دوم از روحانی خزائن جلد3صفحہ520) - [بزہد و ورع کوش و صدق و صفا         و لیکن میفزائے بر مصطفٰی](https://mushahedat.com/بزہد-و-ورع-کوش-و-صدق-و-صفا-و-لیک/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’یاد رکھو! ہماری جماعت اس بات کے لئے نہیں ہے جیسے عام دنیا دار زندگی بسر کرتے ہیں۔ نِرا زبان سے کہہ دینا کہ ہم اس سلسلہ میں داخل ہیں اور عمل کی ضرورت نہ سمجھی جیسے بد قسمتی سے مسلمانوں کا حال ہے کہ پوچھو تم مسلمان ہو؟ تو کہتے ہیں شکر الحمدللہ! مگر نماز نہیں پڑھتے اور شعائرُ اللہ کی حرمت نہیں کرتے۔ پس مَیں تم سے یہ نہیں چاہتا کہ صرف زبان سے ہی اقرار کرو اور عمل سے کچھ نہ دکھاؤ یہ نکمّی حالت ہے۔ خدا تعالیٰ اِس کو پسند نہیں کرتا اور دنیا کی اس حالت نے ہی تقاضا کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اصلاح کے لئے کھڑا کیا ہے۔ پس اب اگر کوئی میرے ساتھ تعلق رکھ کر بھی اپنی حالت کی اصلاح نہیں کرتا اور عملی قوتوں کو ترقی نہیں دیتا۔ بلکہ زبانی اقرار ہی کو کافی سمجھتا ہے۔ وہ گویا اپنے عمل سے میری عدمِ ضرورت پر زور دیتا ہے۔ پھر تم اگر اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہو کہ میرا آنا بے سود ہے، تو پھر میرے ساتھ تعلق کرنے کے کیا معنے ہیں؟ میرے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہو تو میری اغراض و مقاصد کو پورا کرو اور وہ یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنا اخلاص اور وفا داری دکھاؤ اور قرآن.شریف کی تعلیم پر اُسی طرح عمل کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا اور صحابہ نے کیا۔ قرآن شریف کے صحیح منشا کو معلوم کرو اور اس پر عمل کرو۔خدا تعالیٰ کے حضور اتنی ہی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ زبان سے اقرار کر لیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سرگرمی نہ پائی جاوے۔ یاد رکھو کہ وہ جماعت جو خد اتعالیٰ قائم کرنی چاہتا ہے وہ عمل کے بدوں زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہ وہ عظیم الشّان جماعت ہے جس کی تیاری حضرت آدم کے وقت سے شروع ہوئی۔ کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے اس دعوت کی خبر نہ دی ہو۔ پس اِس کی قدر کرو اور اِس کی قدر یہی ہے کہ اپنے عمل سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ اہلِ حق کا گروہ تم ہی ہو۔‘‘ (ملفوظات جلد3 صفحہ370-371 ایڈیشن 1984ء) - [مسلمانوں پہ تب اِدبار آیا  کہ جب تعلیمِقرآں کو بُھلایا](https://mushahedat.com/مسلمانوں-پہ-تب-اِدبار-آیا-کہ-جب-تعلیمِ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔ صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔ دیکھو! انہوں نے جب پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کئے تھے،پورے ہو گئے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ409 ) - [صحابیاتِ رسولؐ کی قربانیاں](https://mushahedat.com/صحابیاتِ-رسولؐ-کی-قربانیاں/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” صحابیات نے جو قربانیاں کیں آج تک دنیا کے پردے پر اُس کی مثال نہیں ملتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جنگ کے لئے جانے لگے تو ایک صحابیہ بھی لشکر میں آشامل ہوئی، جب صحابہؓ نے اُس کو منع کیا تو اُس عورت نے کہا کیوں! ہم کیوں نہ جائیں۔ کیا ہم پر اسلام کی خدمت فرض نہیں؟ اس کا یہ جواب سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایااسے بھی ساتھ لے چلو اور زخمیوں کو پانی پلانے اور اُن کی مرہم پٹی کرنے کا کام اُس کے سپرد کر دیا...اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھاکہ جب آپ جنگ کے لئے جاتے تو کچھ عورتوں کو بھی ساتھ لے جاتے جو نرسنگ کا کام کرتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں۔ اکثر دفعہ آپؐ کی بیویاں بھی جنگ میں شامل ہوتیں اور نرسنگ کا کام کرتیں۔ جنگِ اُحد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہؓ بھی شامل تھیں۔ کوئی جنگ ایسی نہیں جس میں صحابیات پیچھے رہی ہوں۔“ (فریضۂ تبلیغ، انوارالعلوم جلد18صفحہ 400-403) - [”میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں“ (مسیحِ موعودؑ)](https://mushahedat.com/میری-سرشت-میں-ناکامی-کا-خمیر-نہیں-مس/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ آخر خدا ہمارا ہی حامی ہو گا اور یہ عاجز اگرچہ ایسے دوستوں کے وجود سے خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہے لیکن باوجود اِس کے یہ بھی ایمان ہے کہ اگرچہ ایک فرد بھی ساتھ نہ رہے اور سب چھوڑ چھاڑ کر اپنا اپنا راہ لیں تب بھی مجھے کچھ خوف نہیں ۔ مَیں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے ۔ اگر مَیں پیسا جاؤں اور کُچلا جاؤں اور ایک ذرّے سے بھی حقیرتر ہو جاؤں اور ہر ایک طرف سے ایذا اور گالی اور لعنت دیکھوں تب بھی مَیں آخر فتح یاب ہوں گا ۔ مجھ کو کوئی نہیں جانتا مگر وہ جو میرے ساتھ ہے مَیں ہرگز ضائع نہیں ہو سکتا ۔ دشمنوں کی کوششیں عبث ہیں اور حاسدوں کے منصوبے لاحاصل ہیں۔ اے نادانو اور اندھو! مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو مَیں ضائع ہو جاؤں گا۔ کس سچے وفادار کو خدا نے ذلّت کے ساتھ ہلاک کر دیا جو مجھے ہلاک کرے گا ۔ یقیناً یاد رکھو اور کان کھول کر سُنوکہ میری رُوح ہلاک ہونے والی نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔ مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ ہیچ ہیں“ (انوارُالاسلام ، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 23) - [ایمان بالغیب کیوں ضروری ہے؟](https://mushahedat.com/ایمان-بالغیب-کیوں-ضروری-ہے؟/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ایمان بالغیب کے یہ معنے ہیں کہ وہ خدا سے اَڑ نہیں باندھتے ۔ بلکہ جو بات پردۂ غیب میں ہو ۔ اس کو قرائنِ مرجّحہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہیں اور دیکھ لیتے ہیں کہ صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں ۔ یہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے کہ آفتاب کی طرح ہر ایک امر اُس پر منکشف ہوجاوے ۔ اگر ایسا ہو تو پھر بتلاؤ کہ اس کے ثواب حاصل کرنے کا کونسا موقعہ ملا ؟ کیا اگر آفتاب کو دیکھ کر کہیں کہ ہم اُس پر ایمان لائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس میں غیب کا پہلو کوئی بھی نہیں ۔ لیکن جب ملائکہ ، خدا اور قیامت وغیرہ پر ایمان لاتے ہیں ثواب ملتا ہے ۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ ان ایمان لانے میں ایک پہلو غیب کا پڑا ہوا ہے۔ ایمان لانے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ اخفاء بھی ہو اور طالبِ حق چند قرائنِ صدق کے لحاظ سے اِن باتوں کو مان لے ۔ “ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 218-219) - [حضرت سیّدہ سعیدۃُ النساء صاحبہؓ اور حضرت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحبؓ](https://mushahedat.com/حضرت-سیّدہ-سعیدۃُ-النساء-صاحبہؓ-اور-حض/) - حضرت سیدہ سعیدۃ النساء صاحبہ کے کہنے پر کہ حضور علیہ السلام کی تقاریر اور درس مرد حضرات تو سنتے ہیں مگر خواتین ان سے محروم رہتی ہیں اس لیے عورتوں کی طرف بھی انتظام ہونا چاہیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواتین کو بھی درس دینا شروع کیا تھا اور بعد میں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل مولوی نور الدین صاحبؓ اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحبؓ نے بھی خواتین کو درس دینا شروع کیا تھا بلکہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ابتداء میں درس دیتے ہوئے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب شاہ صاحب کی صالحہ بیوی ایسی آئی ہیں جس نے اس کارِ خیر کی طرف حضور کو توجہ دلائی اور تقریر کرنے پر آمادہ کیا ۔ تمہیں ان کا نمونہ اختیار کرنا چاہیے ۔ - [حضرت ڈاکٹر سیّد عبدالستار شاہ صاحبؓ](https://mushahedat.com/حضرت-ڈاکٹر-سیّد-عبدالستار-شاہ-صاحبؓ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے اور آپ کے خاندان کے بارے میں فرمایا تھا کہ ’’ہم کو بھی ان پر رشک آتا ہے ، یہ بہشتی کنبہ ہے ۔‘‘ - [محترمہ صاحبزادی امۃ النور صاحبہ المعروف مسزنوشی](https://mushahedat.com/محترمہ-صاحبزادی-امۃ-النور-صاحبہ-المعر/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ میں محترمہ صاحبزادی امۃ النور صاحبہ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا : ’’ خلافت کے ساتھ انہوں نے وفا کا رشتہ نبھایا ہے۔ میں نے تو یہ دیکھا ہے۔ اپنے ساتھ بھی مَیں نے دیکھا کہ کامل اطاعت اور عاجزی کا نمونہ انہوں نے دکھایا ہے۔ اللہ.تعالیٰ اُن سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔‘‘ (آمین) - [محترم ڈاکٹر سیّد تاثیر مُجتبیٰ صاحب](https://mushahedat.com/محترم-ڈاکٹر-سیّد-تاثیر-مُجتبیٰ-صاحب/) - محترم ڈاکٹر سید تاثیر مجتبیٰ صاحب بہت شریف النفس اور کم گو شخصیت کے مالک تھے، بڑی نرمی سے اور شگفتگی سے اور محبت سے اور عجز و انکسار سے بات کرتے تھے۔ دوسروں سے ہمیشہ مسکرا کر حال پوچھا کرتے ۔ آپ کو دنیاوی علم کے ساتھ جماعتی کتب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھنے کا بھی گہرا لگاؤ تھا۔ - [محترم سید مولود احمد صاحب](https://mushahedat.com/محترم-سید-مولود-احمد-صاحب/) - محترم سید مولود احمد صاحب سادہ، سفید پوش، خاموش طبع ،درویش اور فرشتہ صفت انسان تھےاور واقفین.زندگی، خاص طور پر مربیان کرام کا بہت احترام کرتے تھے۔ - [محترمہ سیّدہ امۃ الہادی صاحبہ اور  محترم کرنل پیر ضیاء الدین صاحب](https://mushahedat.com/محترمہ-سیّدہ-امۃ-الہادی-صاحبہ-اور-محت/) - محترمہ سیّدہ امۃ الہادی صاحبہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب رضی اللہ عنہ اور مکرمہ سیدہ امۃ اللطیف صاحبہ کی صاحبزادی اور حضرت اماں جانؓ کی بھتیجی تھیں ۔ مکرم کرنل (ر) پیر ضیاء الدین صاحب حضرت پیر اکبر علی صاحبؓ ( ایم ایل اے لیجیسٹیٹر اسمبلی فیروز پور) کے بیٹے تھے ۔ - [محترم سیّد محمد احمد صاحب](https://mushahedat.com/محترم-سیّد-محمد-احمد-صاحب/) - محترم سیّد محمد احمد صاحب حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحبؓ اور مکرمہ امۃ اللطیف صاحبہ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا آپ کی پھوپھی جان تھیں ۔ آپ حضرت مرز ا بشیر احمد صاحبؓ کے داماد تھے ۔ - [محترمہ  سیّدہ امۃ اللہ بیگم صاحبہ  اور محترم پیر صلاح الدین صاحب](https://mushahedat.com/محترمہ-سیّدہ-امۃ-اللہ-بیگم-صاحبہ-اور/) - محترمہ سیّدہ امۃ اللہ صاحبہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ اور مکرمہ امۃ اللطیف صاحبہ کی بیٹی تھیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے پھوپھا جان اور حضرت اماں جانؓ آپ کی پھوپھی جان تھیں ۔ مکرم پیر صلاح الدین صاحب بی اے حضرت پیر اکبر علی صاحب آف فیروز پور کے بیٹے تھے۔ - [محترم صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاحب](https://mushahedat.com/محترم-صاحبزادہ-مرزا-سعید-احمد-صاحب/) - مرزا سعید احمد صاحب کی وفات پر حضرت مولانا شیر علی صاحب نے اپنے ایک مکتوب میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے کو تحریر فرمایا: ”مرحوم نہایت اعلیٰ درجہ کی خوبیوں سے متصف تھا۔ اپنے خاندان کی خصوصیات اور اپنے آباء و اجداد کے اخلاقِ فاضلہ اس میں خاص طور پر نمایاں تھے۔“ - [حضرت حرمت بی بی صاحبہ المعروف تائی صاحبہ](https://mushahedat.com/حضرت-حرمت-بی-بی-صاحبہ-المعروف-تائی-صاحب/) - حضرت پیرسراج الحق صاحب نعمانیؓ .کابیان ہے کہ 1900ء میں ایک روز صبح کی نمازکے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاکہ آج تھوڑی دیرہوئی عجیب الہام ہواکہ جوسمجھ نہیں آیا۔ پہلے الہام ہوا: ’تائی آئی‘۔ ہمارے تو کوئی تائی ہے نہیں، نہ نزدیک نہ دور، ہاں ہمارے لڑکوں کی تائی ہے جووہ ہماری دشمن ہے۔ پھرالہام ہوا: ’تارآئی‘۔ (تذکرہ) - [کل چلی تھی جو لیکھو پہ تیغ دعا (لیکھرام بارے پیشگوئی میں ”دوسرے شخص“ سے کون مراد ہے)](https://mushahedat.com/کل-چلی-تھی-جو-لیکھو-پہ-تیغ-دعا-لیکھرام-ب/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’مجھے معلوم نہیں کہ وہ اور شخص کون ہے اس فرشتہ خونی نے اُس کا نام تو لیا مگر مجھے یاد نہ رہا۔ کاش! مجھے یاد ہوتا تو اُسے مَیں متنبہ کرتا تا اگر ہو سکتا تو مَیں اُسے وعظ.ونصیحت سے توبہ کی طرف مائل کرتا لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص بھی لیکھرام کا روپ یا یوں کہو کہ اُس کا بروز ہے اور توہین اور گالیاں دینے میں اس کا مثیل ہے‘‘ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ297 حاشیہ) - [کشتی نوح میں درج  نصائح کو روزانہ ایک بار پڑھ لیا کرو ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/کشتی-نوح-میں-درج-نصائح-کو-روزانہ-ایک-با-2/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’کشتی نوح میں مَیں نے اپنی تعلیم لکھ دی ہے اور اس سے ہر ایک شخص کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ203) - [کشتی نوح میں درج  نصائح کو روزانہ ایک بار پڑھ لیا کرو ( تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/کشتی-نوح-میں-درج-نصائح-کو-روزانہ-ایک-با/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَیں نے بارہا اپنی جماعت کو کہا ہے کہ تم نِرے اس بیعت پر ہی بھروسہ نہ کرنا۔اس کی حقیقت تک جب تک نہ پہنچو گے تب تک نجات نہیں۔ قشر پر صبر کرنے والا مغز سے محروم ہوتا ہے اگر مرید خود عامل نہیں تو پیر کی بزرگی اُسے کچھ فائدہ نہیں دیتی۔ جب کوئی طبیب کسی کو نسخہ دیوے اور وہ نسخہ لے کر طاق میں رکھ دیوے تو اُسے ہرگز فائدہ نہ ہوگا کیونکہ فائدہ تو اس پر لکھے ہوئے عمل کا نتیجہ تھا۔ جس سے وہ خود محروم ہے کشتی نوح کو بار بار مطالعہ کرو اور اس کے مطابق اپنے آپ کوبناؤ۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ404) - [درس نمبر25 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان سے متعلقہ بنیادی مسائل کے جوابات ( حضورِ انور ایدہ اللہ کے إرشادات کی روشنی میں)  (قسط نمبر 2)](https://mushahedat.com/درس-نمبر25-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-سے/) - نماز کے دوران قرآن کریم کی تلاوت آغاز سے شروع کرتے وقت بھی طریق یہی ہے کہ نماز میں پڑھی جانے والی سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد سورۃ البقرہ کی تلاوت شروع کی جائے گی، دوبارہ سورۃ۔فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی۔ البتہ فقہاء نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ قرآن کریم ختم کرنے کی صورت میں اگر کوئی شخص نماز میں سورۃ الناس کے بعد دوبارہ قرآن کریم کا کچھ ابتدائی حصہ پڑھنا چاہے تو وہ سورۃ فاتحہ سے آغاز کر سکتا ہے اور اس کے بعد سورۃ البقرہ کا بھی کچھ پڑھ سکتاہے، اس میں کچھ حرج کی بات نہیں لیکن ابتداء میں سورۃ فاتحہ کا تکرار بعض فقہاء کے نزدیک موجب سجدہ سہو ہے۔ - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء حضرت خلیفۃُ المسیح الرابعؒ کے فتاویٰ  بابت روزے](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-حضرت-خلیف/) - عید کے بعد جو نفلی روزے ہیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کئے تھے اور جن لوگوں کو توفیق رکھنے کی ہوان کو رکھنے چاہئیں۔ اس سے ان کی ایک قسم کی وصیت ادا ہوجاتی ہے کیونکہ 30 روزے میں 6 اور ڈال لو تو چھتیس بن گئے اور سال کے 360 دن اور 36 روزے یہ ان کی گویا وصیت ہوگئی تو بدن کی بھی وصیت ہوجاتی ہے۔ اس پہلو سے جو رکھ سکتے ہیں جن کو توفیق ہے وہ رکھیں شوق سے بعضوں کو رمضان میں ہی مشکل ہوتی ہے اور ان کے لئے زائد روزے رکھنا طبیعت کے لحاظ سے یا بیماری کے لحاظ سے آسان نہیں ہوتا۔ اس لئے ان کو اجازت ہے وہ بیشک نہ رکھیں۔ (لجنہ سے ملاقات، الفضل 8؍مئی 2000ء) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان کے روزوں سے متعلقہ چند مسائل](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-کے-ر/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے تاکہ روزہ کی توفیق اِس سے حاصل ہو۔ خداتعالیٰ ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے ۔ خد اتعالیٰ تو قادرِ مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جائے اور یہ خداتعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔ پس میرے نزدیک خوب ہے کہ دعا کرے کہ الٰہی! یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور مَیں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا اِن فوت شدہ روزوں کو ادا کرسکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا تعالیٰ طاقت بخش دے گا۔“ (البدر12دسمبر1902ء صفحہ52) - [درس نمبر24 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان سے متعلقہ بنیادی مسائل کے جوابات ( حضورِ انور ایدہ اللہ کے إرشادات کی روشنی میں) (قسط نمبر1)](https://mushahedat.com/درس-نمبر24-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-سے/) - جو شخص کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان میں روزے نہیں رکھ سکا اسے چاہیے کہ اولین فرصت میں جب اسے سہولت ہو فرض روزے مکمل کرلے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضور ﷺ کی ازواج کا یہ طریق تھا کہ وہ اپنے چھوٹے ہوئے روزے اگلا رمضان آنے سے قبل شعبان میں پورے کر لیا کرتی تھیں۔ (صحیح مسلم کتاب الصیام باب قضاء رمضان فی شعبان) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء ذکرِ الٰہی، اطمینانِ قلب کا مُوجب ہے](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-ذکرِ-الٰہ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ”نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمدِ الٰہی ہے ،استغفار ہے اور درود شریف۔ تمام وظائف ... کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اِس سے ہر ایک قسم کے غم وہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپؐ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ہے اَ لَا بِذِکرِ اللّٰہِ تَطمَئِنُّ القُلُوبُ (الرعد:29)۔ اطمینان، سکینتِ قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اَور کوئی ذریعہ نہیں...میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو ۔ اس سے تمہیں اطمینانِ قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یادِ الٰہی کا ذریعہ ہے اسی لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکرِی۔“ (الحکم 31 مئی 1903ء صفحہ9) - [درس نمبر23 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور رسومات سے اجتناب](https://mushahedat.com/درس-نمبر23-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللّٰهِ وَخَيْرُ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالۃ (مسلم کتاب الجمع) کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریق محمدؐ کا طریق ہے۔بدترین فعل دین میں نئی نئی بدعات کو پیدا کرنا ہے۔ہر بدعت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔ - [تقریر بابت  سیرت حضرت مسیح موعودؑ حضرت مسیح موعودؑ  کا صبر و تحمّل،  ضبطِ نفس اور قوّتِ برداشت](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-سیرت-حضرت-مسیح-موعودؑ-حضرت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ’’اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے بیٹھ کر میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتا رہے، آخر وہی شرمندہ ہو گا۔ اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔‘‘ )سیرت حضرت مسیح موعودؑ از مولانا عبدالکریمؓ سیالکوٹی صفحہ51۔52( - [درس نمبر22 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور اطاعتِ خلافت کا سبق](https://mushahedat.com/درس-نمبر22-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایده الله تعالىٰ فرماتے ہیں: ’’اگر خلیفہ وقت کی باتوں پر کان نہیں دھریں گے تو آہستہ آہستہ نہ صرف اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں سے دور کر رہے ہوں گے بلکہ اپنی نسلوں کو بھی دین سے دور کرتے چلے جائیں گے۔‘‘ (خطبات مسرور جلد 8 صفحہ 191) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان کی اہمیت ، مثالوں سے ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-کی-ا-2/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’رَمَضَ سورج کی تپش کو کہتے ہیں۔ رَمَضَان میں چونکہ انسان اَکلْ و شُرب اور تمام جسمانی لذّتوں پر صبر کرتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رَمضان ہوا۔ اہلِ لُغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینہ میں آیا، اس لئے رمضان کہلایا۔ میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ عرب کے لئے یہ خصوصیت نہیں ہو سکتی۔ روحانی رَمَضَ سے مراد رُوحانی ذوق و شوق اور حرارتِ دینی ہوتی ہے۔ رَمَضَ اس حرارت کو بھی کہتے ہیں، جس سے پتھر گرم ہو جاتے ہیں۔‘‘ )ملفوظات جلد1 صفحہ136 ایڈیشن 1988ء( - [درس نمبر21 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور نمازِ تہجد و نوافل](https://mushahedat.com/درس-نمبر21-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ؓ تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ 1895ء میں مجھے تمام ماہ رمضان قادیان میں گزارنے کا اتفا ق ہوا اور میں نے تمام مہینہ حضرت صاحب کے پیچھے نماز تہجد یعنی تراویح ادا کی۔ آپ کی یہ عادت تھی کہ وتر اوّل شب میں پڑھ لیتے تھے اور نماز تہجد آٹھ رکعت دو دو رکعت کرکے آخر شب میں ادا فرماتے تھے ۔ جس میں آپ ہمیشہ پہلی رکعت میں آیت الکرسی تلاوت فرماتے تھے یعنی اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ سے وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْم تک اوردوسری رکعت میں سورۃ اخلاص کی قرأت فرماتے تھے اور رکوع و سجود میں یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ اکثر پڑھتے تھے۔ اور ایسی آواز سے پڑھتے تھے کہ آپ کی آواز میں سُن سکتا تھا۔ (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 295) - [درس نمبر20 بابت رمضان المبارک 2025ء ارکان اسلام اور رمضان کے روزے](https://mushahedat.com/درس-نمبر20-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-ارکان-اس/) - عَنِ اب۠نِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلّیَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَی۠ہِ وَسَلّمَ بُنِیَ الاِس۠لَامُ عَلَی خَم۠سٍ شَھَادَۃُ اَن۠ لَّا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُو۠لُ اللّٰہِ وَاقَامِ الصَّلَا ۃِ وَاِی۠تَاءِ الزَّکَاۃِ وَ ال۠حَجِّ وَصَو۠مِ رَمَضَانَ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے۔اوّل ۔ اِس بات کی دل اورزبان سے گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی ہستی قابلِ پرستش نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں۔دوم۔ نماز قائم کرنا ۔ سوم ۔ زکوۃ ادا کرنا۔ چہارم۔ بیت اللہ کا حج بجا لانا اور پنجم۔ رمضان کے رکھنا۔ - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان کی اہمیت ، مثالوں سے ( تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-کی-ا/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اِس سلسلہ میں فرماتے ہیں ۔ ”فرمایا ہے کہ آؤ اور میری رضا کی جنتوں میں داخل ہو جاؤ۔ لیکن یاد رکھو کہ اس میں داخل ہونے کے لئے قولی اور عملی سچائی کاراستہ اپنانا ہو گا۔ اگر اس قبلے کی پیروی کرو گے تو جس طرح آج کل ہر گاڑی میں نیوی گیشن (Navigation) لگا ہوتا ہے اور اس نیوی گیشن (Navigation) کے ذریعے سے تم صحیح مقام پر پہنچ جاتے ہو، اس طرح صحیح جگہ پر پہنچو گے ورنہ رمضان کے باوجود بھٹکتے پھرو گے۔ بلکہ دنیاوی نیوی گیشن جو ہیں اس میں تو بعض دفعہ غلطی بھی ہو جاتی ہے، بعض دفعہ صحیح فیڈ (Feed)نہیں ہوتا، نئی سڑکیں بن جاتی ہیں، نظر بھی نہیں آ رہی ہوتیں۔ بعض دفعہ دو راستوں میں سے ایک راستے کی طرف رہنمائی ہوتی ہے، لمبا چکر پڑ جاتا ہے یا چھوٹے رستے کی تلاش میں انسان گلیوں میں گھومتا پھرتا ہے، ٹریفک مل جاتا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی طرف اگر قبلہ درست ہو گا تو سیدھے جنت کے دروازوں کی طرف انسان پہنچتا ہے۔ پس اس رمضان میں ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے قبلے درست کرے۔ اپنی قولی اور عملی سچائیوں کے معیار بلند کرے اور خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں جانے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 27 جولائی2012ء) - [درس نمبر 19بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور اعتکاف](https://mushahedat.com/درس-نمبر-19بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کے بارے میں حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ: ’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی وفات تک یہ معمول رہا کہ آپؐ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔ آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کی ازواج مطہرات بھی اِس سنت کی پیروی کرتی رہیں۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف باب اعتکاف العشر الاواخر) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور فتح مکہ](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-اور-9/) - رمضان کے بابرکت مہینہ میں دو عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں۔پہلی فتح یوم الفرقان غزوہ بدر کے دن اور دوسری عظیم الشان فتح یوم الفرقان فتح مکہ کے دن۔ - [درس نمبر 16بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور’’الغرور‘‘  سے اجتناب](https://mushahedat.com/درس-نمبر-16بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ (الفاطر:6) اے لوگو ! اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔ پس تمہیں دنیا کی زندگی ہرگز کسی دھوکہ میں نہ ڈالے اور اللہ کے بارہ میں تمہیں سخت فریبی (یعنی شیطان) ہرگز فریب نہ دےسکے۔ - [درس نمبر17 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور تجّلی قلب](https://mushahedat.com/درس-نمبر17-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں خصوصیت سے تجلی قلب کے لیے یہ دُعا کیا کرتے تھے ۔ اللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِىْ قَلْبِىْ نُوْرًا وَّفِىْ بَصَرِىْ نُوْرًا وَّفِىْ سَمْعِىْ نُوْرًا وَّعَنْ يَّمِيْنِىْ نُوْرًا وَّعَنْ يَّسَارِيْ نُوْرًا وَّفَوْقِىْ نُوْرًا وَّتَحْتِىْ نُوْرًا وَّ اَمَامِىْ نُوْرًا وَّخَلْفِىْ نُوْرًا وَّ اجْعَلْ لِّیۡ نُوْرًا۔ (بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذا انتبہ بالیل) یعنی اے میرے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر دے اور میری آنکھوں میں نور بخش اور میری سماعت کو نور دےاور میرے دائیں بھی نور ہو اور بائیں بھی نور ہو اور میرے اوپر اور نیچے بھی نور ہو۔میرے مولیٰ! بس تو مجھے سراپا نور ہی بنا دے۔ - [درس نمبر18 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان ۔ تصّوف اور ولایت کی جان](https://mushahedat.com/درس-نمبر18-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-۔-ت/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَنۡ قَامَ رَمَضَانَ اِیۡمَانًا وَّ اِحۡتِسَابًا غُفِرلَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡبِہٖ (بخاری کتاب الایمان) کہ جو رمضان کی نیکیوں اور عبادات کے لئے ایمان کی حالت میں اور اپنا احتساب کرتے ہوئے کھڑا ہوگا تو اُس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔ - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء اسلام میں عورت کا مقام](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-اسلام-میں/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص کے گھر بیٹی پیدا ہو اوروہ اُسے زندہ درگور کرے نہ اسے ذلیل کرے اور نہ بیٹے کو اِس پر ترجیح دے ۔اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل کرے گا۔“ (مسنداحمد جلد1صفحہ223) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِاَبِیْہِ](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-اَلْوَلَ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”انسان کے نطفہ میں عادات، اخلاق،کمالات کا اثر ہوتا ہے۔ والدین کے ایک ایک برس کے خیالات کا اثر اُن کی اولاد پر ہوتا ہے۔ جتنی بداخلاقیاں بچوں میں ہوتی ہیں وہ والدین کے اخلاق کا عکس اور اثر ہوتا ہے۔ کبھی ہم نشینوں اور ملنے والوں کے خیالات کا اثر بھی والدین کے واسطے پڑتا ہے۔ پس خود نیک بنو، اخلاق فاضلہ حاصل کرو تا تمہاری اولاد نیک ہو۔ اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِاَبِیْہِ میں یہی تمہید ہے۔ اولاد والدین کے اخلاق ، اعمال، عقائد کا آئینہ ہوتی ہے۔“ (الحکم 17 اکتوبر 1903ء صفحہ 3) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور غزوہِ بدر (جنگِ بدر کا قصہ مت بھولو۔ الہام مسیح موعودؑ)](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-اور-8/) - حضرت قاضی عبدالرحیمؓ نے 17فروری 1904ء کی ڈائری میں لکھا کہ ’’آج رات حضرتؑ (حضرت مسیح موعودؑ) نے خواب بیان فرمایا۔ کسی نے کہا کہ جنگ بدر کا قصہ مت بھولو۔‘‘ (اصحاب احمد جلد ششم صفحہ133) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان  میں  رحمت ، مغفرت و بخشش کی مناسبت سے چند دعائیں](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-می/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دعا ’’اے میرے محسن اورمیرے خدا!میں ایک تیرا ناکارہ بندہ پُرمعصیت اورپُر غفلت ہوں۔تو نے مجھ سے ظلم پرظلم دیکھا اورانعام پر انعام کیااورگناہ پر گناہ دیکھا اوراحسان پر احسان کیا ۔تونے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اوراپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا۔سو اب بھی مجھ نالائق اورپُرگناہ پر رحم کر اورمیری بےباکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کومیرے اِس گناہ سے نجات بخش کہ بغیر تیرے کوئی چارہ گر نہیں ۔آمین ثم آمین‘‘ (مکتوبات احمدیہ جلد 5نمبر 2 صفحہ 3) - [درس نمبر15 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان میں روزانہ ایک پارہ  کی تلاوت ضرور کریں](https://mushahedat.com/درس-نمبر15-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-می/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”مَیں نے قرآن کے لفظ میں غور کی تب مجھ پر کُھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیشگوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اَور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے لائق کتاب ہو گی۔ جبکہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔ اُس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔ فرقان کے بھی یہی معنی ہیں۔ یعنی یہی ایک کتاب حق وباطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔ اس لئے اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔ بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآنِ کریم کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جُھکا رہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآنِ کریم کے شغل اور تدبّر میں جان ودل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔ بڑے تأسّف کا مقام ہے کہ قرآنِ کریم کا وہ اعتناء اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔ اِس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔ اِس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔‘‘ (ملفوظات جلد 1صفحہ386۔ ایڈیشن 2003ء) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور خدمت و اطاعت والدین](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-اور-7/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”خدا نے فرمایا ہے ،تم پر ماں باپ نے رحم کیا تھا ، تم پر احسان کیا تھا۔تم بھی اس رحم کے مقابل پر احسان کا سلوک کرو۔عدل کا نہیں فرمایا …مطلب یہ ہے کہ تم نے جب ماں باپ کے معاملے میں کوئی زیادتی دیکھنی ہے تو عدل کے جھگڑے میں نہ پڑ جانا۔یہ سوچنا کہ اللہ نے تمہیں احسان کی تعلیم دی ہے…احسان کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے اگر کوئی زیادتی بھی کر دی ہے تو تم وسیع حوصلگی دکھاؤ ،اس سے چشم پوشی کرو۔“ (خطباتِ طاہر جلد 14 صفحہ 733) - [درس نمبر 14بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان المبارک کے مسائل](https://mushahedat.com/درس-نمبر-14بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-ال/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ اصل بات یہ ہے کہ قرآنِ شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے۔ خداتعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت(روزے) رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اِس لئے اِس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہئے۔ مَیں نے پڑھا ہے کہ اکثر اکابر اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے۔ کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، نہ اپنی مرضی اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے۔ جو حکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔اُس نے تو یہی حکم دیا ہے کہ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ(سورۃ البقرہ :185)۔ اس میں کوئی قیداور نہیں لگائی کہ ایسا سفرہو یا ایسی بیماری ہو‘‘۔ فرمایا کہ:’’مَیں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں۔ چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور مَیں نے روزہ نہیں رکھا۔‘‘ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 68-67۔ الحکم 31جنوری 1907ء) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء کَتَبَ اللّٰہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِیْ](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-کَتَبَ-ال/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”یہ خدا تعالیٰ کی سُنَّت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سُنَّت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غَلَبَہ دیتا ہے...اور غَلَبَہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ مَنْشَاء ہوتا ہے کہ خدا کی حُجَّت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خداتعالیٰ قَوِی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے۔“ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ304) - [درس نمبر 13بابت رمضان المبارک 2025ء روزہ اور عورتوں کے متعلق مسائل](https://mushahedat.com/درس-نمبر-13بابت-رمضان-المبارک-2025ء-روزہ-اور/) - ” قرآن میں صرف بیمار اور مسافر کے لئے روزہ نہ رکھنے کی وضاحت ہے۔ دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ کے لئے کوئی ایسا حُکم نہیں مگر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیمار کی حدّ میں رکھا ہے“ ( فقہ احمدیہ صفحہ 291) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور کسوف و خسوف کا نشان](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-اور-6/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ إِنَّ لِمَهْدِيّنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ تَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى النِّصْفِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ (سنن الدّار قطنی کتاب العیدین باب صفۃ صلوۃ الخسوف والکسوف وھیئتُہا) کہ ہمارے مہدی کے لیے دو نشان مقرر ہیں اور جب سے زمین و آسمان پیداہوئے ہیں یہ نشان کسی اور مامور کے لیے ظاہر نہیں ہوئے۔ وہ یہ ہیں کہ رمضان کے مہینے میں چاند (اپنے گرہن کی مقررہ راتوں میں سے) پہلی رات کو گہنایا جائے گا اور سورج کو (اس کے گرہن کے مقررہ دنوں میں سے) درمیانے دن کو گرہن ہوگا اور یہ ایسے نشان ہیں کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا یہ نشان کبھی کسی مامور کےلیے ظاہر نہیں ہوئے۔ - [درس نمبر 12بابت رمضان المبارک 2025ء روزہ اور  مریض اور مسافر](https://mushahedat.com/درس-نمبر-12بابت-رمضان-المبارک-2025ء-روزہ-اور/) - اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَo اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ وَ عَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدۡیَۃٌ طَعَامُ مِسۡکِیۡنٍ ؕ فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ ؕ وَ اَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَo ( البقرہ:185-184) اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے اُسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ گنتی کے چند دن ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو تو اُسے چاہئے کہ وہ اتنی مدت کے روزے دوسرے ایام میں پورے کرے اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ پس جو کوئی بھی نفلی نیکی کرے تو یہ اس کے لئے بہت اچھا ہے اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور مَن    کا مَنکا صاف کر](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-اور-5/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’جیسے بیت اللہ میں حجرِ اسود پڑا ہوا ہے اسی طرح قلب، سینہ میں پڑا ہوا ہے... قلبِ انسانی بھی حجرِاسود کی طرح ہے اور اس کا سینہ، بیت اللہ سے مشابہت رکھتا ہے۔‘‘ )ملفوظات جلد اول صفحہ172۔173( - [درس نمبر11 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور محفوظ قلعے میں داخل کرنے والی دعائیں](https://mushahedat.com/درس-نمبر11-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’مَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کو زیادہ یاد کرو اور ذکر کی مثال ایسی سمجھو کہ جیسے کسی آدمی کا اس کے دشمن نہایت تیزی کے ساتھ پیچھا کر رہے ہوں یہاں تک کہ اس آدمی نے بھاگ کر ایک مضبوط قلعے میں پناہ لی اور دشمنوں کے ہاتھ لگنے سے بچ گیا۔ اِسی طرح انسان شیطان سے نجات پا سکتا ہے ورنہ کوئی ذریعہ نہیں۔‘‘ (شعب الایمان جزء دوم صفحہ 73 حدیث 534) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان میں ہونے والی  دو بابرکت شادیاں](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-میں-2/) - نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے کامل ترین انسان، اعلیٰ حکمران، بہترین سپہ سالار، قاضی، تاجر اور ساتھ ہی ساتھ کامل شوہر بھی تھے، بحیثیت شوہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پہ نظر دوڑائیں تو عمدہ آبگینوں سے مزیّن ہے جو کہ موجودہ زمانے میں تمام خاوندوں کے لئے قابل نمونہ اور لاثانی طرزِ عمل ہے۔ آپؐ کی جن دو ازواجِ.مطہرات کا ذکر کرنا آج مجھے مقصود ہے جن کی شادیاں رمضانُ المبارک میں ہوئیں۔ وہ دونوں ازواج یعنی حضرت سودہ بنتِ زمعہؓ اور حضرت زینب بنتِ خزیمہؓ اُن خصوصیات کی حامل تھیں جن کا تعلق بالخصوص رمضان کی برکات اور فضائل سےہے ۔ - [درس نمبر 10بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان ، دعاؤں کا مہینہ](https://mushahedat.com/درس-نمبر-10بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-،-د/) - حدیث میں آتا ہے کہ رمضان کی ہر رات اللہ تعالیٰ منادی کرنے والے ایک فرشتہ کو عرش سے فرش پر بھیجتا ہے۔جو یہ اعلان کرتا ہے یا بَاغِیُ الْخَیْرِ ھَلُمَّ ھَلْ مِنْ دَاعٍ یُسْتَجَابُ لہٗ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ یُسْتَغْفَرُ لَہٗ ھَلْ مِنْ تَائبٍ یُتَابُ عَلَیْہِ ھَلْ مِنْ سائلٍ یُعْطَیٰ سؤلہٗ (کنزالعمال) کہ اے خیر کے طالب! آگے بڑھو۔ کیا کوئی ہے جو دُعا کرے تا کہ اُس کی دعا قبول کی جائے؟کیا کوئی ہے جو استغفار کرے کہ اُسے بخش دیا جائے کیا؟ کوئی ہے جو توبہ کرے تا کہ اس کی توبہ قبول کی جائے؟ کیا کوئی ہے جو سوال کرے۔ جس کو پورا کیا جائے گا؟ - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور سریّہ عبداللہ بن عتیک](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-اور-4/) - سریہ عبداللہ بن عتیک، ابورافع کی طرف بھجوایا گیا تھا۔ ابن سعد نے بیان کیا ہے کہ یہ سریّہ رمضان 6 ہجری میں ہوا۔ - [درس نمبر 9بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان کا پیغام](https://mushahedat.com/درس-نمبر-9بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-کا/) - عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبیِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ انَّمَا سُمِّیَ الرَّ مَضَانُ لِاَ نَّہٗ یَرْ مَضُ الذُّ نُوْبَ ۔ (کنز العمال کتاب الصوم ) ترجمہ: حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اِس مبارک مہینے کا نام “رمضان” اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ گناہوں کو جلا کر بھسم کر دیتا ہے ۔ - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-اور-3/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”یاد رکھو! قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اُسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے جاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مکر کرنا مؤمن کا کام نہیں ہے۔ جب موت کا وقت آگیا پھر ساعت آگے پیچھے نہ ہوگی۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ124) - [درس نمبر 8بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کی دوڑ](https://mushahedat.com/درس-نمبر-8بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جو تم صدقہ کرو۔ یقینًا ہر تسبیح صدقہ ہے۔ ہر تکبیر صدقہ ہے۔ہر تحمید صدقہ ہے اورہر تہلیل( لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا)صدقہ ہے اور نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور بدی سے روکنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے۔ (مسلم کتاب الزکوۃ) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء اللہ ہمارا بہترین دوست ہے](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-اللہ-ہمار/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”مَیں تمہیں بڑے زور سے بتلاتا ہوں کہ دنیا میں لوگ خداتعالیٰ سے غافل ہوگئے ہیں۔ حالانکہ اُس سے بڑھ کر خوبصورت، اُس سے بڑھ کر محبت کرنے والا، اُس سے بڑھ کر پیارا اور کوئی نہیں ہے۔“ (برکات خلافت، انوار العلوم جلد 2صفحہ 238) - [درس نمبر7 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان کے فضائل](https://mushahedat.com/درس-نمبر7-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-کے/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’رمضان کے مہینے میں ایک خاص ماحول بنا ہوتا ہے اور دوسروں کی دیکھا دیکھی بھی عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے، اپنے اعمال کی طرف توجہ کرتے ہوئے، ہمیں اپنے خدا کے آگے جھکتے ہوئے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے اور پھر اس رمضان کی عبادتوں کو اور اس میں تبدیلیوں کو آئندہ زندگی کا مستقل حصہ بنا لینا چاہئے اور اس میں جو گناہ معاف ہوئے یا جنت کے دروازے کھولے گئے تو پھر ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے کہ یہ کھلے رہیں اور رمضان کے فیوض سے حصہ لینے کے لئے نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ کرے کہ ہم اس کے فیض پاتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے روزوں کا جو مقصد رکھا ہے کہ تقویٰ حاصل ہو اس کے بھی معیار حاصل کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 2جون 2017ء ) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور روحانی موسمِ بہار](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-اور-2/) - حضرت ابو مسعود غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے رمضان شروع ہونے کے بعد ایک روز آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر لوگوں کو رمضان کی فضیلت کا علم ہوتا تو میری اُمّت اس بات کی خواہش کرتی کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔اس پر بنوخزاعہ کے ایک آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے نبیؐ! ہمیں رمضان کے فضائل سے آگاہ کریں۔ چنانچہ آپؐ نے فرمایا یقیناً جنت کو رمضان کے لئے سال کے آغاز سے آخر تک مزیّن کیا جاتا ہے۔ پس جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش الٰہی کے نیچے ہوائیں چلتی ہیں۔ (الترغیب والترھیب کتاب الصوم الترغیب فی صیام رمضان احتساباً … حدیث 1498) - [درس نمبر 6بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور خشوع و خضوع پیشہ ہے رونا ہمارا پیش رب ذوالمنن](https://mushahedat.com/درس-نمبر-6بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی آگ ان دوآنکھوں پر حرام ہے۔ اول وہ آنکھ جو خوفِ خدا میں آنسو بہاتی ہے اور دوم۔ وہ آنکھ جو راتوں کو جاگ کر اللہ تعالیٰ کے راستے میں پہرہ دیتی ہے ۔ (المستدرک کتاب الجہاد) - [تقریر بابت  اخلاقیات آدابِ گفتگو](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-اخلاقیات-آدابِ-گفتگو/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر صبح انسان کے تمام اعضاء اُس کی زبان کی گوشمالی کرتے ہیں کہ دیکھ! ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر۔ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے ہیں اوراگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوں گے ۔ (ریاض الصالحین باب تحریم انعیبۃ والامر بحفظ اللسان) - [درس نمبر 5بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور روحانی ہجرت](https://mushahedat.com/درس-نمبر-5بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ کون سی ہجرت افضل ہے تو آپؐ نے فرمایا مَنْ ہَجَرَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ (سنن ابوداؤد جلد اول کتاب الصلوٰۃ) کہ جن باتوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ان کو چھوڑ دینا۔ - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء قرآنِ کریم”  ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْن “](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-قرآنِ-کری/) - اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔ ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ (البقرہ:3) یہ (کامل) کتاب ہے ، نہیں کوئی شک جس میں، ہدایت ہے متقیوں کے لیے۔ - [درس نمبر4 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان بطور ایک مہمان](https://mushahedat.com/درس-نمبر4-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-بط/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ’’ماہ رمضان کے استقبال کے لئے یقیناًسارا سال جنت سجائی جاتی ہے اور جب رمضان آتا ہے تو جنت کہتی ہے کہ یا اللہ! اِس مہینے میں اپنے بندوں کو میرے لئے خاص.کردے۔ ‘‘ (بیہقی شعب الایمان) - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور اصلاح و تطہیرِ نفس](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-اور/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں کہ: ’’پس مبارک وہ جو خدا کے لئے اپنے نفس سے جنگ کرتے ہیں اور بد بخت وہ جو اپنے نفس کے لئے خدا سے جنگ کر رہے ہیں اور اس سے موافقت نہیں کرتے جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہر گز داخل نہیں ہو گا۔‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ25( - [درس نمبر3 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور ہمارا مقصدِ پیدائش](https://mushahedat.com/درس-نمبر3-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے : وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ( الذّٰاریات:57) کہ مَیں نے جنّ و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔ - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان میں روحانی پیدائش اور روحانی اولاد](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-میں/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’اس میں ایک عجیب سِرّ یہ ہے کہ یہ مہینہ آغاز سن ہجری سے نواں مہینہ ہے یعنی 1۔محرم 2۔ صفر 3۔ ربیع الاول 4۔ ربیع الثانی 5۔جمادی الاول 6۔ جمادی الثانی 7۔رجب 8۔ شعبان 9۔ رمضان اور یہ ظاہر ہے کہ انسان کی تکمیل جسمانی شِکمِ مادر میں نو ماہ میں ہی ہوتی ہے اور عدد نو کا ، فی نفسہٖ بھی ایک ایسا کامل عدد ہے کہ باقی اعداد اس کے احاد سے مرکب ہوتے چلے جاتے ہیں، لاغیر۔ اِس میں اشارہ اس امر کی طرف ہوا کہ انسان کی روحانی تکمیل بھی اِسی نویں مہینے رمضان ہی میں ہونی چاہئے اور وہ بھی اس تدریج کے ساتھ کہ آغاز شہود ہجری سے ہر ایک ماہ میں ایامِ بِیض وغیرہ( وہ روزے جو ہر قمری مہینے کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو رکھے جائیں کیونکہ بِیض، سفیدی کو کہتے ہیں جب چاند اپنی پورے جوبن پر ہو کر سفیدی اور چمک بکھیر رہا ہوتا ہے۔ ناقل) کے روزے رکھنے سے بتدریج تصفیۂ قلب حاصل ہوتارہا‘‘ (خطبات نور صفحہ231) - [درس نمبر2 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان کے بارے میں قرآنی احکام](https://mushahedat.com/درس-نمبر2-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-کے/) - اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ (البقرہ:184) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے اسی طرح فرض کردئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ - [30دروس بابت رمضان المبارک2025ء(حصہ دوم)](https://mushahedat.com/30دروس-بابت-رمضان-المبارک2025ءحصہ-دوم/) - حرفِ اول ہر مسلمان کو رمضان سے بہت پیار رہتا ہے۔ جوں جوں یہ رمضان قریب آتا ہے اِس پیار میں اضافہ ہوتاجاتا ہے اور وہ اِس سے لطف اندوز ہونے کے لئے اُن تمام ذرائع اور طریقوں کو اپناتا ہے جو قرآن.واحادیث، فقہ اور آج کے دور میں فقہُ المسیح ، فقہ احمدیہ اور - [30دروس بابت رمضان المبارک2024ء(حصہ اول)](https://mushahedat.com/30دروس-بابت-رمضان-المبارک2024ءحصہ-اول/) - ان دروس کی تیاری میں قرآنی آیات اور حدیثِ نبویؐ کو بنیاد بنایا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ ہر درس میں عنوان کی مناسبت سے حضرت مسیح موعودؑ اور وقت کی آواز حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ضرور شامل کیا جائے۔ باقی خلفائے کرام کے ارشادات بھی گاہے بگاہے ضرورت کی مناسبت سے شامل ہیں۔گو کتاب کا عنوان 30 دروس ہے لیکن کتاب میں 32 دروس شامل ہیں۔ - [تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء صبر بھی ایک عبادت ہے ( صبر اور عبادت ، رمضان کی دو خوبصورتیاں ہیں)](https://mushahedat.com/تقریر-بابت-رمضان-المبارک-2025ء-صبر-بھی-ای/) - اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں صبر کے متعلق فرماتا ہے۔ یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡہَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَاصۡبِرۡ عَلٰی مَاۤ اَصَابَکَ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ( لقمان :18) اے میرے پیارے بیٹے! نماز کو قائم کر اور اچھی باتوں کا حکم دے اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کر اور اُس (مصیبت) پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔ یقیناً یہ بہت اہم باتوں میں سےہے۔ - [درس نمبر 1بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور رؤیتِ ہلال](https://mushahedat.com/درس-نمبر-1بابت-رمضان-المبارک-2025ء-رمضان-او/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ لَیْلَۃً، فَلَا تَصُوْمُوْا حَتَّی تَرَوْہُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلَاثِیْنَ (بخاری کتاب الصوم ) یعنی مہینہ انتیس راتوں کا ہوتا ہے، جب تک چاند نہ دیکھو، روزے نہ رکھو اور اگر بادل ہوں اور تم پر (چاندکی رؤیت)مشتبہ ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو۔ - [نماز دعا ہی کا نام ہے](https://mushahedat.com/نماز-دعا-ہی-کا-نام-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” نماز، دعا ہی کا نام ہے ۔اس لیے اس میں دعا کرو کہ وہ تم کو دنیا اور آخرت کی آفتوں سے بچاوے اور خاتمہ بالخیر ہو۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 435 ) - [دنیا میں رہنے کے لئے رُوح و صحت افزاء مقام ”اپنی اَوقات“](https://mushahedat.com/دنیا-میں-رہنے-کے-لئے-رُوح-و-صحت-افزاء-مق/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان جتنی زیادہ کوئی تواضع اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُتنا ہی اُسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔ (مسلم کتاب البرّ والصلۃ) - [30تقاریربابت رمضان المبارک 2025ء (جلداول)](https://mushahedat.com/30تقاریربابت-رمضان-المبارک-2025ء-جلداول/) - طلوع ِہلال رمضان کے معانی تپش اور گرمائش کے ہیں ۔ایک روزے دار کو یہ گرمائش مادی اور روحانی دونوں طریق پر حاصل ہورہی ہوتی ہے۔ مادی اس لحاظ سے کہ بھوکا رہنے سے روزے دار کے اندر گرمی پیدا ہوتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ گرمی کے روزوں میں روزے دار کو اپنے - [تعلق باللہ کی اہمیت اور برکات](https://mushahedat.com/تعلق-باللہ-کی-اہمیت-اور-برکات/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقیناً سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔ تم سوئے ہوئے ہو گے اور خدا تعالیٰ تمہارے لئے جاگے گا،تم دشمن سے غافل ہوگے اورخدا اُسے دیکھے گا اوراُس کے منصوبے کو توڑے گا۔تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19صفحہ22) - [رمضان کی تیاری اسوہ رسولؐ کی روشنی میں](https://mushahedat.com/رمضان-کی-تیاری-اسوہ-رسولؐ-کی-روشنی-میں/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ میں رمضان کی اہمیت و برکات کاذکر فرمایا: ” یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ابتداء نزول رحمت ہے اور جس کا وسط مغفرت کا وقت ہے اورجس کا آخر کامل اجر پانے یعنی آگ سے آزادی کا زمانہ ہے اور جو شخص اس مہینے میں اپنے مزدور یا خادم سے اس کے کام کا بوجھ ہلکا کرتا ہے اور کم خدمت لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی بخش دے گا اور اسے آگ سے آزاد کردے گا‘‘ (مشکوٰۃ کتاب الصوم۔ الفصل الثالث) - [چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کا ادب](https://mushahedat.com/چھوٹوں-پر-رحم-اور-بڑوں-کا-ادب/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَیسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرحَمْ صَغِیرَنَا وَ یَعرِفْ حَقَّ کَبِیرِنَا (الادب المفرد للبخاری باب رحمۃ الصغیر) کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو چھوٹوں سے رحم کا سلوک نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حقوق کا پاس نہیں کرتا۔ - [محترمہ صاحبزادی  امۃ الباری صاحبہ اور محترم نواب عباس احمدخان صاحب](https://mushahedat.com/محترمہ-صاحبزادی-امۃ-الباری-صاحبہ-اور/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے محترمہ صاحبزادی امۃ الباری صاحبہ کی وفات پر فرمایا : ’’ خلافت سے تعلق انتہا کا تھا اور بڑا عزت اور احترام کا تعلق تھا۔ ہمیشہ مجھے فون کرتی تھیں۔ اس بات کی بڑی خواہش ظاہر کیا کرتی تھیں کہ بات ہوجائے۔ پھر ہمیشہ ان کو یہ فکر تھی کہ میری اولاد کو بھی اللہ تعالیٰ نیکیوں کی توفیق دے اور آپس میں ایک ہو کے رہیں۔ اللہ کرے کہ ان کی اولاد ہمیشہ ان کی نیکیوں کو بھی جاری رکھنے والی ہو اور آپس میں بھی مل جل کر رہنے والی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔‘‘(آمین) ( خطبہ جمعہ فرمودہ 4ستمبر2015ء) - [محترم نواب مصطفیٰ احمد خان صاحب  اور  زوجہ   محترمہ صاحبزادی امۃ المجیب صاحبہ](https://mushahedat.com/محترم-نواب-مصطفیٰ-احمد-خان-صاحب-اور/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے نواب مصطفیٰ احمد خان صاحب کی وفات پر فرمایا : ”رشتے نبھانے والے تھے... بچوں سے بھی بہت پیار کا رشتہ تھا۔ ہر رشتہ بہت اچھی طرح نبھایا…غریب پرور بھی تھے۔ بہترین بیٹے تھے جنہوں نے سب سے بڑھ کر اپنی ماں کی خدمت کی۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کے باوجود سب سے بڑا بن کے دکھایا... بہت اچھے خاوند، بہت اچھے بیٹے، بہت اچھے باپ اور بھائی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 12؍ اپریل2024ء) - [محترم صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب اور  زوجہ محترمہ صاحبزادی  سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ](https://mushahedat.com/محترم-صاحبزادہ-مرزا-ظفر-احمد-صاحب-اور/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یتامیٰ کی پرورش کے ضمن میں صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب کی عمدہ مثال کو پیش کرتے ہوئے فرمایا: ”اس بارہ میں نہایت اعلیٰ نمونہ عزیزم مرزا ظفر احمد نے دکھایا ہے جو میرے بھتیجے ہیں۔بنگال کے وہ فاقہ زدہ لوگ جو لاکھوں کی تعداد میں وہاں ہلاک ہوئے ہیں ان میں سے ایک کی یتیم بچی لے کر انہوں نے اس کی پرورش شروع کی ہے اور اس عمدگی اور خوبی کے ساتھ وہ اس کی پرورش کررہے ہیں کہ اس میں اور ان کی اپنی لڑکی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا… دونوں کے بالکل ایک جیسے کپڑے ہوتے ہیں، ایک جیسا دونوں کو کھانا کھلاتے ہیں، ایک جیسی دونوں کو تعلیم دلاتے ہیں اور ایک جیسی دونوں کی نگرانی رکھتے ہیں… ان کی لڑکی اس لڑکی کو باجی کہتی اور اس کا احترام کرتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے یتیم کا پالنا کہتے ہیں۔“ (تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 568ایڈیشن 2004ء) - [اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے](https://mushahedat.com/اسلام-ایک-مکمل-ضابطہ-حیات-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہاں یہ مبارک مذہب جس کا نام اسلام ہے وہی ایک مذہب ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور وہی ایک مذہب ہے جو انسانی فطرت کے پاک تقاضوں کو پُورا کرنے والاہے۔“ ( حقیقۃالوحی ، روحانی خزائن جلد22 صفحہ64) - [محترم صاحبزادہ مرزا ادریس احمد صاحب](https://mushahedat.com/محترم-صاحبزادہ-مرزا-ادریس-احمد-صاحب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ مرزا ادریس احمد صاحب کی وفات پر فرمایا : ’’ بے نفس اور بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے۔‘‘ (آمین) ( خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اپریل2005ء) - [محترم صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب اور زوجہ محترمہ   طاہرہ صدیقہ  بیگم صاحبہ](https://mushahedat.com/محترم-صاحبزادہ-مرزا-منیر-احمد-صاحب-اور/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب کی وفات پر فرمایا: ”صاحبزادہ مرزا منیر احمد جن کو ہم بے تکلفی سے بھائی منیر کہا کرتے تھے بہت سادہ اور نڈر انسان تھے… حضرت عموں صاحبؓ کے بچوں میں ان کا مزاج حضرت عموں صاحبؓ سے بہت ملتا تھا۔ آخری بیماری بڑے حوصلے اور صبر سے کاٹی۔ اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے آمین“ - [محترم صاحبزادہ کرنل مرزا داؤد احمد صاحب اور زوجہ محترمہ صاحبزادی ذکیہ بیگم صاحبہ](https://mushahedat.com/محترم-صاحبزادہ-کرنل-مرزا-داؤد-احمد-صاح/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے صاحبزادہ مرزا داؤد احمد صاحب کی وفات پر اپنے مکتوب میں تحریر فرمایا : ’’ بھائی داؤد بڑے بہادر انسان تھے ۔ بہت خوبیوں کے مالک ،امامت اور جماعت کے لیے غیرت میں تو ایک ننگی تلوار تھے ۔ نہ اپنے کی پرواہ کی نہ پھر کسی اور کی اور یہ رنگ حضرت چچا جان کی ساری اولاد میں ہے ۔ آپ نے جس طرح صبر و رضا کے ساتھ جس رفاقت کا حق ادا کیا ہے ایسی مثال کم دکھائی دیتی ہے ۔ یہ تاثر صرف میرا ہی نہیں بلکہ سب دیکھنے والوں کا ہے ۔ ‘‘ ( روز نامہ الفضل مورخہ12جنوری1994ء ) - [ہستی باری تعالیٰ از روئے قرآنِ پاک (تقریرنمبر 1)](https://mushahedat.com/ہستی-باری-تعالیٰ-از-روئے-قرآنِ-پاک-تقری/) - اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے ۔ جسے تمام مذاہب والے بطور ہستئ باری تعالیٰ کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔ وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ (البقرہ:187) کہ جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبّیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ - [قرآن کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/قرآن-کے-گرد-گھوموں-کعبہ-میرا-یہی-ہے-تقر-2/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ’’سب سے سیدھی راہ اور بڑا ذریعہ جو انوار یقین اور تواتر سے بھرا ہوا اور ہماری روحانی بھلائی اور ترقی کے لئے کامل رہنما ہے قرآن کریم ہے جو تمام دنیا کے دینی نزاعوں کے فیصلہ کرنے کا متکفل ہو کر آیا ہے جس کی آیت آیت اور لفظ لفظ ہزارہا طور کا تواتر اپنے ساتھ رکھتی ہے اور جس میں بہت سا آبِ حیات ہماری زندگی کے لیے بھرا ہوا ہے اور بہت سے نادر اور بیش قیمت جواہر اپنے اندر مخفی رکھتا ہے جو ہر روز ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ یہی ایک روشن چراغ ہے جو عین سچائی کی راہیں دکھاتا ہے۔ بلاشبہ جن لوگوں کو راہ راست سے مناسبت ہے اور ایک قسم کا رشتہ ہے ان کا دل قرآنِ شریف کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے اور خدائے کریم نے اُن کے دل ہی اِس طرح کے بنا رکھے ہیں کہ وہ عاشق کی طرح اپنے اس محبوب کی طرف جھکتے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ،روحانی خزائن جلد 3صفحہ381) - [قرآن کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے ( تقریر نمبر1)](https://mushahedat.com/قرآن-کے-گرد-گھوموں-کعبہ-میرا-یہی-ہے-تقر/) - ( تقریر نمبر1) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ سو تم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے 700 سَو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظلّ تھے سو تم قرآن کو تدبُّر سے پڑھو اور اُس سے بہت ہی پیار کرو ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو ۔ ‘‘ ( کشتی نوح ،روحانی خزائن جلد19صفحہ 26) - [محترم چوہدری ناصر محمد سیال صاحب](https://mushahedat.com/محترم-چوہدری-ناصر-محمد-سیال-صاحب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے چوہدری ناصر محمد سیال صاحب کی وفات پر ایک خط میں تحریر فرمایا: ”مرحوم ان گنت خوبیوں کے مالک تھے، اپنی میٹھی طبیعت اور نیک مزاج کی وجہ سے ہر دلعزیز تھے اور دعاگو شخصیت کے مالک تھے اور فرشتہ سیرت انسان تھے۔“ - [محترمہ صاحبزادی امۃ الشکور صاحبہ](https://mushahedat.com/محترمہ-صاحبزادی-امۃ-الشکور-صاحبہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادی امۃ الشکور صاحبہ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا : ’’ ان کی بیماری کافی تکلیف دہ تھی۔ آخرمیں پتا لگا کہ کینسر ہے لیکن بڑے حوصلے اور صبر سے انہوں نے برداشت کیا۔ یہ حضرت خلیفہ ثالثؒ بھی ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے ہر تکلیف بڑی صبر سے برداشت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے بچوں اور ان کی اگلی نسل کو بھی خلافت اور جماعت سے ہمیشہ وفا کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کی توفیق عطافرمائے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 6 ستمبر2019ء) - [محترم صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب اور زوجہ محترمہ سیدہ تنویر الاسلام صاحبہ](https://mushahedat.com/محترم-صاحبزادہ-مرزا-حفیظ-احمد-صاحب-اور/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب کی وفات پر فرمایا : ’’ بڑے نرمی سے بات کرنے والے، غریبوں سے حسن سلوک کرنے والے تھے… خلافت سے بھی ان کا بڑا تعلق تھا۔ مجھے باقاعدگی سے خط بھی لکھا کرتے تھے اور بڑے اخلاص و وفا کا تعلق انہوں نے ہمیشہ ظاہر کیا… اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 20جولائی2012ء) - [مشاہدات کی طرف سے نیا سال مبارک ہو!](https://mushahedat.com/مشاہدات-کی-طرف-سے-نیا-سال-مبارک-ہو/) - [محترم صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب](https://mushahedat.com/محترم-صاحبزادہ-مرزا-حمید-احمد-صاحب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی لندن ہجرت کے وقت صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ حضورؒ اور بیگم صاحبہؒ ربوہ میں آخری رات آپ کے گھر ٹھہرے نیز ان کا قیام آپ کے بیڈ روم میں ہی تھا۔ - [محترم صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب اور زوجہ  محترمہ  سیّدہ فریدہ بیگم صاحبہ](https://mushahedat.com/محترم-صاحبزادہ-مرزا-رفیق-احمد-صاحب-اور/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ مرزا رفیق احمدصاحب کی وفات پر فرمایا : ’’یہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے... اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ اللہ کے فضل سے ان سب کا خلافت سے بڑا وفا کا تعلق ہے ۔ ‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 5؍اگست2011ء) - [محترم صاحبزادہ مرزا رفیع احمدصاحب  اور زوجہ  محترمہ سیّدہ امۃ السمیع صاحبہ](https://mushahedat.com/محترم-صاحبزادہ-مرزا-رفیع-احمدصاحب-او/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب کی وفات پر فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے خلافت پر متمکن فرمایا تو ان کی طرف سے انتہائی عاجزی اور اخلاص اور وفا کا خط مجھے ملا اور پھراس کے بعد ہر خط میں یہ حال بڑھتا چلا گیا۔ باوجود اس کے کہ میرے ساتھ انتہائی قریبی رشتہ تھا، ماموں کارشتہ تھا۔ ان کے اخلاص اور وفا کے الفاظ پڑھ کر دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتاتھا ۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 23جنوری2004ء ) - [مکرم مرزا انور احمد صاحب  اور اہلیہ محترمہ  صاحبزادی صبیحہ امینہ   بیگم صاحبہ](https://mushahedat.com/مکرم-مرزا-انور-احمد-صاحب-اور-اہلیہ-محت/) - صاحبزادہ مرزا انور احمد صاحب کی وفات پر خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا : ’’ہماری والدہ کے بھائی تھے۔ ان کا خاص تعلق تھا۔ ویسے تو ہر بھائی کا ہوتا ہے لیکن ان کا خاص تھا۔ ہمارے گھر میں بہت زیادہ آنا جانا تھا اور اس تعلق کو قائم رکھا اور پھر خلافت کے بعد مجھ سے بھی انہوں نے بڑا تعلق رکھا۔ اکثر یہاں فون کر کے بھی اس تعلق کا اظہار کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے بھی مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ ان کی اولاد کو بھی خلافت سے وفا کا تعلق قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ18جولائی 2014ء ) - [مکرمہ سیّدہ امۃ الرفیق پاشا  صاحبہ و مکرم سیّد حضرت  اللہ پاشا صاحب](https://mushahedat.com/مکرمہ-سیّدہ-امۃ-الرفیق-پاشا-صاحبہ-و-مک/) - حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے سیّدہ امۃ الرفیق صاحبہ اور مکرم سیّد حضرت اللہ پاشا صاحب کی شادی کے موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’ احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو دین و دنیا کے لحاظ سے ظاہر و باطن کے لحاظ سے ، حال اور مستقبل کے لحاظ سے اور اپنے وسیع نتائج کے لحاظ سے مبارک کرے ۔ سیّد حضرتُ اللہ پاشا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے قبولِ حق کی توفیق بخشی ہے اور آپ اپنے خاندان میں سے اکیلے ہی سلسلۂ احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں اور بہت دور کے علاقے یعنی بیجا پور کے رہنے والے ہیں اور سیّدہ امۃ الرفیق حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب مرحومؓ کی لڑکی ہیں جو جماعت میں ایک خاص مقام کے حامل اور بہت با خدا انسان تھے ۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو برکت اور راحت سے نوازے اور ہر لحاظ سے کامیاب اور بامراد زندگی عطا کرے ۔ ‘‘ ۔( روز نامہ الفضل 7نومبر1961) - [مکرمہ صاحبزادی امۃ الحئی درثمین صاحبہ](https://mushahedat.com/مکرمہ-صاحبزادی-امۃ-الحئی-درثمین-صاحبہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادی امۃ الحئی درثمین صاحبہ کی وفات پر آپ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا : ’’ خلافت سے گہرا عشق اور اس کا بے حد احترام تھا ۔ بیماری کے آخری دنوں میں بھی بڑی ہمت کر کے مجھ سے ملنے آتی رہیں ۔ آخری مرتبہ وفات سے چند ہفتے قبل آئیں تو چلا بھی مشکل سے جا رہا تھا ۔ میرے پوچھنے پر کہ اتنی تکلیف کر کے آئی ہیں، مسکراتے ہوئے کہا کہ نہیں الحمد للہ ٹھیک ہوں بلکہ بیماری کے آخری دنوں میں ان کی بیٹی مجھے ملنے آرہی تھیں تو اُسے کہنے لگیں مَیں نے بھی جانا ہے مجھے بھی ملاقات کے لیے لے کر جاؤ لیکن اُس وقت ایسی حالت نہیں تھی لیکن ملاقات کی شدید خواہش تھی۔ ہر حال میں خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے والی تھیں ۔ ‘‘ - [مکرم صاحبزادہ مرزا اظہر احمد صاحب ا ور اہلیہ محترمہ قیصرہ خانم صاحبہ](https://mushahedat.com/مکرم-صاحبزادہ-مرزا-اظہر-احمد-صاحب-ا-ور-ا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ مورخہ 23اکتوبر2015ء میں صاحبزادہ مرزا اظہر احمدصاحب کا ذکر خیرکرتے ہوئے فرمایا: ’’ خلافت سے بھی بڑا گہرا تعلق تھا اور میرے ماموں تھے لیکن بڑا احترام کا تعلق انہوں نے رکھا۔ پہلے جلسے پر 2003ء میں مَیں نے دیکھا کہ لوگوں کے رَش میں کھڑے تھے اور جب میرے پر ان کی نظر پڑی یا میری اِن پر نظر پڑی ہے تو بڑے جذباتی انداز میں انہوں نے ہاتھ ہلایا اور ایک خالص وفا، تعلق اور خلوص اِن کے چہرے سے جھلک رہا تھا۔ غریب پروری کرنے والے بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے رحمت اور شفقت کا سلوک فرمائے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 23اکتوبر2015ء ) - [مکرم صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب اور اہلیہ محترمہ اسماء طاہرہ صاحبہ](https://mushahedat.com/مکرم-صاحبزادہ-مرزا-خلیل-احمد-صاحب-اور-ا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 6جنوری 2017ء کے خطبہ جمعہ میں اسماء طاہرہ صاحبہ کا ذکرِ خیرکرتے ہوئے فرمایا: ’’ بیماری کے دنوں میں مل کے آیا ہوں آجکل کینیڈا میں تھیں ان کی بیماری کی ایسی حالت تھی کہ جب مَیں گیا ہوں اور ملا ہوں تو ہل نہیں سکتی تھیں لیکن اس وقت بھی ان کی عاجزی کا یہ حال تھا کہ انہوں نے کہا کہ میرے کپڑے نکال کے رکھو۔ تیاری کرو اور میرا کہا کہ شاید وہ مجھے ملاقات کے لئے بلا لیں۔ بجائے اس کے کہ مجھے پیغام بھیجتیں کہ ملاقات کے لئے آؤ۔ یہ اس امید پہ تھیں کہ مَیں ان کو وہاں بلاؤں گا۔ بہرحال مَیں مل کے آیا۔ اس لحاظ سے بڑی خوش ہوئیں ۔ ‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 6جنوری2017ء ) - [مکرم بریگیڈئیر ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب و اہلیہ محترمہ صاحبزادی آصفہ مسعودہ بیگم صاحبہ](https://mushahedat.com/مکرم-بریگیڈئیر-ڈاکٹر-مرزا-مبشر-احمد-صا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادی آصفہ مسعودہ بیگم صاحبہ کی وفات پر خطبہ جمعہ میں آپ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا : ’’مجھ سے جو اِن کا رشتہ ہے، مختلف رشتے تھے کیونکہ یہ میری دادی کی دوسری والدہ سے بہن بھی تھیں اس لحاظ سے دادی بھی کہلاتی تھیں اور خالہ بھی بنتی تھیں۔ رشتہ میں پھوپھی بھی بنتی تھیں۔ لیکن کہتی ہیں کہ ان سب رشتوں کے باوجود مَیں بس خلیفہ وقت کی تابعدار ہوں اور یہ صرف باتیں ہی نہیں ہیں بلکہ واقعی انہوں نے اس تعلق کو جو خلافت کے ساتھ ان کا تعلق ہے اس کو وفا کے ساتھ نبھایا…. اللہ تعالیٰ اِن سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور اِن کی اولاد کو اور اگلی نسل کو بھی اِن کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 22 اکتوبر2021 ء ) - [مکرم صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب  اوراہلیہ صاحبزادی امۃ المومن صاحبہ](https://mushahedat.com/مکرم-صاحبزادہ-مرزا-نعیم-احمد-صاحب-اور/) - درویشِ قادیان مکرم مولوی منظور احمد صاحب آف گھنو کے ججہ اپنے ایک مضمون میں بیان کرتے ہیں کہ صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب کہتے تھے کہ ’’ہماری کمزوری ہے کہ ہم حضورؑ کے بتائے ہوئے اصولوں اور گُروں سے فائدہ نہیں اٹھاتے ورنہ حضور کا ایک ہی ہتھیار دُعا جو حضورؑ نے ہمارے ہاتھوں میں دیا ہے ایک قیمتی خزانہ ہے ۔ مَیں نے ہزار بار آزمایا ہے جب بھی مجھے کوئی مشکل پڑتی ہے یا دقّت پیش آتی ہے مَیں دُعا میں لگ جاتا ہوں اور وہ مشکل دُور ہو جاتی ہے ۔ آپ کہتے تھےکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہم پراتنے احسانات ہیں کہ اگر ہم اپنی پیشانیوں سے سجدے کرتے کرتے خون بھی نکال لیں تب بھی اُن کے احسانات کا قرض نہیں چُکا سکتے ۔ ‘‘ - [مکرم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا  مبشر احمد صاحب](https://mushahedat.com/مکرم-صاحبزادہ-ڈاکٹر-مرزا-مبشر-احمد-صا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ میں صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب کے اوصاف بیان کرتے ہوئےفرمایا : ’’خلفاء کے ساتھ بہت گہرا تعلق تھا۔ ایک تو یہ بھی تھا کہ اب تک جتنی بھی خلافتیں آئی ہیں ان کے ساتھ رشتہ داری کا بھی تعلق تھا دوسرا ادب اور احترام کا بھی بہت زیادہ تعلق تھا اور بچوں کو بھی اسی کا کہتے رہتے تھے اور خود بھی عمل کر کے دکھایا… خلافت سے بھی غیر معمولی وفا کا تعلق تھا جیساکہ پہلے بھی مَیں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ ان سے بے انتہا مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ عطا فرمائے۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ2جون 2023ء ) - [مکرم نواب مودود احمد خان صاحب](https://mushahedat.com/مکرم-نواب-مودود-احمد-خان-صاحب/) - نواب مودود احمد خان صاحب کی اہلیہ آپ کے بارے میں بیان کرتی ہیں کہ ’’ بڑی سادہ طبیعت، خوش اخلاق، ہمدرد، منکسرُ المزاج اور شفقت کرنے والے تھے۔ جن سے بھی آپ کا تعلق رہا ہے ایسا ہی تھا کہ ہر کوئی یہ کہتا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سے سالہا سال کا تعلق ہے۔ چاہے وہ جماعت کا چھوٹے سے چھوٹا کارکن ہو یا سینئر ممبر ہو۔ کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں جس میں کسی بھی لحاظ سے مَیں نےبحیثیت شوہر یا بحیثیت باپ ان میں کمی دیکھی ہو۔ آئیڈیل شوہر تھے، آئیڈیل باپ تھے، آئیڈیل شخص تھے اور ہر شخص آپ سے بڑا متاثر ہوتا تھا۔‘‘ - [صاحبزادی امۃ الودود بیگم صاحبہ بنت حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ](https://mushahedat.com/صاحبزادی-امۃ-الودود-بیگم-صاحبہ-بنت-حضر/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے صاحبزادی امۃ الودود بیگم صاحبہ کی وفات کے بعد الفضل 23جون 1940ء میں ایک مضمون میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے تحریر فرمایا: ’’ امۃ الودود جسے ہم پیار سے دودی کہا کرتے تھے جو کل ہم سے جدا ہوئی گو میری بھتیجی تھی مگر میری آئندہ نسلوں کے غم اس کے غم کو کہاں پہنچ سکتے ہیں ۔ کیونکہ خداتعالیٰ کا یہی قانون ہے کہ زمانہ، رشتہ اور تعلق یہ تین چیزیں مل کر دلوں میں محبت کے جذبات پیدا کیا کرتی ہیں پھر اگر اِن میں سے کوئی ایک چیز زور پکڑ جائے تو وہ دوسری چیزوں کو دبا دیتی ہے اور جب تینوں جمع ہوجائیں تو جذبات بھی شدید ہو جاتے ہیں ۔ دودی میری بھتیجی تو تھی مگر زمانہ کے قرب اور تعلق نے اسے میرے دل کے خاص گوشوں میں جگہ دے رکھی تھی ۔ بعد کی نسلیں تو الگ رہیں میرے اپنے بچوں میں سے کم ہی ہیں جو مجھے اس کے برابر پیارےتھے ۔ ‘‘ - [مکرم صاحبزادہ مرزا رشید احمد صاحب](https://mushahedat.com/مکرم-صاحبزادہ-مرزا-رشید-احمد-صاحب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے صاحبزادہ مرزا رشید احمد صاحب کے خطبہ نکاح میں فرمایا : ’’ عزیز رشید احمد کا نکاح عزیز میاں بشیر احمد صاحب کی لڑکی سے قرار پا رہا ہے ۔ جد کے لحاظ سے دونوں ایک ہی سلسلے میں منسلک ہو جاتے ہیں …وہ یاد رکھیں کہ وہ ایک ایسے انسان کے پوتے ہیں جو دنیا میں ایک عظیم الشان تغیّر کرنے آیا تھا ۔ وہ تغیّر شروع ہوچکا ہے ….عزیز رشید احمد کو سمجھنا چاہیے کہ اُن کے فرائض بہت ہیں ۔ اُن کو زید و بکر کا نمونہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کے گھر میں نمونہ موجود ہے ۔ وہ دیکھیں کہ وہ مسیح موعود کی اولاد میں سے ہیں اور مسیح موعودؑ کا عظیم الشان اسوہ ان کے لیے موجود ہے ۔‘‘ ( اخبار الفضل قادیان دارالامان 6جون 1924ء ) - [محترمہ سیّدہ نصیرہ بیگم صاحبہ بنت  حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ](https://mushahedat.com/محترمہ-سیّدہ-نصیرہ-بیگم-صاحبہ-بنت-حضر/) - سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ کی نماز میں جان تھی ۔ خواہ کتنی مصروف ہوں ، بیمار ہوں آپ کی نمازوں اور دعاؤں کا سلسلہ گھنٹوں جاری رہتا ۔ آپ کی بیٹی مکرمہ عتیقہ فرزانہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ والدہ محترمہ کی نمازوں اور اپنے اللہ سے تعلق کا ایک الگ ہی رنگ تھا۔ دیگر عبادات جیسے روزہ، زکٰوۃ کی ادائیگی میں بھی دوسروں سے منفرد ہی دِکھتی تھیں۔ - [رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ](https://mushahedat.com/رَبِّ-اَدۡخِلۡنِیۡ-مُدۡخَلَ-صِدۡقٍ/) - رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ(بنی اسرائیل : 81)آج 2024ء کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کواللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی دی گئی توفیق کے ساتھ خاکسار کو ذاتی طور پر اپنی ویب سائٹ لانچ کرنے کی توفیق مل رہی ہے ۔ الحمدللہ ربّ العالمینآپ اس ویب سائٹ پر خاکسار کی جملہ کتب ، پمفلٹس - [’’مشاہدات‘‘ کی وجہ تسمیہ](https://mushahedat.com/مشاہدات-کی-وجہ-تسمیہ/) - بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا بھر میں انسانوں کو پیدا کر کے اُن کو الگ الگ صلاحیتوں ، استعدادوں اور قویٰ سے نوازا ہے ۔ اگر ایک ہی قسم کی صلاحیت کئی انسانوں کو عطا فرمائی ہے تو اُس کے استعمال کے رنگ ہر انسان - [فہرست مشاہدات  1-450](https://mushahedat.com/فہرست-مشاہدات-1-450/) - [فہرست مشاہدات  1-550](https://mushahedat.com/فہرست-مشاہدات-1-550/) - فہرست مشاہدات-1-550Download - [مکرمہ صاحبزادی آمنہ طیبہ صاحبہ اہلیہ  مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ](https://mushahedat.com/مکرمہ-صاحبزادی-آمنہ-طیبہ-صاحبہ-اہلیہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے صاحبزادی آمنہ طیبہ صاحبہ کی پر خطبہ جمعہ میں آپ کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ ان کا رشتہ ازدواجی تقریبا 50 سال سے زیادہ عرصے پر پھیلا ہوا ہے اور مثالی رشتہ تھا یعنی سارے خاندان میں اگر کسی کو کوئی مثالی رشتہ پیش کرنا ہوتا تو ان کی طرف اشارہ ہوتا تھا … اس پہلو سے بہت مثالی رشتہ تھا اور ان کا نام آمنہ تھا اور طیبہ اور امر واقعہ یہ ہے کہ آمنہ حقیقی معنوں میں آمنہ تھیں۔ طیبہ حقیقی معنوں میں طیبہ تھیں۔ شاید ہی کوئی بیوی ایسی ہو جس کے متعلق انسان اس وثوق کے ساتھ کہہ سکے کہ اس نے اپنے خاوند کی ہر امانت کا حق ادا کیا ہے اور ہر طیب بات کسی بھی بات میں وہ چوکی ہوں ۔ عقل کا مجسمہ ،بہت ہی سلجھی ہوئی طبیعت اور حضرت چھوٹی پھوپھی جان کی تمام خوبیوں کی وارث اور حضرت چھوٹے پھوپھا جان نواب محمد عبداللہ خان صاحب کی خوبیوں کی بھی وارث تھیں ۔ ‘‘ ( خطبہ جمعہ 29مارچ 1996ء ) - [مکرمہ صاحبزادی امۃ الوحید بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب](https://mushahedat.com/مکرمہ-صاحبزادی-امۃ-الوحید-بیگم-صاحبہ-ا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادی امۃ الوحید بیگم صاحبہ کی وفات پر خطبہ جمعہ میں آپ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا : ’’ بڑا اخلاص اور وفا کا تعلق تھا ان کا خلافت کے ساتھ۔ باوجود بڑا رشتہ ہونے کے، بڑی عمر ہونے کے انتہائی عاجزی سے ملتی تھیں …بہت سارے اوصاف ان میں تھے…اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 14اپریل2017ء ) - [محترمہ طاہرہ حنیف صاحبہ اہلیہ مکرم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب](https://mushahedat.com/محترمہ-طاہرہ-حنیف-صاحبہ-اہلیہ-مکرم-صاح/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے طاہر حنیف صاحبہ کی وفات پر خطبہ جمعہ میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ’’ مجھے بھی بڑی باقاعدگی سے یہ خط لکھا کرتی تھیں اور بلکہ ہر خطبہ کے بعد اکثر ان کے خط آتے تھے اور اس پر مختلف قسم کے تبصرے بھی ہوتے تھے۔ بعض باتیں جو ان کو اچھی لگتی تھیں ان میں خاص طور پہ ان کا ذکر ہوتا تھا… اللہ تعالیٰ ان سے ہمیشہ مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ بزرگوں کے قدموں میں جگہ دے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ18نومبر2022ء ) - [مکرم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب](https://mushahedat.com/مکرم-صاحبزادہ-مرزا-حنیف-احمد-صاحب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب کی وفات پرخطبہ جمعہ میں آپ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ محترم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب سے مغفرت کا سلوک فرمائے، رحم کا سلوک فرمائے، آپ کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے بچوں کو بھی حقیقت میں اُس خون کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں۔ مجھ سے بھی ان کا بہت گہرا تعلق تھا۔ خلافت سے پہلے بھی تھااور خلافت کے بعد تو پیار کا یہ تعلق بہت بڑھ گیا تھا۔ لیکن اس میں عاجزی اور اخلاص اور وفا کا بے انتہا اظہار تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا رہے اور ان کی اولاد کو بھی خلافت سے خاص تعلق رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 21 فروری2014ء ) - [بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے ترجمے (ہر سورت کا جُدا ترجمہ)](https://mushahedat.com/بِسْمِ-اللّٰہِ-الرَّحْمٰنِ-الرَّحِی/) - اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (القمر:18) اور یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنادیا۔ پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ - [نماز ایک سواری ہے](https://mushahedat.com/نماز-ایک-سواری-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز کو خداتعالیٰ سے ملانے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ فَاِنَّ الصَّلٰوۡۃَ مَرۡکَبٌ یُوۡصِلُ الۡعَبۡدَ اِلَی رَبِّ الۡعِبَادِ کہ نماز ایک ایسی سواری ہے جو بندہ کو پرور دگارِ عالَم تک پہنچاتی ہے ۔ (اعجاز المسیح ، روحانی خزائن جلد 18صفحہ 166) - [زندہ خدا سے دل کو لگاتے تو خوب تھا](https://mushahedat.com/زندہ-خدا-سے-دل-کو-لگاتے-تو-خوب-تھا/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’یاد رہے کہ بندہ تو حُسن معاملہ دکھلا کر اپنے صدق سے بھری ہوئی محبت ظاہر کرتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ اس کے مقابلہ پر حد ہی کردیتا ہے۔ اس کی تیز رفتار کے مقابل پر برق کی طرح اس کی طرف دوڑتا چلا آتا ہے اور زمین اور آسمان سے اس کے لئے نشان ظاہر کرتا ہے اور اس کے دوستوں کا دوست اور اس کے دشمنوں کا دشمن بن جاتا ہے اور اگر پچاس کروڑ انسان بھی اِس کی مخالفت پر کھڑا ہو تو اُن کو ایسا ذلیل اور بےدست و پا کردیتا ہے جیسا کہ ایک مرا ہوا کیڑا اور محض ایک شخص کی خاطر کے لئے ایک دنیا کو ہلاک کردیتا ہے اور اپنی زمین و آسمان کو اس کے خادم بنادیتا ہے اور اس کی کلام میں برکت ڈال دیتا ہے اور اس کی تمام در و دیوار پر نور کی بارش کرتا ہے اور اُس کی پوشاک میں اور اُس کی خوراک میں اور اُس مٹی میں بھی جس پر اس کا قدم پڑتا ہے ایک برکت رکھ دیتا ہے اور اُس کو نامراد ہلاک نہیں کرتا۔ ‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم،روحانی خزائن جلد 21صفحہ225) - [وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم](https://mushahedat.com/وہ-خدا-اب-بھی-بناتا-ہے-جسے-چاہے-کلیم/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہمارا خدا وہ خدا ہے جو اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا اور اب بھی وہ بولتاہے جیسا کہ پہلے بولتاتھا اوراب بھی وہ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتاتھا۔ یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں بلکہ وہ سنتا اور بولتابھی ہے۔ اس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں کوئی صفت بھی معطل نہیں اور نہ کبھی ہو گی۔“ (الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ309) - [ایثارکے نمونے](https://mushahedat.com/ایثارکے-نمونے/) - صحابہ رضوان اللہ علیہم نے سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایثار کی تربیت پاکر اُسے اپنی عملی زندگی میں اپنایا۔ یرموک کی جنگ میں حارث بن ہشام، عکرمہ بن ابی جہل اور سُہَیل بن عَمرو (رضی اللہ عنہم) شہید ہوئے۔ وہ جب زخمی حالت میں پڑے تھے تو (لوگ) اُن کے پاس پانی لائے۔ لیکن ان میں سے ہر ایک نے جب اس کی طرف پانی بڑھایا گیا اسے اگلے آدمی کے پاس بھیج دیا اور کہا کہ یہ پانی اُسے پلا دو۔ چنانچہ وہ سب وفات پاگئے اور ان میں سے کسی نے پانی نہ پیا۔ راوی نے بتایا کہ عکرمہ نے پانی طلب کیا لیکن انہوں نے دیکھا کہ سہیل ان کی طرف دیکھ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ یہ پانی انہیں پلا دو۔ پھر سہیل نے دیکھا کہ حارث ان کی طرف دیکھ رہے ہی تو انہوں نے بھی کہا کہ اس کو پانی دے دو۔ پانی ابھی ان تک نہیں پہنچا تھا کہ وہ سب وفات پاگئے۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد3ذکر عکرمہ) - [سادگی،  قناعت اور زُہد](https://mushahedat.com/سادگی،-قناعت-اور-زُہد/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں۔ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے آخری شرعی نبی بنا کر مبعو ث فرمایا… اس عظیم اعزاز نے آپؐ میں کسی جاہ و جلال کا اظہار پیدا نہیں کیا… بلکہ اس چیز نے آپؐ میں.مزید مسکینی، سادگی اور قناعت پیدا کی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کا اور شریعت کا اور اس تعلیم کا جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر نازل فرمائی سب سے زیادہ فہم و ادراک آپؐ کو ہی تھا۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اگست 2005 ء) - [ہر اِک نیکی کی جڑ یہ اِتّقا ہے](https://mushahedat.com/ہر-اِک-نیکی-کی-جڑ-یہ-اِتّقا-ہے/) - حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے زیادہ عزت والا کون ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا جو اِن میں سے زیادہ متقی ہے۔ (بخاری کتاب الانبیاء) - [شیطان کی حقیقت اور کردار](https://mushahedat.com/شیطان-کی-حقیقت-اور-کردار/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ انسان کے ساتھ دو قوتیں ہمیشہ لگی ہوئی ہیں۔ ایک فرشتے اور دوسرے شیطان۔ گویا اس کی ٹانگوں میں دو رسے پڑے ہوئے ہیں۔ فرشتہ نیکی میں ترغیب اور مدد دیتا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ اور شیطان بدی کی طرف ترغیب دیتا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے یُوَسۡوِسُ ۔ ان دونوں کا انکار نہیں ہو سکتا۔ ظلمت اور نور ہر دو ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ عدمِ علم سےعدمِ شے ثابت نہیں ہو سکتا۔‘‘ (ملفوظات جلددوم صفحہ244) - [زار بھی ہوگا تو ہوگا اُس گھڑی باحالِ زار](https://mushahedat.com/زار-بھی-ہوگا-تو-ہوگا-اُس-گھڑی-باحالِ-زار/) - جب 1991ء میں روس کے ٹکڑے ہو گئے تو برطانوی حکومت کے مطالبے پر پھر سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور معلوم ہوا کہ زار اور اس کے خاندان کو نہایت بے دردی اور سفّاکی سے 17؍ جولائی 1918ء کو Ipatiev House کے تہ خانے میں قتل کردیاگیا تھا جہاں اُن کو 30؍ اپریل سے قید کر کےرکھا گیا تھا۔ اُسی دن زار کے قریبی ساتھیوں بشمول ڈاکٹر Eugene اور شاہی خاندان کے 65؍ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ان کی قیمتی اشیاء چوری کر لی گئیں اور ان کے مردہ جسموں کو ضائع کرنے کے لیے 750 لیٹر مٹی کا تیل اور 180 کلوگرام تیزاب استعمال کیا گیا تا کہ ان کا کوئی نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔ - [کَشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کُشتیاں](https://mushahedat.com/کَشتیاں-چلتی-ہیں-تا-ہوں-کُشتیاں/) - ایک واقفہ نو کے سوال کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام”کَشتیاں چلتی ہوں ہیں تا ہوں کُشتیاں“سے کیا مراد ہے ۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”مختلف مطلب نکلتے ہیں ۔ جنگوں کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے اور حکومتوں کے اُلٹنے کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے ۔ پانی میں بھی جنگیں ہوتی ہیں۔ جنگ عظیم ہوئی تو وہاں بھی کَشتیاں ہوتی ہیں ۔ سب میرین چلتی ہیں ۔ داؤ پیچ استعمال ہوتے ہیں ۔“ - [امن و سلامتی کے سفیر ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ](https://mushahedat.com/امن-و-سلامتی-کے-سفیر-۔-حضرت-خلیفۃ-المسیح/) - حضور انور ایدہ اللہ نےایک خط میں مورخہ 28 مارچ 2012ء کو امریکہ کے صدر باراک اوباما کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرمایا : ” دنیا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مَیں نے یہ ضروری محسوس کیا کہ آپ کی طرف یہ خط روانہ کروں کیونکہ آپ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کے منصب پر فائز ہیں اور یہ ایسا ملک ہے جو سُپر پاور ہے… میری آپ سے بلکہ تمام عالمی لیڈروں سے یہ درخواست ہے کہ دنیا میں امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کریں …اللہ تعالیٰ آپ کو اور تمام عالمی لیڈروں کو یہ پیغام سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔“ (ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل لندن 8 جون 2012ء صفحہ11-12) - [پردہ پوشی ۔ چشم پوشی](https://mushahedat.com/پردہ-پوشی-۔-چشم-پوشی/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ : مَنۡ سَتَرَ عَلَی مُسۡلِمٍ فِیۡ الدُّنۡیَا سَتَرَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ فِیۡ الدُّنۡیَا وَالۡآخِرَۃِ (حدیقۃ الصالحین صفحہ650 ،حدیث:832) کہ جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اُس کی پردہ پوشی کرے گا۔ - [بادشاہ تیرے کپڑوں سےبرکت ڈھونڈیں گے](https://mushahedat.com/بادشاہ-تیرے-کپڑوں-سےبرکت-ڈھونڈیں-گے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اُس نے مجھے بشارت دی کہ مَیں تجھے برکت دوں گا اور بہت برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 179 حاشیہ) - [آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گےجو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار](https://mushahedat.com/آگ-ہے-پر-آگ-سے-وہ-سب-بچائے-جائیں-گےجو-کہ-ر/) - حضور ایدہ اللہ نے مؤرخہ 22 نومبر 2024ء کے خطبہ جمعہ فرمایا کہ ” اس وقت مَیں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ یورپ میں بھی حالات بڑی تیزی سے جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔ یوکرین اور روس کی جنگ پھیلنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ دھمکیاں مل رہی ہیں یورپ کے باقی ملکوں کو بھی۔ اکثر جو ہیں عقل رکھنے والے اور امن پسند لوگ لیڈر اس بارے میں پریشان بھی ہیں۔ بہرحال دعا کریں اللہ تعالیٰ احمدیوں اور امن پسند لوگوں کو جنگ کے بداثرات سے محفوظ رکھے اور یہ لوگ ایسے ہتھیار استعمال نہ کریں جنگ میں جن کے استعمال سے آئندہ نسلیں متاثر ہوتی ہیں۔ مسلمان ممالک کے لئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو بھی عقل اور سمجھ دے اور وہ لوگ بھی حق پہچاننے کی اللہ ان کو حق پہچاننے کی توفیق دے۔ “ - [محترم پیر معین الدین صاحب](https://mushahedat.com/محترم-پیر-معین-الدین-صاحب/) - پیر معین الدین صاحب کو قرآن کریم سے بہت محبت تھی۔ اس کے مضامین پر بہت غور اور تدبر کیا کرتے تھے ۔ آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کی تفسیر کبیر کا خلاصہ چار جلدوں میں شائع فرمایا آپ کی خواہش تھی کہ ’’مخزنِ.معارف‘‘ کی طرز پر سارے قرآن کریم کی تفسیر مکمل کریں ۔ آپ کے پاس حضرت مصلح موعودؓ کا وہ قرآن مجید بھی موجود تھا جس کو حضرت مصلح موعودؓ درس کے موقع پر استعمال فرمایا کرتے تھے ۔ اِس سے آپ کی قرآنِ کریم سے محبت دکھائی دیتی ہے۔ - [محترمہ صاحبزادی امۃ المتین صاحبہ   بنت حضرت مصلح موعودؓ](https://mushahedat.com/محترمہ-صاحبزادی-امۃ-المتین-صاحبہ-بنت/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 18اکتوبر2013ء میں صاحبزادی امۃ المتین صاحبہ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا : ’’خلافت سے بڑا وفا کا تعلق تھا۔ اور میری خالہ تھیں لیکن خلافت کے بعد جو ہمیشہ تعلق تھا، احترام اور محبت اور پیار اور عزت کا بہت بڑھ گیا تھا۔ بلکہ شروع میں جب پہلی دفعہ لندن آئی ہیں تو کسی کو کہا کہ مَیں تو اب کھل کے بات نہیں کر سکتی۔ اب بھی، پچھلے سال بھی جلسے پر آئی ہوئی تھیں، کافی بیمار تھیں لیکن پھر بھی جلسے پر لندن آئیں اور اُن سے ملاقات ہوئی۔‘‘ - [مکرمہ صاحبزادی  قدسیہ بیگم صاحبہ  اہلیہ مکرم  صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب](https://mushahedat.com/مکرمہ-صاحبزادی-قدسیہ-بیگم-صاحبہ-اہل/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ کی وفات پر خطبہ جمعہ میں آپ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا : ’’بیٹے کی شہادت پر انہوں نے بڑا صبر دکھایا۔ مَیں خود بھی اس کا گواہ ہوں۔ بڑے صبر اور حوصلے سے یہ صدمہ برداشت کیا۔ جب مَیں (غلام قادر شہید کا ) افسوس کرنے ان کے پاس گیا تو بڑے مسکرا کر انہوں نے قادر شہید کی خوبیوں کا ذکر کیا اور بڑا حوصلہ دکھایا۔ مجھ سے خط و کتابت رکھتی تھیں اور جو آخری خط مجھے لکھا اُس میں بھی یہی فقرہ تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی تقویٰ عطا فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے وارث ہوں اور آپ کی نسل ہونے کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ اللہ کرے کہ یہ دعا ان کی ساری اولاد میں اور سارے خاندان کے بارے میں پوری ہو۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ7ستمبر2012ء ) - [مکرم صاحبزادہ  مرزا مجید احمد صاحب](https://mushahedat.com/مکرم-صاحبزادہ-مرزا-مجید-احمد-صاحب/) - صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب کی بہو صاحبزادہ مرزا غلام قادر شہید کی بیوہ امۃ الناصرنصرت صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ’’اپنے بیٹے مرزا غلام قادر شہید کی شہادت پر بہت صبر کا نمونہ دکھایا اور کہتی ہیں کہ شہادت کے بعد مرزا مجید احمد صاحب اور آپ کی اہلیہ بہت زیادہ قادر شہید کے بچوں کا خیال رکھتے۔ پھر بیماری کا بڑا لمبا عرصہ تھا اور بہت صبر اور ہمت کے ساتھ انہوں نے گزارا۔‘‘ - [ہم واقفینِ/ واقفاتِ نو اچھے  مقرر کیسے بن سکتے ہیں؟](https://mushahedat.com/ہم-واقفینِ-واقفاتِ-نو-اچھے-مقرر-کیسے-ب/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ” عمدہ تقریر خوش الحانی سے کی جائے تو اس کا بھی اثر ہوتا ہے۔“ (ملفوظات جلد8 صفحہ50 ) - [خیالات کی ہجرت](https://mushahedat.com/خیالات-کی-ہجرت/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ کون سی ہجرت افضل ہے تو آپؐ نے فرمایا مَنْ ہَجَرَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ کہ جن باتوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ان کو چھوڑ دینا۔ (سنن ابوداؤد جلد اول کتاب الصلوٰۃ) - [غَضِّ بَصَر](https://mushahedat.com/غَضِّ-بَصَر/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اُس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قویٰ کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تقریب نہ آئے۔ جس سے بد خطرات جنبش کر سکیں۔ اسلامی پردہ کی یہی فلاسفی ہے اوریہی ہدایت شرعی ہے۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ5) - [صبرواستقامت اور اِس کی  اہمیت وبرکات](https://mushahedat.com/صبرواستقامت-اور-اِس-کی-اہمیت-وبرکات/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”صادق اور مومن کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ نہایت اخلاص اور انشراح صدر کے ساتھ خدا کی رضا کو مقدم کر لیتا ہے اور اُس پر خوش ہوجاتا ہے۔ کوئی شکوہ اور بدظنی نہیں کرتا۔ اس لئے خداتعالیٰ فرماتا ہے وَبَشِّرِالصّٰبِرِیْنَ پس صبر کرنے والوں کو بشارت دو، یہ نہیں فرمایا کہ دعا کرنے والوں کو بشارت دو بلکہ فرمایا کہ صبر کرنے والوں کو۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ انسان اگر بظاہر اپنی دعاؤں میں ناکامی دیکھے تو گھبرا نہ جاوے بلکہ صبر اور استقلال سے خداتعالیٰ کی رضا کو مقدم کرے۔“ (الحکم 10اکتوبر 1902ء) - [جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو](https://mushahedat.com/جے-توں-میرا-ہو-رہیں-سب-جگ-تیرا-ہو/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فر ماتے ہیں ۔ مَیں نے ایک دفعہ کشف میں اللہ تعالیٰ کو تمثُّل کے طور پر دیکھا۔ میرے گلےمیں ہاتھ ڈال کر فرمایا ۔’’جے تُوں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو‘‘ (تذکرہ طبع چہارم صفحہ 390) - [محترم میاں عبدالرحیم احمد صاحب](https://mushahedat.com/محترم-میاں-عبدالرحیم-احمد-صاحب/) - حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے محترم میاں عبد الرحیم صاحب کی وفات پر آپ کی اہلیہ محترمہ صاحبزادی امۃ الرشید صاحبہ کے نام اپنے تعزیتی مکتوب میں تحریر فرمایا: ’’مَیں اُن کی نیک طبیعت اور میٹھے، دھیمے مزاج اور خادمِ دین ہونے کے حوالہ سے اُن کے لئے محبت و احترام کے جذبات رکھتاہوں۔‘‘ - [محترمہ صاحبزادی  امۃ الرشید صاحبہ بنت حضرت مصلح موعودؓ](https://mushahedat.com/محترمہ-صاحبزادی-امۃ-الرشید-صاحبہ-بنت/) - محترمہ صاحبزادی امۃ الرشید صاحبہ کی وفات پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پوتی اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی، اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثالث اور خلیفۃ المسیح الرابع کی بہن اور میری خالہ تھیں۔ گویا حضرت خلیفہ اول سے لے کر اب تک خلفاء سے ان کا رشتہ تھا۔ پہلے بھی ان کا میرے سے بڑا پیار کا تعلق رہا۔ پھر جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے مجھے امیر مقامی اور ناظرِ اعلیٰ بنایا تو اُس وقت پیار کے ساتھ احترام بھی شامل ہو گیا اور خلافت کے بعد تو اس تعلق میں ایک عجیب طرح کا رنگ آ گیاکہ حیرت ہوتی تھی۔ انتہائی ملنسار اور خوش اخلاق خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 4؍اکتوبر2013ء ) - [جماعتِ احمدیہ کے اصحابِ صُفّہ](https://mushahedat.com/جماعتِ-احمدیہ-کے-اصحابِ-صُفّہ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا جس میں اصحابِ صُفَّہ کا ذکر ہے کہ ’’اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ وَمَا اَدْرَاکَ مَا اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ تَرٰی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ۔ یُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ۔ رَبَّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ وَ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ وَسِرَاجًا مُنِیْرًا۔ صُفَّہ کے رہنے والے اور تُو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صُفَّہ کے رہنے والے؟ ۔ تُو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔ وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ! ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز سنی ہے جو ایمان کی طرف بلاتا ہے۔‘‘ (حقیقۃالوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 78) - [خدمتِ خلق انسان دوستی کا دوسرا نام ہے](https://mushahedat.com/خدمتِ-خلق-انسان-دوستی-کا-دوسرا-نام-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ” تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو۔ یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہوہمدردی کرو اور بلاتمیز ہر ایک سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔“ (ملفوظات جلدچہارم صفحہ219) - [فَاسْتَبِقُواالْخَیْرَات](https://mushahedat.com/فَاسْتَبِقُواالْخَیْرَات/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ”سابق با لخیرات بننا چاہیے۔ ایک ہی مقام پر ٹھہر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے… ہر وقت قدم آگے ہی رکھنا چاہیے۔ نیکی میں ترقی کرنی چاہیے ۔ ورنہ خدا تعالیٰ انسان کی مدد نہیں کرتا اور اس طرح سے انسان بے نور ہوجاتا ہے…خدا تعالیٰ کی نصرت انہی کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں ایک جگہ نہیں ٹھہر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتاہے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 456) - [ذاتی اصلاح کے بغیر معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں](https://mushahedat.com/ذاتی-اصلاح-کے-بغیر-معاشرے-کی-اصلاح-ممک-2/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”انسان کے دل میں اگر پختہ ایمان ہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق ہوتو…کوئی مشکل ایسی نہیں رہتی جو آسان نہ ہوجائے۔“ (خطباتِ محمود جلد 17 صفحہ344) - [سفر کے آداب اور اسلامی تعلیمات](https://mushahedat.com/سفر-کے-آداب-اور-اسلامی-تعلیمات/) - حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہوتے وقت یہ دعا بھی پڑھاکرتے تھے۔ سُبْحَانَ ا لَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِ نِیْنَ وَ اِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۔ (الزخرف:15:14) یعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اِسے ہمارے تابع فرمان کیا حالانکہ ہم میں اسے قابو میں رکھنے کی طاقت نہیں تھے اور ہم اپنے رب کی طرف جانے والے ہیں۔ - [مدرسہ میرا ، میری ذات میں ہے](https://mushahedat.com/مدرسہ-میرا-،-میری-ذات-میں-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ’’علم و حکمت ایسا خزانہ ہے جو تمام دولتوں سے اشرف ہے۔ دنیا کی تمام دولتوں کو فنا ہے لیکن علم و حکمت کو فنا نہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد 4 صفحہ161) - [رحمان خدا  اور اُس کے بندے](https://mushahedat.com/رحمان-خدا-اور-اُس-کے-بندے/) - حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” خدا کے حقیقی عبد قرآن کریم کے حوالے سے جو نصائح کی جائیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی روحانیت کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس عبادالرحمن بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر قسم کی نیک نصیحت پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ نہ دیکھیں کہ کون کہہ رہا ہے۔ یہ دیکھیں کہ جو بات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کی جا رہی ہے اس پر عمل کرنا ہے۔ ورنہ عمل نہ کرنا انسان کے لئے ٹھوکر کا باعث بن سکتا ہے۔“ - [مدینہ منورہ کی پہلی دو مساجد (مسجدِ قبا اور مسجدِ نبویؐ)](https://mushahedat.com/مدینہ-منورہ-کی-پہلی-دو-مساجد-مسجدِ-قبا/) - مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے ثواب کے حوالے سے سنن ترمذی میں لکھا ہے ۔ اَلصَّلاَة فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍکَعُمْرَۃٍ کہ مسجد قباء میں نماز پڑھنا عُمرہ کرنے کے ثواب کے برابرہے۔ ( ترمذی کتاب الصلوٰۃ باب ماجاء فی الصلوٰۃ فی مسجد قباء) آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے متعلق فرمایا ۔ مسجد حرام کے علاوہ باقی ہر مسجد میں نماز پڑھنے کی نسبت میری مسجد میں نماز ادا کرنا ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔ ( بخاری کتاب افضل الصلوٰۃ باب فضل الصلوٰۃ مکۃ و المدینہ) - [”تیری عاجزانہ راہیں اُس کو پسند آئیں “](https://mushahedat.com/تیری-عاجزانہ-راہیں-اُس-کو-پسند-آئیں/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میرا یہ مسلک نہیں کہ میں ایسا تُندخُواور بھیانک بن کر بیٹھوں کہ لوگ مجھ سے ایسے ڈریں جیسے درندہ سے ڈرتے ہیں اور مَیں بُت بننے سے سخت نفرت کرتا ہوں۔ مَیں تو بُت پرستی کے ردّ کرنے کو آیا ہوں نہ یہ کہ مَیں خود بُت بنوں اور لوگ میری پُوجا کریں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مَیں اپنے نفس کو دوسروں پر ذرا بھی ترجیح نہیں دیتا ۔ میرے نزدیک متکبِّر سے زیادہ کوئی بُت پرست اور خبیث نہیں۔ متکبِّر کسی خدا کی پرستش نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی پرستش کرتا ہے۔‘‘ (سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 41- 42) - [سیّدہ  بشریٰ بیگم صاحبہ بنت حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ](https://mushahedat.com/سیّدہ-بشریٰ-بیگم-صاحبہ-بنت-حضرت-میر-مح/) - مکرم سید سعید احمد صاحب اپنی اہلیہ محترمہ سیدہ بشریٰ بیگم صاحبہ کی وفات کے بعد ذکر خیر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ ’’مرحومہ ساری زندگی دینی شِعار پر قائم رہیں اور برقعہ پوشی ہر حال میں اپنائی حتّٰی کہ مشترکہ تقریبات میں بھی برقعہ پہن کرحصہ لیتی رہیں اور آپ پردہ پر اعتراض کرنے والوں کو اس مؤثر رنگ میں تعلیم پیش کرتیں کہ دوسری عورتیں فوراً قائل ہوجاتیں۔ ‘‘ (روزنامہ الفضل ربوہ 20؍جون 1997ء ) - [مکرم سیّد طالع احمد صاحب  شہید](https://mushahedat.com/مکرم-سیّد-طالع-احمد-صاحب-شہید/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم سید طالع احمد شہید کے متعلق اپنے خطبہ میں فرمایا: ’’ایک ہیرا تھا جو ہم سے جدا ہو گیا ہے۔ لیکن اس کا نقصان ایسا ہے جس نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اے میرے پیارے طالع! میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً تم نے اپنے وقف کے اعلیٰ ترین معیاروں کو قائم کر لیا ہے۔‘‘ - [محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب شہید](https://mushahedat.com/محترم-صاحبزادہ-مرزا-غلام-قادر-صاحب-شہی/) - محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب شہید کی شہادت پر حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا: اے شہید !تو ہمیشہ زندہ رہے گا اور ہم سب آکر ایک دن تجھ سے ملنے والے ہیں، زندہ باد، غلام قادر شہید، پائندہ باد۔‘‘ - [مکرم سیّد میر مسعود احمد صاحب](https://mushahedat.com/مکرم-سیّد-میر-مسعود-احمد-صاحب/) - مکرم سیّد میر مسعود احمد صاحب ایک بہت بڑی علمی شخصیت تھے ۔ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ کتب اور سلسلہ تاریخ کا بڑا گہرا اور وسیع علم تھا ۔ آپ کی ہر بات با دلیل اور جماعتی روایات کے مطابق ہوتی ۔ بہت محبت کرنے والے وجود تھے ۔ وسیع النظر اور وسیع القلب تھے ۔ سادہ لباس زیب تن کرتے ۔ ہمیشہ مسکرا کر بات کرتے اور طبیعت میں پاکیزہ مزاح کا رنگ بھی تھا ۔ - [مکرم نواب عباس احمدخان صاحب](https://mushahedat.com/مکرم-نواب-عباس-احمدخان-صاحب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آپ کے خطبہ نکاح میں فرمایا کہ عزیز عباس احمد خان ہمارے خاندان میں سے دوسرا بچہ ہے جو حقیقی طور پر دین کی خدمت کرنے کے لئے تیاری کر رہا ہے اوراس نے اپنی زندگی دین کے لئے وقف کی ہوئی ہے… اور عزم اور ارادہ کے ساتھ باقاعدہ دینی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ - [مکرمہ سیّدہ امۃ اللطیف صاحبہ حرمِ ثانی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ](https://mushahedat.com/مکرمہ-سیّدہ-امۃ-اللطیف-صاحبہ-حرمِ-ثانی/) - حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحبؓ خداتعالیٰ کی نعمتوں کا شمار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ عزیز رشتہ دار ایسے ملے کہ یا جنت میں ہیں یا جنت میں جائیں گے۔ہمسائے وہ ملے جو فرشتہ سیرت ہیں۔ بیویاں ہیں کہ تیس سال سے ایک نے دوسری کو تُو کہہ کر خطاب نہیں کیا۔‘‘ - [مکرمہ سیّدہ شوکت سلطانہ صاحبہ حرم اوّل حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ](https://mushahedat.com/مکرمہ-سیّدہ-شوکت-سلطانہ-صاحبہ-حرم-اوّل/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مکتوب میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ کو سیّدہ شوکت سلطانہ صاحبہ کے رشتہ کے متعلق تحریر فرمایا: ’’ میرے نزدیک اور میری رائے میں اس رشتہ کو مبارک سمجھو اور اس کو قبول کرلو اور اگر تم نے ایسا کیا تو مَیں بھی تمہارے لیے دعا کروں گا۔“ (سیرت المہدی جلد اوّل روایت809 صفحہ 737از حضرت مرزا بشیر احمدؓ ) - [سیرت حضرت سیَّد بیگم نانی جان رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-سیَّد-بیگم-نانی-جان-رضی-اللہ-ع/) - حضرت سیّد بیگم صاحبہؓ کے اخلاص اور سیرت کے متعلق حضرت میر ناصر نواب صاحب فرماتے ہیں کہ ’’اس با برکت بیوی نے جس سے میرا پالا پڑا تھا مجھے بہت ہی آرام دیا اور نہا یت ہی وفاداری سے میرے ساتھ اوقات بسری کی اور ہمیشہ نیک صلاح دیتی رہی، کبھی مجھ پر ناجا ئز دباؤ نہیں ڈالا ،نہ میری طاقت سے بڑھ کر تکلیف دی۔ میرے بچو ں کو بہت ہی شفقت اور جانفشانی سے پالا۔ نہ کبھی بچوں کو کوسا نہ مارا۔ اللہ تعالیٰ اسے دین ودنیا میں سرخرو رکھے اور بعد انتقال جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرماوے۔ بہرحال عُسر اور یُسر میں میراساتھ دیا۔ جس کو میں نے مانا اس کو اس نے مانا۔ جس کو مَیں نے پیر بنایا اس نے بھی اس سے بلا تامل بیعت کی۔ چنانچہ عبد اللہ صاحب غزنوی کی میرے ساتھ بیعت کی۔ نیز مرزا صاحبؑ کو جب مَیں نے تسلیم کیا تو اس نے بھی مان لیا۔ ایسی بیویاں بھی دنیا میں کم نظر آتی ہیں۔ یہ بھی میری ایک خوش نصیبی ہے جس کا مَیں شکر گزار ہو ں۔ کئی لوگ بسبب دینی اور دنیوی اختلاف کے بیویوں کے ہاتھ سے نالاں پائے جاتے ہیں جو گویا کہ دنیا کی دوزخ میں داخل ہو جاتے ہیں۔ مَیں تو اپنی بیوی کے نیک سلوک سے دنیا میں ہی جنت میں ہوں۔ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡ تِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ ذُوالۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ۔‘‘( الحدید: 22) - [مکرم سیّد داؤد مظفر شاہ صاحب](https://mushahedat.com/مکرم-سیّد-داؤد-مظفر-شاہ-صاحب/) - مکرم سیّد داؤد مظفر شاہ صاحب کے تلاوتِ قرآن کے بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ میں بیان فرمایا کہ ’’ قرآنِ کریم سے بھی اُن کوایک عشق تھا۔ روزانہ کئی سپارے پڑھ جاتے تھے۔پانچ چھ سپارے کم از کم، بلکہ بعض دفعہ سات آٹھ اور اس وجہ سے ایک بڑا حصہ یاد بھی تھا۔‘‘ (خطبہ جمعہ بیان فرمودہ11مارچ2011ء ) - [مکرمہ صاحبزادی محمودہ بیگم صاحبہ اہلیہ صاحبزادہ  ڈاکٹر مرزا منور احمد  صاحب](https://mushahedat.com/مکرمہ-صاحبزادی-محمودہ-بیگم-صاحبہ-اہلی/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جب منصبِ خلافت پر متمکن ہوئے تو کسی نے باتوں باتوں میں صاحبزادی محمودہ بیگم صاحبہ سے پوچھا کہ یہ تو آپ کی عمر کے لحاظ سے بہت ہی چھوٹے ہیں اب اِن کو خط میں کیسے مخاطب کریں گی؟ تو فرمانے لگیں کہ مَیں لکھوں گی: ” میرے پیارے سیدی بیٹے!“ - [مکرم صاحبزادہ ڈاکٹرمرزا منور احمد صاحب](https://mushahedat.com/مکرم-صاحبزادہ-ڈاکٹرمرزا-منور-احمد-صاح/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نےصاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمدصاحب کے بارہ میں فرمایا کہ ’’ ایسی حیرت انگیز محبت اِن کو خلافت سے تھی اور اس کا احترام ملحوظ تھا کہ جب وہ ملتے تھے تو جس محبت اور خلوص سے ملتے تھے مَیں شرم سے پانی پانی ہو جاتا تھا ۔ بعض دفعہ طبیعت پر بوجھ ہوتا تھا کہ اب یہ سب کے سامنے آکر اس طرح اظہار کریں گے تو میرا کیا حال ہو گا ۔ بڑے بھائی تھے اور اس سے پہلے زندگی میں وہ ناراض بھی ہوا کرتے تھے ۔ ان کا بالکل ایک اور رنگ کا تعلق تھا لیکن جب سے خدا تعالیٰ نے خلافت کا منصب عطا کیا اُن کی کیفیت ہی بدل گئی اور سب بھائیوں میں مَیں نے اس پہلو سے سب سے زیادہ اُن میں امتیاز دیکھا ہے ۔ ایک غیر معمولی امتیازی شان پائی ہے ۔‘‘ ( ہفت روزہ بدر قادیان 25اکتوبر 1990ء ) - [ہے کوئی مانگنے والا؟](https://mushahedat.com/ہے-کوئی-مانگنے-والا؟/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہىں: ’’مىرا دل ہر گز قبول نہىں کرتا کہ ہمارى جماعت مىں جو سچا تقوىٰ اور طہارت رکھتا ہے اور خدا سے اُسے سچا تعلق ہے پھر خدا اُسے ذلّت کى موت مارے……اس لئے راتوں کو اُٹھ کر روؤ۔ دعائیں مانگو اور اس طرح سے اپنے ارد گرد ایک دیوار رحمت بنا لو۔ خدا رحیم کریم ہے وہ اپنے خاص بندہ کو ذلّت کى موت کبھى نہىں مارتا……مجھے امید ہے کہ جو پورے درد والا ہو گا اور جس کا دل شرارت سے دُور نکل گیا ہے خدا اسے ضرور بچاوے گا۔ توبہ کرو، توبہ کرو۔ مجھے یاد ہے کہ اىک مرتبہ مجھے الہام ہوا تھا اردو زبان مىں۔ ’’آگ سے ہمىں مت ڈرا، آگ ہمارى غلام بلکہ غلاموں کى غلام ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ384-385) - [بد ظنی سے بچو](https://mushahedat.com/بد-ظنی-سے-بچو/) - نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے۔ حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَۃِ کہ حسنِ ظن تو حسنِ عبادت ہے۔ (ابو داؤد) - [وقت کی پابندی کی اہمیت](https://mushahedat.com/وقت-کی-پابندی-کی-اہمیت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ”رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں اور لغو باتوں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہوجاتےہیں۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد13 صفحہ359) - [اسلام کی اخلاقی تعلیمات](https://mushahedat.com/اسلام-کی-اخلاقی-تعلیمات/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہاں یہ مبارک مذہب جس کا نام اسلام ہے وہی ایک مذہب ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور وہی ایک مذہب ہے جو انسانی فطرت کے پاک تقاضوں کو پُورا کرنے والاہے۔“ ( حقیقۃالوحی ،روحانی خزائن جلد22 صفحہ64) - [حضرت مسیح موعودؑ کی بعض اہم مواقع کی دعائیں](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-بعض-اہم-مواقع-کی-دعا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے روزہ کی توفیق چاہنے کے لئے دعا کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا۔ ”ہر شے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے۔ خداتعالیٰ تو قادرِ مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقُوق کو بھی روزہ کی طاقت عطاکرسکتا ہے… پس میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان) دعا کرے۔ کہ الہی! یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور مَیں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا اِن فوت شدہ روزوں کو اداکرسکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خداتعالیٰ طاقت بخش دے گا۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ563) - [حضرت مسیح موعودؑ کی بعض احباب کو خصوصی دعاؤں کی ترغیب](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-بعض-احباب-کو-خصوصی-د/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : رات کے آخری پہر میں اُٹھو اور وضوکرو اور چند دوگانہ اخلاص سے بجالاؤ اور دردمندی اور عاجزی سے یہ دعا کرو۔ ”اے میرے محسن اور میرے خدا! مَیں ایک تیرا ناکارہ بندہ پُرمعصیت اور پُر غفلت ہوں۔ تو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پرانعام کیا اور گناہ پر گناہ دیکھا اور احسان پر احسان کیا۔ تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا۔ سو اب بھی مجھ نالائق اور پرگناہ پر رحم کر اور میری بے باکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس غم سے نجات بخش کہ بجز تیرے اورکوئی چارہ گر نہیں۔آمین! ثم آمین۔“ (مکتوبات احمدیہ جلد5مکتوب نمبر2صفحہ3) - [حضرت مسیح موعودؑ کی چند مقبول دعائیں ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-چند-مقبول-دعائیں-ت-2/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مصائب ومشکلات، گناہوں اور غم سے نجات کی ایک دعا ”اے ہمارے ربّ! ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری مصیبتیں اور تکلیفیں دور کردے اور ہمارے دلوں کو ہر غم سے نجات دے اور ہمارے معاملات خود سنبھال لے اور اے ہمارے محبوب! ہم جہاں بھی ہوں تو ہمارے ساتھ ہو اور ہماری کمزوریاں ڈھانپ دے اور ہمارے خوفوں سے امن دے۔ہم نے تجھ پر توکل کیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا۔اس دنیا میں اور آخرت میں تو ہی ہمارا مولیٰ ہے اور تو ہی سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔اے رب العالمین! قبول فرمالے۔“ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد17صفحہ 182) - [حضرت مسیح موعودؑ کی چند مقبول دعائیں ( تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-چند-مقبول-دعائیں-ت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ کے حضور عرض کرتے ہیں۔ ”میں گنہگار ہوں اور کمزورہوں تیری دستگیری اور فضل کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا تو آپ رحم فرما مجھے پاک کر کیونکہ تیرے فضل وکرم کے سوا کوئی اور نہیں جو مجھے پاک.کرے۔“ (البدر جلد3صفحہ41) - [حضرت مسیح موعودؑ کی چند الہامی دعائیں](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-چند-الہامی-دعائیں/) - اضافہ علم ومعرفت کے لئے 7جون 1906ء کو یہ دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوئی۔ رَبِّ اَرِنِیْ اَنوَارَکَ الکُلِیَّۃَ کہ اے میرے رب! مجھے اپنے وہ انوار دکھا۔ جو محیط کل ہوں۔ (تذکرہ صفحہ534) - [استاذی المکرم حضرت سید میر داؤد احمد صاحب](https://mushahedat.com/استاذی-المکرم-حضرت-سید-میر-داؤد-احمد-صا/) - ایک دفعہ سید میر داؤد احمد صاحب کو ایک خاص شعبہ کی سپردگی کی وجہ سے اضافی الاؤنس دینے کا فیصلہ ہوا۔ آپ نے فرمایا مجھے جو الاؤنس ملتا ہے وہ 24 گھنٹے یومیہ خدمت کا ہے۔ جوگزارہ مجھے مل رہا ہے یہ سلسلہ کا احسان ہے۔ اِس لئے میرے اضافی الاؤنس کا فیصلہ واپس لیاجائے ۔ (سیرت داؤد صفحہ 125) - [حضرت سیّدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ المعروف اُمِّ داؤد](https://mushahedat.com/حضرت-سیّدہ-صالحہ-بیگم-صاحبہؓ-المعروف-ا/) - حضرت سیّدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ حضرت پیر منظور محمد صاحبؓ موجد ’’قاعدہ یسرناالقرآن‘‘ کی بیٹی،بزرگ صوفی حضرت احمد جان صاحب لدھیانویؓ کی پوتی اور حضرت امّاں جانؓ کے بھائی حضرت میر محمد اسحٰق صاحبؓ کی اہلیہ تھیں ۔ آپؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کا زمانہ پایا ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے خود اِن کو تعلیم دی تھی۔ حضرت پیرصاحبؓ اپنی اس بیٹی کو قاعدہ پڑھاتے جا تے تھے اور مشہورِ زمانہ قاعدہ تصنیف کرتے جا تے تھے۔ - [مکرم  صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب](https://mushahedat.com/مکرم-صاحبزادہ-مرزا-غلام-احمد-صاحب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب اور محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کے بارے میں فرمایا تھا کہ ’’یہ ہر دو خلافت کے وفادار ہیں اورمیرے وفادار ہیں‘‘ - [مکرم  صاحبزادہ  الحاج مرزا خورشید احمد صاحب](https://mushahedat.com/مکرم-صاحبزادہ-الحاج-مرزا-خورشید-احم/) - حضرت مصلح موعودؓ نے صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کے نکاح کے موقع پر فرمایا: ’’ یہ لڑکا بھی ہمارے خاندان میں سے وقف ہے ۔ مرزا عزیز احمد صاحب کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اپنے اس بچے کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں ۔ چنانچہ ان کا یہ لڑکا ایم اے میں پڑھ رہا ہے ابھی پاس تو نہیں ہوا مگر انگریزی میں ایم اے کا امتحان دے رہا ہے اور کہتے ہیں انگریزی میں بڑا لائق ہے ۔ میرا ارادہ ہے کہ بعد میں یہ کالج میں پروفیسر کے طور پر کام کرے ۔ ‘‘ (خطباتِ محمود جلد 3 صفحہ 622 تا 625 ) - [مکرمہ صاحبزادی امۃ القدوس صاحبہ](https://mushahedat.com/مکرمہ-صاحبزادی-امۃ-القدوس-صاحبہ/) - صاحبزادی امۃ القدوس صاحبہ کی ایک صاحبزادی بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ کسی نے آپ کے سامنے ذکر کیا کہ فلاں شخص نے ربوہ میں بڑا عالیشان گھر بنایا ہے تو آپ نے اس پہ کہا مَیں نے اللہ سے ایک بات کی ہے کہ مجھے قادیان میں یہ برکتوں والا گھر ملا ہے یعنی یہاں رہنے کی توفیق ملی اور یہاں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی بہو بن کے آئی ہوں میرے لیے یہی بہت ہے۔ ہاں جنت میں مجھے ضرور ایک عالیشان گھر عطا کرنا۔ - [سیرت حضرت صاحبزادی امۃ القیوم  بیگم صاحبہ](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-صاحبزادی-امۃ-القیوم-بیگم-صا/) - صاحبزادی امۃ القیوم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ جب میری شادی ہوئی تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کو لکھا کہ مَیں نے اپنی اس بچی کو 14سال تک ہتھیلی کے چھالے کی طرح رکھا ہے۔ اگر کوئی اس کی طرف دیکھتا تھا تو میری نظر فوراً اٹھتی تھی کہ اس آنکھ میں پیار کے سوا کچھ اور تو نہیں۔ (سیرت و سوانح حضرت سیدہ امۃ الحیٔ بیگم صاحبہ صفحہ 110-111۔ لجنہ اماء اللہ لاہور) - [سیرت حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحبؓ](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-صاحبزادہ-مرزا-عزیز-احمد-صاحب/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں: ’’20؍اکتوبر 1899ء کو خواب میں مجھے یہ دکھایا گیا کہ ایک لڑکاہے جس کا نام عزیز ہے اور اس کے باپ کے نام پر سلطان کا لفظ ہے۔ وہ لڑکا پکڑ کر میرے پاس لایا گیا اور میرے سامنے بٹھایا گیا۔ مَیں نے دیکھا ایک پُتلا سا گورے رنگ کا ہے۔ ‘‘ (تذکرہ صفحہ 248 جدیدایڈیشن) - [دوسروں کی تکلیف کا احساس](https://mushahedat.com/دوسروں-کی-تکلیف-کا-احساس/) - حضرت مفتی محمد صادق صاحب روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ”ہمارے بڑے اصول دو ہیں۔ اول خدا کے ساتھ تعلق صاف رکھنا اور دوسرے اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور اخلاق سے پیش آنا۔“ (ذکر حبیب صفحہ180) - [وَرتاوا](https://mushahedat.com/وَرتاوا/) - حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں: تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ دشمنی ہے اُن میں سے ایک وہ شخص ہے جو مسلمان ہوکر جاہلیت کی رسموں پر چلناچاہے۔ (بخاری کتاب الدیات) - [سامانِ زیست](https://mushahedat.com/سامانِ-زیست/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اپنے ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”اس الہام (خُذُوْا الرِّفْقَ الرِّفْقَ فَاِنَّ الرِّفْقَ رَاْسُ الْخَیْرَاتِ کہ نرمی کرو ، نرمی کرو کہ تمام نیکیوں کا سر نرمی ہے) میں تمام جماعت کے لیے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں وہ ان کی کنیزیں نہیں ہیں ۔ در حقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے ۔ پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغاباز نہ ٹھہرو ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ( النساء:20) یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی کرو اور حدیث میں ہے خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ بِاَھْلِہٖ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے ۔ سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ ان کے لیے دُعا کرتے رہو اور طلاق سے پرہیز کرو کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے ۔ جس کو خدا نے چھوڑا ہے اس کو ایک گندہ برتن کی طرح جلد مت توڑو ۔“ ( اربعین نمبر3، روحانی خزائن جلد 17صفحہ 428 حاشیہ ) - [بد ظنی کھا گئی ہے سبھی رشتوں کو](https://mushahedat.com/بد-ظنی-کھا-گئی-ہے-سبھی-رشتوں-کو/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ”بد ظنی بہت بُری چیز ہے ۔انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے اور بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ انسان خدا پر بدظنی شروع کر دیتا ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ375 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کے قبولیت دعا کے ایمان افروز واقعات](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کے-قبولیت-دعا-کے-ایمان/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیراعظم پٹیالہ کسی ابتلا اور فکر اور غم میں مبتلا تھے ان کی طرف سے متواتر دعا کی درخواست ہوئی۔ اتفاقاً ایک دن یہ الہام ہوا۔ چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیجئے قبول ہے آج اس وقت مجھے یاد آیا کہ آج انہیں کے لئے دعا کی جائے۔ چنانچہ دعا کی گئی اور تھوڑے عرصہ کے بعد انہوں نے ابتلاء سے رہائی پائی اور بذریعہ خط اپنی رہائی سے اطلاع.دی۔“ (نزول المسیح ،روحانی خزائن جلد18صفحہ603) - [دعاؤں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کانمونہ](https://mushahedat.com/دعاؤں-میں-حضرت-مسیح-موعود-علیہ-السلام-ک/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”سب سے عمدہ دعا یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی رضامندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو۔ کیونکہ گناہوں ہی سے دل سخت ہو جاتا اور انسان دنیا کا کیڑا بن جاتا ہے۔ ہماری دعا یہ ہونی چاہئے کہ خداتعالیٰ ہم سے گناہوں کو جودل کوسخت کردیتے ہیں دور کردے اور اپنی رضامندی کی راہ دکھلائے۔“ (ملفوظات جلد4 صفحہ 30) - [آدابِ دعا (بزبانِ مبارک حضرت مسیح موعودؑ )](https://mushahedat.com/آدابِ-دعا-بزبانِ-مبارک-حضرت-مسیح-موعود/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”بہت سی دعاؤں کے ردّ ہونے کا یہ بھی سِرّ ہے کہ دعا کرنے والا اپنی ضعیف الایمانی سے دعا کو مسترد کرالیتا ہے۔“ (ملفوظات جلد2صفحہ702) - [دُعاکی حقیقت،اہمیت اور برکات (از روئے تحریرات حضرت مسیح موعودؑ )](https://mushahedat.com/دُعاکی-حقیقت،اہمیت-اور-برکات-از-روئے-ت/) - قبولیت دعا کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے۔ بلکہ اسبابِ طبیعہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔“ (برکات الدعا ،روحانی خزائن جلد6صفحہ11) - [سیرت حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-میر-ناصر-نواب-صاحبؓ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےحضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’نہایت یکرنگ اور صاف باطن اور خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول کی اتباع کو سب چیز سے مقدم سمجھتےہیں‘‘ - [آنحضرتؐ  کی مقبول  دعاؤں  کے کرشمے ( تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/آنحضرتؐ-کی-مقبول-دعاؤں-کے-کرشمے-تقر-2/) - ایک جنگ میں مسلمانوں کو سخت پیاس کا سامنا کرنا پڑا، پانی میسر نہ تھا۔حضرت عمر ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کی۔ آپؐ نے دعا کی، ’’اچانک ایک بادل اٹھا اور اتنا برسا کہ مسلمانوں کی ضرورت پوری ہو گئی اور پھر وہ بادل چھٹ گئے۔“ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد 1 صفحہ457) - [آنحضرتؐ  کی مقبول  دعاؤں  کے کرشمے ( تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/آنحضرتؐ-کی-مقبول-دعاؤں-کے-کرشمے-تقر/) - حضرت جابرؓ کے والد حضرت عبداللہ ؓ شہید ہو گئے تھے جن کے ذمہ یہودی ساہوکاروں کا کچھ قرض تھا،جس کا وہ حضرت جابرؓ سے سختی کے ساتھ مطالبہ کر رہے تھے۔پتہ چلنے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ میں تشریف لا کر دعا کی۔ اس دعا کی برکت سے کھجور کا اتنا پھل ہوا کہ قرض ادا کر کے بھی نصف کے قریب کھجور بچ رہی۔ (بخاری کتاب المغازی باب غزوہ احد و کتاب الاستقراض) - [قبولیت دعا کے مواقع،اوقات اور گھڑیاں (آنحضورؐ کے ارشادات کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/قبولیت-دعا-کے-مواقع،اوقات-اور-گھڑیاں-آ/) - حضرت عائشہؓ کی ایک اور روایت ہے کہ ’’ایک رات میری باری میں آپؐ باہر تشریف لے گئے، مَیں پیچھے گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک کپڑے کی طرح آپؐ زمین پر پڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں: سَجَدَکَ لَکَ سَوَادِیْ وَ خِیَالِی وَ آمَنَ لَکَ فُؤَادِیْ رَبّ ھٰذِہ یَدَایٰ وَ مَا جَنَیْتَ بِھَا عَلیٰ نَفْسِی یَا عَظِیْماً یُرجیٰ لِکُلِّ عَظِیمْ اِغْفِرْ لِذَنْبِّ الْعَظِیْم (مجمع الزورائدا ھیشمی جلد2 صفحہ128) کہ اے اللہ! تیرے لئے میرے جسم و جاں سجدے میں ہیں۔ میرا دل تجھ پر ایمان لاتا ہے۔ اے میرے رب! یہ میرے دونوں ہاتھ تیرے سامنے پھیلے ہیں اور جو کچھ مَیں نے ان کے ساتھ اپنی جان پر ظلم کیا وہ بھی تیرے سامنے ہے۔ اے عظیم! جس سے ہر عظیم بات کی امید کی جاتی ہے، عظیم گناہوں کو تو بخش دے۔“ پھر فرمایا: ’’اے عائشہ! جبریلؑ نے مجھے یہ الفاظ پڑھنے کے لیے کہا، تم بھی اپنے سجدوں میں یہ پڑھا کرو، جو شخص یہ کلمات پڑھے، سجدے سے سراٹھانے سے پہلے بخشا جاتا ہے۔“ - [حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ](https://mushahedat.com/حضرت-ڈاکٹر-میر-محمد-اسماعیل-صاحبؓ/) - حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ کی مشہور نعت عَلَیْکَ الصّٰلٰوۃُ عَلَیْکَ السَّلَامکے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جب سے مَیں نے ہوش سنبھالی ہے کبھی ایسی نعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعتوں کے بعد نہ سنی، نہ دیکھی اور میرا خیال ہے کہ ہمیشہ کے لیے یہ نعت حضرت میر صاحبؓ .کو خراج تحسین پیش کرتی رہے گی۔‘‘ - [حسدِ محمود](https://mushahedat.com/حسدِ-محمود/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”حسد ہمیشہ بُرانہیں ہوتا۔ بلکہ اگر نیکیوں کے حصول کے واسطے حسد کیا جائے تو وہ حسدِ محمود ہے۔“ (حقائق الفرقان جلد4 صفحہ 576) - [عزم  و  ہمت](https://mushahedat.com/عزم-و-ہمت/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ” آپؐ ...تنہا غارِ حرا میں جاکر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے...اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپ اس قدر فنا ہو چکے تھے کہ آپ اس تنہائی میں ہی پوری لذّت اور ذوق پاتے تھے۔ایسی جگہ میں جہا ں کوئی آرام کا اور راحت کا سامان نہ تھا اور جہاں جاتے ہوئے بھی ڈرلگتا ہو آپ وہاں کئی کئی راتیں تنہاگزارتے تھے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کیسے بہادر اور شجاع تھے۔ “ (ملفوظات) - [رزقِ حلال اور اِس کا انسانی اخلاق پر اثر](https://mushahedat.com/رزقِ-حلال-اور-اِس-کا-انسانی-اخلاق-پر-اثر/) - رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جبکہ آدمی یہ پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ جو کچھ حاصل کررہا ہے آیا کہ وہ حلال ہے یا حرام ہے۔ ( صحیح بخاری ،سنن نسائی ) - [ہمسائے کے حقوق](https://mushahedat.com/ہمسائے-کے-حقوق/) - حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا مجھے کس طرح معلوم ہو کہ مَیں اچھا کر رہا ہوں یا بُرا کر رہا ہوں - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم بڑے اچھے ہو تو سمجھ لو کہ تمہارا طرزِعمل اچھا ہے اور جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم بڑے بُرے ہو تو سمجھ لو کہ تمہارا رویہ بُراہے۔ ( ابن ماجہ ابواب الذھد باب ثناء الحسن ) - [حضرت صاحبزادی امۃالعزیز بیگم صاحبہ](https://mushahedat.com/حضرت-صاحبزادی-امۃالعزیز-بیگم-صاحبہ/) - حضورانور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحبزادی امۃالعزیز بیگم صاحبہ کے متعلق فرمایا : ’’بڑی صبر کرنے والی تھیں۔ توکّل کا اعلیٰ مقام تھا۔ نیک تھیں، ملنسار تھیں، بڑی دعاگو تھیں، نمازیں بڑے انہماک اور تو جہ سے ادا کرتیں۔ ان کی نما زیں بڑی لمبی ہوا کرتی تھیں۔ کئی کئی گھنٹے مغر ب کی نماز عشاء تک اور عشاء کی نماز آگے کئی گھنٹے تک تو مَیں نے ان کو پڑ ھتے د یکھا ہے اور یہ روزانہ کا معمو ل تھا۔ اللہ کے فضل سے بڑی دعاگو، غریب پرور خاتون تھیں۔ آپ کو خلافت سے بڑا تعلق تھا۔ مجھے بھی بڑی عقیدت سے خط لکھا کرتی تھیں۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 10اگست2007ء ) - [سیرت حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-صاحبزادہ-مرزا-وسیم-احمد-صاحب/) - حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی وفات پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ میں فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فرزند اور آپؓ کی نشانی کے درجات بلند فرمائے جس نے اپنے درویشی کے عہد کو نبھایا اور خوب نبھایا۔ قدرتی طور پر ان کی وفات کے ساتھ مجھے فکرمندی بھی ہوئی کہ ایک کام کرنے والا بزرگ ہم سے جدا ہو گیا۔ وہ صرف میرے ماموں نہیں تھے بلکہ میرے دست راست تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں میرا سلطانِ نصیر بنایا ہوا تھا۔ تو فکر مندی تو بہرحال ہوئی لیکن پھر اللہ تعالیٰ کے سلوک اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو دیکھ کر تسلی ہوتی ہے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 4مئی2007ء) - [حضرت صاحبزادی امۃ النصیر صاحبہ](https://mushahedat.com/حضرت-صاحبزادی-امۃ-النصیر-صاحبہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ حضرت صاحبزادی امۃ النصیر صاحبہ کے متعلق فرماتے ہیں : ’’ مَیں پہلے بھی جب اُن کے گھر گیا ہوں توہمیشہ خوب خاطر مدارات کی جس طرح کہ بڑوں کی کی جاتی ہے اور خلافت کے بعد تو اُن کا تعلق پیار اور محبت کا اور بھی بڑھ گیا۔ اطاعت اور احترام بھی اُس میں شامل ہو گیا۔ باقاعدہ دعا کے لئے خط بھی لکھتی تھیں، پیغام بھی بھجواتی تھیں۔ خلافت کے ساتھ اظہار غیر معمولی تھا۔ یہاں دو مرتبہ جلسے پر آئی ہیں۔ انتہائی ادب اور احترام اور خلافت کا انتہا درجے میں پاس جو کسی بھی احمدی میں ہونا چاہئے وہ اُن میں اُس سے بڑھ کر تھا۔ اس حد تک کہ بعض دفعہ اُن کے سلوک سے شرمندگی ہوتی تھی۔ خلافت سے محبت اور وفا کے ضمن میں یہ بھی بتا دوں کہ وہ اس میں اس قدر بڑھی ہوئی تھیں کہ کسی بھی قریبی رشتے کی پرواہ نہیں کرتی تھیں اور اس وجہ سے بعض دفعہ اُن کو بعض پریشانیاں بھی اُٹھانی پڑیں لیکن ہمیشہ خلافت کے لئے وہ ایک ڈھال کی طرح کھڑی رہیں۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ18نومبر2011ء ) - [حضرت صاحبزادہ مرزا انس احمد  صاحب](https://mushahedat.com/حضرت-صاحبزادہ-مرزا-انس-احمد-صاحب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ حضرت صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب کے متعلق فرماتے ہیں : ’’ مختلف لوگوں نے خلافت سے تعلق میں جو لکھا ہے اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ان کا تعلق تھا اور انہوں نے اپنے ہر عمل سے اور اپنے ہر نمونے سے اس تعلق کا اظہار کیا۔ اور بلکہ جب خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے مجھے امیر مقامی اور ناظر اعلیٰ مقرر کیا ہے تو اس وقت بھی خلافت کی اطاعت کی وجہ سے انہوں نے کامل اطاعت امیر کی بھی کی اور بڑا لحاظ رکھا باوجود اس کے کہ میں عمر میں ان سے کم از کم تیرہ چودہ سال چھوٹا تھا اور اس وقت بھی کامل اطاعت کی اور ہمیشہ انتہائی وفا کا نمونہ خلافت کے بعد بھی انہوں نے دکھایا۔ کامل اطاعت کا نمونہ دکھایا۔‘‘ (خطبہ جمعہ21دسمبر2018ء ) - [مکرمہ صاحبزادی امۃ الباسط صاحبہ المعروف بی بی باچھی](https://mushahedat.com/مکرمہ-صاحبزادی-امۃ-الباسط-صاحبہ-المعر/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ صاحبزادی امۃ الباسط صاحبہ کے بارے میں خطبہ جمعہ میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’خلافت سے بے انتہا محبت کا تعلق تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے بھائی تھے۔خلافت کے بعد وہ احترام دیا جو خلافت کا حق ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے جو دوسرے بہن بھائی ہیں انہوں نے ایک دفعہ باتوں میں اُن سے پوچھا کہ پہلے تو نام لیتے تھے اب ادب و احترام کے دائرے میں ان کو مخاطب کرنے یا اُن سے بات کرنے کے لیے آپ کس طرح اُن کو مخاطب کرتی ہیں ۔ تو کہنے لگیں کہ اب وہ خلیفۂ وقت ہیں ۔ مَیں تو خلیفہ وقت ہی کہتی ہوں تا کہ خلافت کا احترام قائم رہے اور ذاتی رشتوں پر خلافت کا رشتہ مقدم رہے ۔ میرے بارے میں کسی نے پوچھا کہ اب کس طرح مخاطب کریں گی تو فرمانے لگیں کہ میرے نزدیک خلافت کا رشتہ سب سے مقدم ہے۔ جس طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتی تھی اسی طرح ان کو مخاطب کروں گی۔ خلافت کے بعد اپنی خالاؤں میں میری سب سے پہلی ملاقات شایدان سے ہوئی اور ان کی آنکھوں میں، الفاظ میں، بات چیت میں جو فوری غیر معمولی احترام مَیں نے دیکھا وہ حیران کن تھا۔ “ ( خطبہ جمعہ یکم ستمبر2006ء ) - [حضرت صاحبزادی امۃالسلام صاحبہؓ](https://mushahedat.com/حضرت-صاحبزادی-امۃالسلام-صاحبہؓ/) - حضرت صاحبزادی امۃالسلام صاحبہؓ کی پیدائش حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہوئی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپؓ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور اپنی شہادت کی انگلی سے اپنی پیاری پوتی کو شہد چٹاکر گھٹی دی۔ حضورؑنے ہی آپ کانام امۃالسلام رکھا۔ حضرت مسیح موعودؑ جب حضرت اماں جانؓ کے پاس بیٹھے ہوتے تو حضرت اماں جانؓ بعض اوقات حضورؑ کی گود میں پوتی دے دیتیں۔ آپؑ اپنے بازومیں پوتی لے کر بہت خوش ہوتے اور زیرِلب بچی کے لیے دعائیں کرتے۔ - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت مربی اعظم (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-بحیثیت-مربی-2/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تربیت کی خاطر بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ حتّٰی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کو کسی کے گھر جانے کے آداب بھی سکھلائے۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ: ’’ایک دفعہ مَیں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا، دروازہ کھٹکھٹایا۔آپؐ نے فرمایا: ’’کون ہے؟‘‘۔ مَیں نے عرض کیا: ’’مَیں‘‘۔آپؐ نے فرمایا: ’’مَیں‘کیا مطلب ہوا؟‘‘یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نا پسند کیا اور یہ چاہا کہ نام لیا جائے۔ چنانچہ بعد میں صحابہؓ نام لے کر اجازت لیا کرتے تھے۔ (بخاری کتاب الصلٰوۃ باب حد اتمام الرکوع) - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت مربی اعظم (تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-بحیثیت-مربی-ا/) - معاویہ بن حکمؓ بیان کرتے ہیں: ’’ایک دفعہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران ایک آدمی کو چھینک آگئی۔ مَیں نے نماز میں ہی کہہ دیا ’ یَرْحَمْکُمُ اللّٰہُ کہ اللہ آپ پر رحم کرے‘۔ لوگ تعجب سے مجھے دیکھنے اور اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے خاموش کرانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ میں خاموش ہو گیا، نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں، میں نے آپؐ سے بہتر تعلیم دینے والا کوئی انسان نہیں دیکھا۔ آپؐ نے نہ مجھے مارا اور نہ بُرا بھلا کہا،صرف اتنا فرمایا: ’’نماز کے دوران کوئی اور بات کرنا جائز نہیں ہے۔ نماز تو ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور بڑائی کے اظہار پر مشتمل ہوتی ہے‘‘ (مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ:836) - [حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب](https://mushahedat.com/حضرت-صاحبزادہ-مرزا-منصور-احمد-صاحب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’ خلیفہ وقت ہی مرکز سلسلہ میں امیر مقامی ہوتا ہے لیکن ربوہ سے میری ہجرت کے بعد میرے حکم سے حضرت مرزا منصور احمد صاحب کو ربوہ کا امیر مقامی مقرر کیا گیا ۔ اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نمائندگی میں میری طرف سے حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کے بیٹے کو اپنی جگہ بٹھانا واقعاتی لحاظ سے ثابت کر رہا ہے کہ یہ دونوں الہامات یعنی ’’ اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں ‘‘ اور اَمَّرَہُ اللّٰہُ علیٰ خِلَافِ التَّوَقُّعِ ‘‘ نہایت صفائی کے ساتھ حضرت مرزا منصور احمد صاحب کی ذات میں پورے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ - [سیرت حضرت میر محمد اسحٰاق صاحب رضی اللہ عنہ](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-میر-محمد-اسحٰاق-صاحب-رضی-اللہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت میر محمد اسحٰاق صاحب رضی اللہ عنہ کی وفات پرفرمایا : ’’ میر محمد اسحٰق صاحب خدمتِ سلسلہ کے لحاظ سے غیر معمولی وجود تھے ۔ در حقیقت میرے بعد علمی لحاظ سے جماعت کا فکر انہی کو رہتا تھا ۔ وہ رات دن قرآن و حدیث پڑھانے میں لگے رہتے تھے ۔ زندگی کے اس آخری دَور میں کئی مرتبہ موت کے منہ سے بچے ۔ میر صاحب کی وفات سلسلہ کا نقصان ہے اور اتنا بڑا نقصان ہے کہ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ اس نقصان کا پورا کرنا آسان نہیں ۔ ‘‘ (الفضل 19مارچ1944ء ) - [جماعت احمدیہ کا تعارف](https://mushahedat.com/جماعت-احمدیہ-کا-تعارف/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں : ”مجھے اللہ جلشانہ کی قسم ہے کہ مَیں کافر نہیں لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مَحَمَّدُ رَّسُوۡلُ اللّٰہ میرا عقیدہ ہے اور لٰکِنِ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّنَ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت میرا ایمان ہے۔ مَیں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں جس قدر خداتعالیٰ کے پاک نام ہیں اور جس قدر قرآن کریم کے حرف ہیں اور جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خداتعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں۔ کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف نہیں … مَیں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کرکہتاہوں کہ میرا خدا اور رسول پر وُہ یقین ہے کہ اگر اس زمانہ کے تمام ایمانوں کو ترازو کے ایک پلّہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلّہ میں تو بفضلہٖ تعالیٰ یہی پلّہ بھاری ہوگا۔ “ ( کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلد 7صفحہ 67 ) - [اَمَرْبِاالْمَعْرُوْفْ نَہِیْ عَنِ الْمُنْکَرْ](https://mushahedat.com/اَمَرْبِاالْمَعْرُوْفْ-نَہِیْ-عَنِ/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک بات کا حکم دینا اور ناپسندیدہ باتوں سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ (مسلم کتاب الزکوٰۃ) - [درست تلاوتِ قرآنِ کریم کی اہمیت و ضرورت](https://mushahedat.com/درست-تلاوتِ-قرآنِ-کریم-کی-اہمیت-و-ضرورت/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خَیْرُ کُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ (بخاری ۔ کتاب فضائل القرآن) کہ تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھتا ہے اور سکھاتا ہے۔ - [خدا ایک پیارا خزانہ ہے](https://mushahedat.com/خدا-ایک-پیارا-خزانہ-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقینًا سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔ تم سوئے ہوئے ہو گے اور خدا تعالیٰ تمہارے لئے جاگے گا،تم دشمن سے غافل ہوگے اورخدا اسے دیکھے گا اوراس کے منصوبے کو توڑے گا۔تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں... خدا ایک پیارا خزانہ ہے اس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر ایک قدم میں تمہارا مددگار ہے۔تم بغیر اسکے کچھ بھی نہیں اور نہ تمہارے اسباب اور تدبیریں کچھ چیز ہیں۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ22) - [پانی کی ضرورت، اہمیت اور افادیت](https://mushahedat.com/پانی-کی-ضرورت،-اہمیت-اور-افادیت/) - حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ’’ مجھے خدا کی بزرگ کتاب قرآن مجید کے بعد حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے عشق ہے اور سرور کائنات کا کلام میرے لئے بطور غذا کے ہے کہ جب تک روزانہ اچھی غذا نہ ملنے کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔اِسی طرح بغیر سیدکونین کے کلام کو ایک دو دفعہ پڑھنے کے طبیعت بے چین رہتی ہے۔جب کبھی میری طبیعت گھبراتی ہے تو بجائے اس کے کہ مَیں باہر سیر کے لئے کسی باغ کی طرف نکل جاؤں مَیں بخاری یا حدیث کی کوئی اور کتاب نکال کر پڑھنے لگتا ہوں اور مجھے اپنے پیارے آقاؐ کے پیارے کلام کو پڑھ کر خدا کی قسم ویسی تفریح حاصل ہوتی ہے جو ایک غمزدہ گھر میں بند رہنے والے کو(پانی سے سیراب ۔ناقل) کسی خوشبو دار پھولوں والے باغ میں سیر کر کے ہو سکتی ہے۔‘‘ - [حفظِ قرآنِ کریم کی اہمیت و برکات](https://mushahedat.com/حفظِ-قرآنِ-کریم-کی-اہمیت-و-برکات/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص قرآن کریم کو حفظ کر لے گا اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو عذاب نہیں دے گا “ (سنن داری کتاب فضا ئل القرآن باب فضل من قراء القرآن) - [مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب المعروف ایم ایم احمدصاحب](https://mushahedat.com/مکرم-صاحبزادہ-مرزا-مظفر-احمد-صاحب-المع/) - آپ کی پیدائش پر اخبار ’’الحکم‘‘ (قادیان) نے شمارہ 7مارچ 1913ء صفحہ 11 پر ’’مبارک‘‘ کے زیر عنوان ایک روح پرورنوٹ سپردِ اشاعت کیا اور دعا کی: ’’اے خدا! اے رب السماء! اس مولود کو نافع الناس اور باپ اور دادا… کی طرح رحیم اور کریم انسان بنانا۔ والدین کے لئے قرۃ العین ہو دین کا خادم… اے مالک السماء! اس کو متقیوں کے لئے امام بنانا اس کو آسمانی بادشاہت کے تخت پر بٹھانا‘‘ - [محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمدصاحب مرحوم](https://mushahedat.com/محترم-صاحبزادہ-مرزا-مبارک-احمدصاحب-مر/) - آپ کی شخصیت مسحورکُن تھی، گوراچٹّا رنگ، لمبا قد، نہایت خوش لباس اور گفتگو میں شائستگی کی وجہ سے جو بھی آپ سے ملتا تھا آپ کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔ آپ کی پنجوقتہ نمازوں کی سختی سے پابندی کرتے تھے آپ اس سلسلہ میں فرمایا کرتے تھے کہ بچپن سے حضرت مصلح موعودؓ نے ہماری تربیت ایسی کی ہے کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے نماز قضا نہیں کرنی۔ - [حضرت صاحبزادی امۃالحکیم بیگم صاحبہ](https://mushahedat.com/حضرت-صاحبزادی-امۃالحکیم-بیگم-صاحبہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ حضرت صاحبزادی امۃالحکیم بیگم صاحبہ کی عائلی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ سید داؤد مظفر شاہ صاحب اور اُن کی اہلیہ سیدہ امۃ الحکیم بیگم صاحبہ ، یہ بھی ایک خوب اللہ کی ملائی جوڑی تھی۔ نیکیوں کے بجا لانے اور اعلیٰ اخلاق دکھانے میں یہ دونوں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ عام طورپر ہم دیکھتے ہیں کہ گھروں میں میاں بیوی کی بعض دفعہ اس لئے اَن بَن ہو جاتی ہے کہ یہ خرچ کیوں ہو گیا؟ وہ خرچ کیوں ہو گیا؟ اِس جوڑے کی اِن دنیاوی خرچوں کی طرف تو سوچ ہی نہیں تھی۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ اِن کی کوشش ہوتی تھی کس طرح کسی ضرورتمند کی مدد کی جائے۔ اگر میاں نے کوئی مدد کی ہے تو بیوی کہتی کہ اور کر دینی چاہئے تھی۔ اگر بیوی نے کی ہے تو میاں کہتا کہ اگر میرے پاس اور مال ہوتا تو مَیں مزید دے دیتا ۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 11؍مارچ 2011ء) - [سیرت حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہؓ](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-صاحبزادی-ناصرہ-بیگم-صاحبہؓ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی والدہ حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’پھرجب لمبا عرصہ لجنہ کی صدر رہی ہیں تویہ کوشش تھی کہ ربوہ کی پوزیشن ہمیشہ پاکستان کی تمام مجالس میں نمایاں رہے، اس کے لئے بھرپور کوشش کرتی تھیں۔ صرف نمبر لینے کے لئے نہیں، جس طرح کہ بعض صدرات کا یا ذیلی تنظیموں کے قائدین و زعماء کاکام ہوتا ہے بلکہ اس سوچ کے ساتھ کہ ربوہ میں خلیفۂ وقت کی موجودگی ہے اس لئے بھی کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ چراغ تلے اندھیرا۔ کہ خلیفہ وقت کی موجودگی کے باوجود ان کا معیار دوسروں سے نیچے ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود تھی۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 5اگست2011ء ) - [سیرت حضرت سیّدہ آصفہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-سیّدہ-آصفہ-بیگم-صاحبہ-حرم-حضر/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ آپ سے شادی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ مَیں نے جب ان سے شادی کا فیصلہ کرنا تھا۔ اس سے پہلے استخارہ کیا اور رؤیا کی حالت میں یعنی جاگتے ہوئے نہیں بلکہ رؤیا کی حالت میں الہام ہوا اور اس کے الفاظ یہ تھے’’تیرے کا م کے ساتھ اس کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔‘‘ اس وقت مجھے بڑا تعجب ہوا کہ میرے کون سے کام ہیں؟ وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا تھا کہ آئندہ خدا تعالیٰ مجھ سے کیا کام لے گا۔ لیکن اس میں یہ عجیب پیغام تھا کہ عملاً کاموں میں ان کو شرکت کی اتنی توفیق نہیں ملے گی لیکن میرے تعلق کی وجہ سے خدا تعالیٰ ان کو میرے کاموں میں شریک فرمادے گا اور ان کو بھی اس کا ثواب پہنچتا رہے گا۔‘‘ - [حضرت سیّدہ منصورہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ](https://mushahedat.com/حضرت-سیّدہ-منصورہ-بیگم-صاحبہ-حرم-حضرت-خ/) - حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہؒ کی وفات پر اُن کا ذکرخیر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے فرمایا: ” ساری ذمہ داریاں جو میرے نفس کی تھیں وہ آپ نے سنبھال لیں...مجھے ہر قسم کے ذاتی فکروں سے آزاد کرکے، سارے اوقات کو احباب کی فکروں میں لگانے کے لیے موقع میسر کردیا۔“ - [حضرت بُو زینب صاحبہؓ بیگم حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ](https://mushahedat.com/حضرت-بُو-زینب-صاحبہؓ-بیگم-حضرت-مرزا-شری/) - حضرت بُوزینب صاحبہؓ بہت ملنسار، خوش خلق اور بہت مہمان نواز تھیں۔ ہمیشہ ایک پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ سب کو خوش آمدید کہتیں، خا طر تواضع کرتیں۔ اگر کوئی اپنے ہاتھ سے پکاکر ان کے لیے کچھ لے جاتا تو بہت خوش ہوتیں، تعریف کرتیں اور دوسروں کو تعریف کرکے کھلاتیں۔ ہر ایک کا دکھ سکھ سنتیں کبھی کسی سے شکوہ نہ کرتیں۔ کبھی کوئی با ت کہہ بھی دیتا تو خاموش رہتیں۔انتہائی ملنسار ، غریبوں کا خیال رکھنے والی تھیں ۔ اپنے ملازمین کا خاص طور پر خیال رکھتیں ۔ - [سیرت حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-نواب-محمد-عبد-اللہ-خان-صاحب-رض/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ ’’غرباء کے ہمدرد، کثرت سے صدقہ خیرات کرنے والے، مہمان نوازی میں طرۂ امتیاز کے حامل اس قسم کے فدائی اور خلیق میزبان اس زمانہ میں تو شاذ و نادر ہی ہوں گے۔ مہمان کے آرام کا خیال وہم کی طرح سوار ہو جاتا۔ میری طبیعت پر آپ کی مہمان نوازی کا ایسا اثر ہے کہ اگر غیر معمولی مہمان نوازی کا جذبہ رکھنے والے صرف چند بزرگوں کی فہرست مجھے لکھنے کو کہا جائے تو آپ کا نام میں اس فہرست میں ضرور تحریر کروں گا۔ ‘‘ (اصحاب احمد جلد 12صفحہ160) - [سیرت حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-نواب-محمد-علی-خان-صاحب-رضی-الل/) - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’ حِبی فی اللہ نواب محمد علی خان صاحب رئیس خاندان ریاست مالیر کوٹلہ قادیان میں جب وہ ملنے کے لئے آئے تھے اور کئی دن رہے، پوشیدہ نظر سے دیکھتا رہا ہوں کہ التزام ادائے نماز میں ان کو خوب اہتمام ہے اور صلحاء کی طرح توجہ اور شوق سے نمازپڑھتے ہیں اور منکرات اور مکروہات سے بالکل مجتنب ہیں ‘‘ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ526) - [حضرت چراغ بی بی صاحبہ والدہ ماجدہ حضرت مسیح موعودؑ](https://mushahedat.com/حضرت-چراغ-بی-بی-صاحبہ-والدہ-ماجدہ-حضرت-م/) - حضرت چراغ بی بی صاحبہ ایک دور اندیش اور معاملہ فہم خاتون تھیں ۔ اپنے خاوند حضرت مرزا غلام مرتضٰی صاحب کے لیے ایک بہترین مشیراور آپ کی غمگسار تھیں ۔ حضرت غلام مرتضٰی صاحب آپ کی باتوں کی بہت احساس کیا کرتے تھے اور ان کی مرضی کے خلاف گھر کے معاملات میں دخل نہیں کرتے تھے ۔ - [حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب والدِ ماجد حضرت مسیح موعودؑ](https://mushahedat.com/حضرت-مرزاغلام-مرتضیٰ-صاحب-والدِ-ماجد-ح/) - حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب ایک عالم بھی تھے اور علم دوست بھی ، کتب خانہ کا خاص طور پر شوق تھا اور بہت سی کتابیں آپ کے کتب خانہ میں موجود تھیں۔آپ کی ایک بہت بڑی لائبریری تھی۔ اپنی اولادکو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ وپیراستہ کرنے کا ازحدخیال تھا۔ - [باادب با نصیب،بے ادب بے نصیب](https://mushahedat.com/باادب-با-نصیب،بے-ادب-بے-نصیب/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” سب سے پہلے ہمیں اپنے والدین کے حقوق ادا کرنے ہوں گے ، اپنے اہلِ خانہ، بہن بھائیوں اور دیگر عزیزواقارب کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔ اپنے شریکِ کار، دوستوں، اساتذہ اور ہم جلیسوں کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔ ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ہر اُس عمل سے روکنے والا ہو جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہو سکتا ہے۔“ (خطاب اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ 2024ء) - [توکل علی اللہ](https://mushahedat.com/توکل-علی-اللہ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”انسان کو چاہیے کہ تقویٰ کو ہاتھ سے نہ جانے دے اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو پھر اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو سکتی۔ خداتعالیٰ پر بھروسہ کے یہ معنی نہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑ دے۔ بلکہ یہ معنی ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دے۔ اس کا نام توکل ہے۔“ (ملفوظات جلد3صفحہ566) - [تفسیرِ کبیر کے بارے اپنوں اور غیروں کی آراء](https://mushahedat.com/تفسیرِ-کبیر-کے-بارے-اپنوں-اور-غیروں-کی-آ/) - علامہ نیاز فتح پوری نے تفسیرِ کبیر پڑھ کر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے نام اپنے خط میں لکھا : ”تفسیرِ کبیر جلد سوم آج کل میرے سامنے ہے اور مَیں اسے بڑی نگاہِ غائر سے دیکھ رہا ہوں اس میں شک نہیں کہ مطالعۂ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔ آپ کے تبحرِ علمی ، آپ کی وسعتِ نظر ، آپ کی غیر معمولی فکر و فراست ، آپ کا حسنِ استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے۔ “ (الفضل 17 نومبر 1963ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ158) - [تیسری عالمی ایٹمی جنگ(حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کی پیشگوئیاں و ارشادات کی روشنی میں](https://mushahedat.com/تیسری-عالمی-ایٹمی-جنگحضرت-مسیح-موعودؑ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تیسرے خلیفہ، حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ، نے لند ن کے وانڈزورتھ ہال میں منعقد ہونے والے ایک تاریخی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’پھرحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک تیسری جنگ کی بھی خبر دی ہے، جوپہلی دونوں جنگوں سے زیادہ تباہ کن ہوگی۔ دونوں مخالف گروہ ایسے اچانک طور پر ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے کہ ہر شخص دم بخود رہ جائے گا۔ آسمان سے موت اور تباہی کی بارش ہوگی اور خوفناک شعلے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ نئی تہذیب کا قصر عظیم زمین پر آ رہے گا۔ دونوں متحارب گروہ، یعنی روس اور اس کے ساتھی اور امریکہ اور اس کے دوست، ہر دو تباہ ہو جائیں گے، ان کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی، ان کی تہذیب و ثقافت برباد اور ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا….شاید آپ اسے آفسانہ سمجھیں مگر جو اس تیسری عالمگیر تباہی سے بچ نکلیں گے اور زندہ رہیں گے، وہ دیکھیں گے کہ یہ خدا کی باتیں ہیں اور اس قادر کی باتیں ہمیشہ پوری ہی ہوتی ہیں، کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی “ (امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ، صفحہ9) - [قرآنِ کریم اور تیسری عالمی ایٹمی جنگ](https://mushahedat.com/قرآنِ-کریم-اور-تیسری-عالمی-ایٹمی-جنگ/) - حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ سورت القارعۃ کی تفسیر بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں: ’’ کہ اَلْقَارِعۃ سے ایٹم بم مراد ہے اوراس عذاب کی ساری کیفیت ایسی ہے جو ایٹم بم سے پیدا شدہ تباہی پر پوری طرح چسپاں ہوتی ہے۔ یہ بم ایسا خطرناک اور تباہ کن ہے کہ اس سے بچنے کی سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں کہ لوگ منتشر اور پراگندہ ہو جائیں گے۔ یہ بم جس جگہ گرتا ہے سات سات میل کا تمام علاقہ خس و خاشاک کی مانند جلا کر راکھ کر دیتا ہےبلکہ ایٹم بم کے متعلق اب جو مزید تحقیق ہوئی ہے وہ بتاتی ہے کہ سات میل کا بھی سوال نہیں، چالیس چالیس میل تک یہ ہر چیز کو اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ ہیرو شیما (جاپان) پر جب ایٹم بم گرایا گیا تو بعد میں جاپانی ریڈیو نے بیان کیاکہ اس بم سے ایسی خطرناک تباہی واقعہ ہوئی ہے کہ انسانوں کے گوشت کے لوتھڑے میلوں میل تک پھیلے ہوئے پائے گئے ہیں۔ یہ بالکل وہی حالت ہےجس کا قرآن کریم نے ان آیات میں ذکر فرمایا ہے کہ انسانوں کا وجود تک باقی نہیں رہے گا۔ ہڈی کیا اور بوٹی کیا سب باریک ذرات کی طرح ہو جائیں گے اور پتنگوں کی مانند ہوا میں اڑتے پھریں گے۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد9 صفحہ515) - [قرآنِ مجید ایک عظیم الشان معجزہ](https://mushahedat.com/قرآنِ-مجید-ایک-عظیم-الشان-معجزہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’مَیں نے دُنیا کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں اور بہت ہی پڑھی ہیں مگر ایسی کتاب دُنیا کی دِلرُبا راحت بخش، لذّت دینے والی، جس کا نتیجہ دُکھ نہ ہو نہیں دیکھی…..مَیں پھر تم کو یقین دلاتا ہوں کہ میری عمر، میری مطالعہ پسند طبیعت، کتابوں کا شوق اِس امر کو ایک بصیرت اور کافی تجربہ کی بنا پر کہنے کے لیے جرأت دلاتے ہیں کہ ہرگز ہرگز کوئی کتاب ایسی موجود نہیں ہے اگر ہے تو وہ ایک ہی کتاب ہے۔ وہ کونسی کتاب؟ ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚ فِیۡہِ کیسا پیارا نام ہے۔ مَیں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے سوا کوئی ایسی کتاب نہیں ہے کہ اس کو جتنی مرتبہ پڑھو جس قدر پڑھو اور جتنا اس پر غور کرو اسی قدر لُطف اور راحت بڑھتی جاوے گی طبیعت اُکتانے کے بجائے چاہے گی کہ اَور وقت اسی پر صَرف کرو۔ عمل کرنے کے لیے کم از کم جوش پیدا ہوتا ہے اور دل میں ایمان، یقین اور عرفان کی لہریں اُٹھتی ہیں۔‘‘ )حقائق الفرقان جلد اول صفحہ 34( - [تفسیر کبیر اور اِس کے محاسن و خصوصیات](https://mushahedat.com/تفسیر-کبیر-اور-اِس-کے-محاسن-و-خصوصیات/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ انبیاء کی قرآنی ترتیب میں حکمت کے حوالہ سے فرماتے ہیں: ”انبیاء کی ترتیب کے بارے میں یہ وہ علم ہے جو خداتعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے چنانچہ تیرہ سو سال میں جس قدر تفاسیر لکھی گئی ہیں ان میں سے کسی تفسیر میں بھی یہ مضمون بیان نہیں کیا گیا اور کوئی نہیں بتاتا کہ نبیوں کا ذکر کرتے وقت یہ عجیب ترتیب کیوں اختیار کی گئی صرف مجھ پر خداتعالیٰ نے اس نکتہ کو کھولا جس سے اس ترتیب کی حکمت اور اہمیت بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ “ ( تفسیر جلد پنجم صفحہ264 ) - [فَاِ نَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا](https://mushahedat.com/فَاِ-نَّ-الْعِزَّۃَ-لِلّٰہِ-جَمِیْعً/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت سے اسلام میں آنے والوں کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کردیا اور باپ دادا کے نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا۔ (سنن ابن داؤد 5116) - [رَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ](https://mushahedat.com/رَحۡمَتِیۡ-وَسِعَتۡ-کُلَّ-شَیۡءٍ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جو شخص بھی اپنے رب پر ایمان لاتا ہے۔ ’’فَــلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَھَقًا‘‘ (الجنّ:14) اس کو نہ بخس کا کوئی خوف رہتا ہے اور نہ رہق کا کوئی خوف رہتا ہے۔“ - [تمام نصائحِ قرآنی کا مغز اور کلید۔دُعا](https://mushahedat.com/تمام-نصائحِ-قرآنی-کا-مغز-اور-کلید۔دُعا/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”قرآنی دعائیں ہیں ، مسنون دعائیں ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سکھائی ہوئی دعائیں ہیں۔ اگر ہم نے اِن حالات سے باہر نکلنا ہے جو ہمارے لئے پیدا کئے گئے ہیں یا پیدا کئے جا رہے ہیں تو اِن کی طرف ہمیں بہت توجہ کرنی چاہیے“ (خطبہ جمعہ 5 اپریل 2024ء) - [اللہ میاں کا خط ہے جو میرے نام آیا](https://mushahedat.com/اللہ-میاں-کا-خط-ہے-جو-میرے-نام-آیا/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے خوش الحانی سے اور سنوار کر قرآن نہ پڑھا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ (سنن ابوداؤد کتاب الصّلوٰۃ) - [آئیں! ہم اپنے آپ کو قرآن میں تلاش کریں](https://mushahedat.com/آئیں-ہم-اپنے-آپ-کو-قرآن-میں-تلاش-کریں/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’قرآن کریم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ پاک کتاب ہے اور ہر قسم کے ممکنہ عیب سے پاک ہے اور نہ صرف پاک ہے بلکہ ہر قسم کی حسین اور خوبصورت تعلیم اس میں پائی جاتی ہے جس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے اور اس میں وہ تمام خوبیاں شامل کر دی گئی ہیں جن کی پہلے صحیفوں میں کمی تھی اور اب یہی ایک تعلیم ہے جو ہر ایک قسم کی کمی سے پاک ہے۔ بلکہ اس تعلیم پر عمل کرکے ہر برائی سے بچا جا سکتا ہے۔ اور نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کی تعلیم پر عمل کرنے اور اس تعلیم کو لاگو کرنے سے ہی اپنی اور دنیا کی اصلاح ممکن ہے۔ یعنی یہ تعلیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتری یہی اب دنیا کی اصلاح کی، دنیا میں نیکیاں رائج کرنے کی، دنیا میں امن قائم کرنے کی، دنیا میں عبادت گزار پیدا کرنے کی، دنیا میں ہر طبقے کے حقوق قائم کرنے کی ضمانت ہے۔“ (خطبہ جمعہ 4مارچ2005ء) - [خلفائے خمسہ کی خدماتِ قرآن](https://mushahedat.com/خلفائے-خمسہ-کی-خدماتِ-قرآن/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’حضرت مسیح علیہ السلام جیسے اپنی کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے بلکہ توریت کو پورا کرنے آئے تھے اسی طرح پر محمدی سلسلہ کا مسیح اپنی کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ قرآنِ شریف کے احیاء کے لئے آیا ہے اور اس تکمیل کے لئے آیا ہے جو تکمیل اشاعت ہدایت کہلاتی ہے ۔“ (ملفوظات جلد2 صفحہ 361 ۔362) - [احکامِ الٰہی کی حفاظت کرو تا اللہ کو اپنے سامنے پاؤ (الحدیث)](https://mushahedat.com/احکامِ-الٰہی-کی-حفاظت-کرو-تا-اللہ-کو-اپن/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتاہے۔‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ26) - [قرآن کریم کی دائمی حفاظت](https://mushahedat.com/قرآن-کریم-کی-دائمی-حفاظت/) - اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر: 10) کہ یقینًا ہم نے ہی اس ذکر کو اُتارا ہے اور یقینًا ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ - [صحابیاتِ رسولؐ کی قربانیوں کے چند ایمان افروز واقعات(تقریر نمبر2)](https://mushahedat.com/صحابیاتِ-رسولؐ-کی-قربانیوں-کے-چند-ایما-3/) - حضرت ام شریکؓ نے جب اسلام قبول کیا تو مشرک رشتہ داروں نے ان کو ان کے گھر سے پکڑ لیا اور ان کو ایک بدترین مست اور شریر اونٹ پر سوار کر دیا اور ان کو شہد کے ساتھ روٹی دیتے رہے اور پینے کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیتے تھے اور انہیں سخت دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے جس سے ان کے ہوش و ہواس جاتے رہے۔ انہوں نے تین دن تک یہی سلوک روا رکھا اور پھر کہنے لگے جس دین پر تم قائم ہواس کو چھوڑ دو۔ حضرت ام شریکؓ کہتی ہیں کہ مَیں ان کی بات نہ سمجھ سکی۔ ہاں چند کلمے سن لیے۔ پھر مجھے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے بتایا گیا کہ توحید کو چھوڑ دو۔ فرماتی ہیں ۔مَیں نے کہا اللہ کی قسم! میں توحید پر قائم ہوں چاہے مر جاؤں۔ (طبقات الکبریٰ جلد 8 صفحہ 123 ) - [حضرت سیّدہ سرور سلطان صاحبہؓ  بیگم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحبؓ](https://mushahedat.com/حضرت-سیّدہ-سرور-سلطان-صاحبہؓ-بیگم-حضر/) - حضرت سیّدہ سرور سلطان صاحبہ رضی اللہ عنہا بتاتی تھیں کہ میری عمر بہت چھوٹی تھی جب بیاہ کر قادیان آگئی تھی۔میرے والد اس قدر اور با ر بار تاکید حضرت اقدسؑ کے احترام کے بارے میں کرتے کہ جب بھی حضورؑ تشریف لائیں تو تم نے احتراماً کھڑے ہونا ہے، ہر بار اور اگر واپس جاتے وقت پھر پلٹ کر واپس ہوئے ہیں تو دوبارہ کھڑے ہونا ہے۔ یہ تاکید اتنی دفعہ کی کہ میرے لیے بتانا مشکل ہے۔ چنانچہ جب حضورؑ پہلی بار ہمارے کمرے میں تشریف لائے تو اس وقت مَیں چارپائی پر ہی کھڑی ہوگئی۔ حضورؑ مسکرا کر باہر تشریف لے گئے - [صحابیاتِ رسولؐ کی قربانیوں کے چند ایمان افروز واقعات ( بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ)(تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/صحابیاتِ-رسولؐ-کی-قربانیوں-کے-چند-ایما/) - ام سنان اسلمیہ کہتی ہیں مَیں نے حضرت عائشہؓ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک کپڑا بچھا ہوا دیکھا جس میں خوشبو، بازو بند، کنگن، کانٹے اور انگوٹھیاں تھیں اور پازیب بھی تھیں جو سب عورتوں نے مسلمانوں کے جہاد کے لیے دی تھیں۔ (کتاب المغازی للواقدی جلد3 صفحہ 992 ) - [حضرت مسیح موعودؑ کے خلافت کے بارے میں اقتباسات](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کے-خلافت-کے-بارے-میں-اق/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہوسکتا ہے جو ظلِّی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کاظلّ ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہٰذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولیٰ ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کیلئے تاقیامت قائم رکھے۔ سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تادنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔“ (شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6صفحہ353) - [قرآنِ کریم کا عظیم الشان بلند مقام و مرتبہ](https://mushahedat.com/قرآنِ-کریم-کا-عظیم-الشان-بلند-مقام-و-مرت/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خَیۡرُکُمۡ مَنۡ تَعَلَّمَ الۡقُرۡآنَ وَ عَلَّمَہُ (بخاری کتاب فضائل القرآن ) کہ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن کریم سیکھتا ہے اور دوسروں کو سکھاتا ہے ۔ - [احمدی بچوں کا مقام اور ان کے فرائض](https://mushahedat.com/احمدی-بچوں-کا-مقام-اور-ان-کے-فرائض/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے اطفال سے مخاطب ہوکر فرمایا: ”الہٰی سلسلہ کے بچے فقید المثال ہوتے ہیں۔ آپ لوگ اسلام کے بچے ہیں ۔ مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے بچے ہیں۔جسمانی لحاظ سے ماں باپ والدین ہیں ۔ مگر روحانی لحاظ سے مسیح موعودؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آپ منسوب ہوتے ہیں ۔اگر تم حقیقی احمدی بن جاؤ تو دنیا میں کوئی بھی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور دنیا ہمیشہ تمہیں یاد رکھے گی ۔“ - [اصحابُ الفیل](https://mushahedat.com/اصحابُ-الفیل/) - حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ ہیں : مَنْ اَصَابَہٗ الْحَجَرَجُدَرَتْہُ جس شخص پر پتھر پڑتا اسے چیچک نکل آتی تھی۔ پھر کہتے ہیں : وَھُوَ اَوَّلُ جُدُرِیٍّ ظَھَرَ بِاَرْضِ الْعَرَب یہ پہلا چیچک کا حملہ ہے جو عرب میں ظاہرہوا۔ ( روح المعانی) - [1974ء کے غلط فیصلے پر خدائی پکڑ اورزوال کے پچاس سال](https://mushahedat.com/1974ء-کے-غلط-فیصلے-پر-خدائی-پکڑ-اورزوال-کے-پ/) - جب مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی جس کے سربراہ خود حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو آپؐ نے انتظامِ حکومت کی ضروریات کےتحت مردم شماری کا حکم دیا۔ پوچھا گیا۔ کسے مسلمان شمار کیا جائے ؟ تو آپؐ نے فرمایا: لوگوں میں سے جو زبان سے اسلام کا اقرار کرنے والے ہیں انہیں میرے لئےشمارکرو۔ (صحیح بخاری کتاب الجہاد) - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بطورمنصفِ اعظم](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-بطورمنصفِ-اع/) - مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد یہاں آباد یہود، مشرکین اور دیگرعرب قبائلِ مدینہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معاہدہ کیا جو’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہ میثاق عدل وانصاف اور آزادی مذہب کی بہترین ضمانت ہےجس سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ مظلوم مسلمانوں نے طاقت حاصل ہوتے ہی اپنی اسلامی ریاست میں عدل وانصاف کا سکّہ کس طرح رائج کرکے دکھایا۔یہوداوردیگر قبائل مدینہ سے کیےگئے اس معاہدے کےمطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ریاست مدینہ کےسربراہ اعلیٰ تھے اور جملہ تنازعات کےفیصلوں کا اختیار آپؐ کو حاصل تھا۔آپؐ نے خوبصورت عادلانہ فیصلے فرمائے - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کے-اخلاق/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ کے بارے میں فرماتے ہیں : ”تُو اے نبی! ایک خُلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنے اپنی ذات میں تمام مکارمِ اخلاق کا ایسا متمَّم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں کیونکہ لفظ عَظِیْم محاورۂ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو……بعضوں نے کہا ہے کہ عَظِیْم وہ چیز ہےجس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطۂ ادراک سےباہرہو۔ “ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 194 بقیہ حاشیہ نمبر 11) - [وصالُ النبی صلی اللہ علیہ وسلم](https://mushahedat.com/وصالُ-النبی-صلی-اللہ-علیہ-وسلم/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ سے فرمایا تھا کہ ’’جبریل ہمیشہ رمضان میں ایک مرتبہ مجھ سے قرآن شریف کا دَور کیا کرتے تھے لیکن اِس سال دو مرتبہ کیا اور مَیں جانتا ہوں کہ یہ اِس لیے ہوا ہے کہ میری وفات قریب ہی ہونے والی ہے ۔ “ ( بخاری فضائل القرآن ) - [حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک دلنشین منظر(ازافاضات حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ )](https://mushahedat.com/حضرت-محمد-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کی-زندگی-کا/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے جس طرح باطنی کمالات اُس بزرگ کو دیے تھے ظاہری خوبیاں بھی موجود تھیں۔ جس کی بناوٹ میں کوئی ایسا نقص نہ تھا کہ دیکھنے والے کو گھن آئے بلکہ مردانہ حسن و خوبصورتی سے اسے وافر حصہ ملا تھا جس کی وجہ سے انسان چہرے کو دیکھتے ہی ادب و محبت محسوس کرنے لگتا تھا۔ سچ ہے کہ خیالات انسان کے چہرہ پر بھی اثر ڈالنے لگتے ہیں۔ اُس بزرگ کا چہرہ ان تمام اندرونی نوروں کا شاہد تھا جو اس کے دل میں ایک وسیع سمندر کی طرح موجزن تھے۔ “ - [صحابیاتِ رسولؐ کی قربانیوں کے چند ایمان افروز واقعات ( بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ) (تقریر نمبر 2)](https://mushahedat.com/صحابیاتِ-رسولؐ-کی-قربانیوں-کے-چند-ایما-2/) - حضرت ام شریکؓ نے جب اسلام قبول کیا تو مشرک رشتہ داروں نے ان کو ان کے گھر سے پکڑ لیا اور ان کو ایک بدترین مست اور شریر اونٹ پر سوار کر دیا اور ان کو شہد کے ساتھ روٹی دیتے رہے اور پینے کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیتے تھے اور انہیں سخت دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے جس سے ان کے ہوش و ہواس جاتے رہے۔ انہوں نے تین دن تک یہی سلوک روا رکھا اور پھر کہنے لگے جس دین پر تم قائم ہواس کو چھوڑ دو۔ حضرت ام شریکؓ کہتی ہیں کہ مَیں ان کی بات نہ سمجھ سکی۔ ہاں چند کلمے سن لیے۔ پھر مجھے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے بتایا گیا کہ توحید کو چھوڑ دو۔ فرماتی ہیں ۔مَیں نے کہا اللہ کی قسم! میں توحید پر قائم ہوں چاہے مر جاؤں۔ (طبقات الکبریٰ جلد 8 صفحہ 123 ) - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قدوسیت کے مظہرِ اتم( حضرت مسیح موعودؑ کے افاضات کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-قدوسیت-کے-مظہ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا ہی قوتِ قدسیہ ہے کہ آپ پر ایمان لا کر صحابہ کرامؓ نے یک دفعہ ہی دنیا کا فیصلہ کر دیا ۔ جان سے بڑھ کر کیا شۓ ہوتی ہے ۔ اپنے خون سے دین پر مہریں لگا دیں ۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد6صفحہ 76ایڈیشن1984ء ) - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ایک عظیم قائد](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-بحیثیت-ایک-عظ/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”خبردار سن لو! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور قیامت کے دن اس سے اپنی رعایا سے متعلق بازپرس ہو گی۔ ‘‘ ( سنن ابی داؤد حدیث 2928) - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت منتظم](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-بحیثیت-منتظم/) - ڈبلیو منٹگمری واٹ اپنی کتاب’’محمد ایٹ مدینہ‘‘ میں رقمطراز ہے: ’’جتنا ایک انسان محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ابتدائی اسلام کی تاریخ پر غورکرتا ہے اتنا ہی وہ آپؐ کی وسیع کامیابیوں کو دیکھ کر محوحیرت ہوجاتا ہے۔ حالات نے آپؐ کو وہ موقع دیا جو بہت کم ہی کسی کو میسر آیا ہوگا تاہم آپؐ کی ذات زمانے کے جملہ تقاضوں پرپوری اُترتی تھی، غیب پر اطلاع پانے ،مدّبراور منتظم ہونے کے علاوہ اگر آپؐ کا اس بات پرمحکم ایمان نہ ہوتا کہ خدانے آپؐ کو بھیجا ہے تو انسانی تاریخ کا ایک قابل ذکر باب ضبط تحریر میں آنے سے رہ جاتا‘‘ (اسوۂ انسانِ کامل از حافظ مظفر احمد صفحہ 673) - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائل و فضائل اور عظمتیں(قرآن کریم کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کے-خصائل-و-فضا/) - اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب: 22) کہ یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ۔ - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بطور ماہر نفسیات](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-بطور-ماہر-نفس/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ سے اُس کا فضل مانگا کرو۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتاہے کہ اُس سے سوال کیا جائے۔‘‘ - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نورِ مجسم](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-نورِ-مجسم/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی وہ میرا نور ہے‘‘۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الایمان ،حدیث نمبر 94) - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رؤیا، کشوف اور پیشگوئیاں](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کے-رؤیا،-کشوف/) - حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔ اس دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل بدر کے متعلق ایک حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا کہ جنگِ بدر سے ایک دن پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آگاہ فرمایا کہ ہٰذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللّٰہُ فلاں شخص کل یہاں قتل کیا جائے گا ان شاء اللہ ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! جو جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے قتل کی مقرر کی تھی وہ اس سے ذرہ برابر بھی اِدھر اُدھر نہ ہوا ، یعنی بعینہٖ اسی جگہ پر قتل ہوا۔ ( صحیح مسلم :2873) - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر و استقلال](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کا-صبر-و-استقل/) - حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ’’آپؐ کی ابتدائی حالت میں کوئی آپؐ پر میلا ڈالتا، کوئی دھکا دیتا، کوئی گلے میں پٹکا ڈالتا۔ غرض کوئی تکلیف نہ ہوتی جو پہنچائی نہ جاتی اور کوئی سخت سلوک نہ تھا جو آپؐ کے ساتھ کیا نہ گیا۔ کیا اُس وقت کی حالت کے دیکھنے سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ آج جس کو ذلیل سمجھا جاتا ہے وہی دنیا میں سب سے زیادہ عزت دار ہو گا۔ آج جس کے گلے میں پٹکا ڈالا جاتا ہے وہی ہوگا جس کے آگے دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کی گردنیں جھک جائیں گی.. .ہرگز نہیں۔ اس کے گمان میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی کہ وہ شخص جسے ہر شخص پاگل خیال کرتا اس قدر بڑھے گا کہ دنیا کے عقلمند، دنیا کے طاقتور، دنیا کے عزت دار اس کی غلامی کو فخر سمجھیں گے۔ مگر وہ بڑھا، اس کی تعلیم دنیا کے گھر گھر میں پھیل گئی، بڑے بڑے بادشاہ اس کی غلامی کو فخر سمجھنے لگ گئے۔ اور یہ سب اس لیے ہوا کہ اس نے نہایت تاریکی کے دنوں میں خدا کا نام لیا اور خدا نے اسے روشن کرنے کا وعدہ کیا‘‘۔ ( الفضل 9 نومبر1926ء صفحہ7) - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حُسنِ مزاح](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کا-حُسنِ-مزاح/) - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت مزاح کرتے تھےاور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ سچا مزاح کرنے والے پر ناراض نہیں ہوتا۔ (جامع الکبیر للسیوطی صفحہ142) - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلمِ انسانیت](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-بحیثیت-معلمِ/) - آ پ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا”اچھے ہم نشین اور بُرے ہم نشین کی مثال ایسی ہے، جیسے مُشک بیچنے والا اور بھٹیارہ۔ پس مشک بیچنے والا یا تو تمہیں مشک پیش کرے گا یا تم خود اس سے مُشک خرید لوگے، یا (کم ازکم) اس کے پاس سے خوشبو آتی رہے گی۔ اور بھٹیارہ یا تو تمہارے کپڑے جلادے گا۔ یا (کم از کم) اس سے بدبو تمہیں پہنچے گی۔ (صحیح بخاري، الذبائح و الصید، باب المسک) - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت تاجر](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-بحیثیت-تاجر/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےمسلمان تاجروں کو خوش خبری دیتے ہوئے فرمایا: امانت داراور سچا تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (سنن ترمذی،كتاب البيوع عن،باب مَا جَاءَ فِي التُّجَّارِ وَتَسْمِيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ) - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ایک مُخلص دوست](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-بحیثیت-ایک-مُ/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک زاہر نامی دوست دیہات سے آیا کرتے تھے اور دیہات کی چیزوں کا تحفہ آپؐ کو پیش کرتے تھے۔ حضورؐ بھی اِن کو واپسی پر سامان و اسباب دے کر رخصت فرماتے تھے، آپ ؐ نے ایک موقع پر فرمایا: زاہر! ہمارے دیہاتی ساتھی ہیں اور ہم ان کے شہری ساتھی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بڑی محبت فرماتے تھے، وہ خوش شکل بھی نہ تھے۔ ایک دن جب وہ اپنا سامان بازار میں بیچ رہے تھے، آپؐ ان کے پاس تشریف لائے اور پیچھے سے اِن کی آنکھیں بندکرلی۔ جب اِس دوست نے دیکھا کہ میرے سے اتنا پیار کرنے والا کون ہو سکتا ہے تو حضورؐ فرمانے لگے: کون ہے جو اس غلام کو خرید لے؟ حضرت زاہر نے عرض کیا: اللہ کے رسولؐ کے علاوہ کون مجھے خریدے گا۔ مَیں تو ایک کھوٹا مال ہوں ۔ فرمایا ۔ تم اللہ کے نزدیک کھوٹے نہیں ہو، تم تو اللہ کے پاس بہت قیمتی ہو۔ (مسند احمد) - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مخلوق سے ہمدردی](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-اور-مخلوق-سے-ہ/) - حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی گواہی ان الفاظ میں دی کہ وَاللّٰهِ لاَ يُخْزِيكَ اللّٰهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الكَلَّ وَ تَکسِبُ المَعدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ (بخاری بدءالوحی) کہ اللہ کی قسم! کہ وہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضائع نہیں کرے گا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو رشتہ داروں کا حق ادا کرتے ہیں، غریبوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ دنیا سے ناپید اخلاق اور نیکیاں قائم کرتے ہیں۔مہمان نوازی کرتے اور حقیقی مصائب میں مدد فرماتے ہیں ۔ - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قناعت و سادگی](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کی-قناعت-و-ساد/) - رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دُعا فرماتے تھے کہ ’’اے اللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں زندہ اُٹھا اور مسکینوں کے گروہ میں میرا حشر فرما۔‘‘ (ترمذی) - [حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی اور قناعت (ازروئے افاضات حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ)](https://mushahedat.com/حضرت-نبی-کریم-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کی-سادگ/) - حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جب آپؐ سے بات کرنے لگا تو وہ کانپنے لگ گیا۔ اس پر آپؐ نے اس کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تسلی رکھو میں کوئی بادشاہ تونہیں۔ میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھی۔ )سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ باب القدید( - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رہن سہن اور روزمرہ کے معمولات](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کا-رہن-سہن-اور/) - حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں میں نے کوئی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھی گویا آفتاب کی چمک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بہہ رہی ہوتی تھی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زیادہ تیز چلنے والا کوئی نہیں دیکھا گویا زمین آپ کے لیے سمٹتی چلی جاتی تھی۔ہم بڑی جدوجہد کرتے ہوئے آپ کے ساتھ چلتے اور آپ بڑے اطمینان سے چل رہے ہوتے۔ - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خشیتِ الٰہی](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-اور-خشیتِ-الٰ/) - حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کیا کرتے تھے کہ اَللّٰھُمَّ اِنّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ وَدُعَآءٍ لَا یُسْمَعُ وَمِنْ نَّفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ۔ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھٰؤُلَآءِ الْاَرْبَع۔ کہ اے اللہ! مَیں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے دل سے جو خشوع نہیں کرتا اور ایسی دعا سے جو سنی نہیں جاتی اور ایسے نفس سے جو سیر نہیں ہوتا اور ایسے علم سے جو نفع رساں نہیں ہے۔ مَیں تجھ سے ان چاروں سے پناہ چاہتا ہوں۔ (سنن الترمذی کتاب الدعوات باب 68 حدیث: 3482) - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کی-والدہ-ماجد/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا نام آمنہ بنت وہب تھا ۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو زہرہ سے تھا جو قریش ہی کا ایک ذیلی قبیلہ تھا۔ آپ کے والد کا نام وہب بن عبدمناف تھا۔ آپ کے والد اپنے قبیلے کے معزز سردار تھے اور بنو زہرہ قبیلے میں ایک مثالی حیثیت کے مالک تھے ۔ - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کےوالد ماجد حضرت عبد اللہ ابن عبدالمطلب](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کےوالد-ماجد-ح/) - عبد اللہ ابن عبد المطلب تمام بیٹوں میں سب سے زیادہ باپ کے لاڈلے اور پیارے تھے۔ آپ حسن و خوبی کے پیکر اور جمالِ صورت و کمال سیرت کے آئینہ دار اور عفت و پارسائی میں یکتائے روزگار تھے ۔ - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ کھانے اور تناول کرنے کے آداب](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کے-پسندیدہ-کھ/) - حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا اور شہد بھی بہت پسند تھا۔ آپ ؐ بُھنا ہوا گوشت بھی بخوشی تناول فرماتے ۔ - [آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے صحابہؓ سے محبت](https://mushahedat.com/آنحضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کی-اپنے-صحابہ/) - ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بازار تشریف لے گئے تو دیکھا کہ آپؐ کا ایک بدوی صحابی زاہر ؓمحنت مزدوری کر رہا ہے۔ ایک تو شکل کچھ ایسی اچھی نہ تھی دوسرے گردو غبار اور پسینہ کی وجہ سے اور بھی بد نما دکھائی دے رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے دوست کو دیکھا تو قلبی محبت بھڑک اٹھی۔ آپ نے دبے پاؤں قریب جا کر پیچھے سے اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیے۔ زاہر حیرت میں گم ہو گیا کہ مجھ غریب، بے کس اور بد صورت سے اِس انداز میں اظہار محبت کرنے والا کون ہو سکتا ہے۔ پھر خود ہی خیال آیا کہ رحمتِ دو عالم، محمد عربی کے سوا اور کون ہو سکتا ہے؟ ہاتھوں کو چھوا تو اس بات کا یقین ہو گیا۔ زاہرؓ نے موقع غنیمت جان کر اپناخاک آلود جسم آپ کے جسم مبارک سے ملنا شروع کردیا۔ زاہر کا یہ اندازِ محبت دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے ۔ - [خلفاء کرام کی خدام الاحمدیہ سے توقعات](https://mushahedat.com/خلفاء-کرام-کی-خدام-الاحمدیہ-سے-توقعات/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی نئی نسلیں جب تک اس دین اور ان اصول کی حامل نہ ہو ں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے نبی اور ماموردنیا میں قائم کرتے ہیں اس وقت تک اس سلسلہ کی ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اٹھ سکتا ۔‘‘ )الفضل 10؍اپریل 1938ء( - [آنحضورؐ مہمان نوازی اور تواضع کے اخلاق کے آئینہ میں](https://mushahedat.com/آنحضورؐ-مہمان-نوازی-اور-تواضع-کے-اخلاق/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان نوازی کا معیار اس قدر بلند تھا کہ جو دوسروں کے مقابلے میں ایک امتیازی شان رکھتا تھا اور نبوت کے دعوے کے بعد تو یہ مہمان نوازی ایک ایسی اعلیٰ شان رکھتی تھی کہ جس کی مثال ہی کوئی نہیں ہے۔ اس بارہ میں آپؐ کے اُسوہ حسنہ کو دیکھیں تو صرف وہاں یہ نہیں ہے کہ سلامتی بھیجنے کی باتیں ہو رہی ہیں بلکہ کھانے پینے کی مہمان نوازی کے علاوہ بھی یا استقبال کرنے کے علاوہ بھی ایسے ایسے واقعات ملتے ہیں جن کے معیار اعلیٰ ترین بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان کو کھانے کا انتظام کے احسن رنگ میں کرنے سے ہی صرف عزت نہیں بخشی بلکہ مہمان کے جذبات کا خیال بھی رکھا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خیال بھی رکھا اور اس کے لئے قربانی کرتے ہوئے بہتر سہولیات اور کھانے کا انتظام بھی کیا۔ اس کے لئے خاص طور پر اپنے ہاتھ سے خدمت بھی کی اور اس کی تلقین بھی اپنے ماننے والوں کو کی کہ یہ اعلیٰ معیار ہیں جو مَیں نے قائم کئے ہیں۔ یہ میرا اسوہ اس تعلیم کے مطابق ہے جو خداتعالیٰ نے مجھ پر اتاری ہے۔ تم اگر مجھ سے تعلق رکھتے ہو تو تمہارا یہ عمل ہونا چاہئے۔ تمہیں اگر مجھ سے محبت کا دعویٰ ہے تو اس تعلق کی وجہ سے، اس محبت کی وجہ سے، میری پیروی کرو اور یہ مہمان نوازی اور خدمت بغیر کسی تکلف، کسی بدل اور کسی تعریف کے ہو اور خالصتاً اس لئے ہو کہ خداتعالیٰ نے یہ اعلیٰ اخلاق اپنانے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہمارا مقصود اور مطلوب ہونا چاہئے۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ17جولائی 2009ء) - [صحابہ رضوان اللہ علیہم کا عشقِ رسولؐ](https://mushahedat.com/صحابہ-رضوان-اللہ-علیہم-کا-عشقِ-رسولؐ/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ گالیاں سنتے تھے، جان کی دھمکیاں دے کر ڈرائے جاتے تھے اور سب طرح کی ذلّتیں دیکھتے تھے پر کچھ ایسے نشۂ عشق میں مدہوش تھے کہ کسی خرابی کی پروانہیں رکھتے تھے اور کسی بلا سے ہراساں نہیں ہوتے تھے… ایسے نازک زمانہ میں وفاداری کے ساتھ محبت اور عشق سے بھرے ہوئے دل سے جو دامن پکڑا جس زمانہ میں آئندہ کے اقبال کی تو کیا امید، خود اس مرد مصلح کی چند روز میں جان جاتی نظر آتی تھی۔یہ وفاداری کا تعلق محض قوت ایمانی کے جوش سے تھا جس کی مستی سے وہ اپنی جانیں دینے کے لئے ایسے کھڑے ہوگئے جیسے سخت درجہ کا پیاسا چشمہ شیریں پر بے اختیار کھڑا ہوجاتاہے۔ ‘‘ ( ازالۂ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 152-151حاشیہ) - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگی قیدیوں سے حسنِ سلوک](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کا-جنگی-قیدیو/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’ دیکھیں! انسانی ہمدردی کی انتہا۔ آپ ہدایت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دشمن کے منہ پرزخم نہیں لگانا۔ کوشش کرنی ہے کہ دشمن کو کم از کم نقصان پہنچے۔ قیدیوں کے آرام کا خیال رکھنا ہے۔ غالباً جنگ بدر کے ایک قیدی نے بیان کیا کہ جس گھر میں وہ قید تھا اس گھر والے خود کھجور پر گزارا کرتے تھے اور مجھے روٹی دیا کرتے تھے اور اگر کسی بچے کے ہاتھ میں بھی روٹی آ جاتی تھی تو مجھے پیش کر دیتے تھے۔ اس نے ذکر کیاکہ مَیں بعض دفعہ شرمندہ ہوتاتھا اور واپس کرتا تھا لیکن تب بھی (کیونکہ یہ حکم تھا، اسلام کی تعلیم تھی) وہ باصرار روٹی مجھے واپس کر دیا کرتے تھے کہ نہیں تم کھاؤ۔ تو بچوں تک کا یہ حال تھا۔ یہ تھی وہ سلامتی کی تعلیم، امن کی تعلیم، ایک دوسرے سے پیار کی تعلیم، دوسروں کے حقوق کی تعلیم جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت میں قائم کی اور بچہ بچہ جانتاتھا کہ اسلام امن و سلامتی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ 29؍جون 2007ء) - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمنوں سے حسنِ سلوک](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کا-دشمنوں-سے-ح/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔ بہت بری طرح ستایا گیا۔ مگر ان کو اَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ (الاعراف: 200) کا ہی خطاب ہوا۔ خود اس انسان کامل ہمارے نبی کو بہت بری طرح تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں، بد زبانی اور شوخیاں کی گئیں۔ مگر اس خلق مجسم ذات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا؟ ان کے لئے دعا کی اور چونکہ اللہ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گاتو تیری عزت اور جان کو ہم صحیح وسلامت رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اس پر حملہ نہ کر سکیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی ذلیل و خوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔‘‘ ( رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ99 ) - [اسلامی تہذیب و تمدن(غیروں کے حقوق کے حوالہ سے)](https://mushahedat.com/اسلامی-تہذیب-و-تمدنغیروں-کے-حقوق-کے-حوا/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” اسلام نے ہمارے لیے ہر بات کے متعلق احکام دے رکھے ہیں۔ یہ احکام بیکار اور فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہیں اور انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مجموعہ کا نام اسلامی تمدن ہے۔ اسلامی تمدن نماز کا نام نہیں، روزے کا نام نہیں ، زکوۃ کا نام نہیں ہے بلکہ ان چھوٹے چھوٹے احکام کے مجموعہ کا نام ہے جو ایسا تغیر پیدا کر دیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے وہ سوسائٹی دوسری سوسائٹیوں سے نمایاں اور ممتاز نظر آتی ہے ۔“ (خطبہ جمعہ 21 اپریل 1933 ) - [سیرت حضرت سیّدہ بُشریٰ بیگم صاحبہ(حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-سیّدہ-بُشریٰ-بیگم-صاحبہحرم-ح/) - حضرت سیّدہ بُشریٰ بیگم صاحبہ کو یہ خاص اعزاز حاصل ہے کہ آپ کے بارہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو ایک رویأ میں خبر دی گئی تھی ’’ ایک فرشتہ آواز دے رہا ہے کہ مہر آپا کو بلاؤ ‘‘ یعنی محبت کرنے والی آپا ۔ اس مناسبت سے آپ کو مہر آپا کے نام سے پکارا جانے لگا ۔ - [سیرت حضرت سیّدہ عزیزہ بیگم صاحبہ(حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-سیّدہ-عزیزہ-بیگم-صاحبہحرم-حض/) - مکرم سید کمال یوسف صاحب مبلغ سلسلہ احمدیہ حضرت سیدہ عزیزہ بیگم صاحبہ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ ’’ جامعۃالمبشرین سے فارغ ہوکر ظہر کی نماز سے قبل گھر (قصر خلافت) آنا ہوتا تو نماز ظہر کا وقت اتنا قریب ہوتا کہ کھانے میں ذرا سی تاخیر سے بھی ظہر کی باجماعت نماز سے محروم ہونے کا دھڑکا لگا رہتا۔ خاکسار کو یاد نہیں کہ خاکسار کے تقریباً اڑھائی سال کے قیام کے عرصہ میں کبھی ایک دفعہ بھی ایسا ہوا ہو کہ خاکسار کو ظہر کی نماز باجماعت نہ ملی ہو یا اس سے پہلے ظہرانہ بروقت نہ ملا ہو۔ حضرت اُمّ وسیم صاحبہ خاکسار کی نمازباجماعت کا اس قدر خیال رکھتیں کہ خاکسار کے گھر میں قدم رکھتے ہی ملازمہ کو آواز لگاتیں کہ جلد کھانا نکال لاؤ کہیں نماز میں تاخیر نہ ہو جائے۔‘‘ (خدیجہ 2013ء شمارہ نمبر1صفحہ245) - [سیرت حضرت سیّدہ سارہ بیگم صاحبہ(حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-سیّدہ-سارہ-بیگم-صاحبہحرم-حضر/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ کے حصولِ علم کے جذبے کے بارے فرماتےہیں : ’’اس سے بھی زیادہ فرق ان کی تعلیم اور دوسروں کی تعلیم میں یہ تھا کہ دوسری عورتیں اپنے نفس یا اپنی قوم کیلئے تعلیم حاصل کرتی ہیں انہوں نے اپنے آخری سالوں میں محض اللہ تعالی کی خوشنودی کیلئے، اسلام کی خدمت کیلئے تعلیم حاصل کی۔ اس لئے اس بوجھ کو اٹھایا کہ جماعت کی مستورات کی دینی اور دنیوی ترقی کیلئے مفید ہو سکیں۔ غرض پیدائش اور موت کے علاوہ ان کا سب وقت دوسروں کے فائدہ کیلئے خرچ ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی سے ایک ذرہ بھر بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔‘‘ ( انوار العلوم جلد13 صفحہ 84) - [سیرت حضرت سیدہ مریم النساء بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا(حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-سیدہ-مریم-النساء-بیگم-صاحبہ-ر/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : ’’ مریم ایک بہادر عورت تھیں جب کوئی نازک موقع آتا میں یقین کے ساتھ ان پر اعتبار کرسکتا تھا۔ ان کی نسوانی کمزوری اس وقت دب جاتی تھی چہرہ پر استقلال اور عزم کے آثار پائے جاتے تھے اور دیکھنے والا کہہ سکتا تھا اب موت یا کامیابی کے سوا اس عورت کے سامنے کوئی تیسری چیز نہیں ہے۔ یہ مر جائے گی مگر کام سے پیچھے نہ ہٹے گی۔ ضرورت کے وقت راتوں اس میری محبوبہ نے میرے ساتھ کام کیا ہے اور تھکان کی شکایت نہیں کی۔ انہیں صرف اتنا کہنا کافی ہوتا تھا کہ یہ سلسلہ کا کام ہے یا سلسلہ کے لیے کوئی خطرہ یا بدنامی ہے اور وہ شیرنی کی طرح لپک کر کھڑی ہوجاتیں اور بھول جاتیں اپنے آپ کو بھول جاتیں کھانے پینے کو۔بھول جاتیں اپنے بچوں کو۔ بلکہ بھول جاتیں مجھ کو بھی اور صرف وہ کام ہی یاد رہ جاتا اور اس کے بعد وہ ہوتیں اور گرم پانی کی بوتلیں۔‘‘ (انوار العلوم جلد 17 صفحہ 353-354) - [سیرت حضرت سیّدہ امۃ الحئی صاحبہ رضی اللہ عنہا(حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-سیّدہ-امۃ-الحئی-صاحبہ-رضی-الل/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت سیدہ امۃ الحئی صاحبہ کے متعلق فرماتے ہیں : ’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔الْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُجَنَّدَۃٌ کہ روحیں ایک دوسرے سے وابستہ اور پیوستہ ہوتی ہیں۔یعنی بعض کا بعض سے تعلق ہوتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری روح کو امۃ الحئی کی روح سے ایک پیوستگی حاصل تھی…میں نہیں جانتا تھا یہ میری نیک نیتی اور اپنے اُستاد اور آقا کی خواہش کو پورا کرنے کی آرزو ایسے اعلیٰ درجہ کے پھل لائے گی اور میرے لیے اس سے ایسے راحت کے سامان پیدا ہوں گے۔مجھے بہت سی شادیوں کے تجربے ہیں۔میں نے خود بھی کئی شادیاں کی ہیں اور بحیثیت ایک جماعت کا امام ہونے کے ہزاروں شادیوں سے تعلق ہے اور ہزاروں واقعات مجھ تک پہنچتے رہتے ہیں مگر میں نے عمر بھر کوئی کامیاب شادی اور خوش کرنے والی شادی نہیں دیکھی جیسی میری یہ شادی تھی۔‘‘ ( خطباتِ محمود جلد 3صفحہ204۔205) - [سیرت حضرت سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا(حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-سیّدہ-محمودہ-بیگم-صاحبہ-رضی-ا/) - حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ کی الفضل کے اجرا میں قربانی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح خدیجہؓ کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تحریک کی تھی۔ انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنویں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو جو اس زمانہ میں شاید سب سے زیاده مذموم تھا، اپنے دو زیور مجھے دے دیئے کہ میں ان کو فروخت کرکے اخبار جاری کر دوں۔ ان میں سے ایک تو ان کے اپنے کڑے تھے اور دوسرے ان کے بچپن کے کڑے تھے جو انہوں نے اپنی اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم سلّمہا اللہ تعالیٰ کےاستعمال کے لئے رکھے ہوئےتھے۔میں زیورات کو لے کر اسی وقت لاہور گیا اور پونے پانچ سو کے وہ دونوں کڑے فروخت ہوئے یہ ابتدائی سرمایہ الفضل کا تھا۔ الفضل اپنے ساتھ میری بے بسی کی حالت اور میری بیوی کی قربانی کو تازہ رکھے گا…اس حسن سلوک نے نہ صرف مجھے ہاتھ دئیے جس سے میں دین کی خدمت کرنے کے قابل ہوا اور میرے لئے زندگی کا نیا ورق الٹ دیا بلکہ ساری جماعت کی زندگی کے لئے بھی ایک بہت بڑا سبب پیدا کردیا…میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ سامان پیدا نہ کرتا تو مَیں کیا کرتا اور میرے لئے خدمت کا کونسا دروازہ کھولا جاتا اور جماعت میں روزمرہ بڑھنے والا فتنہ کس طرح دُور کیا جاسکتا‘‘ (یادایام، انوار العلوم جلد8 صفحہ369-370) - [اسلامی تہذیب و تمدّن](https://mushahedat.com/اسلامی-تہذیب-و-تمدّن/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اسلامی تمدّن کی تعریف میں فرماتے ہیں: ”اسلام نے ہمارے لئے ہر بات کے متعلق احکام دے رکھے ہیں ۔ یہ احکام بیکار اور فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہیں اور انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مجموعہ کا نام اسلامی تمدّن ہے۔ اسلامی تمدّن نماز کا نام نہیں ، روزے کا نام نہیں ، زکوٰۃ کا نام نہیں بلکہ ان چھوٹے چھوٹے احکام کے مجموعہ کا نام ہے جو ایسا تغیّر پیدا کردیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے وہ سوسائٹی دوسری سوسائیٹیوں سے نمایاں اور ممتاز نظر آتی ہے۔ “ (خطبہ جمعہ 21 اپریل 1933ء) - [سیرت حضرت سیّدہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-سیّدہ-امۃ-الحفیظ-بیگم-صاحبہ-ر/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت سیدہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ  کی ولادت پر اپنی ڈائری میں تحریر فرمایا: ’’آج 25 جون 1904ء روز شنبہ کو یعنی اس رات کو جو جمعہ کا دن گزرنے کے بعد آتی ہے مطابق 10ربیع الثانی 1322 ہجری اور دہم ہاڑ سمت 1906 میرے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی اور اس کا نام امۃ الحفیظ رکھا گیا۔ یہی وہ لڑکی ہے جس کی نسبت الہام ہوا تھا واللّٰہُ مُخْرِجٌ مَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعودؑ، بحوالہ دخت کرام صفحہ31) - [سیرت حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-سیّدہ-نواب-مبارکہ-بیگم-صاحبہ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’خدا تعالیٰ نے…ایک لڑکی کی بشارت دی اور اس کی نسبت فرمایا تُنَشَّاءُ فِی الْحِلْیَۃِ یعنی زیور میں نشوونما پائے گی۔ یعنی نہ خورد سالی میں فوت ہوگی اور نہ تنگی دیکھے گی۔ چنانچہ بعداس کے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ بیگم رکھا گیا ‘‘ ( روحانی خزائن جلد 22صفحہ227 ) - [سیرت حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد رضی اللہ عنہ](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-صاحبزادہ-مرزا-شریف-احمد-رضی-ا/) - حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ حضرت مرزا شریف احمد صاحب  کے متعلق فرماتے ہیں کہ آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ بعض لحاظ سے خاص مشابہت تھی۔ یہ مشابہت جسمانی نوعیت کے لحاظ سے بھی تھی اور حضرت مسیح موعودؑ کی طرح مزاج میں ایک لطیف قسم کا توازن پایا جاتا تھا اورطبیعت میں انتہائی سادگی اور غریب نوازی تھی۔ - [سیرت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-صاحبزادہ-مرزا-بشیر-احمد-رضی-ا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’پینتیسواں نشان یہ ہے کہ پہلا لڑکا محمود احمد پیدا ہونے کے بعد میرے گھر میں ایک اَور لڑکا پیدا ہونے کی خدا نے مجھے بشارت دی اور اس کا اشتہار بھی لوگوں میں شائع کیا گیا چنانچہ دوسرا لڑکا پیدا ہوا اس کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔‘‘ ( حقیقۃ الوحی صفحہ 227) - [سیرت حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ عنہ](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-صاحبزادہ-مرزا-سلطان-احمد-صاح/) - حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی شکل و شباہت بہت کچھ حضرت مسیح موعودؑ کے مشابہ تھی اور کچھ لکھا ہوا پڑھتے وقت گنگنانے کی آواز حضرت مسیح موعودؑ کی آواز سے بالکل ملتی تھی۔ آپ نہایت متواضع اور وسیع الاخلاق انسان تھے۔ قوتِ تحریر اور زورِ قلم آپ نے ورثہ میں پایا تھا - [سیرت حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-اماں-جان-نصرت-جہاں-بیگم-رضی-ال/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے یہ تفاؤل کے طور پر الہامات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔‘‘ (تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 275) - [چھوٹی چیزیں بڑے نتائج(کتابچہ”کر نا کر“ کے اعتبار سے)](https://mushahedat.com/چھوٹی-چیزیں-بڑے-نتائجکتابچہکر-نا-کر/) - (کتابچہ” کر نا کر“ کے اعتبار سے) کتابچہ” کر نا کر“ میں ایک چھوٹی سی بات یہ بھی درج ہے کہ کو اپنے نوافل اور سنت حتی الوسع اپنے گھر میں ادا کرتا کہ تیرے بیوی اور بچے صحیح طور پر نماز پڑھنا سیکھیں۔ اس چھوٹی سی بات جو سنت رسولؐ بھی ہے اور ہمارے بزرگوں کا نیک عمل بھی، کے ساتھ ہی بڑا نتیجہ درج ہے تا بیوی بچوں کو نماز کی عادت پڑے۔ہمارے پیار ے خلیفہ المسیح بھی سنتوں کی ادائیگی گھر میں فرماتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ گھر بھی آباد رہتے ہیں ۔ - [چھوٹی چیزیں، بڑے نتائج(حضرت مسیح موعودؑ کے کلمات کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/چھوٹی-چیزیں،-بڑے-نتائجحضرت-مسیح-موعود/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” جو شخص پورے طور پر اطاعت نہیں کرتا وہ اس سلسلہ کو بد نام کرتا ہے۔“ (ملفوظات جلد4 صفحہ73 ایڈیشن 1984ء) - [چھوٹی چیزیں،بڑے نتائج(احادیث کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/چھوٹی-چیزیں،بڑے-نتائجاحادیث-کی-روشنی/) - (احادیث کی روشنی میں) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اَلُسَّعِیْدُ مَنْ وُعِظَ بِغَیْرِہٖ ( چہل احادیث ) کہ نیک بخت ،خوش نصیب اور سعادت مند وہ ہے جو غیروں کے حال سے نصیحت پکڑے ۔ - [چھوٹی چیزیں، بڑے نتائج(قرآن کریم کے اعتبار سے)](https://mushahedat.com/چھوٹی-چیزیں،-بڑے-نتائجقرآن-کریم-کے-اعت/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’خُلق کو پیدا کرنے کے لئے، رفق کے حسن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرۃ :84) یہ بات ہے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ ہے اسلام کے اعلیٰ خُلق کا معیار کہ لوگوں کو نیک باتیں کہو۔ پیار سے، ملاطفت سے پیش آؤ۔ لوگوں کو نیک باتیں کہنے کے لئے پہلے اپنے اندر بھی تو وہ نیکیاں پیدا کرنی ہوں گی، وہ خُلق پیدا کرنے ہوں گے تبھی تو اثر ہو گا۔ دوہرے معیار تو نیک نتیجے پیدا نہیں کرتے۔ پھر تعلیم دی دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنے کی اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ خود پسندی میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ عین ممکن ہے کہ جس کو تم اپنے سے کم تر سمجھ رہے ہو وہ تمہارے سے بہتر ہوں۔ جب یہ احساس ہو گا تو پھر اپنے اندر بھی بہتر تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف توجہ پیداہو گی۔‘‘ (خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 4اپریل 2008ء ) - [اسلام، محمد رسو ل اللہؐ کا مدرسہ ہے(حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ)](https://mushahedat.com/اسلام،-محمد-رسو-ل-اللہؐ-کا-مدرسہ-ہےحضرت/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” ہر ایک مدرسہ کے لیے جُدا جُدا ہیڈماسٹر ہیں۔ پس تمہیں چھٹی مدرسہ احمدیہ یا تعلیم الاسلام ہائی سکول میں جو پڑھائی ہوتی ہے اُس سے ملتی ہے لیکن اسلام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدرسہ ہے۔ اُس کے احکام سے چھٹی نہیں ملتی ۔ اِس مدرسہ کے بانی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ….یہ کالج جو ہے یہ کسی انجمن کے سپرد نہیں اس کے پہلے پرنسپل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن آپ کو بھی اِس کے قواعد بنانے میں کوئی اختیار نہیں کیونکہ یہ وہ یونیورسٹی ہے جس کے تمام اصول و قواعد و احکام، خدا کی طرف سے آئے ہیں ۔“ (الفضل 12 اگست 1919ء) - [تلاوت قرآن کریم کی اہمیت و برکات(ارشادات خلفائے احمدیت کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/تلاوت-قرآن-کریم-کی-اہمیت-و-برکاتارشادا/) - حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قرآن کریم پڑھنے کے بعد سوچنے کی عادت ڈالو اور سوچنے کے بعد اس پر عمل کرو۔اگر تم ایسا کروگے تو ایک زندہ فعال قوم نظر آنے لگ جاؤ گے۔ “ (تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 640 ) - [تلاوتِ قرآنِ کریم کی اہمیت وفضیلت اور آداب](https://mushahedat.com/تلاوتِ-قرآنِ-کریم-کی-اہمیت-وفضیلت-اور-آ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف کی تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرے۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 285ایڈیشن 1988ء) - [اُم المومنین حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/اُم-المومنین-حضرت-ریحانہ-رضی-اللہ-عنہا/) - حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہر فرمائش پوری کرتے تھے۔آپؓ سلیقہ شعار اور خوب صورت خاتون تھیں اور اس کے ساتھ قبولِ اسلام کے بعد آپؓ نے خود کو اسلام کے سانچے میں مکمل طور پر ڈھال لیا تھا. - [جلسہ سالانہ اور عالمی بیعت](https://mushahedat.com/جلسہ-سالانہ-اور-عالمی-بیعت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فر ماتے ہیں: ’’بیعت کے وقت توبہ کے اقرار میں ایک بر کت پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 174) - [جماعت احمدیہ کے عظیم الشان جلسہ سالانہ کی بنیادی اینٹ](https://mushahedat.com/جماعت-احمدیہ-کے-عظیم-الشان-جلسہ-سالانہ/) - حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام نے جلسہ سالانہ میں شریک ہونے والوں کے حق میں یہ دُعا کی ہے۔ ’’ہر یک صاحب جو ا س للہی جلسے کے لئے سفر اختیار کریں خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجرعظیم بخشے اور ان پر رحم کرے۔ اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہم و غم دور فرمائے۔ اور ان کو ہریک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے۔ اور ان کی مرادات کی راہیں ان پرکھول دیوے۔ اور روزِآخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پراس کا فضل ورحم ہے۔ تااختتام سفر ان کے بعد ان کاخلیفہ ہو‘‘ (اشتہار 7دسمبر 1892ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ342) - [ہمارے جلسہ ہائے سالانہ](https://mushahedat.com/ہمارے-جلسہ-ہائے-سالانہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال دنیا کی جماعتیں اپنے اپنے ملک کا جلسہ سالانہ منعقد کرتی ہیں۔ کیوں؟اس لئے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اللہ تعالیٰ سے اذن پاکر اس کا اجراء فرمایا تھا اور فرمایا کہ سال میں تین دن قادیان میں جمع ہوں ۔اس لئے نہ جمع ہوں کہ ہم نے کوئی میلہ کرنا ہے، کوئی لہوو لعب کرنا ہے، کھیل کود کرنا ہے، دنیاوی مقاصد کو حاصل کرنا ہے ۔نہیں !بلکہ اس لئے جمع ہوں کہ دینی علم میں اضافہ ہو اور معلومات وسیع ہوں۔اس لئے جمع ہوں کہ معرفت ترقی پذیر ہو۔“ - [اہلیان گلستان نبی صلی اللہ علیہ وسلم](https://mushahedat.com/اہلیان-گلستان-نبی-صلی-اللہ-علیہ-وسلم/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچہٴ آل محمد است - [سیرت و مناقب نواسۂ رسولؐ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ](https://mushahedat.com/سیرت-و-مناقب-نواسۂ-رسولؐ-حضرت-امام-حسین/) - یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (سنن ترمذي كتاب المناقب عن رسول اللّٰہؐ باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ) - [اہلِ بیت سے محبت و عقیدت](https://mushahedat.com/اہلِ-بیت-سے-محبت-و-عقیدت/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اَدِّبُوْا اَوْلَادَکُمْ عَلٰی ثَلاثِ خِصَالٍ: حُبِّ نَبيِّكُم ، و حُبِّ أهلِ بَيتِهِ ، و قِراءةِ القرآنِ یعنی اپنے بچوں کو تین 3 چیزیں سکھاؤ حُبِّ نَبِیِّکُمْ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی محبت وَحُبِّ اَہْلِ بَیْتِہٖ اوراَہل بیت کی محبت وَقِرَاءَۃِ الْقُرْاٰنِ اور قرآنِ پاک پڑھنا ۔ (سیوطی، الجامع الصغیر، 1 رقم : 311) - [محرم اور ماتم کی حقیقت](https://mushahedat.com/محرم-اور-ماتم-کی-حقیقت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیاپا کرنا اور چیخیں مار کر رونا اور بے صبری کے کلمات زبان پر لانا یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کے کرنے سے ایمان جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوؤں سے لی گئی ہیں ۔ جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بھلا دیا اور ہندوؤں کی رسمیں اختیار کر لیں ہیں ۔ کسی عزیز اور پیارے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کے لیے یہ حکم قرآن شریف میں ہے کہ صرف اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ کہیں ۔ یعنی ہم خدا کا مال اور ملک ہیں اسے اختیار ہے جب چاہے اپنا مال لے لے اور اگر رونا ہو تو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اس سے زیادہ وہ شیطان ہے ۔ برابر ایک سال تک سوگ رکھنا اور نئی نئی عورتوں کے آنے کے وقت یا بعض خاص دنوں میں سیاپا کرنا اور باہم عورتوں کا سر ٹکرا کر چِلّانا ، رونا اور کچھ نہ کچھ منہ سے بھی بکواس کرنا اور پھر برابر ایک برس تک بعض چیزوں کا پکا نا چھوڑ دینا اس عذر سے کہ ہمارے گھر میں یا ہماری برادری میں ماتم ہو گیا ہے یہ سب ناپاک رسمیں ہیں اور گناہ کی باتیں ہیں ۔ “ ( فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ103) - [اہلِ بیت کا مقام و مرتبہ(خلفائے خمسہ کے افاضات کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/اہلِ-بیت-کا-مقام-و-مرتبہخلفائے-خمسہ-کے/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’حضرت امام حسینؓ نے معرکۂ کربلا میں بے شک جان دے دی۔ مگر آج تک اسلام اس قربانی پر ناز کرتا ہے۔‘‘ (خطبات محمود جلد نمبر16 صفحہ396) - [Hello world!](https://mushahedat.com/hello-world/) - Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing! - [محرم میں بکثرت درودشریف پڑھنے کی اہمیت اور برکات](https://mushahedat.com/محرم-میں-بکثرت-درودشریف-پڑھنے-کی-اہمیت/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے محرم میں درود پڑھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: ”آج کل، خاص طور پر اس مہینے میں اور ہمیشہ بھی جبکہ دشمنی بھی آج کل خاص طور پر پاکستان میں بھی اور دوسری جگہوں پہ بھی اپنے عروج پر اور زوروں پر ہے ہمیں چاہیے کہ دعاؤں پر بہت زور دیں۔ درود شریف پڑھنے پر بہت زور دیں اور جتنا اللہ تعالیٰ کے حضور ہم جھکیں گے اتنا ہی جلدی اللہ تعالیٰ ہمیں فتح نصیب کرے گا، کامیابی.وکامرانی نصیب فرمائے گا۔ ان دنوں میں خاص طور پہ دوسرے مسلمانوں کے لیے بھی دعا کریں۔ وہ مسلمان فرقے ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے پر لگے ہوئے ہیں اور ان دنوں میں خاص طور پر جب دس محرّم آتی ہے تو تاریخ ابھی تک تو یہی بتا رہی ہے کہ کہیں نہ کہیں امام بارگاہوں پہ اور تعزیوں پہ یا مختلف جگہوں پہ حملے بھی ہوتے ہیں اور پھر کئی لوگوں کو شہید کیا جاتا ہے، دین کے نام پر شہید کیا جاتا ہے ۔“ (خطبہ جمعہ 28؍اگست 2020ء) - [محرم الحرام اور چند دعائیں](https://mushahedat.com/محرم-الحرام-اور-چند-دعائیں/) - خلفاء نے اِن دنوں میں کثرت سے درود شریف پڑھنے کی طرف بارہا توجہ دلائی ہے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰٓ اٰلِ مُحَمَّدٍکَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰٓ اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰٓ اٰلِ مُحَمَّدٍکَمَا بَارَکْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰٓ اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ - [اسلامی سال کا پہلا مہینہ۔محرم الحرام](https://mushahedat.com/اسلامی-سال-کا-پہلا-مہینہ۔محرم-الحرام/) - ایک موقع پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ماہ رمضان کے بعد سب مہینوں سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔‘‘ (مسلم کتاب الصیام باب فضل صوم المحرم) - [اسلامی سال نو کا آغاز اور ہماری ذمہ داریاں](https://mushahedat.com/اسلامی-سال-نو-کا-آغاز-اور-ہماری-ذمہ-داری/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے کہ اصل عید اور خوشی کا دن اور مبارک دن وہ ہوتا ہے جو انسان کی توبہ کا دن ہوتا ہے۔ اس کی مغفرت اور بخشش کا دن ہوتا ہے۔ جو انسان کی روحانی منازل کی طرف نشان دہی کروانے کا دن ہوتا ہے۔ جو دن ایک انسان کو روحانی ترقی کے راستوں کی طرف رہنمائی کرنے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو بروئے کار لانے کی طرف توجہ دلانے والادن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کا قرب پانےکے لیے عملی کوششوں کا دن ہوتا ہے۔ پس ہمارے سال اور دن اُس صورت میں ہمارے لیے مبارک بنیں گے جب ان مقاصد کے حصول کے لیے ہم خالص ہو کر، اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے، اس کے آگے جھکیں گے۔ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘ (خطبہ جمعہ بیان فرمودہ یکم جنوری 2010ء) - [محرم الحرام سے متعلقہ سوال و جواب(از حضرت خلیفۃُ المسیح الرابعؒ)](https://mushahedat.com/محرم-الحرام-سے-متعلقہ-سوال-و-جواباز-حضر/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا: ” محرم ایک دردناک واقعہ کی یاد دلاتا ہے ... تو اس موقع پر خوشی منانا اچھی بات نہیں... یہ دس دن جو ہیں استغفار اور دُعا اور دُرود میں گزارنے چاہئیں۔ کثرت سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد پر جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نسل سے تھی۔ کثرت سے درودپڑھیں۔ “ )مجلس عرفان تاریخ 14 اپریل 2000ء( - [ماہ محرم اورمسائل و رسومات](https://mushahedat.com/ماہ-محرم-اورمسائل-و-رسومات/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: ’’ہر مہینہ اپنے اندر خیر اور شر کے لوازم رکھتا ہے اس لئے دعا کرنی چاہئے۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ323) - [محرم الحرام ۔ قرآن و احادیث اور اسلاف کی نظر سے](https://mushahedat.com/محرم-الحرام-۔-قرآن-و-احادیث-اور-اسلاف-کی/) - حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان چار اعمال کو کبھی ترک نہیں فرماتے تھے ۔ دسویں محرم کے روزے، عشرہ ذوالحجہ کے روزے ، ہرمہینہ کے تین روزے اور نمازِ فجر سے قبل دو رکعات ۔ (احمد بن حنبل فی المسند۔ 287) - [ماہِ محرم اور حضرت امام حسینؓ کا مقام و مرتبہ(آنحضورؐ کے ارشادات کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/ماہِ-محرم-اور-حضرت-امام-حسینؓ-کا-مقام/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے حسن و حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی۔“ (سنن ابن ماجه باب فى فضائل اصحاب رسول اللّٰہؐ باب فَضْلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُمْ) - [ایک احمدی مسلم اور محرم الحرام(از ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ )](https://mushahedat.com/ایک-احمدی-مسلم-اور-محرم-الحراماز-ارشاد/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”دعاؤں کی قبولیت اور محرم کے حوالے سے میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ان دنوں میں، اس مہینے میں درود شریف پر بہت زیادہ زور دیں کہ قبولیت دعا کے لئے یہ نسخہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق نے اپنے عملی نمونہ سے درُود شریف کی برکات ہمارے سامنے پیش فرما کر ہمیں اس طرف خاص طور پر توجہ دلائی ہے۔ لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ درُود پڑھنے کے لئے اپنے آپ کو اس معیار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی ہو گی جس سے درُود فائدہ دیتا ہے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج رہے ہیں تو آپؐ کے مقام کی پہچان بھی ہمیں ہونی چاہئے۔“ (خطبہ جمعہ 2؍ جنوری 2009ء) - [حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/حضرت-فاطمۃ-الزہرا-رضی-اللہ-عنہا/) - حضرت فاطمہؓ کے بارہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے کے ذریعہ اطلاع پاکر ’’سَیِّدَۃُنِّسَاء الْجَنّۃ‘‘ کی خوشخبری دی تھی۔ ( صحیح بخاری جلد دوم صفحہ500کتاب الانبیاء ) - [اُمّ المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/اُمّ-المومنین-حضرت-میمونہ-رضی-اللہ-عنہ/) - ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے دو عمدہ اوصاف کی گواہی دیتے ہوئے فرماتی ہیں: ”میمونہ ہم میں خدا خوفی اور صلہ رحمی میں ممتاز مقام رکھتی ہیں۔“ - [اہلِ بیت سے حضرت مسیح موعودؑ کی محبت اور عشق](https://mushahedat.com/اہلِ-بیت-سے-حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-محبت-اور/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے فارسی کلام میں فرماتے ہیں۔ جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچہٴ آل محمد است - [اُمّ المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/اُمّ-المومنین-حضرت-خدیجۃ-الکبریٰ-رضی-ا/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا ’’ حضرت خدیجہ ؓ نے اس وقت اپنے مال سے میری مدد کی جب باقی لوگوں کو اس کی توفیق نہیں ملی۔‘‘ (مسند احمد جلد6صفحہ118) - [اُمّ المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/اُمّ-المومنین-حضرت-صفیہ-رضی-اللہ-عنہا/) - حضرت صفیہؓ نے جتنی زندگی بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری ہمیشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کا بہت خیال رکھا۔ آنحضورؐ جب اعتکاف بیٹھتے تو آپؓ اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کرتی تھیں اور حضورؐ کو دینے جاتیں ۔ آپؓ کھانا بہت اچھا بناتی تھیں اور اس کا اعتراف حضرت عائشہؓ بھی کیا کرتی تھیں کہ ’’میں نے کوئی عورت صفیہ سے اچھا کھانا پکانے والی نہیں دیکھی ۔ ‘‘ ( مطہر عائلی زندگی صفحہ85) - [اُمّ المومنین حضرت اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/اُمّ-المومنین-حضرت-اُمِّ-حبیبہ-رضی-الل/) - حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نہایت شدت سے عمل کرتی تھیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتی تھیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ہر روز بارہ رکعات پڑھ لے جو نفل کے زمرے میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنادیتا ہے۔ حضرت ام حبیبہ ؓنے اپنی پوری زندگی پھر ان بارہ رکعات کو کبھی نہیں چھوڑا۔ (صحیح مسلم کتاب المسافرین و قصر ھا) - [امام حسینؑ پریزیدی حکومت کا فتوی کفر(ازارشادات حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ )](https://mushahedat.com/امام-حسینؑ-پریزیدی-حکومت-کا-فتوی-کفراز/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”تمہاری ہمیں ضرورت نہیں۔ پہلے ہر نبی کو کہا گیا، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ہر بزرگ کو یہ کہا گیا ۔ حضرت امام حسین سے شروع ہو گیا یہ سلسلہ (علیہ السلام)۔ ان پر کفر کا فتوی لگا۔ واجب القتل قرار دیئے گئے۔ بڑا ملحد بن گیا ہے یہ شخص، اس فتوی میں سیاسی اقتدار اور بادشاہ وقت بھی تھا۔ ان کو نہایت ہی ظالمانہ طریق پر قتل کر دیا گیا۔ ان کے ساتھیوں کو، کم عمر نابالغ بچوں کو بھی، بہت سخت ظلم ہوا ہے وہ۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات کو بلند کرے اور جو نمونہ انہوں نے پہلا جو زبردست واقعہ ہوا ہے۔ جو میں نے تفصیل بتائی ہے اس کی روشنی میں اور بڑا زبردست نمونہ قائم کیا اسلام پر قربان ہو جانے کا۔ نبی اکرم کے لائے ہوئے نور اور حسن کو نہ مٹنے دینے کا اور ظلمت کے سامنے سر نہ جھکانے کا۔‘‘ (خطبات ناصر جلد نہم صفحہ136) - [حضرت حسینؑ۔جنت کا سردار](https://mushahedat.com/حضرت-حسینؑ۔جنت-کا-سردار/) - حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اللہ! میں ان دونوں (حسنؓ اور حسینؓ) کو محبوب رکھتا ہوں تو بھی اے اللہ! انہیں محبوب رکھ اور جو انہیں محبوب رکھے تو انہیں بھی محبوب رکھ۔“ (اسدالغابہ جلد2 زیر لفظ حسین) - [حضرت عیسٰیؑ، حضرت علیؓ اور امام حسینؓ کی توہین کا الزام اور اِس کا جواب](https://mushahedat.com/حضرت-عیسٰیؑ،-حضرت-علیؓ-اور-امام-حسینؓ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ خطبہ جمعہ فرمودہ 14اپریل 2000ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ضمیمہ نزول المسیح کا حوالہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راستبازوں پرزبان دراز کرتا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسینؓ جیسے یا حضرت عیسیٰؑ جیسے راستباز پربد زبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور وعید مَنْ عَادَا وَلِیًّالِی دست بدست اس کو پکڑ لیتا ہے۔‘‘ اب سوال یہ ہے کہ ظاہری طورپر تو بہت بدبخت ہیں جو حضرت امام حسینؓ کے خلاف بدزبانی کرتے ہیں اورحضرت عیسیٰ پر بھی سخت بدزبانی کرتے ہیں تووہ ایک ہی رات میں مرکیوں نہیں جاتے۔ اصل میں یہ روحانی مضمون ہے کہ وہ مرے ہوئے ہی ہوتے ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں یعنی روحانی لحاظ سے وہ زندہ رہ ہی نہیں سکتے ایسی گستاخی کے بعد۔ اگروہ پہلے سے مردہ نہ ہوں توایسی گستاخی نہیں کریں گے۔ اگر زندہ بھی سمجھتے تھے اپنے آپ کو تو اس گستاخی کے بعد ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتے یعنی روحانی معنوں میں۔ ’’اور وعید مَنْ عَادَا وَلِیًّالِی دست بدست اس کو پکڑ لیتا ہے۔ پس مبارک وہ جو آسمان کے مصالح کو سمجھتا ہے اور خدا کی حکمت عملیوں پر غور کرتا ہے۔‘‘ (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ149) (خطبہ جمعہ فرمودہ 14اپریل 2000ء) - [اہلِ بیت اور صحابہؓ کی تعظیم و توقیر(بزبانِ مبارک حضرت خلیفۃُ المسیح الرابعؒ )](https://mushahedat.com/اہلِ-بیت-اور-صحابہؓ-کی-تعظیم-و-توقیربزب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”محرم میں محبت کی اور باہم رشتوں کو باندھنے کی تعلیم دینی ضروری ہے اور جیسا کہ مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے حقیقت یہ ہے کہ اول زور روحانی تعلق پر دینا ضروری ہے اور پھر جسمانی طور پر اگر تعلق ہے تو اس تعلق میں اضافہ ہو گا کمی نہیں ہو سکتی۔ یعنی جسمانی تعلق سونے پر سہاگے کا کام دے گا لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے روحانی تعلق قائم ہو اور روحانی تعلق پر زور دیا جائے پھر زائد کے طور پر جب جسمانی رشتہ دکھائی دے گا تو لازمًا سب کو محبت ہو گی۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 17جون 1993ء) - [حضرت مسیح موعودؑ کی نظر میں حضرت امام حسینؓ کا مقام ومرتبہ](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-نظر-میں-حضرت-امام-حس/) - پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ سے اپنی ایک مناسبت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’مجھے حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کے ساتھ ایک لطیف مناسبت ہے اور اس مناسبت کی حقیقت کو مشرق و مغرب کے ربّ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور مَیں حضرت علیؓ اور آپ کے دونوں بیٹوں سے محبت کرتا ہوں اور جواُن سے عداوت رکھے اس سے مَیں عداوت رکھتا ہوں‘‘ (سرالخلافۃ اُردو ترجمہ صفحہ112) - [اُم المؤمنین حضرت جویریہ بنتِ حارث رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/اُم-المؤمنین-حضرت-جویریہ-بنتِ-حارث-رضی/) - حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ایک بہادر ، ذہین اور سادہ مزاج خاتون تھیں حالانکہ آپؓ کی پرورش ایک امیر گھرانے میں ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بالکل سادگی میں باقی ازواج مطہرات کی طرح آپؓ نے بھی اپنی زندگی گزاری ۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کا بہت جذبہ تھا ۔آپؓ اپنا اکثر وقت عبادت میں گزارتی تھیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے حجرے کے ایک کونے کو مخصوص کر لیا تھا ۔ - [اُمّ المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/اُمّ-المومنین-حضرت-زینب-بنت-جحش-رضی-الل/) - حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زینب رضی الله عنہا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات سے فخریہ کہا کرتی تھیں کہ تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپرکیا۔ (صحیح بخاری کتاب: التوحيد، باب: وکان عرشه علي الماء) - [خلافت کیا ہے اک فضلِ عظیم ربِّ رحمان ہے](https://mushahedat.com/خلافت-کیا-ہے-اک-فضلِ-عظیم-ربِّ-رحمان-ہے/) - ایک مراکشی دوست مصطفی صاحب نے لمبا عرصہ احمدیت کے بارے میں تحقیق کر کے بیعت کی ۔ کہتے ہیں میں نے بچپن سے ہی بہت سے علماء کی صحبت میں وقت گزارا ہے لیکن خلیفہ وقت کے خطبات نہ صرف قرآن کریم کی صحیح تفسیر ہیں بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ خطبات سننے کے بعد مجھے نمازوں کا مزہ آنے لگا ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھے سچی خوابیں بھی دکھائی ہیں۔ احمدیت نے میری زندگی بدل دی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کرتے ہوئے موصوف آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ - [اُمُّ المؤمنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/اُمُّ-المؤمنین-حضرت-اُمّ-سلمہ-رضی-اللہ/) - علمی حیثیت میں اگرچہ تمام ازواج بلند مرتبہ تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ کا ان میں کوئی جواب نہیں تھا، چنانچہ محمود بن لبید کہتے ہیں،”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج احادیث کا مخزن تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ کا ان میں کوئی حریف و مقابل نہ تھا۔“ ( طبقات ابن سعد جلد 6 صفحہ 317) - [اُمُّ المؤمنین حضرت زینبؓ بنتِ خزیمہ](https://mushahedat.com/اُمُّ-المؤمنین-حضرت-زینبؓ-بنتِ-خزیمہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ حضرت زینب کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مزاج آشنائی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ ایک دفعہ حضرت زینبؓ اپنے کپڑے گیری میں رنگنے لگیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے تشریف لائے اور کپڑے رنگتے ہوئے دیکھ کر واپس تشریف لے گئے ۔ حضرت زینبؓ تاڑ گئیں کہ آپ کس بات کی وجہ سے واپس تشریف لے گئے ہیں ۔ ہادیوں کے گھر میں ہر وقت الٰہی رنگن چڑھی رہتی ہے ۔ جس کا ذکر صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً (البقرہ:139)میں ہے ۔ یہ رنگینیاں اس کے مقابل میں کیا چیز ہے ۔ پس یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بناوٹ ، زیور اور لباس سے خوش نہیں ہوتا بلکہ نیک بیبیوں کی بناوٹ اور زیور ان کے نیک عمل ہیں۔ ‘‘ ( خطبات نورصفحہ 226) - [اُمّ المومنین حضرت حفصہ بنتِ عمر رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/اُمّ-المومنین-حضرت-حفصہ-بنتِ-عمر-رضی-ال/) - ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے حضرت حفصہؓ کے بارہ میں یہ الفاظ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہے ’’ وہ بہت عبادت کرنے والی بہت روزے رکھنے والی ہیں ۔اے محمد! وہ جنت میں آپؐ کی زوجہ ہیں ‘‘ (الاستیعاب ) - [اُمّ المومنین حضرت سودہ بنتِ زمعہ رضی اللہ عنہا](https://mushahedat.com/اُمّ-المومنین-حضرت-سودہ-بنتِ-زمعہ-رضی-ا/) - حضرت سودہ ؓ کے پاکیزہ اخلاق اور ان کی محبت کی تعریف کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ’’ مَیں نے کسی عورت کو جذبہ رقابت سے خالی نہ دیکھا سوائے سودہؓ کے ۔‘‘ ( مطہر عائلی زندگی صفحہ34-33) - [اصلاحِ نفس](https://mushahedat.com/اصلاحِ-نفس/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ نفس کی پاکیزگی صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ(الانبیاء:50) یعنی جو اپنے ربّ سے غیب میں ہونے کے باوجود ڈرتے ہیں۔ پس جب یہ حالت ہوتی ہے تو ان کی نمازیں بھی اور دوسری عبادتیں بھی اور دوسرے نیک اعمال بھی دل میں خداتعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے اس کی رضا کے حصول کے لئے ہوتے ہیں اور جب یہ حالت ہو، جب اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں ہو تو وہ انسان خود اپنے نفس کو پھر کبھی پاک نہیں ٹھہرا سکتا بلکہ ہر نیکی کو جو وہ بجا لاتا ہے اور ہر اس موقع کو جو نیکی بجالانےکا اس کو میسر آتا ہے خداتعالیٰ کے فضل پر محمول کرتا ہے۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ 22مئی2009ء ) - [مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ](https://mushahedat.com/مَنۡ-اَنۡصَارِیۡۤ-اِلَی-اللّٰہِ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’جب ہم حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ کے واقعات پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں تو ان کی نیک فطرت، ان کی صداقت کی پہچان کے لئے تڑپ، ان کی جان مال قربان کرنے کے لئےتڑپ اور کوشش اور ان کے حضرت مسیح موعودؑ سے عشق و محبت کے اپنے اپنے ذوق اور سمجھ کے مطابق معیار اور اس کا اظہار نظر آتا ہے۔ غرضیکہ یہ وہ آخرین تھے جو پہلوں سے ملنے کے لئے اپنے اپنے رنگ میں حق ادا کرنے والے بننے کےلئے کوشش کرنے والے تھے۔ ہر ایک کا اپنا انداز تھا اور ان کو دیکھنے والوں اور ان سے قریبی تعلق والوں نے بھی ان صحابہ کے ہر انداز اور اخلاق و کردار سے اپنے اپنے رنگ میں نصیحت حاصل کی یا بعض باتوں سے نتائج أخذ کئے‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 7 اگست 2015ء) - [خلفاء کی مالی تحریکات](https://mushahedat.com/خلفاء-کی-مالی-تحریکات/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ’’ فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک محبت و عقیدت کے اس چشمہ سے پھوٹی ہے جو احباب کے دل میں اپنے پیارے آقا المصلح الموعودؓ کے لیے ہمیشہ موجزن رہی اور موجزن رہے گی ۔‘‘ ( الفضل یکم جون 1966ء ) - [امثال الاحادیث(تقریرنمبر2)](https://mushahedat.com/امثال-الاحادیثتقریرنمبر2/) - حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کعبہ کا دروازہ پکڑ کر یوں بیان کیا ’’ مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یاد رکھو! تمہارے حق میں میرے اہلِ بیت کی مثال وہی ہے جو نوح کی کشتی کی ہے جو اس میں سوار ہو گیا اس نے نجات پالی اور جو شخص اس کشتی میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ ہلاک ہوا ۔ ‘‘ ( احمد فی فضائل الصحابۃ ) - [عشرہ ذوالحجہ اور عید الاضحیٰ کی اہمیت و فضائل](https://mushahedat.com/عشرہ-ذوالحجہ-اور-عید-الاضحیٰ-کی-اہمیت-و/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام قربانی کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اِنَّ الضَّحَایَا ھِیَ الْمَطَایَا تُوْصَلُ اِلیٰ رَبِّ الْبَرَایَا اَوْ تَمْحُوا الْخَطَایَا وَ تَدْفَعُ الْبَلَایَا )خطبہ الہامیہ ،روحانی خزائن جلد16 صفحہ45( یعنی یہ قربانیاں تو سواریاں ہیں جن پر سوار ہو کر خالق کائنات سے ملا جاسکتا ہے یا اپنی خطائیں معاف کرائی جاسکتی ہیں اور مشکلات سے دور رہا جاسکتا ہے۔ - [امثال الحدیث(تقریر نمبر 1)](https://mushahedat.com/امثال-الحدیثتقریر-نمبر-1/) - حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرو ۔ اس کی تلاوت کرتے رہو ۔ یاد رکھو! قرآن کریم کی مثال جب کوئی اس کی تعلیم حاصل کرتا ہے اس تھیلے کی مانند ہے جو کستوری سے بھرا ہوا ہو اور اس کی خوشبو ہر جگہ مہک رہی ہو اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی پھر وہ غافل ہو کر سویا رہا حالانکہ قرآن کریم اس کے دل میں اس تھیلے کی مانند ہے جو کستوری سے بھرا ہوا ہے لیکن اس کا منہ رسی سے باندھا گیا ہے ‘‘ ( ترمذی فضائل القرآن ) - [آئیں! حج اور عید الاضحیٰ کی مناسبت سےحضرتِ”ابراہیم حنیف“ کی باتیں کریں](https://mushahedat.com/آئیں-حج-اور-عید-الاضحیٰ-کی-مناسبت-سےحضر/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ مسلمان جب ہر نماز میں درود پڑھتے ہیں اور ہر نفل کی آخری رکعت میں جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں تو ساتھ ہی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر بھی اور آپؑ کی آل پر بھی اس حوالہ سے درود بھیجتے ہیں۔ یہ اعزاز حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آپ کی وفا اور کامل طور پر خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کے لئے تیار ہونے کی وجہ سے ملا۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس طرح بھی بیان فرمایا ہے کہ وَاِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی ) النجم (38 :اور ابراہیم جس نے وفا کی اور عہد پورا کیا۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 17ستمبر 2010ء) - [امثالُ القرآن](https://mushahedat.com/امثالُ-القرآن/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ قرآن شریف پر تدبر کرو اس میں سب کچھ ہے ۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہےاور آئندہ زمانہ کی خبریں ہیں ۔‘‘ ( ملفوظات جلد 5صفحہ102) - [حج بیتُ اللہ اور اس کا فلسفہ](https://mushahedat.com/حج-بیتُ-اللہ-اور-اس-کا-فلسفہ/) - حضرت حذیفہ بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ پر نظر فرماتے تو یہ دعا کرتے: اَللّٰهُمَّ زِدْ بَيْتَکَ ھٰذَا تَشْرِيْفًا وَّتَعْظِيْمًا وَّتَكْرِيْمًا وَّبِرًّا وَّمَصَابَةً وَّزِدْ مَنْ شَرَفَهٗ وَعَظَّمَہٗ مِمَّنْ حَجَّهٗ وَ اعْتَمَرَهٗ تَشْرِيْفًا وَّبِرًّاوَّمَصَابَةً )معجم الاوسط لطبرانی جلد6 صفحہ183( ترجمہ: اے اللہ تعالیٰ! اپنے اس گھر (بیت اللہ) کو بزرگی ،عظمت و عزت، نیکی اور رعب میں زیادہ کراور حج و عمرہ کرنے والوں میں سے جو اس کی تقدیس اور تعظیم کرے اسے بھی عظمت و شرف اور نیکی اور رعب میں بڑھا۔ - [زکوٰۃ کی فرضیت اور اِس کا نصاب](https://mushahedat.com/زکوٰۃ-کی-فرضیت-اور-اِس-کا-نصاب/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”زکوٰۃ کا نام اسی لئے زکوٰۃ ہے کہ انسان اس کی بجا آوری سے یعنی اپنے مال کو جو اس کو بہت پیارا ہے للہ دینے سے بخل کی پلیدی سے پاک ہو جاتا ہے۔ اورجب بخل کی پلیدی جس سے انسان طبعًا بہت تعلق رکھتا ہے انسان کے اندر سے نکل جاتی ہے تو وہ کسی حد تک پاک بن کر خداسے جو اپنی ذات میں پاک ہے ایک مناسبت پیدا کرلیتاہے۔“ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21صفحہ 204-203) - [صدقہ و خیرات کی اہمیت و برکات(از روئے احادیث)](https://mushahedat.com/صدقہ-و-خیرات-کی-اہمیت-و-برکاتاز-روئے-اح/) - ہمارے آقاحضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”انسان کے لیے ہر ایک جوڑ پر صدقہ دینا لازم ہے۔ اسی طرح ہر روز جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانا بھی صدقہ ہے۔ کسی کو سواری پر سوارکرانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھنے میں مدد دینا بھی صدقہ ہے۔ طیب بات( پاک صاف کلمہ) کہنا بھی صدقہ ہے ۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے ۔ اسی طرح تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹا دینابھی صدقہ ہے ۔“ (صحیح البخاری کِتابُ الۡجَہاد وَالسّیۡر بَابُ مَنۡ اَخَذَ بِالرِّکَابِ وَنَحۡوِ) - [صدقہ و خیرات کی حقیقت اور برکات](https://mushahedat.com/صدقہ-و-خیرات-کی-حقیقت-اور-برکات/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’دعا، صدقہ اور خیرات سے عذاب کا ٹلنا ایسی ثابت شدہ صداقت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کا اتفاق ہے اور کروڑ ہا صلحاء اور اتقیااور اولیاء اللہ کے ذاتی تجربے اس امر پر گواہ ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد1 صفحہ159-158 ایڈیشن1984ء) - [خلافت خامسہ میں مالی قربانیوں کے چند ایمان افروزواقعات](https://mushahedat.com/خلافت-خامسہ-میں-مالی-قربانیوں-کے-چند-ای/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ”آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہی ہیں جو دین کی خاطر مالی قربانی کرنے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ یہ شبنم کی طرح تھوڑی تھوڑی رقمیں بھی دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بے انتہا پھل لگاتا ہے…..کبھی یہ بات کسی کمزور احمدی کے دل میں بھی نہیں آنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نیک نیتی سے کی گئی قربانی کو نوازتا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خزانے لامحدود ہیں۔ اس کو ہمارے چند پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ قربانیاں جو اللہ تعالیٰ مانگتا ہے یہ تو وہ ہمیں مزید فضلوں کا وارث بنانے کے لیے موقع میسر فرماتا ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ 5جنوری2024ء ) - [صحابہ مسیح موعودؑ کی مالی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات](https://mushahedat.com/صحابہ-مسیح-موعودؑ-کی-مالی-قربانیوں-کے-ا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے …بہتیرے ان میں سے ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لیے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔‘‘ (ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14صفحہ306) - [25 تقاریر بابت انفاق فی سبیل اللّٰہ](https://mushahedat.com/25-تقاریر-بابت-انفاق-فی-سبیل-اللّٰہ/) - مومنوں کے لیے اللہ کی نعمتوں کا شکر گزاری ضروری ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی سیر کے دوران مشاہدات قلمبند کرنے کی تحریک سے متاثر ہوکر مصنف نے ایک سال میں 436 مشاہدات، جن میں 358 کو کتابی شکل دی گئی، لکھے۔ یہ مشاہدات کارکنان جماعت کی تقریری مقابلہ جات میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ - [مالی قر بانی کی اہمیت ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی روشنی میں](https://mushahedat.com/مالی-قر-بانی-کی-اہمیت-ارشادات-حضرت-خلیف/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم یہ مت سمجھو کہ تمہارے مال ضائع جاتے ہیں ایک ایک پائی جو تم دیتے ہو خدا کے بنک میں جمع ہورہی ہے جو سُود دَرسُود کے ساتھ تمہیں ملے گی۔ پس ڈرو نہیں اور گھبراؤ نہیں وہ دن قریب ہیں بلکہ دروازہ پر ہیں جب مُلک تم کو دیئے جائیں گے اور بادشاہ سلسلہ میں داخل ہوں گے ۔ “ (انوارالعلوم ، جلد 14صفحہ 39) - [مالی قربانی کی اہمیت از ارشادات خلفائے حضرت مسیح موعودؑ](https://mushahedat.com/مالی-قربانی-کی-اہمیت-از-ارشادات-خلفائے/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےذریعہ جماعت احمدیہ میں نظام وصیت قائم کیا۔ نظام وصیت ایک عظیم نظام ہے۔ ہر پہلو کے لحاظ سے۔ نظام وصیت کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جو ممبر ہیں یا داخل ہیں سلسلہ عالیہ احمدیہ میں ان میں سے ایک گروہ ایسا ہو جو اسلامی تعلیم کی روح سے ذمہ داریوں کو اس قدر توجہ اور قربانی سے ادا کرنے والا ہو کہ ان میں اور دوسرے گروہ میں ایک مابہ الامتیاز پیدا ہو جائے۔ نظام وصیت صرف 1/10 ما لی قربانی کا نام نہیں ہے۔ یہ نظام ہے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمانی رفعتوں تک پہنچانے کا۔‘‘ (خطبہ جمعہ 30 اپریل 1982ء) - [انفاق فی سبیل اللہ از روئے قرآن](https://mushahedat.com/انفاق-فی-سبیل-اللہ-از-روئے-قرآن/) - اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں انفاق فی سبیل اللہ کے متعلق فرماتا ہے : قُلۡ لِّعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَلَا خِلٰلٌ ( ابراہیم:32) ترجمہ: تو میرے اُن بندوں سے کہہ دے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے مخفی طور پر بھی اور علانیہ طور پر بھی خرچ کریں پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں کوئی خریدوفروخت نہیں ہوگی اور نہ کوئی دوستی (کام آئے گی)۔ - [حیوانوں کی دنیا اور ان کے متعلق اسلامی تعلیم( احادیث کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/حیوانوں-کی-دنیا-اور-ان-کے-متعلق-اسلامی-ت/) - حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ جب تم سبزہ والی زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حصہ دو۔‘‘ (مسلم: باب مراعاۃ مصلحۃ الدروس) - [قرآن میں مذکور جانوروں کے ناموں سے سورتوں میں اسباق](https://mushahedat.com/قرآن-میں-مذکور-جانوروں-کے-ناموں-سے-سورت/) - حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’ایک مومن کے لئے روحانیت اور تقویٰ انتہائی اہم چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مکڑی کے گھر کی مثال دے کر یہ بھی واضح فرما دیا کہ منہ سے مذہب کا اقرار کر لینا کافی نہیں ہے۔ مذہب کا لیبل لگا لینا اور اس کا لبادہ اوڑھ لینا کافی نہیں ہے۔ اس سے انسان اپنی نجات کے سامان نہیں کر لیتا۔ بلکہ نجات اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہے۔ ‘‘ ( خطبہ جمعہ 20نومبر2009ء ) - [فہرست مشاہدات 400-1](https://mushahedat.com/فہرست-مشاہدات-400-1/) - اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے مختلف عناوین پر 400 تقاریر مکمل ہونے پر اس کی ترتیب کے ساتھ فہرست جاری کی جا رہی ہے۔ - [لَیْسَ الْخَبَرُ کَالْمُعَایَنَۃ](https://mushahedat.com/َیْسَ-الْخَبَرُ-کَالْمُعَایَنَۃ/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”انسان صدیق نہیں کہلاسکتا جب تک جھوٹ کے تمام شعبوں سے پرہیز نہ کرے۔ “ ( ملفوظات جلد 3صفحہ99) - [مالی قربانی کی اہمیت(ازارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ)](https://mushahedat.com/مالی-قربانی-کی-اہمیتازارشادات-حضرت-خل/) - حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”یہ بھی یاد رکھو کہ جو تم خرچ کرتے ہو اور جتنا تم بجٹ لکھواتے ہو اور جتنی تمہاری آمد ہے یہ سب اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ اس لئے اس سے معاملہ ہمیشہ صاف رکھو۔نیکی کا ثواب اللہ تعالیٰ سے حاصل کرنے کے لئے اپنی تشخیص بھی صحیح کرواؤ اور ادائیگیاں بھی صحیح رکھو تاکہ تمہاری روحانی حالت بھی بہتر ہو اور تم نیکیوں میں ترقی.کرسکو۔“ (خطبہ جمعہ 28 مئی 2004ء) - [مالی قر بانی کی ترغیب (از ارشادات حضرت مسیح موعودؑ)](https://mushahedat.com/مالی-قر-بانی-کی-ترغیب-از-ارشادات-حضرت-م/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”یہ ظاہر ہے کہ تم دو چیز سے محبت نہیں کر سکتے اور تمہارے لئے ممکن نہیں۔ کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ جو خدا سے محبت کرے اور ا گر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کرکے اس کی راہ میں مال خر چ کرے گا۔ تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی ۔ کیونکہ مال خودبخود نہیں آتا ۔ بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔ پس جو شخص خدا کیلئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے۔ وہ ضرور اسے پائے گا۔ “ (مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ497-498) - [مالی قر بانی۔ جماعت احمدیہ کا طُرّہ امتیاز ہے](https://mushahedat.com/مالی-قر-بانی۔-جماعت-احمدیہ-کا-طُرّہ-امت/) - حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ” اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت پر اور اس پیاری جماعت پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس میں شامل ہونے کے بعد احباب جماعت اپنے عہد کے مطابق مالی قربانیوں میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ “ (خطبات مسرور جلد 4صفحہ167) - [خلافت احمدیہ کی دوسری صدی کا عظیم عہد اور ہماری ذمہ داریاں](https://mushahedat.com/خلافت-احمدیہ-کی-دوسری-صدی-کا-عظیم-عہد-او/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں : ”بیعت کے معنے ہیں بیچ دینا۔ جیسے ایک چیز دی جاتی ہے تو اس سے کوئی تعلق نہیں رہتا ۔ خریدار کا اختیار ہے جو چاہے سو کرے۔ تم لوگ جب اپنا بیل دوسرے کے پاس بیج دیتے ہو تو کیا اسے کہہ سکتے ہو کہ اسے اس طرح استعمال کرنا ؟ ہرگز نہیں اس کا اختیار ہے جس طرح چاہے استعمال کرے۔ اسی طرح جس سے تم بیعت کرتے ہو۔ اگر اس کے احکام پر ٹھیک ٹھیک نہ چلو تو پھر کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ “ (ملفوظات جلد 3 صفحہ207) - [لَعَلَّکُمْ تُرحَمُوْن کے آئینہ میں-خلافت،رحمتِ خداوندی ہے](https://mushahedat.com/لَعَلَّکُمْ-تُرحَمُوْن-کے-آئینہ-میں-خ/) - حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”یاد رکھیں! وہ سچے وعدوں والا خدا ہے۔وہ آج بھی اپنے پیارے مسیح کی اس پیاری جماعت پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔وہ ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا۔وہ آج بھی اپنے پیارے مسیح سے کئے ہوئے وعدوں کو اسی طرح پورا کر رہا ہے جس طرح وہ پہلی خلافتوں میں کرتا رہا ہے،وہ آج بھی اسی طرح اپنی رحمتوں اور فضلوں سے نواز رہا ہےجس طرح پہلے وہ نوازتا رہا ہےاور ان شا ء اللہ نوازتا رہے گا۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مئی 2004ء) - [باشرح چندوں کی ادائیگی کی اہمیت و برکات](https://mushahedat.com/باشرح-چندوں-کی-ادائیگی-کی-اہمیت-و-برکات/) - حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”یاد رکھو! جتنا تم خرچ کرتے ہو اور جتنا تم بجٹ لکھواتے ہو اور جتنی تمہاری آمد ہےیہ سب اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔اس لئے اس سے معاملہ ہمیشہ صاف رکھو۔ نیکی کا ثواب اللہ تعالیٰ سے حاصل کر نے کے لئےاپنی تشخیص کو بھی صحیح کر واؤاور ادائیگیاں بھی صحیح رکھو تاکہ تمہاری روحانی حالت بھی بہتر ہواور تم نیکیوں میں ترقی کر سکو۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 28مئی2004ء) - [مالی قر بانی کی اہمیت و برکات](https://mushahedat.com/مالی-قر-بانی-کی-اہمیت-و-برکات/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” میرے پیارے دوستو ! مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادتِ ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے۔ اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے ۔ سو مَیں اس لئے مُستَعِدۡ کھڑا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اموالِ طیبہ سے اپنے دینی مُہمات کے لئے مدد دیں اور ہر ایک شخص جہاں تک خدائے تعالیٰ نے اُس کو وسعت و طاقت ومَقۡدِرَتۡ دی ہے اِس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اموال کو مُقَدَّمۡ نہ سمجھے۔ “ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 516) - [انفاق فی سبیلِ للہ از روئے اقوال رسولؐ](https://mushahedat.com/انفاق-فی-سبیلِ-للہ-از-روئے-اقوال-رسولؐ/) - حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”صدقہ دے کرآگ سے بچو خواہ آدھی کھجور خرچ کرنے کی ہی استطاعت ہو۔“ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب اتقوالنار ولو بشق تمرۃ) - [خلافتِ رابعہ اور استحکامِ خلافت](https://mushahedat.com/خلافتِ-رابعہ-اور-استحکامِ-خلافت/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ ربوہ کی ایک ایک گلی گواہ ہے بڑے سے بڑا ابتلا جو ممکن ہو سکتا تھا ، تصور میں آسکتا تھا وہ آیا اور گزر گیا اور کوئی زخم نہیں پہنچا سکا جماعت کو اور انتہائی وفا کے ساتھ کامل صبر کے ساتھ ساتھ جماعت اس عہد پر قائم رہی کہ ہم خلافت احمدیہ سے وابستہ رہیں گے اور اس کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دینے کے لیے تیار ہوں گے ۔‘‘ (خطباتِ طاہر جلد اوّل صفحہ17) - [خلافتِ ثالثہ اور استحکامِ خلافت](https://mushahedat.com/خلافتِ-ثالثہ-اور-استحکامِ-خلافت-2/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جس خلافت کے گرد خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت پہرہ دے رہی ہے، اس خلافت کے قلعے پر تو تمہاری لات اگر پڑے گی تو تمہاری ہڈیا ں بھی اِس طرح چُورچُور ہوجائیں گی کہ اُن کے ذرے بھی دنیا کو نظر نہیں آئی گے‘‘ (خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ10مارچ 1972ء) - [خلافت اولیٰ اور استحکام خلافت](https://mushahedat.com/خلافت-اولیٰ-اور-استحکام-خلافت-2/) - ’’میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآنِ مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آدم کو خلیفہ بنایا کس نے؟ اللہ تعالیٰ نےفرمایا۔ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً …. جس طرح آدم وداؤداور ابوبکر وعمرکو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اگر کوئی کہے کہ انجمن نے خلیفہ بنایا ہے تو وہ جھوٹا ہے اس قسم کے خیالات ہلاکت کی حد تک پہنچاتے ہیں۔تم ان سے بچو۔‘‘ - [تاخلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار](https://mushahedat.com/تاخلافت-کی-بنا-دنیا-میں-ہو-پھر-استوار/) - جناب واصف علی واصف یا الہٰی! یا الہٰی! کے زیر عنوان اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’ یا الہٰی! ہمیں لیڈروں کی یلغار سے بچا۔ہمیں ایک قائد عطا فرما، ایسا قائد جو تیرے حبیب کے تابع فرمان ہو…..اس کی اطاعت کریں تو تیری اطاعت کے حقوق ادا ہوتےرہیں۔ ‘‘ (روزنامہ نوائے وقت لاہور 26 ستمبر1991ء) - [حضرت مسیح موعودؑاورخلفاء کےجماعت پراحسانات](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑاورخلفاء-کےجماعت-پرا/) - حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ” دنیا کا کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشم تصور میں مَیں نہ پہنچتا ہوں اور ان کے لئے سوتے وقت بھی اور جاگتے وقت بھی دعا نہ ہو۔ یہ مَیں باتیں اس لئے نہیں بتا رہا کہ کوئی احسان ہے۔ یہ میرا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ اس سے بڑھ کر مَیں فرض ادا کرنے والا بنوں۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 6؍جون 2014ء) - [حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ(سیرت و سوانح)](https://mushahedat.com/حضرت-خلیفۃ-المسیح-الرابع-رحمہ-اللہ-تعا/) - حضرت اُمّ طاہرؓ ہروقت کے لیے خود بھی دعا کرتیں اور دوسروں سے یہ دعا کرواتیں کہ ’ ’میرا ایک ہی بیٹا ہے، خدا کرے یہ خادم دین ہو۔ مَیں نے اسے خدا کے راستہ میں وقف کیا ہے‘۔ پھر آنسوؤں کے ساتھ یہ جملے بار بار دہراتیں کہ خدایا ! میرا طاری تیرا پرستار ہو، یہ عابدو زاہد ہو، اسے خادم دین بنائیو! اسے اپنے عشق اور حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق اور حضرت مسیح موعودؑ کے عشق میں سرشار کرنا۔‘‘ ( سیرت حضرت اُم طاہرؓ از ملک صلاح الدین صفحہ 224 ) - [حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ(سیرت و سوانح)](https://mushahedat.com/حضرت-خلیفۃ-المسیح-الثالث-رحمہ-اللہ-تعا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں : ’’ مجھے بھی خدا نے خبر دی ہے کہ مَیں تجھے ایک ایسا لڑکادوں گا جو دین کا ناصر ہو گا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو گا ‘‘ (تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ320) - [حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ(سیرت و سوانح)](https://mushahedat.com/حضرت-خلیفۃ-المسیح-الثانی-رضی-اللہ-عنہس/) - ”جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نُور آتا ہے نُور۔ جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی رُوح ڈالیں گے اور خُدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔‘‘ (اشتہار 20 ؍فروری 1886ء) - [حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ(سیرت و سوانح)](https://mushahedat.com/حضرت-خلیفۃ-المسیح-الاوّل-رضی-اللہ-عنہس/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت حکیم مولوی نورالدین خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ’’ میرے مقام کی محبت کے لیے وہ اپنے اصلی وطن کی یاد کو چھوڑ دیتا ہے اور میرے ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتا ہے جیسے نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہےاور مَیں اس کو اپنی رضا میں فانیوں کی طرح دیکھتا ہوں ‘‘ - [خلفائے احمدیت کی امتِ مسلمہ سے محبت اور تڑپ](https://mushahedat.com/خلفائے-احمدیت-کی-امتِ-مسلمہ-سے-محبت-اور/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ن فرماتے ہیں: ’’مسلم امّہ کا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا احمدیت کی فتح سے ہی وابستہ ہے۔ ظلم و تعدی کا خاتمہ اسی سے وابستہ ہے۔ پس چاہے فلسطینیوں کو ظلم سے آزاد کروانا ہے یا مسلمانوں کو ان کے اپنے ظالم حکمرانوں سے آزاد کروانا ہے اس کی ضمانت صرف احمدیوں کی دعائیں ہی بن سکتی ہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 8؍اگست 2014ء) - [تحریکات خلافتِ خامسہ](https://mushahedat.com/تحریکات-خلافتِ-خامسہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ن فرماتے ہیں: ”اپنے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ سے جوڑ کر اور پھر خلافت سے کامل اطاعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہی چیز ہے جو جماعت میں مظبوطی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنے گی۔ خلافت کی پہچان اور اس کا صحیح علم اور ادراک اس طرح جماعت میں پیدا ہونا چاہئے کہ خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بخوشی قبول کرنے والے ہوں۔“ (الفضل 18 مارچ 2014ء) - [خلافتِ ثانیہ اور استحکامِ خلافت](https://mushahedat.com/خلافتِ-ثانیہ-اور-استحکامِ-خلافت/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’فتنے ہیں اور ضرور ہیں مگر تم جو اپنے آپ کو اتحاد کی رسی میں جکڑ چکے ہو خوش ہو جاؤ کہ انجام تمہارے لئے بہتر ہوگا ۔ تم خدا کی ایک برگزیدہ قوم ہو گے اور اس کے فضل کی بارشیں ان شاء اللہ تم پر اس زور سے برسیں گی کہ تم حیران ہو جاؤ گے۔‘‘ (کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے از انوار العلوم جلد 2 صفحہ 19) - [نظام خلافت کی اطاعت اور فرمانبرداری](https://mushahedat.com/نظام-خلافت-کی-اطاعت-اور-فرمانبرداری/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اِنۡ رَأَیۡتَ یَوۡمَٔذٍ خَلِیۡفَۃَ اللّٰہِ فِی الۡاَرۡضِ فَالۡزِمۡہُ وَاِنۡ نُھِکَ جِسۡمُکَ وَاُخِذَ مَالُکَ۔ یعنی اگر تو اللہ کے خلیفہ کو زمین میں دیکھے تو اسے مضبوطی سے پکڑ لینا اگرچہ تیرا جسم نوچ دیا جائے اور تیرا مال چھین لیاجائے ۔ (مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفۃ بن الیمان حدیث نمبر22916) - [خلیفہ بنانا خداتعالیٰ کا کام ہے](https://mushahedat.com/خلیفہ-بنانا-خداتعالیٰ-کا-کام-ہے/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”خوب یاد رکھو کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور جھوٹا ہے وہ انسان جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ انسانوں کا مقرر کردہ ہوتا ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحب اپنی خلافت کے زمانہ میں چھ سال متواتر اس مسٔلہ پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے نہ انسان اور درحقیقت قرآن شریف کے غور سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک جگہ بھی خلافت کی نسبت انسانوں کی طرف نہیں کی گئی بلکہ ہر قسم کے خلفا کی نسبت اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ انہیں ہم بناتے ہیں۔ “ (کون ہے جو خدا کے کام کو ر وک سکے از انوار العلوم جلد 2صفحہ11) - [منصبِ خلافت](https://mushahedat.com/منصبِ-خلافت/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی حیثیت دنیا کے تمام بادشاہوں اور شہنشاہوں سے زیادہ ہے، وہ دنیا میں خدا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہے۔“ (الفضل 27 اگست 1937ء صفحہ 8) - [خلیفہ راشد چہارم۔سیرت و سوانح حضرت علی المرتضیٰ](https://mushahedat.com/خلیفہ-راشد-چہارم۔سیرت-و-سوانح-حضرت-علی/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’حضرت علی رضی اللہ متقی، پاک اور خدائے رحمان کے محبوب ترین بندوں میں سے تھے۔آپ ہم عصروں میں سے چنیدہ اور زمانے کے سرداروں میں سے تھے۔ آپ اللہ کے غالب شیر اور مردِ خدائے حنان تھے آپ کشادہ دست پاک دل اور بے مثال بہادر تھے۔“ (ترجمہ از عربی سر الخلافۃ۔ روحانی خزائن۔ جلد8صفحہ 358) - [خلیفہ راشد سوم ۔سیرت و سوانح حضرتِ عثمان غنیؓ](https://mushahedat.com/خلیفہ-راشد-سوم-۔سیرت-و-سوانح-حضرتِ-عثما/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’میں تو یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سا رنگ پیدا نہ ہو۔ وہ دنیا سے محبت نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں۔‘‘ (لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20صفحہ294) - [خلیفہ راشد دوم۔سیرت و سوانح حضرت عمر فاروقؓ](https://mushahedat.com/خلیفہ-راشد-دوم۔سیرت-و-سوانح-حضرت-عمر-فا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ صدیق رضی اللہ عنہ اور فاروق رضی اللہ عنہ خدا کے عالی مرتبہ امیر قافلہ ہیں ، وہ بلند پہاڑ ہیں ، انہوں نے شہروں اور بیان بان نشینوں کو حق کی طرف بلایا یہاں تک کہ ان کی دعوت اَقصائے بلاد تک پہنچی ، ان کی خلافت اثمارِ اسلام سے گرانبار اور خوشبوئے کامرانی و کامیابی سے معطر و ممسوح تھی ۔ ‘‘ ( سرّ الخلافہ ، روحانی خزائن جلد8) - [خلیفہ راشد اوّل۔سیرت و سوانح حضرت ابو بکر صدیقؓ](https://mushahedat.com/خلیفہ-راشد-اوّل۔سیرت-و-سوانح-حضرت-ابو-ب/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ میں سچ کہتاہوں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس اسلام کے لئے آدمِ ثانی ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلعم کے بعد ابوبکرؓکا وجود نہ ہوتا تو اسلام بھی نہ ہوتا۔ ابوبکر صدیق ؓکا بہت بڑااحسان ہے کہ اس نے اسلام کو دوبارہ قائم کیا۔ اپنی قوتِ ایمانی سے کل باغیوں کو سزادی اور امن کو قائم کردیا۔ اسی طرح پر جیسے خدا تعالیٰ نے فرمایا اور وعدہ کیا تھا کہ میں سچے خلیفہ پر امن کو قائم کروں گا۔ یہ پیشگوئی حضرت صدیق ؓکی خلافت پر پوری ہوئی اور آسمان نے اور زمین نے عملی طور پر شہادت دے دی۔ پس یہ صدیق کی تعریف ہے کہ اس میں صدق اس مرتبہ اور کمال کا ہونا چاہئے ۔‘‘ ( ملفوظات جلد1صفحہ380-381 ایڈیشن 1984ء) - [خلافت خامسہ اور استحکامِ خلافت](https://mushahedat.com/خلافت-خامسہ-اور-استحکامِ-خلافت/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”ہر احمدی کو چاہئے کہ جب بھی کوئی نصیحت سنے یا خلیفہ وقت کی طرف سے کسی معاملے میں توجہ دلائی جائے تو سب سے پہلا مخاطب اپنے آپ کو سمجھے۔“ (خطبات مسرور جلد4صفحہ 257) - [ایٹمی جنگ بارے خلفاء کا دنیا کو واضح انتباہ](https://mushahedat.com/ایٹمی-جنگ-بارے-خلفاء-کا-دنیا-کو-واضح-انت/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کی دعا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: ”آج کل تو دنیا کے جو حالات ہیں، جنگوں میں بھی ایسے ہتھیار استعمال ہوتے ہیں جو آگ پھینکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آگ سے بھی بچائے اور دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی حسنات عطا فرمائے۔“ (خطبہ جمعہ 5 اپریل 2024ء) - [خلافت کی ضرورت و اہمیت(اغیار کی نظر میں)](https://mushahedat.com/خلافت-کی-ضرورت-و-اہمیتاغیار-کی-نظر-میں/) - حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’سارا عالم اسلام مل کر زور لگالے اور خلیفہ بناکر دکھادے وہ نہیں بنا سکتا کیونکہ خلافت کا تعلق خدا کی پسند سے ہے اورخدا کی پسند اس شخص پر خود انگلی رکھتی ہے جسے وہ صاحب تقویٰ سمجھتا ہے اس کے بعد پھر وہ متقیوں کا ایک گروہ اپنے گرد پیدا کردیتا ہے۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 2؍اپریل 1993ء) - [خلفائے احمدیت کی اپنے اپنے پیشرو کی مثالی اطاعت](https://mushahedat.com/خلفائے-احمدیت-کی-اپنے-اپنے-پیشرو-کی-مثا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اطاعت ایک ایسی چیز ہے اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں لذت اور روشنی آتی ہے ۔ مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے ۔ اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کردیناضروری ہوتا ہے بدُوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی۔ ‘‘ (تفسیر بیان فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 2 صفحہ 246) - [تقوٰی تمام دینی علوم کی کُنجی ہے](https://mushahedat.com/تقوٰی-تمام-دینی-علوم-کی-کُنجی-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقوٰی سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقوٰی ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19صفحہ15) - [سچی تہذیب وہ ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی](https://mushahedat.com/سچی-تہذیب-وہ-ہے-جو-قرآن-شریف-نے-سکھلائی/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’آسمانی تہذیب تو اور ہے جس میں ایمان، تقویٰ، دیانت، صلاحیت اور نیک کرداری شامل ہے۔ مگر اُن کے نزدیک دنیا کے جوڑ توڑ، ہر قسم کے مکروفریب کا نام تہذیب ہے۔ یہ تہذیب اُن کے ہی نصیب رہے ہم اس کو لینا نہیں چاہتے چند بے ہودہ رسوم و عادات کا نام جو اخلاق سے گری ہوئی ہیں تہذیب نام رکھتے ہیں اور خدائی رسُوم و آداب کی توہین اور استخفاف کرتے ہیں حالانکہ ان رسوم و عادات کے نتائج اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں جن سے سوسائٹی میں امن، اخلاق اور نیک اعمالی پیدا ہوتی ہے۔ اپنی رسُوم و عادات کو جن کے نتائج بد ہیں، پسندیدہ سمجھتے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد9 نمبر 29 صفحہ 3 مؤرخہ 17 اگست 1905ء) - [تاثیراتِ قرآنیہ ۔ قبولِ اسلام کے واقعات](https://mushahedat.com/تاثیراتِ-قرآنیہ-۔-قبولِ-اسلام-کے-واقعا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں۔ ’’قرآن کریم میں یہ تاثیر ہے کہ اس کی کوئی سورة بھی آدمی پڑھے۔ اس کے دل میں اعلیٰ سے اعلیٰ روحانی تاثیرات پیدا ہونے لگیں گی‘‘ (تفسیر کبیر جلد3 صفحہ 161) - [سچا رہنما قرآن شریف ہے](https://mushahedat.com/سچا-رہنما-قرآن-شریف-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتے ہیں۔ قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے‘‘ (الحکم 31؍ اکتوبر 1901ء) - [دوسری قدرت یعنی خلافت احمدیہ دائمی ہے](https://mushahedat.com/دوسری-قدرت-یعنی-خلافت-احمدیہ-دائمی-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اب یاد رہے کہ اگرچہ قرآن کریم میں اس قسم کی بہت سی آیتیں ایسی ہیں کہ جو اس اُمّت میں خلافت دائمی کی بشارت دیتی ہیں اور احادیث بھی اس بارہ میں بہت سی بھری پڑی ہیں لیکن بالفعل اس قدر لکھنا ان لوگوں کے لئے کافی ہے جو حقائق ثابت شدہ کو دولت عظمیٰ سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں اور اسلام کی نسبت اس سے بڑھ کر اور کوئی بداندیشی نہیں کہ اس کو مردہ مذہب خیال کیا جائے اور اس کی برکات کو صرف قرن اوّل تک محدود کیا جاوے ‘‘ (شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6صفحہ354) - [قرآن روحانی وجسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا موجب](https://mushahedat.com/قرآن-روحانی-وجسمانی-بیماریوں-کے-لئے-شف/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’یہ کتاب شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ہے جو بیماریاں سینہ و دل سے تعلق رکھتی ہیں اس کتاب میں ان تمام بیماریوں کا علاج پایا جاتا ہے اور جو نسخے یہ کتاب تجویز کرتی ہے ان کے استعمال سے دل اور سینہ کی ہر روحانی بیماری دُور ہوجاتی ہے۔‘‘ ۔۔(انوارالقرآن جلد2 صفحہ272) - [اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو](https://mushahedat.com/اپنے-نفس-کا-مطالعہ-کرتے-رہو/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ گناہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہوا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہو سکتا ہے ۔ استغفار کیا ہے ؟ یہی کہ جو گناہ صادر ہو چکے ہیں ان کے بد ثمرات سےخدا تعالیٰ محفوظ رکھے اور جو ابھی صادر نہیں ہوئے اور جو بالقوۃ انسان میں موجود ہیں اُن کے صدور کا وقت ہی نہ آوے اور اندر ہی اندر وہ جل بھن کر راکھ ہوجاویں۔یہ وقت بڑے خوف کا ہے ۔ اس لیے توبہ استغفار میں مصروف رہو اور اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو ۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد 5صفحہ 299ایڈیشن1984ء ) - [حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ الودود کی محیر العقول یادداشت کے چند دلچسپ واقعات](https://mushahedat.com/حضرت-خلیفۃ-المسیح-الخامس-ایدہ-الودود-ک/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ خلیفۂ وقت کا تو دنیا میں پھیلے ہوئے ہر قوم اور ہر نسل کے احمدی سے ذاتی تعلق ہے…یہ خلافت ہی ہے جو دنیا میں بسنے والے ہر احمدی کی تکلیف پر توجہ دیتی ہے۔ ان کے لئے خلیفۂ وقت دعا کرتا ہے… دنیا کا کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشم تصور میں مَیں نہ پہنچتا ہوں اور ان کے لئے سوتے وقت بھی اور جاگتے وقت بھی دعا نہ ہو۔‘‘ )خطبہ جمعہ 06؍جون 2014ء ( - [خلافت علیٰ منہاج النبوۃ سے کیا مراد ہے؟](https://mushahedat.com/خلافت-علیٰ-منہاج-النبوۃ-سے-کیا-مراد-ہے؟/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہوسکتا ہے جو ظِلیّ طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ در حقیقت رسول کا ظِلّ ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہٰذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دُنیا کے وجودوں سے اشرف واَولیٰ ہیں ظِلیّ طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت قائم رکھے سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دُنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔‘‘ (شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد6 صفحہ353) - [اطاعتِ خلافت کی اہمیت اور اِس کی برکات](https://mushahedat.com/اطاعتِ-خلافت-کی-اہمیت-اور-اِس-کی-برکات/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے چونکہ کسی انسان کے لیے دائمی بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اعلیٰ ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے تاقیامت قائم رکھے سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا ہے تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔‘‘ (شہادت القرآن7، روحانی خزائن جلد6 صفحہ353) - [نظامِ خلافت کی اہمیت، اطاعت و برکات از ارشادات حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ](https://mushahedat.com/نظامِ-خلافت-کی-اہمیت،-اطاعت-و-برکات-از-ا/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’اپنے آپ کو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام سے جوڑ کر پھر خلافت سے کامل اطاعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہی چیز ہے جو جماعت میں مضبوطی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنے گی۔ خلافت کی پہچان اور اُس کا صحیح علم اور ادراک اس طرح جماعت میں پیدا ہو جانا چاہئے کہ خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بخوشی قبول کرنے والے ہوں اور کسی قسم کی روک دل میں پیدا نہ ہو۔ کسی بات کو سن کر انقباض نہ ہو۔ خلافت کا صحیح فہم و ادراک پیدا کرنا بھی مربیان کے کاموں میں سے اہم کام ہے اور پھر عہدیدران کا کام ہے کہ وہ بھی اس طرف توجہ دیں۔‘‘ )روزنامہ الفضل 18مارچ 2014ء( - [آیتِ استخلاف میں اطاعت کا سبق](https://mushahedat.com/آیتِ-استخلاف-میں-اطاعت-کا-سبق/) - حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اعتصام حبل اللہ کے ساتھ ہو…چاہیے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسی میت غسال کے ہاتھ میں ہوتی ہے تمہارےتمام ارادے اور خواہشات مردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔ تیرہ سوسال بعد یہ زمانہ ہمیں ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آسکتا بس اس نعمت کا شکر ادا کرو۔ کیوں کہ شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے۔‘‘ (خطبات نور صفحہ131) - [انصار اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ](https://mushahedat.com/انصار-اللہ-اور-انفاق-فی-سبیل-اللہ/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” چندہ دینے والے یہ سوچیں کہ خداتعالیٰ کا اُن پراحسان ہے کہ اُن کو چندہ دینے کی توفیق دے رہا ہے، نہ کہ یہ احسان کسی شخص کا، اللہ تعالیٰ پر یا اللہ تعالیٰ کی جماعت پر ہے کہ وہ اُسے چندہ دے رہے ہیں۔ پس ہر چندہ دینے والے کو یہ سوچ رکھنی چاہئے کہ وہ چندے دے کر خداتعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے کی کوشش کررہا ہے۔ “ (خطبہ جمعہ 31 مارچ 2006ء) - [قرآن راہِ نجات ہے](https://mushahedat.com/قرآن-راہِ-نجات-ہے/) - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتا یا ہے۔ اور تمام قویٰ کی تربیت فرمائی ہے۔ اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو‘‘ (ملفوطات جلد5صفحہ102) - [شوّال کے روزے-درس نمبر32](https://mushahedat.com/شوّال-کے-روزے-درس-نمبر32/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهٗ سِتًّا مِنْ شَوالَ فَذَاکَ صِیَامُ الدَّهْرِ ( ترمذی کتاب الصوم ) جس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزےرکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمارہوں گے ۔ - [عید الفطر 2024](https://mushahedat.com/عید-الفطر-2024/) - [(رخصت ہوتے رمضان کا ایک سبق )خلافت سے وابستگی۔اصلاحِ نفس کا ذریعہ ہے-درس نمبر31](https://mushahedat.com/رخصت-ہوتے-رمضان-کا-ایک-سبق-خلافت-سے-واب/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ایک بہت بڑی تعداداللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت سے وفا اور اخلاص کا تعلق رکھتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں یہ ریزولیوشنز، یہ خط، یہ وفاؤں کے دعوے تب سچے سمجھے جائیں گے….جب آپ ان دعووں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں۔ نہ کہ وقتی جوش کے تحت نعرہ لگا لیا اور جب مستقل قربانیوں کا وقت آئے… جب نفس کی قربانی دینی پڑے تو سامنے سو سو مسائل کے پہاڑ کھڑے ہوجائیں۔ پس اگر یہ دعویٰ کیا ہے کہ آپ کوخداتعالیٰ کی خاطر خلافت سے محبت ہے تو پھر نظام جماعت جو نظام خلافت کا حصہ ہے اس کی بھی پوری اطاعت کریں۔ خلیفۂ وقت کی طرف سے تقویٰ پر قائم رہنے کی جو تلقین کی جاتی ہے اور یقینًا یہ خداتعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہی ہے، اس پر عمل کریں…… پھر تمہاری کامیابیاں ہیں۔ ورنہ پھر کھوکھلے دعوے ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے اور ہم وہ کر دیں گے۔ ہم آگے بھی لڑیں گے، ہم پیچھے بھی لڑیں گے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ یکم جولائی 2005ء ) - [عیدالفطر کے مسائل اور اِس کا فلسفہ-درس نمبر30](https://mushahedat.com/عیدالفطر-کے-مسائل-اور-اِس-کا-فلسفہ-درس-ن/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”جو کچھ تمہارے پاس ہے اسے بھی غرباء کی فلاح اور بہبود کے لئے خرچ کرو۔ یہ روح جس دن مسلمانوں میں پیدا ہوگی درحقیقت وہی دن ان کے لئے حقیقی عید کا دن ہو گا۔ کیونکہ رمضان نے ہمیں بتایا ہے کہ تمہاری کیفیت یہ ہونی چاہئے کہ تمہارے گھر میں دولت تو ہو مگر اسے اپنے لئے خرچ نہ کرو۔ بلکہ دوسروں کے لئے کرو۔“ (خطبہ عید الفطر 12 مئی 1956ء از خطبات محمود جلد اوّل صفحہ342) - [رمضان اور نظام وصیت میں شمولیت-درس نمبر29](https://mushahedat.com/رمضان-اور-نظام-وصیت-میں-شمولیت-درس-نمبر2/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پرقدم مارو گے۔ سواپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خداتعالیٰ کو دیکھتے ہو۔ اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقینا یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو خود تقویٰ سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔‘‘ (کشتی نوح،روحانی خزائن جلد 19 صفحہ15) - [رمضان اور تحریک جدید،وقف جدید-درس نمبر28](https://mushahedat.com/رمضان-اور-تحریک-جدید،وقف-جدید-درس-نمبر28/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’تمہارے لیے ممکن نہیں ہے کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرےاور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔ پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد3صفحہ497) - [رمضان اور توبہ و استغفار-درس نمبر27](https://mushahedat.com/رمضان-اور-توبہ-و-استغفار-درس-نمبر27/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ اٹھو اور توبہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو ۔ تم خدا سے صلح کر لو وہ نہایت درجہ کریم ہے ۔ ایک دم کے گداز کرنے والی توبہ سے ستر برس کے گناہ بخش سکتا ہے۔ ‘‘ (لیکچر لاہور ،روحانی خزائن جلد 20صفحہ 174) - [رمضان اور جمعۃ الوداع-درس نمبر26](https://mushahedat.com/رمضان-اور-جمعۃ-الوداع-درس-نمبر26/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ جمعہ اس لئے نہیں آیا کہ ہم اس کو پڑھ کر رمضان کو وداع کر دیں یا رخصت کر دیں بلکہ اس لئے آیا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو اس سے فائدہ اٹھا کر ہمیشہ کے لئے اسے اپنے دل میں قائم کر لیں۔ جمعہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لئے عیدوں میں سے ایک عید قرار دیا ہے اور اس دن میں احادیث کے مطابق ایک ایسی گھڑی بھی آتی ہے جس میں دعائیں خصوصیت کے ساتھ قبول ہوتی ہیں۔ ان سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے۔ آج کے دن ہم اس لئے مسجد میں نہیں آئے، نہ آنا چاہئے اور یہ ایک احمدی کی سوچ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کہیں کہ تونے جو مصیبت رمضان کی صورت میں ہم پر ڈالی تھی شکر ہے وہ آج ٹل رہی ہے یا رخصت ہو رہی ہے۔ بلکہ اس لئے آئے ہیں کہ ان مبارک گھڑیوں میں یہ دعا کریں کہ رمضان کے دن تو تین چار دن میں گزر جائیں گے لیکن اے خدا! تُو رمضان کی حقیقت اور اس میں کی گئی عبادتیں اور دوسرے نیک اعمال ہمارے دل کے اندر محفوظ کر دے اور وہ ہم سے کبھی جدا نہ ہوں۔ “ (خطبہ جمعہ 25جولائی2014ء) - [رمضان اور درود شریف کے فضائل-درس نمبر25](https://mushahedat.com/رمضان-اور-درود-شریف-کے-فضائل-درس-نمبر25/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”درود جو حصولِ استقامت کا ایک زبردست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو مگر نہ رسم و عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کو مدِ نظر رکھ کر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابیوں کے واسطے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیتِ دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد3صفحہ 38) - [رمضان۔ظاہری و باطنی طہارت کا مُوجب ہے-درس نمبر24](https://mushahedat.com/رمضان۔ظاہری-و-باطنی-طہارت-کا-مُوجب-ہے-د/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”فلاح وہ شخص پاوے گا جو اپنے نفس میں پوری پاکیزگی اور تقویٰ اور طہارت پیدا کر لے اور گناہ اور معاصی کے ارتکاب کا کبھی بھی اس میں دورہ نہ ہو اور ترکِ شر اور کسبِ خیر کے دونوں مراتب پورے طور سے یہ شخص طے کر لے تب جا کر کہیں اسے فلاح نصیب ہوتی ہے۔ ‘‘ ( الحکم جلد 12نمبر32مورخہ10مئی1908ء صفحہ3) - [رمضان میں نیکیوں کی دوڑ-درس نمبر23](https://mushahedat.com/رمضان-میں-نیکیوں-کی-دوڑ-درس-نمبر23/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’سابق بالخیرات بننا چاہئے ایک ہی مقام پر ٹھہر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔ دیکھو! ٹھہرا ہوا پانی آخرگندا ہوجاتا ہے۔ کیچڑ کی صحبت کی وجہ سے بدبودار اور بدمزہ ہوجاتا ہے۔ چلتا پانی ہمیشہ عمدہ، ستھرا اور مزیدار ہوتا ہے۔ اگرچہ اس میں بھی نیچے کیچڑ ہوتا ہے ۔ مگر کیچڑ اس پر کچھ اثر نہیں کرسکتا۔ یہی حال انسان کا ہے کہ ایک ہی مقام پر ٹھہر نہیں جانا چاہئے۔ یہ حالت خطرناک ہے۔ ہر وقت قدم آگے ہی رکھنا چاہئے۔ نیکی میں ترقی کرنی چاہئے۔ ورنہ خدا تعالیٰ انسان کی مددنہیں کرتا اور اس طرح سے انسان بے نور ہوجاتا ہے۔ جس کا نتیجہ آخر کار بعض اوقات ارتداد ہوجاتا ہے۔ اس طرح سے انسان دل کا اندھا ہوجاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی نصرت اُنہی کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں ایک جگہ نہیں ٹھہر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 456) - [رمضان۔صبر، تحمل و برداشت کا درس دیتا ہے-درس نمبر22](https://mushahedat.com/رمضان۔صبر،-تحمل-و-برداشت-کا-درس-دیتا-ہے/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ ‘‘ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ - [لیلۃ القدرکی فضیلت اور برکات-درس نمبر21](https://mushahedat.com/لیلۃ-القدرکی-فضیلت-اور-برکات-درس-نمبر21/) - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللّٰہ عنه قَالَ: دَخَلَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہعلیه وآله وسلم: إِنَّ هٰذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَکُمْ وَفِیْهِ لَیْلَةٌ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّهُ وَلَا یُحْرَمُ خَیْرَهَا إِلَّا مَحْرُومٌ ( ابن ماجہ کتاب الصوم ) ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رمضان کا مہینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ مہینہ تمہارے پاس آیا ہے اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے ۔ جو شخص اس رات سے فائدہ نہ اٹھا سکا وہ تمام خیر سے محروم ہوا اور اس کی خیر و برکت سے سوائے محروم انسان کے کوئی خالی نہیں رہتا ۔ - [آخری عشرہ کی اہمیت و برکات-درس نمبر20](https://mushahedat.com/آخری-عشرہ-کی-اہمیت-و-برکات-درس-نمبر20/) - حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عمل کے لحاظ سے اِن دنوں یعنی آخری عشرہ سے بڑھ کر خداتعالیٰ کے نزدیک عظمت والے اور محبوب کوئی دن نہیں ہیں ۔ پس اِن ایام میں تہلیل یعنی لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے، اللہ تعالیٰ کی بندگی پوری طرح اختیار کرنے اور تکبیر کہنے اور تحمید کہنے، اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے، اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے کو بکثرت اختیار کرو۔“ (صحیح ابن خزیمہ کتاب الصوم) - [رمضان اورتقویٰ لازم ملزوم ہیں-درس نمبر19](https://mushahedat.com/رمضان-اورتقویٰ-لازم-ملزوم-ہیں-درس-نمبر19/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ قرآن شریف روزہ کی اصل حقیقت اور فلاسفی کی طرف خود اشارہ فرماتا ہے اور کہتا ہے ….روزہ تمہارے لیے اس واسطے ہے کہ تقویٰ سیکھنے کی تم کو عادت پڑ جاوے ۔ ایک روزہ دار خداکے لیے ان تمام چیزوں کو ایک وقت ترک کرتا ہے جن کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے اور ان کے کھانے پینے کی اجازت دی ہے صرف اس لیے کہ اس وقت میرے مولیٰ کی اجازت نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پھر وہی شخص ان چیزوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے جن کی شریعت نے مطلق اجازت نہیں دی اور وہ حرام کھاوے ، پیوے اور بد کاری اور شہوت کو پوراکرے۔ ‘‘ (الحکم 24جنوری1904ء) - [رمضان اور حقوق العباد-درس نمبر18](https://mushahedat.com/رمضان-اور-حقوق-العباد-درس-نمبر18/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ”ان دنوں میں جہاں احمدی اپنی عبادتوں اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے سے خدا تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کرے، وہاں ہمدردیٔ خلق اور رنجشوں کو دور کرنے اور اخلاق کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔ خالصۃً خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دینی چاہئے اور یہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک دلوں کی کدورتیں اور رنجشیں دور نہ ہوں۔ اصل ہمدردیٔ خلق کا جذبہ تو وہیں ظاہر ہوتا ہے جہاں ہر ایک سے بلا امتیاز اور بلا تخصیص ہمدردی کا جذبہ ہو اور یہی ہمدردی کا جذبہ پھر ایک دوسرے کے لئے دعاؤں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔ اور پھر آپس کی دعاؤں سے تقویٰ کا قیام عمل میں آتا ہے۔ دلوں اور روحوں کی پاکیزگی کے سامان ہوتے ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی کے نئے معیار قائم ہوتے ہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ یکم جون 2012ء ) - [رمضان اور مالی قربانی(فدیہ ،فطرانہ، صدقات و خیرات)-درس نمبر17](https://mushahedat.com/رمضان-اور-مالی-قربانیفدیہ-،فطرانہ،-صد/) - حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر صبح دو فرشتےاُترتے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے۔ اے اللہ ! خرچ کرنے والے سخی کو اَور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اَور پیدا کر۔ ‘‘ (صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ) - [مدَّرز ڈے](https://mushahedat.com/مدَّرز-ڈے/) - یومِ مادر (مدرڈے) منانے کے حوالہ سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”ٹھیک ہے تحفے بے شک لے لیا کرو لیکن اسلام تو کہتا ہے کہ ہر دن مدر ڈے ہے تم ہر روز مدرڈے مناؤ۔ مَیں نے یہاں ایک د فعہ لندن میں ایک فنکشن تھا۔ مسجد کا افتتاح تھا ۔ انگریز آئے ہوئے تھے ۔ اُس دن مدر ڈے تھا اُن کو مَیں نے یہی کہا تھا کہ تمہارا مدر ڈے آج ہے اسلام تو ہر روزکو مدر ڈے کہتا ہے۔ والدین کی عزت کرو، اُن سے حسن سلوک کرو۔ اُن کو اُف نہ کہو اُن کی خدمت کرو ۔ تحفہ روز دو ماں باپ کو اگر تمہیں توفیق ہے تو“ - [رمضان اور والدین کی اطاعت کا سبق-درس نمبر16](https://mushahedat.com/رمضان-اور-والدین-کی-اطاعت-کا-سبق-درس-نمب/) - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ )ترمذی حدیث 3545) حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ شخص مجھ پر درود نہ بھیجے اور اُس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں ر مضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا ہو اور وہ دونوں اُسے ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنے کی وجہ سے جنت کا مستحق نہ بنا سکے ہوں۔ - [حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سفرِ آخرت](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعود-علیہ-السلام-کا-سفرِ-آخر/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو وصال سے کچھ عرصہ قبل خدا تعالیٰ کی طرف سے واضح طور پر وفات کی خبریں دی گئیں۔ دسمبر 1905ء میں حضور نے ’’رسالہ الوصیت‘‘میں جماعت کو اس عظیم سانحہ کی خبر دیتے ہوئے فرمایا۔ ’’خدائے عزّوجل نے متواتر وحی سے مجھے خبر دی ہے کہ میرا زمانہ وفات قریب ہے اور اس بارے میں اُس کی وحی اس قدر تواتر سے ہوئی کہ میری ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا اور اس زندگی کو میرے پر سرد کر دیا۔ الہام ہوا۔ قَرُبَ اَجلُکَ الْمُقَّدَر۔ تیری اجل قریب آ گئی ہے۔ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ اس دن سب پر اُداسی چھا جائے گی۔“ - [مسائل رمضان-درس نمبر15](https://mushahedat.com/مسائل-رمضان-درس-نمبر15/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ صیام میں روزہ رکھتاہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتاہے۔ خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔ مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔ خدا کے اس حکم پرعمل کرنا چاہئے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کازور دکھاکر کوئی نجات حاصل کر سکتاہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہویا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمباہو۔ بلکہ حکم عام ہے اوراس پرعمل کرنا چاہئے ۔ مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے توان پر حکم عدولی کافتویٰ لازم آئے گا۔ ‘‘ (بدر جلد4نمبر22مورخہ24ستمبر1907ءصفحہ7) - [اسلام کے فتح نصیب جرنیل اغیار کی نظر میں](https://mushahedat.com/اسلام-کے-فتح-نصیب-جرنیل-اغیار-کی-نظر-میں/) - سید حبیب ایڈیٹر روزنامہ ’’سیاست‘‘ لاہور نے لکھا: ’’مسلمانوں کے بہکانے کے لئے عیسائیوں نے دین حقہ اسلامیہ اور اس کے بانی صلعم پر بے پناہ حملے شروع کر دئیے جن کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا…. اس وقت کے آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔ اِکے دُکے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہوگئے مگر کوئی کامیاب نہ ہوا۔ اس وقت مرزا غلام احمدصاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ پدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوبی اور خوش اسلوبی سے ادا کیا۔ اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دئیے۔ اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین لاجواب ہیں۔ ‘‘ - [تیس(30)دروسُ الحدیث بابت رمضان](https://mushahedat.com/تیس30دروسُ-الحدیث-بابت-رمضان/) - "مشاہدات" رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹتے ہوئے، روزانہ کی بنیاد پر تعلیمی و روحانی دروس ویب سائٹ پر اپلوڈ کر رہا ہے جن کی تعداد اب چودہ تک پہنچ چکی ہے۔ دنیا بھر سے درخواستوں پر یومِ مسیح موعود پر مختلف موضوعات پر 32 دروس فوری شائع کیے جارہے ہیں۔ درس 16 سے 32 تک آئندہ روزانہ ویب سائیٹ پر بھی دستیاب ہوں گے۔ - [رمضان اور احتساب (محاسبہ نفس)-درس نمبر14](https://mushahedat.com/رمضان-اور-احتساب-محاسبہ-نفس-درس-نمبر14/) - آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّاِحْتِسَابًاغُفِرَ لَه مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ( سنن ابو داؤد کتاب الصلوۃ) کہ جس نے رمضان کے روزےایمان اور اپنا احتساب کرتے ہوئے رکھے۔ اس کے رمضان سے پہلے کئے گئے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ - [حضرت مسیح موعودؑ کی قبولیتِ دعا کے عظیم الشان نشان](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-قبولیتِ-دعا-کے-عظیم/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میں کثرت قبولیت کا نشان دیا گیا ہوں۔کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کرسکے۔ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں 30 ہزار کے قریب قبول ہوچکی ہیں اور ان کا میرے پاس ثبوت ہے۔‘‘ (روحانی خزائن جلد13 صفحہ 497) - [حضرت مسیح موعودؑ کو ماننا کیوں ضروری ہے؟](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کو-ماننا-کیوں-ضروری-ہے/) - حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے امام مہدی کی بیعت اور اطاعت کرنے کے متعلق تعلیم دیتے ہوئے فرمایا۔ ”جس نے امام مہدی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“ (بحارالانوار جلد 13 صفحہ 17) - [رمضان اور دُعا-درس نمبر13](https://mushahedat.com/رمضان-اور-دُعا-درس-نمبر13/) - یَا بَاغِیُ الْخَیْرِ ھَلُمَّ ھَلْ مِنْ دَاعٍ یُسْتَجَابُ لہٗ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ یُسْتَغْفَرُ لَہٗ ھَلْ مِنْ تَائبٍ یُتَابُ عَلَیْہِ ھَلْ مِنْ سَائِلٍ یُعْطَی سُؤْلَہٗ ( کنز العمال) اے خیر کے طالب! آگے بڑھو۔ کیا کوئی ہے جو دُعا کرے تا کہ اس کی دعا قبول کی جائے۔ کیا کوئی ہے جو استغفار کرے کہ اُسے بخش دیا جائے۔ کیا کوئی ہے جو توبہ کرے تا کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ کیا کوئی ہے جو سوال کرے۔ جس کو پورا کیا جائے گا۔ - [رمضان اورنوافل لازم ملزوم ہیں-درس نمبر12](https://mushahedat.com/رمضان-اورنوافل-لازم-ملزوم-ہیں-درس-نمبر12/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں ۔ جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہر حال مل جائے گا ۔ اُس وقت کی دُعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے کیونکہ وہ سچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں ۔ اس وقت کا اُٹھنا ہی ایک دردِ دل پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد 2صفحہ20) - [دشمنوں کی ہلاکت اور اُن کی ذلت ورسوائی(حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیوں کی روشنی میں)](https://mushahedat.com/دشمنوں-کی-ہلاکت-اور-اُن-کی-ذلت-ورسوائیح/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو الہاماً فرمایا: اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ یعنی جوتجھے ذلیل کرنے کاارادہ کرے گامَیں اس کو ذلیل کروں گا۔ (براہین احمدیہ،روحانی خزائن جلد 1صفحہ601) پھر فرمایا وَنُمَزِّقُ الْاَعْدَاءَ کُلَّ مُمَزَّقٍ یعنی مَیں تیرے دشمن کو ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا (تذکرہ صفحہ550) اور پھر ایک موقع پر اللہ تعالیٰ آپؑ کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے۔ یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ الْعِدَا وَیَسْطُوْبِکُلِّ مَنْ سَطَا یعنی اللہ دشمنوں سے تجھے بچائے گا اورہرایک جوتجھ پر حملہ کرتاہے اُس پر حملہ کرے گا۔ (تذکرہ صفحہ 558) - [رمضان اور تلاوت قرآن کریم-درس نمبر11](https://mushahedat.com/رمضان-اور-تلاوت-قرآن-کریم-درس-نمبر11/) - آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عَلَیْکُمْ بِالْقُرْاٰنِ فَاتَّخِذُوْہُ اِمَامًا وَّ قَائِدًا، فَاِنَّہٗ کَلَامُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ الَّذِیْ ھُوَ مِنْہُ وَاِلَیْہِ یَعُوْدُ فَاٰمِنُوْا بِمُتَشَابہہٖ وَاعْتَبِرُوْا بِاَمْثَالِہٖ (کنز العمال) تم قرآ ن کو لازم پکڑو اور اس کو امام اور قائد بنالو کیونکہ یہ ربُّ العالمین کا کلام ہے جو اُسی سے نکلا ہے اور اُسی کی طرف لوٹ جائے گا۔ پس اس کے متشابہ پر ایمان لاؤ اور اس کی مثالوں سے عبرت وسبق حاصل کرو۔ - [حضرت مسیح موعودؑ کا بیماروں اورمریضوں سےحُسنِ سلوک](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کا-بیماروں-اورمریضوں/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”ہر ایک اپنے لئے کوشش کرتا ہے مگر انبیاء علیھم السلام دوسروں کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ لوگ سوتے ہیں اور وہ ان کے لئے جاگتے ہیں اور لوگ ہنستے ہیں اور وہ ان کے لئے روتے ہیں اور دنیا کی رہائی کے لئے ہر ایک مصیبت کو بخوشی اپنے پر وارد کرلیتے ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 117-118 ) - [سحری وافطاری کے آداب و برکات-درس نمبر10](https://mushahedat.com/سحری-وافطاری-کے-آداب-و-برکات-درس-نمبر10/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں کہ ’’آجکل ہم رمضان سے گزر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ سحری کھاؤ اور افطاری کرو۔ آپ نے اپنے عمل سے ہمیں یہ کر کے دکھایا کہ اگر کوئی سوائے مجبوری کے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر نہیں چلتا تو یہ بھی گستاخی اور گناہ ہے۔ بعض مجبوریاں ہو جاتی ہیں جب آدمی کو فوری طور پر افطاری بھی نہیں ملتی یا سحری نہیں کھائی جا سکتی اور اگر پھر کوئی صحت کے باوجود روزہ نہیں رکھتا تو یہ بھی گستاخی اور گناہ ہے۔ گویا خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا جو کسی بھی صورت میں مہیا ہیں، خدا تعالیٰ کے حکم سے فائدہ اُٹھانا اور جائز طریق سے فائدہ اُٹھانا نیکی بن جاتی ہے اور اُن کا ناجائز استعمال یا بے وقت استعمال گناہ ہے اور یہی آپؐ نے ہمیں اپنے عمل سے کر کے دکھایا۔‘‘ ( خطبہ جمعہ17اگست2012ء) - [رمضان اور جھوٹ سے اجتناب-درس نمبر9](https://mushahedat.com/رمضان-اور-جھوٹ-سے-اجتناب-درس-نمبر9/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رِجس قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ(الحج:31)۔ دیکھو! یہاں جھوٹ کو بُت کے مقابل رکھا ہے اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بُت ہی ہے ورنہ کیوں کوئی سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔ جیسے بُت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بھی بجز ملمّع سازی کے اَور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔ اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جائے تو جلدی سے دور نہیں ہوتا ۔ مدّت تک ریاضت کریں تب جا کر سچ بولنے کی عادت ان کو ہو گی۔‘‘ (ملفوظات جلد3صفحہ350ایڈیشن 1985ء) - [حضرت مسیح موعودؑ کا صبراورعفو و درگزر](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کا-صبراورعفو-و-درگزر/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’یقیناً یاد رکھو کہ مومن متقی کے دل میں شر نہیں ہوتا۔مومن جس قدر متقی ہوتا جاتا ہے اسی قدر وہ کسی کی نسبت سزا اور ایذاء کو پسند نہیں کرتا۔مسلمان کبھی کینہ پرور نہیں ہو سکتا۔ہاں دوسری قومیں ایسی کینہ پرور ہوتی ہیں کہ اُن کے دل سے دوسرے کی بات کینہ کی کبھی نہیں جاتی اور بدلہ لینے کے لئے ہمیشہ کوشش میں لگے رہتے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے مخالفوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔کوئی دُکھ اور تکلیف جو وہ پہنچا سکتے تھے اُنہوں نے پہنچایا ہے۔لیکن پھر بھی اُن کی ہزاروں خطائیں بخشنے کو ہم اب بھی تیار ہیں۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو یاد رکھو کہ ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کرو اور بلاتمیز مذہب و قوم ہر ایک سے نیکی کرو۔‘‘ (تقریریں صفحہ29) - [حضرت مسیح موعودؑ کے ننانوے اسمائے حسنیٰ( از حضرت میر محمد اسمٰعیلؓ)](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کے-ننانوے-اسمائے-حسنی/) - خدا تعالیٰ کے 99 نام احادیث میں آئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی 99 نام کتابوں میں موجود ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ الہامی نام جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیئے۔ وہ سب جمع کئے تو 99 ہی بن گئے۔ - [روزے کی جزاء-درس نمبر8](https://mushahedat.com/روزے-کی-جزاء-درس-نمبر8/) - اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ رَضِیْ اللّٰہُ عَنْہُ قَا لَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَا لَ اللّٰہُ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّہُ لِي وَأنَا اَجْزِيْ بِهِ (صحیح بخاری کتاب الصوم ) حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔(حدیثِ قدسی ہے) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابنِ آدم کا ہر عمل اُس کے اپنے لیے ہے سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور مَیں اس کی خود جزا دوں گا۔ - [َرمَضَان ۔جنت کے دروازے وا کرنے کا مہینہ-درس نمبر7](https://mushahedat.com/َرمَضَان-۔جنت-کے-دروازے-وا-کرنے-کا-مہین/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’اس مہینے میں ایک خاص ماحول بنا ہوتا ہے اور دوسروں کی دیکھا دیکھی بھی عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے، اپنے اعمال کی طرف توجہ کرتے ہوئے، ہمیں اپنے خدا کے آگے جھکتے ہوئے گذشتہ گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور پھر اس رمضان کی عبادتوں کو اور اس میں تبدیلیوں کو آئندہ زندگی کا مستقل حصہ بنا لینا چاہیے۔ اور اس میں جو گناہ معاف ہوئے یا جنت کے دروازے کھولے گئے تو پھر ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ یہ کھلے رہیں۔ اور رمضان کے فیوض سے حصہ لینے کے لیے نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ 2؍جون2017ء ) - [حضرت مسیح موعودؑ اور بنی نوع انسان کی ہمدردی](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-اور-بنی-نوع-انسان-کی-ہم/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’اس کے بندوں پر رحم کرو ان پر زبان یا ہاتھ کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبر نہ کروگو اپنا ماتحت ہو، کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤتا قبول کیے جاؤ…بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو ۔ نہ ان کی تحقیراور عالم ہوکر نادانوں کو نصیحت کرو۔ نہ خودنمائی سے ان کی تذلیل اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو نہ خود پسندی سے ان پر تکبرہلاکت کی راہوں سے ڈرو‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد نمبر 19صفحہ11 -12 - [50تقاریر برموقع یوم مسیح موعودؑ](https://mushahedat.com/50تقاریر-برموقع-یوم-مسیح-موعودؑ/) - اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی دی ہوئی توفیق سے لجنہ اماء اللہ کے سو سال پورا ہونےپر 100 تقاریر، عیدمیلاد النبی 2023ء کے موقع پر 39 تقاریراور یوم مصلح موعودؓ کے موقع پر52 تقاریر کے مجموعوں کے بعد اب یوم مسیح موعود ؑکے موقع پر 50 تقاریر پر مشتمل مجموعہ کتابی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ - [رمضان کا مہینہ پانچ بنیادی عبادتوں کا مجموعہ ہے-درس نمبر6](https://mushahedat.com/رمضان-کا-مہینہ-پانچ-بنیادی-عبادتوں-کا-م/) - حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’ رمضان کا مہینہ پانچ بنیادی عبادتوں کا مجموعہ ہے ۔ پہلے تو روزہ ہے دوسرے نماز کی پابندی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے پھر قَیامُ الَّیْل یعنی رات کے نوافل پڑھے جاتے ہیں ۔ تیسرے قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت ہے چوتھے سَخَاوت اور پانچویں آفاتِ نفس سے بچنا ہے ۔ ان پانچ بنیادی عبادات کا مجموعہ ، عباداتِ ماہِ رمضان کہلاتی ہیں ۔‘‘ ( خطبات ناصر جلد2صفحہ954) - [حضرت مسیح موعودؑ کی مہمان نوازی](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-مہمان-نوازی/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام مہمانوں کو کثرت سے فرماتے تھے کہ ’’آپ مہمان ہیں آپ کو جس چیز کی تکلیف ہو مجھے بے تکلّف کہیں کیونکہ مَیں تو اندر رہتا ہوں اور نہیں معلوم ہوتاکہ کس کو کیا ضرورت ہے۔ آجکل مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے بعض اوقات خادم بھی غفلت کر سکتے ہیں۔ آپ اگر زبانی کہنا پسند نہ کریں تو مجھے لکھ کر بھیج دیاکریں۔ مہمان نوازی تو میرا فرض ہے۔‘‘ ۔۔۔۔۔ ۔(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت یعقوب علی عرفانی ؓصفحہ142) - [رمضان کا پیغام-درس نمبر5](https://mushahedat.com/رمضان-کا-پیغام-درس-نمبر5/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’ رَمَضَ سورج کی تپش کو کہتے ہیں۔ رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لیے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔ ‘‘ ( الحکم 24جولائی 1901ء ) - [سیرت حضرت مسیح موعودؑ کے بعض شیریں واقعات](https://mushahedat.com/سیرت-حضرت-مسیح-موعودؑ-کے-بعض-شیریں-واقع/) - حضرت ڈاکٹر میرمحمد اسماعیل صاحبؓ اپنی ایک روایت میں حضرت مسیح موعودؑ کےاخلاقِ حسنہ کا نہایت ہی پیارے انداز سے ذکر کرنے کے بعدآپؑ کے اخلاق کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’اگر حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ بات سچی کہی تھی کہ کَانَ خُلُقُہٗ الْقُرْآن تو ہم حضرت مسیح موعودؑ کی نسبت اسی طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ کَانَ خُلُقُہٗ حُبَّ مُحَمَّدٍ وَ اِتَّبَاعَہٗ علیہ الصّلٰوۃ و السلام‘‘ (سیرت المہدی جلد اوّل حصہ سوم صفحہ 827روایت نمبر975) - [رمضان کا انتساب براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہے-درس نمبر4](https://mushahedat.com/رمضان-کا-انتساب-براہ-راست-اللہ-تعالیٰ-س/) - حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کو رمضان نہ کہا کرو کیونکہ رمضان، اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے بلکہ رمضان کو ماہِ رمضان کہا کرو۔ ) السنن الکبریٰ بیہقی ( - [حضرت مسیح موعودؑ کی اپنی اولاد کے حق میں دعائیں](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-اپنی-اولاد-کے-حق-میں/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ” مَیں التزامًا چند دعائیں ہر رو مانگا کرتاہوں۔ اوّل: اپنے نفس کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ خداوند کریم مجھ سے وہ کام لے جس سے اُس کی عزت و جلال ظاہر ہو اور اپنی رضا کی پوری توفیق عطا کرے۔ دوم: پھر اپنے گھر کے لوگوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ اِن سے قرّہ عین عطا ہو اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات کی راہ پر چلیں۔ سوم: پھر اپنے بچوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ یہ سب دین کے خدام بنیں۔ چہارم: پھر اپنے مخلص دوستوں کے لئے نام بنام۔ پنجم: اور پھر اُن سب کے لئے جو اِس سلسلہ سے وابستہ ہیں۔ خواہ ہم اُنہیں جانتے ہیں یا نہیں جانتے۔“ ( الحکم 17 جنوری 1900ء جلد4 صفحہ 2 تا 11 خط 4 بنام مولوی عبد الکریم) - [رمضان کا استقبال،اہمیت، فرضیت،برکات-درس نمبر3](https://mushahedat.com/رمضان-کا-استقبال،اہمیت،-فرضیت،برکات/) - حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ رمضان سے پورے طور پر فائدہ اٹھائیں کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے برکات نازل ہونے کے خاص دن ہیں ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک سخی اپنے خزانہ کے دروازے کھول کر اعلان کر دے کہ جو آئے لے جائے ۔ برکتوں اور رحمتوں کے دروازے اپنے بندوں کے لیے کھول دیتا ہے اور کہتا ہے کہ آؤ اور آکر لے جاؤ ۔ ‘‘ - [حضرت مسیح موعودؑ کا حُلیہ اور اخلاق و عادات](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کا-حُلیہ-اور-اخلاق-و-عا/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ایک اعلیٰ درجہ کے مردانہ حُسن کے مالک تھے ۔ آپ علیہ السلام کی شکل مبارک ایسی وجیہہ اور دلکش تھی کہ دیکھنے والااس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔ آپ علیہ السلام کا چہرہ کتابی تھا اور رنگ سفیدی مائل گندمی تھا اور خدوخال نہایت متناسب تھے۔ سرکے بال نہایت ملائم اور سیدھے تھے مگر بالوں کے آخری حصہ میں کسی قدر خوبصورت خم پڑتا تھا ۔ ڈاڑھی گھنی تھی مگر رخسار بالوں سے پاک تھے۔ قد درمیانہ تھا اور جسم خوب سڈول اور متناسب تھا اور ہاتھ پاؤں بھرے بھرے اور ہڈی فراخ اور مضبوط تھی۔ - [ماہِ شعبان کا رمضان سے تعلق اور اِس کی تیاری-درس نمبر2](https://mushahedat.com/ماہِ-شعبان-کا-رمضان-سے-تعلق-اور-اِس-کی-ت/) - حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی آخری تاریخ کو ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت اور شان والا مہینہ سایہ کرنے والا ہے ۔ ہاں ایک برکتوں والا مہینہ آیا ہی چاہتا ہے ۔ ( مشکوٰۃ کتاب الصوم) - [مجددِ اعظم۔حضرت مرزاغلام احمد قادیانؑی](https://mushahedat.com/مجددِ-اعظم۔حضرت-مرزاغلام-احمد-قادیان/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ” اللہ نے میرا نام نبی رکھا ہے سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگااور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کرسکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤٍں۔ مگر میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ گویا میں اسلام سے اپنے تئیں الگ کرتا ہوں یا اسلام کا کوئی حکم منسوخ کرتا ہوں۔ میری گردن اس جوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا اور کسی کی مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا شعشہ قرآن شریف کا منسوخ کرسکے ۔‘‘ (بدر11جون 1908ء صفحہ10 کالم 1-2) - [رمضان المبارک](https://mushahedat.com/رمضان-المبارک/) - [روزے ۔اسلام اور مذاہب میں-درس نمبر1](https://mushahedat.com/روزے-۔اسلام-اور-مذاہب-میں-درس-نمبر1/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’خدا تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے روزوں کی اہمیت اور فرضیت کی طرف توجہ دلائی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تم سے پہلے جو انبیاء کی جماعتیں گزری ہیں اُن پر بھی روزے فرض تھے، اس لئے کہ روزہ ایمان میں ترقی کے لئے ضروری ہے، روزہ روحانیت میں ترقی کے لئے ضروری ہے۔ ‘‘ ( خطبہ جمعہ 12جولائی2013ء ) - [حضرت مسیح موعودؑ کا بلند مقام ومرتبہ از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کا-بلند-مقام-ومرتبہ-از/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مشن کو پورا کرنے کے لئے اور اپنے آخری دین کی تکمیل اشاعت کے لئے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح و مہدی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی اور اتباع میں غیر شرعی نبی کا اعزاز دے کر دنیا میں بھیجا۔ آپؑ کی ابتدائی زندگی کا ہم جائزہ لیں تو ہمیں آپؑ کی زندگی میں بھی اپنے آقا و مطاع کی زندگی کے ابتدائی دور کی جھلکیاں نظر آتی ہیں اور اس کے بعد بھی ہر لمحہ یہی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 12؍ جون 2009ء ) - [حضرت مسیح موعودؑ کا بچوں سے پیار و شفقت اور اُن کی تعلیم و تربیت](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کا-بچوں-سے-پیار-و-شفقت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے۔ گویا بدمزاج مارنے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔ایک جوش والاآدمی جب کسی بات پر سزا دیتا ہے تو اشتعال میں بڑھتے بڑھتے دشمن کا رنگ اختیار کرلیتا ہے اور جرم کی حد سے سزا میں سے کوسوں تجاوز کرجاتا ہے۔ اگر کوئی شخص خوددار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا اور پورا متحمل اور بردبار اورباسکون اورباوقار ہو تو اُسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقت مناسب پر کسی حد تک بچہ کوسزا دے یا چشم نمائی کرے۔ مگر مغلوب الغضب اور سبک سر اورطائش العقل ہرگز سزا وار نہیں کہ بچوں کی تربیت کا متکفل ہو۔“ - [9مارچ۔اسلام کی فتح عظیم کا دن-حضرت مسیح موعودؑ کی دعوت مباہلہ اور ڈوئی کی ہلاکت](https://mushahedat.com/9مارچ۔اسلام-کی-فتح-عظیم-کا-دن-حضرت-مسیح/) - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ”پس میں قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ وہی خنزیر تھا جس کے قتل کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ مسیح موعود کے ہاتھ پر مارا جائے گا۔ اگر میں اُس کو مباہلہ کے لئے نہ بُلاتا اور اگر میں اُس پر بد دعا نہ کرتا اور اس کی ہلاکت کی پیشگوئی شائع نہ کرتا تو اس کا مرنا اسلام کی حقیّت کے لئے کوئی دلیل نہ ٹھہرتا لیکن چونکہ میں نے صدہا اخباروں میں پہلے سے شائع کرا دیا تھا کہ وہ میری زندگی میں ہی ہلاک ہوگا ۔ میں مسیح موعود ہوں اور ڈوئی کذّاب ہے اور بار بار لکھا کہ اس پر یہ دلیل ہے کہ وہ میری زندگی میں ذلت اور حسرت کے ساتھ ہلاک ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ میری زندگی میں ہی ہلاک ہو گیا۔ ا س سے زیادہ کھلا کھلا معجزہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو سچا کرتا ہے اور کیا ہوگا؟ اب وہی اس سے انکار کرے گا جو سچائی کا دشمن ہوگا۔ “ (حقیقۃ الوحی صفحہ نمبر515، 516 روحانی خزائن جلد22 ایڈیشن 2009ء) - [ایک احمدی مسلم بچے کی ذمہ داریاں](https://mushahedat.com/ایک-احمدی-مسلم-بچے-کی-ذمہ-داریاں/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ”لوگ منہ سے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اطاعت گزار ہیں سلسلے کا ہر حکم سر آنکھوں پر لیکن جب موقع آئے ، جب اپنی ذات کے حقوق چھوڑنے پڑیں تب پتہ لگتا ہے کہ اطاعت ہے یا نہیں ہے۔ “ (خطبہ جمعہ 27 اگست 2004ء ) - [عائلی زندگی اور حضرت مسیح موعودؑ کا بہترین اُسوہ](https://mushahedat.com/عائلی-زندگی-اور-حضرت-مسیح-موعودؑ-کا-بہت/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔ انسان کے اخلاق فاضلہ اور خداتعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں اگر انہیں سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خداتعالیٰ سے صلح ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خَیۡرُکُمۡ خَیۡرُکُمۡ لِاَھۡلِہِ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کیلئے اچھا ہے۔ “ (ملفوظات جلد سوم صفحہ :300-301) - [6مارچ ۔حق و باطل میں آسمانی فیصلہ کا تاریخی دن-پیشگوئی بابت پنڈت لیکھرام](https://mushahedat.com/6مارچ-۔حق-و-باطل-میں-آسمانی-فیصلہ-کا-تار/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”یہ پیشگوئی ایک بڑے مقصد کے ظاہر کرنے کے لئے کی گئی تھی ۔ یعنی اس بات کا ثبوت دینے کے لئے کہ آریہ مذہب بالکل باطل اور وید خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں اور ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی۔اللہ علیہ وسلم خداتعالیٰ کے پاک رسول اور برگزیدہ نبی اور اسلام خداتعالیٰ کی طرف سے سچامذہب ہے ۔ سو اس پیشگوئی کو نری ایک پیشگوئی خیال نہیں کرنا چاہئے ۔ بلکہ یہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک آسمانی فیصلہ ہے۔“ ( سراج منیر صفحہ 9-10) - [جماعتی پروگرامز،میٹنگز اور اجلاسات میں شمولیت کی اہمیت و برکات](https://mushahedat.com/جماعتی-پروگرامز،میٹنگز-اور-اجلاسات-م/) - حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’جو حالت میری توجہ کوجذب کرتی ہے۔اورجسے دیکھ کرمیں دعاکےلئے اپنے اندر تحریک پاتاہوں وہ ایک ہی بات ہے کہ میں کسی شخص کومعلوم کرلوں کہ یہ خدمت دین کے سزاوار ہے ۔اور اس کاوجود خداکے لئے،خدا کے رسول ؐکے لئے ،خداکی کتاب کے لئے اورخداکے بندوں کے لئے نافع ہے۔ایسے شخص کوجودردوالم پہنچے وہ درحقیقت مجھے پہنچتاہے۔‘‘ - [احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟](https://mushahedat.com/احمدیت-نے-دنیا-کو-کیا-دیا؟/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا مَیں اس بات کا ثبوت دوں کہ زندہ کتاب قرآن ہے اور زندہ دین اسلام ہے اور زندہ رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 267، ایڈیشن1984ء) - [اِلٰہی صحیفوں، صلحائے اُمت کی پیشگوئیوں کے تناظر میں بعثتِ حضرت مسیح موعودؑ](https://mushahedat.com/اِلٰہی-صحیفوں،-صلحائے-اُمت-کی-پیشگوئی/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا ۔سو جیساکہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے۔ میں آدمؑ ہوں، میں ابراہیمؑ ہوں، میں اسحاقؑ ہوں، میں یعقوبؑ ہوں، میں اسمٰعیلؑ ہوں، میں موسیٰؑ ہوں، میں داؤدؑ ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ؑ ہوں، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دئیے اور میری نسبت جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء فرمایا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔ سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو۔‘‘ )حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ521( - [نظام وصیت۔روحانی،اخلاقی اور مادی ترقیات کا ذریعہ](https://mushahedat.com/نظام-وصیت۔روحانی،اخلاقی-اور-مادی-ترق/) - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جب وصیت کا نظام مکمل ہوگا تو صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہوگی بلکہ اسلام کے منشا کے ماتحت ہر فرد بشر کی ضرورت کو اس سے پورا کیا جائے گا اور دکھ اور تنگی کو دنیا سے مٹا دیا جائے گا انشاءاللہ۔ یتیم بھیک نہ مانگے گا ۔ بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے گی۔ بے سامان پریشان نہ پھرے گا کیونکہ وصیت بچوں کی ماں ہوگی ، جوانوں کی باپ ہوگی ،عورتوں کا سہاگ ہوگی اور جبر کے بغیر محبت اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی کو اس کے ذریعے سے مدد کرے گا اور اس کا دینا بے بدلہ نہ ہوگا بلکہ ہر دینے والا خداتعالی ٰسے بہتر بدلہ پائے گا ۔ نہ امیر گھاٹے میں رہے گا نہ غریب، نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ اس کا احسان سب دنیا پر وسیع ہوگا۔‘‘ ( نظامِ نو صفحہ130) - [حضرت مسیح موعودؑ کی دعویٰ سے پہلے کی پاکیزہ اور مطہّر زندگی](https://mushahedat.com/حضرت-مسیح-موعودؑ-کی-دعویٰ-سے-پہلے-کی-پاک/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب، افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہوگا۔ کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔ پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اُس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 64) - [نظام وصیت اور صحابہ و تابعین مسیح موعودؑ کی قربانیاں](https://mushahedat.com/نظام-وصیت-اور-صحابہ-و-تابعین-مسیح-موعود/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”عرصہ ہوا کہ خداتعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا تھا کہ ایک بہشتی مقبرہ ہو گا گویا اس مَیں وہ لوگ داخل ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم اور ارادہ میں جنتی ہوں گے۔ پھر اس کے متعلق الہام ہوا۔ اُنْزِلَ فِیْھَا کُلَّ رَحْمَۃٍ ۔ اس سے کوئی نعمت اور رحمت باہر نہیں رہتی۔ اب جو شخص چاہتا ہے کہ وہ ایسی رحمت کے نزول کی جگہ میں دفن ہو کیا عمدہ موقع ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم کرے ۔ “ (ملفوظات جلد 5صفحہ 216) - [بعثتِ مسیح موعود اور تبلیغ-حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات کی رو سے](https://mushahedat.com/بعثتِ-مسیح-موعود-اور-تبلیغ-حضرت-مسیح-مو/) - حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ’’دعوت الی اللہ کریں۔ حکمت سے کریں، ایک تسلسل سے کریں، مستقل مزاجی سے کریں اور ٹھنڈے مزاج ے ساتھ، مستقل مزاجی کے ساتھ کرتے چلے جائیں۔ دوسرے کے جذبات کا بھی خیال رکھیں اور دلیل کے لئے ہمیشہ قرآن کریم اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں سے حوالے نکالیں۔ پھر ہر علم، عقل اور طبقے کے آدمی کے لئے اس کے مطابق بات کریں۔ خدا کے نام پر جب آپ نیک نیتی سے بات کر رہے ہوں گے تو اگلے کے بھی جذبات اَور ہوتے ہیں۔ نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ کے نام پر کی گئی بات اثر کرتی ہے۔ ایک تکلیف سے ایک درد سے جب بات کی جاتی ہے تو وہ اثر کرتی ہے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ8؍اکتوبر2004ء) - [تبلیغ کے لیے حضرت مسیح موعودؑکی تحریرات کا خزانہ](https://mushahedat.com/تبلیغ-کے-لیے-حضرت-مسیح-موعودؑکی-تحریرا/) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبییّن نہیں مانتے یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوّت ،یقین ، معرفت اور بصیرت سے آنحضرتؐ کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف بھی نہیں ہے۔ وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختمِ نبوّت میں ہے سمجھتے ہی نہیں ہیں ، انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوّت کیا ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے ؟ مگر ہم بصیرتِ تامّ سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ) آنحضرتؐ کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختمِ نبوّت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذّت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا بجز ان لوگوں کے جو اِس چشمہ سے سیراب ہوں۔ ‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ342) - [خلافت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے](https://mushahedat.com/خلافت-ہمارے-لیے-مشعلِ-راہ-ہے/) - خلافت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’میری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی تھی جس میں یہ سکھایا گیا تھا کہ خلافت کے بغیر کوئی زندگی نہیں ،کوئی روحانی زندگی نہیں۔ جب میں وقف کرکے غانا گیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی کو باقاعدگی سے خطوط لکھتا تھا ۔پھر حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کو بھی اسی طرح باقاعدگی سے خطوط لکھتا تھا ۔ پھر میں اپنے لیے دعا بھی کرتا رہتا تھا کہ میں ہمیشہ خلافت کے قریب رہوں اور کبھی بھی ایسا کچھ نہ کروں کہ جس سے خلیفہ وقت کو تکلیف ہو۔ یہ دو چیزیں ہیں جن سے آپ خلافت سے تعلق مضبوط کر سکتے ہیں۔ خلیفہ المسیح سے زندہ تعلق قائم رکھیں اور پھر خلیفہ وقت کے لئے مسلسل دعائیں کرتے رہیں۔ اپنے لیے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالی آپ کو ایمان میں پڑھائے اور خلیفہ المسیح سے سے تعلق میں ترقی اور مضبوطی عطا فرمائے ‘‘۔ ( حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا دورہ امریکہ2022ء قسط17از الفضل آن لائن لندن) - [واقعہ معراج اور اسراء کی حقیقت](https://mushahedat.com/واقعہ-معراج-اور-اسراء-کی-حقیقت/) - واقعہ معراج اور اسراء کی حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف کی یہ آیت کہ سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے اور بغیر اس کے معراج ناقص رہتا ہے۔ پس جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے بیت المقدس تک پہنچا دیا ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے آنجناب کو شوکتِ اسلام کے زمانہ سے جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا برکاتِ اسلامی کے زمانہ تک جو مسیح موعود کا زمانہ ہے پہنچا دیا۔ پس اس پہلو کی رو سے جواسلام کے انتہا زمانہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر کشفی ہے مسجداقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجدہے۔‘‘ - [تبلیغ حق۔ اصلاح نفس کا ذریعہ](https://mushahedat.com/تبلیغ-حق۔-اصلاح-نفس-کا-ذریعہ/) - تبلیغ حق ۔ اصلاح نفس کا ذریعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ ایک داعی الی اللہ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس کی ایک شرط اور بہت اہم شرط اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ نیک اعمال بجا لانے والا ہو۔ اپنے نیک عمل ہوں گے تو تب ہی دوسروں کو بھی نیکی کی طرف بلایا جا سکتا ہے۔ دوسرے کو بھی کہا جا سکتا ہے کہ آوٴ مَیں تمہیں دکھاوٴں کہ اللہ تعالیٰ کے ایک فرستادہ نے، ایک شخص نے جو اس زمانے کی اصلاح کے لئے آیا ہے، مجھے ایسے راستے بتائے ہیں جن پر چل کر مَیں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بن گیا ہوں یا اس طرف چل کے مَیں بہت لحاظ سے، ایک حد تک اپنے دل میں سکون اور چین پاتا ہوں اور اس طرف میرے ترقی کے قدم بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی طرف مَیں اس تعلیم کی وجہ سے متوجہ ہوا ہوں۔ آوٴ تم بھی میری باتیں سنو۔ جس طرح مَیں فرمانبردار بننے کی کوشش کر رہا ہوں، تم بھی اس دین کی طرف آوٴ اور اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے کی کوشش کرو۔ ‘‘ ( خطبہ جمعہ 9 اپریل2010ء) - [آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ تبلیغ، ہمارے لئے مشعلِ راہ](https://mushahedat.com/آنحضرت-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کا-اندازِ-تبل/) - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ تبلیغ ، ہمارے لئے مشعلِ راہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ایک اعلیٰ انسان اور عبد رحمن کا مقام جو کسی کو ملا وہ سب سے اعلیٰ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا۔ اور بندے کی پہچان اپنی ذات کی پہچان اور خداتعالیٰ کی ذات کی پہچان کرانے کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے۔ توحید کے قیام کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے۔ اور ساری زندگی اسی میں آپؐ نے گزاری۔ اور یہی آپ کی خواہش تھی کہ دنیا کا ہر فرد ہر شخص اس توحید پر قائم ہوجائے۔ اور اس زمانے میں بھی آ پؐ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کی پہچان اس تعلیم کی رو سے ہمیں کروائی۔ پس ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے آقا و مطاع صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں خدائے واحد کی عبادت اور اس کے نام کی غیرت کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں تبھی ہم حقیقت میں لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کا کلمہ پڑھنے والے کہلا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ (خطبہ جمعہ 4فروری2005 ء) - [اے میرے ربّ! میرے علم میں اضافہ فرما](https://mushahedat.com/اے-میرے-ربّ-میرے-علم-میں-اضافہ-فرما/) - اے میرے ربّ! میرے علم میں اضافہ فرما حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ ”علم و حکمت ایسا خزانہ ہے جو تمام دولتوں سے اشرف ہے۔ دنیا کی تمام دولتوں کو فنا ہے لیکن علم و حکمت کو فنا نہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 161) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”آج یہ ذمہ داری ہم احمدیوں پر سب سے زیادہ ہے کہ علم کے حصول کی خاطر زیادہ سے زیادہ محنت کریں، زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔ کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی قرآن کریم کے علوم و معارف دئیے گئے ہیں۔ اور آپؑ کے ماننے والوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں انہیں علم و معرفت اور دلائل عطا کروں گا۔ اس کے لئے کوشش او ر دعا کہ اے میرے اللہ! اے میرے رب! میرے علم کو بڑھا۔ سب سے پہلے قرآن کریم اور دینی علم حاصل کرنے کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو بے بہا خزانے مہیا فرمائے ہیں ان کی طرف رجوع کریں، ان پر چل کرہم دینی علم اور قرآن کے علم میں ترقی کر سکتے ہیں اور پھر اسی قرآنی علم سے دنیاوی علم اور تحقیق کے راستے کھل جاتے ہیں۔‘‘ ( خطبہ جمعہ18جون2004ء) - [اُسوہ رسولؐ،ہمارے لئے بہترین نمونہ](https://mushahedat.com/اُسوہ-رسولؐ،ہمارے-لئے-بہترین-نمونہ/) - اُسوہ رسولؐ،ہمارے لئے بہترین نمونہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا۔ یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا قمر میں نہیں تھا آفتاب میں بھی نہیں تھا۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اَتم اور اَکمل اور اعلیٰ اور ارفَعْ فرد ہمارے سید و مولی سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘‘ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 160۔161) - [خطبہ حجۃ الوداع ۔ اسلامی تعلیمات کا خلاصہ](https://mushahedat.com/خطبہ-حجۃ-الوداع-۔-اسلامی-تعلیمات-کا-خلا/) - خطبہ حجۃ الوداع ۔ اسلامی تعلیمات کا خلاصہ انسانی حقوق کا جامع منشور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےحجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا۔ کیا تمہیں معلوم ہے آج کونسا مہینہ ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ علاقہ کون سا ہے ؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ دن کون سا ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں! یہ مقدس مہینہ ہے، یہ مقدس علاقہ ہے اور یہ حج کا دن ہے۔ ہر جواب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے، جس طرح یہ علاقہ مقدس ہے، جس طرح یہ دن مقدس ہے اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہرانسان کی جان اور اُس کے مال کو مقدس قرار دیا ہے اور کسی کی جان اور کسی کے مال پر حملہ کرنا ایسا ہی ناجائز ہے جیسے کہ اس مہینے اوراِس علاقہ اور اِس دن کی ہتک کرنا۔ یہ حکم آج کے لئے نہیں ، کل کے لئے نہیں بلکہ اُس دن تک کے لئے ہے کہ تم خدا سے جا کر ملو۔ (بخاری کتابُ المغازی باب حجۃ الوداع از دیباچہ تفسیرُ القرآن صفحہ 345۔ 347) - [ہم اللہ تعالیٰ سے تعلق کیسے مضبوط کر سکتے ہیں؟](https://mushahedat.com/ہم-اللہ-تعالیٰ-سے-تعلق-کیسے-مضبوط-کر-سکت/) - ہم اللہ تعالیٰ سے تعلق کیسے مضبوط کر سکتے ہیں؟ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ’’ خداتعالیٰ سے اتصال اور اس کے قرب کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنے اندر صفات الٰہیہ پیدا کرے اور اس کی محبت کو اپنے اندر جذب کرے پھر جس طرح مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے اسی طرح محبت الٰہی اسے خدا تعالیٰ کی طرف کھینچنے لگ جاتی ہے۔ ‘‘ ۔ ( تفسیر کبیر جلد9صفحہ 251-250) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ ’’ مجھ سے خدا تعالیٰ باتیں کرتا ہے اور مجھ سے ہی نہیں جو شخص میری اتباع کرے گا اور میرے نقش قدم پر چلے گا اور میری تعلیم کو مانے گا اور میری ہدایت قبول کرے گا خدا تعالیٰ اس سے باتیں کرے گا “ - [قرآنِ کریم میری زندگی کا نُور ہے](https://mushahedat.com/قرآنِ-کریم-میری-زندگی-کا-نُور-ہے/) - قرآنِ کریم میری زندگی کا نُور ہے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ اگر ہماری جماعت قرآنِ کریم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے تو سارے مصائب آپ ہی آپ ختم ہو جائیں۔ (الفضل 9 دسمبر1947ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ ”قرآن شریف اپنی روحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے سچے پیروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کے دل کو منور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلا کر خدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے جو ٹکڑا ٹکڑا کرنا چاہتی ہے۔ وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشتا ہے اور علومِ غیب عطا فرماتا ہے اور دعا قبول کرنے پر اپنے کلام سے اطلاع دیتا ہے۔“ ( چشمہ معرفت از روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 308 - 309) - [عباد الصالحین کیسے بنا جائے](https://mushahedat.com/عباد-الصالحین-کیسے-بنا-جائے/) - عبادِ الصالحین کیسے بنا جائے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’الله تعالیٰ متّقی کے راستہ کی تمام دُنیوی روکیں دُور فرما دیتا ہے جو اُس کے دین کے کام میں حارج ہوں، پس اگر دنیاوی کاموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نمازوں کی وقت پر ادائیگی ہم کر رہے ہیں اور اِسی طرح دوسرے دنیاوی کاموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جماعتی اور دینی کاموں کو ترجیح دے رہے ہوں تو وہ سب طاقتوں کا مالک خدا فرماتا ہے کہ مَیں تمہارے ساتھ ہوں، تمہاری فکروں کو دُور کروں گا۔ پس انسان نے خدا تعالیٰ کی کیا مدد کرنی ہے، الله تعالیٰ ہے جو ہمیں دینی خدمت کا موقع دیتا ہے، ہماری نیکیوں کے ہمیں اجر دیتا ہے، ہماری ضروریات پوری فرماتا ہے اور پھر اِن تمام نوازشوں کے بعد ہمیں اپنے دین کے مددگاروں میں شامل کرنے کا اعلان فرما دیتا ہے۔ کتنا مہربان ہے ہمارا خدا، کس قدر دیالو ہے ہمارا خدا، اِس کا کبھی ہم احاطہ ہی نہیں کر سکتے۔ پس ہمیں چاہئے کہ ہم الله تعالیٰ کے حقیقی شکر گزار بندے بنتے ہوئے، اُس کے حکموں پر چلتے ہوئے، تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے والے بنیں اور یہی ہمارے حقیقی انصار ہونے کی روح ہے۔‘‘ ( اختتامی خطاب مجلس انصار اللہ یو کے 2022ء ) - [نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے](https://mushahedat.com/نماز-میری-آنکھوں-کی-ٹھنڈک-ہے/) - نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اللہ تعالیٰ نے وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡن میں انسان کا مقصدِ حیات عبادت کو قرار دیا ہے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اِس میدان میں بھی دوسروں کے لئے نمونہ تھے جن کے جسم اور روح میں نماز کی ادائیگی سمائی ہوئی تھی۔ آپؐ کی نمازوں میں آنکھوں کی ٹھنڈک کا یہ عالَم تھا کہ آپؐ کے دشمن بھی آپؐ کی اپنے اللہ سے محبت اور پیار کے مصدِّق تھے اور کہا کرتے تھے عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّہُ کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تو اپنے رب پر عاشق ہوگیا ہے ۔ - [میں اپنی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتا رہوں گا](https://mushahedat.com/میں-اپنی-اولاد-کو-بھی-ہمیشہ-خلافت-سے-واب/) - مشاہدات-300-میں اپنی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتا رہوں گاڈاؤن لوڈ - [عِبادُ الصالحین کی صفات](https://mushahedat.com/عِبادُ-الصالحین-کی-صفات/) - عبادِ الصالحین کیسے بنا جائے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’الله تعالیٰ متّقی کے راستہ کی تمام دُنیوی روکیں دُور فرما دیتا ہے جو اُس کے دین کے کام میں حارج ہوں، پس اگر دنیاوی کاموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نمازوں کی وقت پر ادائیگی ہم کر رہے ہیں اور اِسی طرح دوسرے دنیاوی کاموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جماعتی اور دینی کاموں کو ترجیح دے رہے ہوں تو وہ سب طاقتوں کا مالک خدا فرماتا ہے کہ مَیں تمہارے ساتھ ہوں، تمہاری فکروں کو دُور کروں گا۔ پس انسان نے خدا تعالیٰ کی کیا مدد کرنی ہے، الله تعالیٰ ہے جو ہمیں دینی خدمت کا موقع دیتا ہے، ہماری نیکیوں کے ہمیں اجر دیتا ہے، ہماری ضروریات پوری فرماتا ہے اور پھر اِن تمام نوازشوں کے بعد ہمیں اپنے دین کے مددگاروں میں شامل کرنے کا اعلان فرما دیتا ہے۔ کتنا مہربان ہے ہمارا خدا، کس قدر دیالو ہے ہمارا خدا، اِس کا کبھی ہم احاطہ ہی نہیں کر سکتے۔ پس ہمیں چاہئے کہ ہم الله تعالیٰ کے حقیقی شکر گزار بندے بنتے ہوئے، اُس کے حکموں پر چلتے ہوئے، تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے والے بنیں اور یہی ہمارے حقیقی انصار ہونے کی روح ہے۔‘‘ ( اختتامی خطاب مجلس انصار اللہ یو کے 2022ء ) - [اک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنا دیا](https://mushahedat.com/اک-قطرہ-اُس-کے-فضل-نے-دریا-بنا-دیا/) - مشاہدات-298-اک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنا دیاڈاؤن لوڈ - [ذاتی اصلاح کی اہمیت اور طریقے-ناصرات](https://mushahedat.com/ذاتی-اصلاح-کی-اہمیت-اور-طریقے-ناصرات/) - مشاہدات-297-ذاتی اصلاح کی اہمیت اور طریقے-ناصراتڈاؤن لوڈ - [اچھے دوست بنانے کی اہمیت-ناصرات](https://mushahedat.com/اچھے-دوست-بنانے-کی-اہمیت-ناصرات/) - مشاہدات-296-اچھے دوست بنانے کی اہمیت-ناصراتڈاؤن لوڈ - [اچھی بات کہو یا خاموش رہو-ناصرات](https://mushahedat.com/اچھی-بات-کہو-یا-خاموش-رہو-ناصرات/) - مشاہدات-295-اچھی بات کہو یا خاموش رہو-ناصراتڈاؤن لوڈ - [خلیفہ خدا بناتا ہے](https://mushahedat.com/خلیفہ-خدا-بناتا-ہے/) - مشاہدات-294-خلیفہ خدا بناتا ہےڈاؤن لوڈ - [ذاتی اصلاح کا ذریعہ خشیتِ الٰہی](https://mushahedat.com/ذاتی-اصلاح-کا-ذریعہ-خشیتِ-الٰہی/) - مشاہدات-293-ذاتی اصلاح کا ذریعہ خشیتِ الٰہیڈاؤن لوڈ - [مَیں اچھے اخلاق کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ کیسے کر سکتی ہوں](https://mushahedat.com/مَیں-اچھے-اخلاق-کے-ذریعہ-اسلام-کی-تبلیغ/) - مشاہدات-292-مَیں اچھے اخلاق کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ کیسے کر سکتی ہوںڈاؤن لوڈ - [ذاتی اصلاح کے بغیر معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں](https://mushahedat.com/ذاتی-اصلاح-کے-بغیر-معاشرے-کی-اصلاح-ممکن/) - مشاہدات-291-ذاتی اصلاح کے بغیر معاشرے کی اصلاح ممکن نہیںڈاؤن لوڈ - [ذاتی اصلاح کے لئے عملی کوششیں](https://mushahedat.com/ذاتی-اصلاح-کے-لئے-عملی-کوششیں/) - مشاہدات-290-ذاتی اصلاح کے لئے عملی کوششیںڈاؤن لوڈ - [وہ نورہوگا اور خدا کی رضامندی کے عطر سے ممسوح ہوگا](https://mushahedat.com/وہ-نورہوگا-اور-خدا-کی-رضامندی-کے-عطر-سے-2/) - اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اپنے آپ کو نور کہا پھر اللہ کے فرستادے اِس نور سے نور لے کر اور فی ذاتہ نور بن کر اپنے سے تعلق پیدا کرنے والوں کو اِس نور سے منور کرتے ہیں یوں ایک چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہوتے ہوئے سارا جہاں اِس نور سے جگمگ جگمگ ہونے لگتا ہے۔ ## صفحات - [کتب](https://mushahedat.com/books/) - سات سو احکام خداوندی تقاریر-سیرت و شمائل محمد ﷺ مشاہدات۔ 25تقاریر برائے لجنہ جوبلی مشاہدات ۔ ۱۰۰ تقاریر برائے لجنہ جوبلی جماعتِ احمدیہ و ذیلی تنظیموں کے عہد اور ہماری ذمہ داریاں بچوں کی تقاریر اداریے بابت رمضان المبارک میرا گلشن حیات میرے محسن والدین لباس مشترکہ خاندانی نظام تیغ دعا تقاریر بابت پیشگوئی مصلح - [یوم مصلح موعود](https://mushahedat.com/یوم-مصلح-موعود-2/) - ��مشاہدات-187-ایک مقدس عہد)حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمدؓکا ایفائے عہد(-لجنہ160-ناصرات22-انصار122-خدام16-اطفال10�Download ��مشاہدات-194-کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو-انصار129-خدام27-اطفال17�Download ��مشاہدات-212-”وہ دل کا حلیم ہو گا“- انصار147-خدام 44-اطفال 34�Download ��مشاہدات-215-حضرت مصلح موعودؓ کے متعلق قدیم مذہبی صحیفوں و خدائی نوشتوں کی بشارات- انصار150-خدام 47-اطفال 37�Download ��مشاہدات-219-مطالباتِ تحریکِ جدید-انصار154-خدام51-اطفال41�Download ��مشاہدات-220-دعوتِ الیٰ اللہ کی اہمیت،عظمت اور برکات-انصار155-خدام 52-اطفال42� (1)Download ��مشاہدات-221-وہ - [صفحہ اول](https://mushahedat.com/صفحہ-اول/) - [دروسِ رمضان](https://mushahedat.com/دروسِ-رمضان/) - [Client Portal](https://mushahedat.com/clients/) - [jetpackcrm_clientportal] - [مضامین](https://mushahedat.com/مضامین/) - [تقاریر-سیرت و شمائل محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم](https://mushahedat.com/تقاریر-سیرت-و-شمائل-محمد-صلی-اللّٰہ-عل-3/) - [لجنہ امااللہ کے سو سال پورے ہونے پر تیار کی جانے والی تقاریر](https://mushahedat.com/لجنہ/) - لجنہ جوبلی کے سلسلہ میں تقریر نمبر1 -پہلی چودہ ممبرات، لجنہ اماء اللہ کے علمبردار کے طور پر لجنہ جوبلی کے سلسلہ میں تقریر نمبر2 -خواتین کی تعلیم لجنہ اماء اللہ کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے لجنہ جوبلی کے سلسلہ میں تقریر نمبر3 -حضرت اماں جان ؓ ،لجنہ اماء اللہ کے لیے روشنی - [انصار اللہ](https://mushahedat.com/انصار-اللہ/) - [تقاریر](https://mushahedat.com/تقاریر/) - [رابطہ](https://mushahedat.com/رابطہ/) ## زمرہ جات - [Uncategorized](https://mushahedat.com/category/uncategorized/) - [تقاریر](https://mushahedat.com/category/تقاریر/) - [محرم](https://mushahedat.com/category/محرم/) - [اھلبیت](https://mushahedat.com/category/اھلبیت/) - [اخلاقیات](https://mushahedat.com/category/اخلاقیات/) - [تربیت و اصلاح](https://mushahedat.com/category/تربیت-و-اصلاح/) - [حضرت مصلح موعود](https://mushahedat.com/category/مصلح-موعود/) - [خلفاؑ احمدیت](https://mushahedat.com/category/خلفاؑ-احمدیت/) - [آنحضرت نبی اکرم ﷺ](https://mushahedat.com/category/نبی-اکرم-ﷺ/) - [قرآن و حدیث](https://mushahedat.com/category/قرآن-و-حدیث/) - [ذیلی تنظیمیں](https://mushahedat.com/category/ذیلی-تنظیمیں/) - [عبادات](https://mushahedat.com/category/عبادات/) - [والدین](https://mushahedat.com/category/والدین/) - [ٰؑحضرت مسیح موعود](https://mushahedat.com/category/ٰؑمسیح-موعود/) - [خلافت](https://mushahedat.com/category/خلافت/) - [تاریخ](https://mushahedat.com/category/تاریخ/) - [قبولیت دعا](https://mushahedat.com/category/قبولیت-دعا/) - [تحریکات خلفاٗ](https://mushahedat.com/category/تحریکات-خلفاٗ/) - [جلسہ سالانہ](https://mushahedat.com/category/جلسہ-سالانہ/) - [خدمت خلق](https://mushahedat.com/category/خدمت-خلق/) - [رمضان](https://mushahedat.com/category/رمضان/) - [احمدیت](https://mushahedat.com/category/احمدیت/) - [مالی قربانی](https://mushahedat.com/category/مالی-قربانی/) - [تحریک جدید](https://mushahedat.com/category/تحریک-جدید/) - [وقف جدید](https://mushahedat.com/category/وقف-جدید/) - [ذاتی اصلاح](https://mushahedat.com/category/ذاتی-اصلاح/) - [انسانیت](https://mushahedat.com/category/انسانیت/) - [اللہ تعالیٰ](https://mushahedat.com/category/اللہ-تعالیٰ/) - [اصحاب مسیح موعود](https://mushahedat.com/category/اصحاب-مسیح-موعود/) - [علمی مضامین](https://mushahedat.com/category/علمی-مضامین/) - [آنحضور نبی اکرم ﷺ](https://mushahedat.com/category/نبی-اکرم-ﷺ-مذہب/) - [اعلانات](https://mushahedat.com/category/اعلانات/) - [تعارف کتب](https://mushahedat.com/category/تعارف-کتب/) - [انبیاٗ](https://mushahedat.com/category/انبیاٗ/) - [اللہ تعالیٰ](https://mushahedat.com/category/اللہ-تعالیٰ-مذہب/) - [جادو ٹونہ و رسومات](https://mushahedat.com/category/جادو-ٹونہ-و-رسومات/) - [دروس](https://mushahedat.com/category/دروس/) - [ایمانیات](https://mushahedat.com/category/ایمانیات/) - [اسلام](https://mushahedat.com/category/اسلام/) - [صحابہ رسول](https://mushahedat.com/category/صحابہ-رسول/)