ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات و إرشادات کی روشنی میں) (تقریرنمبر 4)
حضرت اقدس مسیح موعودؑنے لیلۃالقدر کے تین معنی بیان فرمائے ہیں۔ آپؑ فرماتےہیں:قرآن شریف میں جو لیلۃُ القدر کا ذکر آیا ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہاں لیلۃُ القدر کے تین معنی ہیں۔اوّل تو یہ کہ رمضان میں ایک رات لیلۃالقدر کی ہوتی ہے۔دوم یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی ایک لیلۃالقدر تھا یعنی سخت جہالت اور بے ایمانی کی تاریکی کے وہ زمانہ میں آیا جبکہ ملائکہ کا نزول ہوا۔کیونکہ نبی دنیا میں اکیلا نہیں آتا۔ بلکہ وہ بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ لاکھوں کروڑوں ملائکہ کا لشکر ہوتا ہے۔ جو ملائک اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں اور لوگوں کے دلوں کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں ۔سوم۔ لیلۃُ القدر انسان کے لئے اس کا وقت اصفیٰ ہے۔ تمام وقت یکساں نہیں ہوتے۔ بعض وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہؓ .کو کہتے ہیں کہ اَرِحْنَا یَا عائشہ یعنی اے عائشہؓ! مجھ کو راحت و خوشی پہنچا اور بعض وقت آپ بالکل دعا میں مصروف ہوتے۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 336)
