مجھ پر سورۃ الکوثر نازل ہوئی  (حضرت محمدؐ ) (تقریر نمبر 6)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
” (کوثر میں) وہ تمام امور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ سب کے سب کوثر کا حصّہ ہیں اور اِس لفظ میں یہ دعویٰ ہے کہ وہ تمام کمالات جو نبوت کا حصّہ ہیں یا نبوت سے اِن کا گہرا تعلق ہے۔ اُن سب میں آپؐ کو کوثر ملی ۔“
( تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 248)

مزید پڑھیں

اَلْکَوْثَرْ۔ خَیْرِ کَثَیْر اَیْ اَلْقُرْآن (اَلْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
”میرا مذہب یہ ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ جو تمہاری ہدایت کے لئے خدا نے تمہیں دی ہیں۔ سب سے اوّل قرآن ہے جس میں خدا کی توحید اور جلال اور عظمت کا ذکر ہے اور جس میں ان اختلافات کا فیصلہ کیا گیا ہے جو یہود اور نصاریٰ میں تھے… خدا نےمجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اَلْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں یہی بات سچ ہے …قرآن ایک ہفتہ میں انسان کو پاک کر سکتا ہے اگر صوری یا معنوی اعراض نہ ہو قرآن تم کو نبیوں کی طرح کر سکتا ہے اگر تم خود اس سے نہ بھاگو ……تمہاری تمام کوشش اسی میں مصروف ہونی چاہئے کہ تم خدا کے تمام احکام کے پابند ہو جاؤ اور یقین میں ترقی چاہو نجات کے لئے نہ الہام نمائی کے لئے۔“۔۔۔۔
۔ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26 – 28 )

مزید پڑھیں

الکوثر، خیر کثیر کے معانی (حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”غرض موسیٰ علیہ السلام کو کتاب ملی جس کے معنے حکم ہوتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو احکام دئےجن میں سے آپ کو کچھ احکام تو لفظاً لفظاً یاد رہ گئے اور باقی کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے الفاظ میں بیان کردیا اور وہ تورات میں درج ہوگئے۔ مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کلام اللہ دیا گیا جس کے الفاظ اوّل سے آخر تک وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں۔ گویا سورۃ فاتحہ کی ‘ب’ سے لیکر سورۃ النّاس کی ‘س’ تک نہ کوئی لفظ ایسا ہے اور نہ کوئی زیر اور زبر جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے شامل کردیا ہو۔ بلکہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں۔ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کتنی بڑی فضیلت ہے کوئی عیسائی یا یہودی تورات کے متعلق قسم نہیں کھاسکتا کہ یہ وہی کتاب ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔ کوئی عیسائی یا یہودی بھلا یہ قسم کھا کر کہہ تو دے کہ میرے بیوی بچوں کو خداتعالیٰ تباہ کرے اور اگلے جہان میں بھی اُن پر لعنت ہو اگر تورات کے الفاظ وہی نہ ہوں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اُترے تھے۔ کوئی عیسائی یا یہودی ایسی قسم نہیں کھاسکتا ۔ لیکن ہم قرآن کریم کے متعلق یہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں آج بھی آئندہ بھی۔ کہ اگر یہ وہی الفاظ نہ ہوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے تھے تو ہمارے بیوی بچوں کو خداتعالیٰ تباہ کرے اور اگلے جہان میں بھی اُن پر لعنت ہو ۔ یہ کتنی بڑی فضیلت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ پر حاصل ہوئی۔“

مزید پڑھیں

اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ (حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی تفسیر کے آئینہ میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں کہ
”یہ سورۃ مکّی ہے… یہ ایک مختصر سی سورۃ ہے اور اس مختصر سی سورۂ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان پیشگوئی بیان فرمائی ہے۔ جو جامع ہے پھر اس کے پورا ہونے پر شکریہ میں مخلوقِ الٰہی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے … پس یہ ایک سورۂ شریفہ ہے ۔ بہت ہی مختصر ۔ لفظ اتنے کم کہ سننے والے کو کوئی ملال طوالت کا نہیں یہاں تک کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی ایک دن میں ہی اُسے یاد کرلے۔ اگر ان کے مطالب اور معانی دیکھو تو حیرت انگیز۔“
(حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ نمبر498)

مزید پڑھیں

مسلمانوں پہ تب اِدبار آیا  کہ جب تعلیمِقرآں کو بُھلایا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔ صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔ دیکھو! انہوں نے جب پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کئے تھے،پورے ہو گئے۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ409 )

مزید پڑھیں

شہید کی جو موت ہے،  قوم کی حیات ہے

ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شہید کے سوا کوئی بھی ایسا نہیں جو جنت میں داخل ہوجائے اور پھر دنیا میں واپس آنا پسند کرے گو اُسے جو کچھ بھی زمین میں ہے مل جائے۔ شہید آرزو کرتا ہے کہ وہ دنیا میں دس بار لوٹے اور مارا جائے اس لئے کہ وہ عزت دیکھ لیتا ہے (جو شہید کو ملتی ہے)۔
(صحیح بخاری ، کتاب الجہاد والسیر)

مزید پڑھیں

درس نمبر15 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان میں روزانہ ایک پارہ  کی تلاوت ضرور کریں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”مَیں نے قرآن کے لفظ میں غور کی تب مجھ پر کُھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیشگوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اَور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے لائق کتاب ہو گی۔ جبکہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔ اُس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔ فرقان کے بھی یہی معنی ہیں۔ یعنی یہی ایک کتاب حق وباطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔ اس لئے اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔ بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآنِ کریم کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جُھکا رہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآنِ کریم کے شغل اور تدبّر میں جان ودل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔ بڑے تأسّف کا مقام ہے کہ قرآنِ کریم کا وہ اعتناء اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔ اِس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔ اِس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔‘‘
(ملفوظات جلد 1صفحہ386۔ ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء کَتَبَ اللّٰہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِیْ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یہ خدا تعالیٰ کی سُنَّت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سُنَّت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غَلَبَہ دیتا ہے…اور غَلَبَہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ مَنْشَاء ہوتا ہے کہ خدا کی حُجَّت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خداتعالیٰ قَوِی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے۔“
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ304)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء قرآنِ کریم”  ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْن “

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔
ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ (البقرہ:3)
یہ (کامل) کتاب ہے ، نہیں کوئی شک جس میں، ہدایت ہے متقیوں کے لیے۔

مزید پڑھیں

ہستی باری تعالیٰ از روئے قرآنِ پاک (تقریرنمبر 1)

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے ۔ جسے تمام مذاہب والے بطور ہستئ باری تعالیٰ کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔
وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ
(البقرہ:187)
کہ جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبّیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

مزید پڑھیں