ایک احمدی مسلم اور محرم الحرام(از ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ )

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”دعاؤں کی قبولیت اور محرم کے حوالے سے میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ان دنوں میں، اس مہینے میں درود شریف پر بہت زیادہ زور دیں کہ قبولیت دعا کے لئے یہ نسخہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق نے اپنے عملی نمونہ سے درُود شریف کی برکات ہمارے سامنے پیش فرما کر ہمیں اس طرف خاص طور پر توجہ دلائی ہے۔ لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ درُود پڑھنے کے لئے اپنے آپ کو اس معیار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی ہو گی جس سے درُود فائدہ دیتا ہے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج رہے ہیں تو آپؐ کے مقام کی پہچان بھی ہمیں ہونی چاہئے۔“
(خطبہ جمعہ 2؍ جنوری 2009ء)

مزید پڑھیں

حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا

حضرت فاطمہؓ کے بارہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے کے ذریعہ اطلاع پاکر ’’سَیِّدَۃُنِّسَاء الْجَنّۃ‘‘ کی خوشخبری دی تھی۔
( صحیح بخاری جلد دوم صفحہ500کتاب الانبیاء )

مزید پڑھیں

اُمّ المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے دو عمدہ اوصاف کی گواہی دیتے ہوئے فرماتی ہیں:
”میمونہ ہم میں خدا خوفی اور صلہ رحمی میں ممتاز مقام رکھتی ہیں۔“

مزید پڑھیں

اُمّ المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا
’’ حضرت خدیجہ ؓ نے اس وقت اپنے مال سے میری مدد کی جب باقی لوگوں کو اس کی توفیق نہیں ملی۔‘‘
(مسند احمد جلد6صفحہ118)

مزید پڑھیں

اُمّ المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا

حضرت صفیہؓ نے جتنی زندگی بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری ہمیشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کا بہت خیال رکھا۔ آنحضورؐ جب اعتکاف بیٹھتے تو آپؓ اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کرتی تھیں اور حضورؐ کو دینے جاتیں ۔ آپؓ کھانا بہت اچھا بناتی تھیں اور اس کا اعتراف حضرت عائشہؓ بھی کیا کرتی تھیں کہ
’’میں نے کوئی عورت صفیہ سے اچھا کھانا پکانے والی نہیں دیکھی ۔ ‘‘
( مطہر عائلی زندگی صفحہ85)

مزید پڑھیں

اُمّ المومنین حضرت اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نہایت شدت سے عمل کرتی تھیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتی تھیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ہر روز بارہ رکعات پڑھ لے جو نفل کے زمرے میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنادیتا ہے۔ حضرت ام حبیبہ ؓنے اپنی پوری زندگی پھر ان بارہ رکعات کو کبھی نہیں چھوڑا۔
(صحیح مسلم کتاب المسافرین و قصر ھا)

مزید پڑھیں

امام حسینؑ پریزیدی حکومت کا فتوی کفر(ازارشادات حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ )

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”تمہاری ہمیں ضرورت نہیں۔ پہلے ہر نبی کو کہا گیا، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ہر بزرگ کو یہ کہا گیا ۔ حضرت امام حسین سے شروع ہو گیا یہ سلسلہ (علیہ السلام)۔ ان پر کفر کا فتوی لگا۔ واجب القتل قرار دیئے گئے۔ بڑا ملحد بن گیا ہے یہ شخص، اس فتوی میں سیاسی اقتدار اور بادشاہ وقت بھی تھا۔ ان کو نہایت ہی ظالمانہ طریق پر قتل کر دیا گیا۔ ان کے ساتھیوں کو، کم عمر نابالغ بچوں کو بھی، بہت سخت ظلم ہوا ہے وہ۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات کو بلند کرے اور جو نمونہ انہوں نے پہلا جو زبردست واقعہ ہوا ہے۔ جو میں نے تفصیل بتائی ہے اس کی روشنی میں اور بڑا زبردست نمونہ قائم کیا اسلام پر قربان ہو جانے کا۔ نبی اکرم کے لائے ہوئے نور اور حسن کو نہ مٹنے دینے کا اور ظلمت کے سامنے سر نہ جھکانے کا۔‘‘
(خطبات ناصر جلد نہم صفحہ136)

مزید پڑھیں

حضرت حسینؑ۔جنت کا سردار

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”اے اللہ! میں ان دونوں (حسنؓ اور حسینؓ) کو محبوب رکھتا ہوں تو بھی اے اللہ! انہیں محبوب رکھ اور جو انہیں محبوب رکھے تو انہیں بھی محبوب رکھ۔“
(اسدالغابہ جلد2 زیر لفظ حسین)

مزید پڑھیں

حضرت عیسٰیؑ، حضرت علیؓ اور امام حسینؓ کی توہین کا الزام اور اِس کا جواب

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ خطبہ جمعہ فرمودہ 14اپریل 2000ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ضمیمہ نزول المسیح کا حوالہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راستبازوں پرزبان دراز کرتا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسینؓ جیسے یا حضرت عیسیٰؑ جیسے راستباز پربد زبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور وعید مَنْ عَادَا وَلِیًّالِی دست بدست اس کو پکڑ لیتا ہے۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ ظاہری طورپر تو بہت بدبخت ہیں جو حضرت امام حسینؓ کے خلاف بدزبانی کرتے ہیں اورحضرت عیسیٰ پر بھی سخت بدزبانی کرتے ہیں تووہ ایک ہی رات میں مرکیوں نہیں جاتے۔ اصل میں یہ روحانی مضمون ہے کہ وہ مرے ہوئے ہی ہوتے ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں یعنی روحانی لحاظ سے وہ زندہ رہ ہی نہیں سکتے ایسی گستاخی کے بعد۔ اگروہ پہلے سے مردہ نہ ہوں توایسی گستاخی نہیں کریں گے۔ اگر زندہ بھی سمجھتے تھے اپنے آپ کو تو اس گستاخی کے بعد ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتے یعنی روحانی معنوں میں۔ ’’اور وعید مَنْ عَادَا وَلِیًّالِی دست بدست اس کو پکڑ لیتا ہے۔ پس مبارک وہ جو آسمان کے مصالح کو سمجھتا ہے اور خدا کی حکمت عملیوں پر غور کرتا ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ149)
(خطبہ جمعہ فرمودہ 14اپریل 2000ء)

مزید پڑھیں