حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’خَلق اور خُلق دو لفظ ہیں۔ خَلق تو ظاہری حسن پر بولا جاتا ہے اور خُلق باطنی حُسن پر بولا جاتا ہے۔ باطنی قویٰ میں جس قدر مِثل عقل، فہم ،سخاوت، شجاعت، غضب وغیرہ انسان کو دیے گئے ہیں ان سب کا نام خُلق ہے اور عوام الناس میں آج کل جسے خُلق کہا جاتا ہے جیسے ایک شخص کے ساتھ تکلّف کے ساتھ پیش آنا اور تصنّع سے اس کے ساتھ ظاہری طور پر بڑی شیریں الفاظی سے پیش آنا تو اس کا نام خُلق نہیں بلکہ نفاق ہے۔
خُلق سے مراد یہ ہے کہ اندرونی قویٰ کو اپنے اپنے مناسب مقام پر استعمال کیا جائے ۔ جہاں شجاعت دکھانے کا موقع ہو وہاں شجاعت دکھاوے ۔جہاں صبر دکھانا ہے وہاں صبر دکھائے ۔جہاں انتقام چاہیے وہاں انتقام لے۔ جہاں سخاوت چاہیے وہاں سے سخاوت کرے یعنی ہر ایک محل پر ہر ایک قویٰ کو استعمال کرے نہ گھٹایا جائے نہ بڑھایا جائے۔ یہاں تک کہ عقل اور غضب بھی جہاں تک کہ اس سے نیکی پر استقامت کی جاوے۔ خُلق ہی میں داخل ہے … غرض یہ کہ انسان کے نفس میں یہ سب صفات مِثل صبر ،سخاوت، انتقام، ہمت، بخل، عدم بخل، حسد ،عدم حسد ہوتی ہیں اور ان کو اپنے محل اور موقع پر صرف کرنے کا نام خُلق ہے ۔ حسد بہت بُری بلا ہےلیکن جب موقع کے ساتھ اپنے مقام پر رکھا جاوے تو پھر بہت عمدہ ہو جاوے گا ۔حسد کے معنی ہیں دوسرے کا زوالِ نعمت چاہنا لیکن جب اپنے نفس سے بالکل محو ہو کر ایک مصلحت کے لیے دوسرے کا زوال چاہتا ہے تو اس وقت یہ ایک محمود صفت ہو جاتی ہے جیسے کہ ہم تثلیث کا زوال چاہتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد4 صفحہ327-326)
مزید پڑھیں